اپنے آپ کو ٹھیک کریں

ماجرا - بلال الرشید

05 ستمبر 2019

Apne ap ko thek karen

استاد فرماتے ہیں : قرآن Quran سائنس کی کتاب نہیں؛البتہ یہ کتابِ تخلیق ضرور ہے ۔ جہاں کہیں زندگی اور کائنا ت کی تخلیق ‘ سورج ‘ چاند ستاروں کے متعلق خدا کلام کرتا ہے تو وہ statementدرست ثابت ہوتی ہے ؛حالانکہ جس زمانے میں یہ statementsدی گئی تھیں ‘ اس وقت زیادہ دور تک دیکھنے والی دوربین انسان کے پاس موجود نہیں تھی ۔انسان اس قابل نہیں تھا کہ وہ سورج ‘ چاند اور ستاروں کی گردش کا جائزہ لے سکے۔ اسی طرح جس زمین پر ہم زندگی گزار رہے ہیں ‘ وہ بھی ہمیں ایک جگہ کھڑی ہوئی محسوس ہوتی ہے ۔ یہ زمین ہمیں ایک سیدھی سطح محسوس ہوتی ہے‘ بجائے ایک گول کرّے کے ۔ اسی طرح سے ہم جب روزانہ سورج اور چاند کو طلوع ہوتے ہوئے اور اپنی جگہ بدلتے ہوئے دیکھتے ہیں تو ایسا محسوس ہوتاہے کہ یہ سب چیزیں زمین کا طواف کر رہی ہیں ۔ نفس کو تخلیق ہی اس طرح سے کیا گیا ہے کہ وہ اپنے آپ کو دنیا کی سب سے قیمتی چیز سمجھتا ہے ۔ اس نے جب سورج اور چاند کو مبینہ طور پر اپنا طواف کرتے دیکھا تو یہ پھول کر کپا ہو گیا۔ اس کے علاوہ زمین پر دوسرے جانوروں کی صورتِ حال یہ تھی کہ گھوڑے سے لے کر ہاتھی تک ‘ ان میں سے ہر ایک پر انسان نے کاٹھی ڈالی۔ ان سے وزن اٹھوایا اور ان کی سواری کے مزے لیے ۔ اس کے علاوہ بکرے سے لے کر اونٹ تک ‘ جانوروں کو ذبح کر کے ان کا گوشت کھاتا اور کھال اوڑھتا رہا‘ پھر انسان وہ واحد جاندا رتھا‘ جو زمین کھود کر نیچے سے ہیرے‘ کوئلہ‘ پانی ‘ تیل اور گیس نکال رہا تھا۔ اس نے گیس جیسی نظرنہ آنے والی چیز کو بھی لوہے کے سلنڈر میں بھر کے آگ جلانے کے لیے استعمال کیا۔اوزار جتنے بھی تھے‘ سب کے سب انسان بنا رہا تھا ۔ یہ اوزار لڑائیوں سے لے کر پانی بھرنے تک میں استعمال ہورہے تھے ۔

جب انسان نے یہ سب کچھ دیکھتا تو وہ خود کو کائنا ت کا محور و مرکز کیوں نہ سمجھتا۔ ایک طویل عرصے تک ‘ ارسطواور بطلیموس جیسے دانشوروں کے نظریات دنیا میں رائج رہے ‘ جن کے مطابق زمین ‘بلکہ انسان دنیا کا محور ومرکز تھے۔ ستارے ‘ سورج اور چاند ہمارے گرد گردش کر رہے تھے ۔ ارسطو کی موت کے چار صدیوں بعد حضرت عیسیٰ ؑ مبعوث کیے گئے ۔ حضرت عیسیٰ ؑ کے دنیا سے اٹھائے جانے کے بعد سرکارِ دو عالم ؐ آخری نبی کے طور پر مبعوث کیے گئے ۔ آپؐ پر جو کتاب نازل ہوئی ‘ وہ آج بھی حرف بحرف اسی طرح موجود ہے‘ بلکہ جو لوگ اسلام سے نفرت کرتے تھے‘ وہ بھی کبھی یہ دعویٰ نہیں کر سکے کہ اس کتاب میں کوئی تبدیلی ہوئی ہے ۔ یہ کتاب جہاں نماز پڑھنے ‘ روزے رکھنے اور زکوٰۃ ادا کرنے کا حکم دیتی ہے ۔ وہیں اس میں کہیں کہیں تخلیق ِ کائنات‘ سورج اور ستاروں کی گردش پر بھی بات کی گئی ہے ۔

یونان؛ چونکہ ایک سپر پاور تھی ‘لہٰذا کائنات کے بارے میں بھی اس کے نظریات ایک طویل عرصے تک دنیا میں رائج رہے ۔آج بھی آپ کے ملک میں یونانی دوا خانے موجود ہیں ۔ اس وقت انسان کے سائنسی نظریات اس قدر غلط تھے کہ پندرھویں اور سولہویں صد میں جرمن ریاضی دان اور فلکیات دان نکولس کوپرنیکس پہلی بار سوچنا شروع کرتاہے کہ کہیں زمین کی بجائے سورج تو محور نہیں ؟آج ارسطو دوسرے بڑے دانشوروں کی عزت تو کی جاتی ہے کہ انہوں نے انسانیت کو غور و فکر پر آمادہ کیا۔ساتھ ہی‘ لیکن یہ بھی کہا جاتاہے کہ ان کے بیشتر نظریات غلط ثابت ہو چکے ‘ لیکن جو چیزیں قرآن Quran میں بیان کی جا رہی تھیں ‘ وہ غلط ثابت نہ ہو سکیں؛حتیٰ کہ لوہے کے بارے میں خد ایہ کہتاہے کہ ہم نے لوہے کو زمین پر نازل کیا۔ یہ نہیں کہا کہ زمین کے اندر ہم نے لوہا پیدا کیا ۔ آج ہم جانتے ہیں کہ لوہا بنا ستاروں کے اندر ہے اور اسے زمین پر اتارا گیا ہے ۔

مسلمان؛ چونکہ اب زوال کے دور سے گزر رہے ہیں ۔ اس لیے بہت سے لوگوں کے ذہنوںمیں شدید احساسِ کمتری پیدا ہو چکا ہے ۔ ان کا بس نہیںچل رہا کہ فلکیات سے متعلق آیات کو مٹا ڈالیں ۔ ایک شخص کہتا ہے : سائنسدان دن رات محنت کرتے ہیں ‘ تحقیق کرتے ہیں اور ہم ان کی تحقیق کو اپنے عقیدے (beliefs)کو ثابت کرنے میں استعمال کرتے رہتے ہیں ۔ اگر مسلمانوں کو ترقی کرنا ہے‘ تو یہ روش ترک کرنا ہوگی ۔

اگر آپ گہرائی میں سوچیں تو بگ بینگ سے لے کر زمین کے نیچے دفن لوہے اور سلیکان تک‘ سائنسدان کچھ بھی تخلیق نہیں کر رہے ‘بلکہ جو کچھ کسی نے تخلیق کر کے رکھ دیا ہے‘ اس کا جائزہ لے کر اس سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ اب اگر پچاس ہزار سال تک انسان نسل درنسل کسی کی رکھی ہوئی چیزوں کا فائدہ اٹھاتا رہے۔ زمین کے نیچے سے سلیکان نکال کر اس سے ویڈیو بنانا شروع کر دے ‘لیکن کبھی یہ نہ سوچے کہ یہ سلیکان اور یہ لوہا کس نے رکھا ہے اور کیوں؟ کیا یہ اتفاقا بن گیا ہے اور کیا زندہ خلیات اتفاقا بن گئے ہیں تو آپ اس شخص کو عقلمند کہیں گے؟ کبھی بھی نہیں۔

مسئلہ یہ ہے کہ جب آپ خدا پر ایمان لاتے ہیں تو پھر آپ کو ساری زندگی بہت سی پابندیوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ ہمارا اٹھنا‘ بیٹھنا‘ شادی‘ بچے‘ کام کاج میں حلال حرام‘ ہر چیز تو خدا کی مرضی سے کرنی پڑتی ہے ورنہ گناہ گار ہونے کا احساس جرم پالنا پڑتا ہے تو کیا ہمارا یہ فرض نہیں بنتا کہ ہم ایک دفعہ دیکھ ہی لیں کہ کیا کوئی خدا ہے بھی یا نہیں۔ اور اگر نہیں ہے تو کیوں نہ اس سے آزادی حاصل کر لی جائے اور اگر ہے تو کیوں نہ اس کی بات مان لی جائے۔سائنسدان دن رات تحقیق کر رہے ہیں‘ لیکن وہ اسی سلیکان کو نکال کر اس پر تحقیق کر رہے ہیں‘ جو کسی نے زمین کے نیچے رکھ دی تھی۔ اور کون تھا وہ؟ اور کیوں اس نے یہ عناصر زمین میں رکھے‘ جن میں ریکارڈنگ ہو سکتی ہے۔ کیا یہ سب اتفاق ہے۔ اور یہ کیسا اتفاق ہے کہ زمین کی تاریخ میں اس پر بسنے والی پانچ ارب مخلوقات میں سے ایک کپڑے پہن رہی ہے‘ مردے دفنا رہی ہے‘ کیمرے بنا کر ریکارڈنگ کر رہی ہے۔ باقی سب اسی طرح ہونق بیٹھے ہوئے ہیں۔ دوسری طرف خدا کو دیکھیں تو اسے کوئی ڈر خوف نہیں ہے۔ وہ کہتاہے کہ میرے پسندیدہ بندے زمین و آسمان کی تخلیق میں غور کرتے رہتے ہیں۔ سائنسدان انہی چیزوں پر تحققیق کر رہے ہیں ‘جو کسی نے زمین و آسمان میں رکھ دی تھیں۔ وہ خود سے کچھ تخلیق نہیں کر رہے۔

اس کے علاوہ یقین کریں کہ آپ کچھ بھی نہیں کر رہے ۔یہی ایک سوال ہے کہ وہ ہے یا نہیں ۔ باقی جتنی تنگی اور جتنی فراخی آپ کو نظر آرہی ہے ‘ سب اس کے ہاتھ میں ہے ۔ آپ کے دماغ میں پیدا ہونے والے آئیڈیاز ‘ initiative ان کے لیے ذرائع‘ سب کچھ تو اس کے ہاتھ میں ہے ۔ اسی لیے تو وہ کہتاہے کہ تم تو چاہ بھی نہیں سکتے‘ اگر میں نہ چاہوں ۔

کئی قوموں کا حال آپ کے سامنے ہے ۔ ان کے پائوں کے نیچے سے تیل نکل آتا ہے اور ختم ہونے کا نام ہی نہیںلیتا ۔ اس کے ساتھ ہی وہ عیاش ہو جاتے ہیں ۔

اس ساری گزارش کا خلاصہ یہ ہے کہ مسلمانوں کی سستی خدا کی سستی نہیں ۔ آپ اپنے آپ کو ٹھیک کریں‘ بجائے دوسری قوموں کے سامنے سجدہ ریز ہونے کے!

 637