وارننگ

قلم کمان - حامد میر

02 ستمبر 2019

Warning

کیا کشمیر کا مسئلہ مذاکرات کے ذریعہ حل ہو سکتا ہے؟ کشمیر پر جنگیں بھی ہو چکی ہیں اور کئی دفعہ مذاکرات بھی، لیکن یہ مسئلہ حل نہ ہو سکا۔ آج ایک دفعہ پھر پوری دنیا بھارت India اور پاکستان Pakistan پر زور دے رہی ہے کہ مسئلہ کشمیر Kashmir Issue کو مذاکرات کے ذریعہ حل کیا جائے۔ پاکستان Pakistan تو مذاکرات پر آمادہ ہے لیکن بھارت India کا وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ بڑے تکبر کیساتھ اعلان کر رہا ہے کہ ہاں مذاکرات ہونگے لیکن آزاد کشمیر پر ہونگے۔ آج کے دور میں عالمی تنازعات کو حل کرنے کا بہترین راستہ مذاکرات کو سمجھا جاتا ہے لیکن دوحہ میں سپر پاور امریکہ United States اور افغان طالبان کے مابین ہونیوالے مذاکرات نے دنیا بھر کی محکوم اقوام کو یہ سبق دیا ہے کہ مذاکرات اُسی وقت آگے بڑھتے ہیں جب کمزور کے ہاتھ میں بھی بندوق ہو اور وہ مرنے مارنے پر اتر آئے۔ امریکہ United States اور اس کے حواری کئی سال تک طالبان کو دہشت گرد قرار دیتے رہے اور آج ان دہشت گردوں کیساتھ مذاکرات کے نو رائونڈ مکمل کئے جا چکے ہیں۔ مسئلہ کشمیر Kashmir Issue کا بھی افغانستان Afghanistan کے ساتھ بہت گہرا تعلق ہے اور اگر ہم تاریخ پر نظر ڈالیں تو پتا چلتا ہے کہ افغانیوں اور برطانوی فوج کی پہلی لڑائی میں راجہ گلاب سنگھ نے برطانیہ کی مدد کی۔ پھر جب سکھوں اور برطانوی فوج کی 1845ء میں لڑائی ہوئی تو راجہ گلاب سنگھ نے سکھوں کے ساتھ غداری کی اور اسکے انعام میں اگلے ہی سال برطانوی گورنر جنرل ہیری ہارڈنگز نے معاہدۂ امرتسر کے ذریعہ ریاست جموں و کشمیر Kashmir محض 75لاکھ نانک شاہی سکوں کے عوض گلاب سنگھ کو فروخت کر دی۔ گلاب سنگھ نے سرینگر پر قبضے کیلئے جموں سے فوج بھیجی تو شدید مزاحمت ہوئی جس پر ہارڈنگز نے اس کی مدد کی۔ یہ کشمیر فروش انگریز گورنر جنرل بعد ازاں برطانوی فوج کا کمانڈر انچیف اور فیلڈ مارشل بنا۔ 1947ء میں ایک اور انگریز گورنر جنرل لارڈ مائونٹ بیٹن نے گلاب سنگھ کے خاندان کیساتھ ملی بھگت کر کے ریاست جموں و کشمیر Kashmir کا بھارت India کیساتھ الحاق کروا دیا۔ اس الحاق کیخلاف مسلح بغاوت ہوئی اور بھارت India و پاکستان Pakistan میں جنگ شروع ہو گئی۔ جب بھارت India کو کشمیر ہاتھ سے نکلتا نظر آیا تو وہ بھاگم بھاگ اقوام متحدہ پہنچا اور سیز فائر کرا دیا۔ پاکستان Pakistan نے اقوام متحدہ پر اعتماد کرکے کشمیر کی آزادی کا یہ پہلا موقع کھو دیا۔

اقوام متحدہ نے مسئلہ کشمیر Kashmir Issue کے حل کیلئے 13اگست 1948ء اور 5جنوری 1949ء کی قراردادیں منظور کیں جنکے تحت کشمیریوں کو رائے شماری کے ذریعہ اپنے مستقبل کے فیصلے کا حق دیا گیا لیکن جب بھارت India کا جموں و کشمیر Kashmir پر فوجی قبضہ مستحکم ہو گیا تو اس نے ان قراردادوں کو فراموش کر دیا۔ اس دوران سلامتی کونسل نے آسٹریلیا کے ایک جج اوون ڈکسن کو مسئلہ کشمیر Kashmir Issue کے حل کیلئے ثالث مقرر کیا۔ ڈکسن نے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ایک سیدھا سادہ ریفرنڈم کرانے کے بجائے بڑا پیچیدہ منصوبہ پیش کر دیا جو ڈکسن پلان کہلایا۔ ڈکسن نے کہا کہ ریاست جموں و کشمیر Kashmir کو چار زونز میں تقسیم کر دیا جائے۔ کشمیر، جموں، لداخ اور آزاد کشمیر و شمالی علاقہ جات۔ پھر ان چاروں زونز میں ضلع بہ ضلع رائے شماری کرائی جائے۔ پاکستان Pakistan نے یہ منصوبہ مسترد کر دیا کیونکہ اسکا مقصد جموں اور لداخ کو بھارت India کے حوالے کرنا نظر آتا تھا۔ بعد ازاں ڈکسن نے چناب فارمولا پیش کیا جسکے تحت دریائے چناب کو بنیاد بنا کر تقسیم کرنے کی تجویز پیش کی گئی تاکہ کپواڑہ، سرینگر، بارہ مولا، اسلام آباد، پلوامہ، بڈگام، پونچھ اور راجوری پاکستان Pakistan میں آ جائیں اور جموں بھارت India میں چلا جائے۔ پاکستان Pakistan نے یہ تجویز بھی مسترد کر دی۔ 1956ء میں حسین شہید سہروردی پاکستان Pakistan کے وزیراعظم بنے تو امریکی صدر آئزن ہاور نے اُن سے پاکستان Pakistan میں ایک فوجی اڈہ مانگا۔ سہروردی نے شرط رکھی کہ مسئلہ کشمیر Kashmir Issue حل کرا دیا جائے تو پاکستان Pakistan پشاور کے قریب امریکہ United States کو فوجی اڈہ دیدے گا۔ امریکہ United States کی کوشش سے جنوری 1957ء میں مسئلہ کشمیر Kashmir Issue ایک دفعہ پھر سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر آ گیا لیکن اکتوبر 1957ء میں میجر جنرل اسکندر مرزا نے اُن سے زبردستی استعفیٰ لے لیا۔ ایوب خان کے ایک قریبی ساتھی مرید حسین نے منیر احمد منیر سے انٹرویو میں بتایا کہ استعفیٰ کے بعد سہروردی نے کہا کہ پرائم منسٹر Prime Minister شپ تو آنی جانی چیز ہے لیکن کشمیر ہمیشہ کیلئے ہاتھ سے گیا۔ (اَن کہی سیاست صفحہ22)۔

تیسری دفعہ کشمیر کی آزادی کا موقع 1962ء میں آیا جب چین China اور بھارت India میں جنگ شروع ہوئی۔ چین China نے ایوب خان کو پیغام بھیجا کہ بھارتی Indian فوج چین China کی سرحد پر اکٹھی ہو گئی ہے، کشمیر خالی ہے اسے آزاد کرا لو لیکن امریکی صدر جان ایف کینیڈی اور برطانیہ کے وزیراعظم ہیرلڈ میکملن نے ایوب خان کو کشمیر پر حملے سے باز رکھا۔ امریکی سی آئی اے کے ایک سابق افسر بروس Russia ریڈل نے اپنی کتاب JFK's Forgotten Crisisمیں پوری تفصیل بیان کی ہے کہ کیسے پاکستان Pakistan کو کشمیر پر حملے سے روکا گیا۔ اس دوران 22دسمبر 1962ء کو پنڈت نہرو نے واشنگٹن پوسٹ کو انٹرویو میں کہا کہ سیز فائر لائن میں معمولی رد و بدل کرکے اسے سرحد تسلیم کر لیتے ہیں۔ جنوری 1963ء میں اس تجویز پر پاکستان Pakistan اور بھارت India کے مذاکرات ہوئے، پاکستان Pakistan نے کشمیری قیادت کو اعتماد میں لینے کا مطالبہ کیا اور مذاکرات ناکام ہو گئے۔

1965ء کے صدارتی الیکشن میں محترمہ فاطمہ جناح کے خلاف دھونس و دھاندلی کے استعمال پر ایوب خان کے خلاف بہت غم و غصہ پایا جاتا تھا۔ اس غم و غصے کو ختم کرنے کیلئے ایوب خان نے آپریشن جبرالٹر کی منظوری دی۔ پاکستان Pakistan کے فوجی دستے مقبوضہ جموں و کشمیر Kashmir میں داخل ہو گئے لیکن بھارت India نے لاہور پر حملہ کر دیا اور عالمی طاقتوں کی مداخلت سے سترہ دن کے بعد پھر سیز فائر ہو گیا۔ 1989ء میں افغانستان Afghanistan سے روسی فوج کی واپسی کے بعد کشمیر میں بھی مسلح مزاحمت کا آغاز ہوا۔ جموں و کشمیر Kashmir لبریشن فرنٹ کے مرحوم رہنما امان اللہ خان نے اپنی آپ بیتی ’’جہدِ مسلسل‘‘ (جلد سوم) میں لکھا ہے کہ اُنکی جماعت نے 1987ء میں خود مختار کشمیر کیلئے مسلح جدوجہد جنرل ضیاء الحق Zia ul Haq کی تائید و حمایت سے شروع کی لیکن جنرل ضیاء کی موت کے بعد جے کے ایل ایف کے مقابلے پر حزب المجاہدین کو کھڑا کر دیا گیا، اسکے باوجود 1995ء میں کشمیر اپنی آزادی کے قریب تھا۔ جے کے ایل ایف اور حزب المجاہدین کے اختلافات ختم ہو گئے تھے لیکن پاکستان Pakistan میں سیاسی عدم استحکام کے باعث ہم آزادی حاصل نہ کر سکے۔

1999ء میں کارگل آپریشن کے ذریعہ کشمیر کی آزادی کی ایک اور کوشش ہوئی اور غلط حکمت عملی کی وجہ سے ایک طرف کشمیر کی تحریک آزادی پر دہشت گردی کا لیبل لگ گیا دوسری طرف سول ملٹری تعلقات میں کشیدگی نے جنم لیا اور نواز شریف Nawaz Sharif کی حکومت ختم ہو گئی۔ 2007ء میں پرویز مشرف اور منموہن سنگھ مسئلہ کشمیر Kashmir Issue کے اُس حل پر متفق ہو گئے جو پہلی دفعہ اوون ڈکسن نے پیش کیا تھا اور بعد ازاں نہرو نے بھی یہی فارمولا پیش کیا تھا کہ لائن آف کنٹرول کو مستقل بارڈر تسلیم کر لیا جائے۔ حریت کانفرنس کے لیڈر سید علی گیلانی نے اس فارمولے کو کشمیریوں سے غداری قرار دیکر مسترد کر دیا اور پھر وکلاء تحریک کے نتیجے میں پرویز مشرف زوال کا شکار ہو گئے اور اپنے فارمولے پر عملدرآمد نہ کر سکے۔ 5اگست 2019ء کے بعد سے بھارت India کی حکومت نے جو اقدامات کئے ہیں ان سے لگتا ہے کہ مشرف اور منموہن سنگھ میں طے پانیوالے فارمولے پر طاقت کے ذریعہ عملدرآمد کیا جا رہا ہے۔ یہ معاملہ اتنا سادہ نہیں۔ راج ناتھ سنگھ کی دھمکی کو محض سیاسی بڑھک نہ سمجھا جائے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے 1967ء میں اپنی کتاب The Myth of Independence میں لکھا تھا کہ نہرو کی سوچ وہی ہے جو آر ایس ایس RSS کے لیڈر ساوارکر کی تھی۔ یہ اکھنڈ بھارت India پر یقین رکھتے ہیں اور ناصرف کشمیر پر قبضے کی کوشش کرینگے بلکہ پاکستان Pakistan کو بھی توڑنے کا منصوبہ بنائے بیٹھے ہیں۔ اس کتاب کی اشاعت کے چار سال بعد پاکستان Pakistan ٹوٹ گیا۔ بھٹو نے لکھا تھا کہ پاکستان Pakistan کیخلاف ہر سازش میں بھارت India کو امریکہ United States کی تائید حاصل رہی ہے اور آئندہ بھی حاصل رہے گی۔ یہ دونوں ملکر پاکستان Pakistan کا وجود مٹانا چاہتے ہیں اور کشمیری پاکستان Pakistan کے تحفظ کی جنگ لڑ رہے ہیں بھٹو کو ہم نے پھانسی پر لٹکا دیا لیکن بھٹو کی وارننگ کو نظر انداز نہ کریں کیونکہ دشمن کی نظر صرف آزاد کشمیر پر نہیں بلکہ پاکستان Pakistan پر بھی ہے۔

 280