مجھ سا جہاں میں کوئی نادان بھی نہ ہو

طلوع - ارشاد احمد عارف

30 اگست 2019

Mujh sa Jahan main koi Nadan bhi na ho

طارق چودھری نے پتے کی بات کی۔ کہا ’’ایک جنگ بتا دیں جو کسی ریاست نے مضبوط معیشت اورخوشحالی کی بنا پر جیتی ہو‘‘ مشتاق چودھری کے اعزاز میں برادرم حفیظ اللہ نیازی نے عشائیہ کا اہتمام کیا تھا اور مخدوم جاوید ہاشمی و مجیب الرحمن شامی سمیت طارق چودھری ‘ میاں خالد اور مشتاق چودھری کے بیشتراحباب شریک محفل تھے۔ دگرگوںپاکستانی معیشت اور بھارتی Indian جارحیت کے خطرات ایک ساتھ زیر بحث تھے۔ ان دنوں بھارتی Indian شردھالو اور عمران مخالف حلقے ایک ہی بات شد ومد سے کہہ رہے ہیں کہ اگر خدانخواستہ جنگ چھڑ گئی پاکستان Pakistan کا کیا بنے گا جس کا تجارتی خسارہ پریشان کن ہے اور معاشی بدحالی ضرب المثل‘ طارق چودھری بحث کا حصہ بنے نہ کسی سے الجھے‘ میرے قریب آئے اور سادگی سے جملہ اچھال کر چپ سادھ لئے۔ افغانستان Afghanistan کی مثال تازہ ہے ایک صدی میں تین سپر پاورز کو شکست دے کر افغان عوام نے مسلمانوں اور پاکستانیوں کو باور کرایا ہے کہ اپنے زمانے کی اقتصادی ومعاشی طور پر مضبوط‘ عسکری و دفاعی حوالے سے ناقابل تسخیر اور سفارتی و سیاسی میدان میں قابل رشک سپر پاورز برطانیہ ‘ سوویت یونین اور امریکہ United States کو محض صادق نظریے کی قوت‘ بہتر حکمت عملی مضبوط عزم و حوصلے اور ایمانی جذبے سے شکست دی جا سکتی ہے۔ امریکہ United States تو اکیلا بھی نہ تھا‘ پینتالیس ممالک کے مالیاتی وسائل‘ تکنیکی مہارت اور جدید دفاعی سامان حرب کو افغانستان Afghanistan کے کوہ و دمن میں خاک چاٹنی پڑی ؎ فضائے بدر پیدا ‘کر فرشتے تیری نصرت کو اتر سکتے ہیں گردوں سے قطار اندر قطار اب بھی امریکہ United States اور طالبان کے مابین براہ راست مذاکرات شروع ہوئے تو کسی کو اس خبر پر یقین نہ آیا۔ امریکہ United States کیا ‘ایک ایسے گروہ سے مذاکرات کرے گا جس کے عمامہ پوشوں کو انگریزی آتی ہے نہ سفارت کاری؟ امریکی شاطر ہی نہیں ذہین اور چرب دماغ ہیں اور عالمی مہارت مسلمہ‘اعلیٰ ترین یونیورسٹیوں کے فارغ التحصیل ‘ تجربہ کار اور چرب زبان امریکی سفارت کاروں کے روبروجن کی قیادت زلمے خلیل زاد کر رہا ہے طالبان کے روزٹک پائیں گے؟کون سی بات منوائیں گے؟ مذاکرات سے بھاگیں گے یا امریکی شرائط پر صلح کریں گے۔ مگر ہوا کیا؟ طالبان نے یہ تک منوا لیا کہ افغانستان Afghanistan کا نیا نام امارات اسلامی افغانستان Afghanistan ہو گا اور اشرف غنی وغیرہ امریکی کٹھ پتلیوں سے مذاکرات امریکی پسپائی کے معاہدہ پر اتفاق رائے کے بعد ہو ں گے‘ معاہدہ سے قبل سیز فائر کی شرط بھی طالبان نہیں مانے اور اشرف غنی‘ افغان حکومت کو مذاکرات میں شریک تک نہیں کیا۔ ایک قلیل گروہ امریکہ United States سمیت پینتالیس ممالک کی فوج‘ ٹیکنالوجی اور تباہ کن عسکری قوت پر غالب آیا مگر کیسے؟ قرآن Quran مجید میں رہنمائی یوں ملتی ہے۔’’بارہا بڑی جماعت پر چھوٹا گروہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے غالب آیا اور اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے‘‘ پاکستان Pakistan رقبے ‘ آبادی ‘ مالی وسائل اور عسکری قوت کے لحاظ سے بھارت India کا مدمقابل نہیں مگر کشمیری عوام؟ ایک ارب آبادی طیاروں‘ ٹینکوں‘ میزائلوں اور توپوں سے مسلح نو لاکھ فوج کے مقابلے میں نہتے اور بظاہر بے یارو مددگار صرف چند ہزار‘ اسی لاکھ آبادی میں سے نصف کے قریب بھارت India سے مرعوب یا کانگریس و بی جے پی BJP کی مددگار۔ کئی عشروں سے مگر ان بے وسیلہ حریت پسندوں نے بالا دستی‘ قبول کی نہ حوصلہ ہارا۔ کئی مواقع پر نیو کلئر پاکستان Pakistan کے حکمران‘ سیاستدان اور بعض جرنیل ہمت ہار بیٹھے‘ آئوٹ آف بکس حل تلاش کرنے لگے مگر عمر رسیدہ علی گیلانی بیماری اور نقاہت کے باوجود پورے قد سے کھڑا رہا۔ اس نحیف و ناتواں سیّد زادے پر اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت تھی‘ رسول اکرم ﷺ کا دست شفقت اور بے پایاں عزیمت ؎ پورے قد سے میں کھڑا ہوں تو یہ ہے تیرا کرم مجھ کو جھکنے نہیں دیتا ہے سہارا تیرا نیلسن منڈیلا کی ستائیس سالہ اسیری سب کو یاد ہے علی گیلانی کی پچاس سالہ قید و بند کا کسی کو احساس تک نہیں۔ کشمیری عوام کی جدوجہد کا سبق یہ ہے کہ کوئی قوم اگر آزادی کا تہیہ کرے یا اپنی آزادی اور خود مختاری کے دفاع پر تل جائے تو وقت کی بدترین ‘ نسل پرست اور درندہ صفت نیو کلئر ریاست بھی اس کے حوصلے پست کر سکتی ہے نہ تسلط برقرار رکھنے پر قادر۔ جموں و کشمیر Kashmir میں تئیس روز سے مارشل لاء نافذ ہے مگر مجال کہ کسی ایک لیڈر ‘ کارکن اور شہری نے نریندر مودی narendra modi سے رحم کی بھیک مانگی ہو‘ بھارتی Indian اقدام کو درست قرار دیا ہو۔ محبوبہ مفتی اور عمر فاروق عبداللہ جیسے بھارت India نواز لیڈر بھی حریت کانفرنس کی قیادت کی پامردی سے متاثر ہو کر مشروط رہائی سے انکاری ہیں۔ کشمیری عوام کی جدوجہد میں آخری حد تک جانے کی بات سن کر بعض کم ہمت دانشور و تجزیہ کار معیشت کی زبوں حالی کا رونا رو رہے ہیں یہ قوم کے حوصلے پست کرنے کے مشن پر ہیں ورنہ جانتے ہیں کہ امریکی فوج کا افغانستان Afghanistan سے انخلاء مکمل ہو جانے کے بعد شائد مسئلہ کشمیر Kashmir Issue کی وہ اہمیت بھی نہ رہے جو 5اگست سے قبل تھی۔1990ء کے عشرے میں کشمیری عوام اور حریت پسندوں نے بھارتی Indian فوج کو ناکوں چنے چبوائے اور حالات اس قدر خراب ہوئے کہ بھارتی Indian ہندو وادی سے نقل مکانی کرنے لگے‘ زیادہ تر بھارتی Indian دفاعی ماہرین‘ دانشوروں اور تجزیہ کاروں نے برملا کہنا شروع کر دیا کہ جموں و کشمیر Kashmir بھارت India کے ہاتھ سے نکل چکا ہے مگر پاکستان Pakistan کے حکمرانوں نے ’’پہلے تجارت پھر کشمیر‘‘ کا راگ الاپنا شروع کر دیا‘ دوستی بس چلنے لگی‘ خفیہ سفارت کاری کو فروغ ملا اور فارن فنڈڈ این جی اوز کی آمدورفت شروع ہو گئی۔ نتیجہ؟ مسئلہ کشمیر Kashmir Issue پس پشت چلا گیا اور کاروباری حکمرانوں کے وارے نیارے ہو گئے۔ بھارت India نے نارملائزیشن کا بھر پور فائدہ اٹھایا ہم صرف کوئلوں کی دلالی کرتے رہے جس میں مُنہ کالا ہونا تھا سو ہو گیا۔ نریندر مودی narendra modi نے حماقت کی‘ تکبر نے اس کی مت مار دی اور قدرت نے موقع دیا کہ ہم کشمیریوں کی توقعات پر پورا اتریں۔ معیشت مضبوط بنا کر بھارت India کا مقابلہ کرنے کے چکر میں ہم نے کئی عشرے ضائع کر دیے معاشی بدحالی بڑھتی گئی البتہ حکمران اشرافیہ کے اثاثوں اور بنک بیلنس میں خوب اضافہ ہوا۔ عام طور پر کہا جاتا ہے کہ ہم بھارت India کا مقابلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں؟ سوال یہ ہے کہ اگر خدانخواستہ 1965ء یا 1971ء کی طرح بھارت India حملہ کر دے تو ہم کمزور معیشت اور کئی گنا کم فوج و اسلحے کی بنا پر دشمن کے سامنے فی الفورہتھیار ڈال دیں گے یا مقابلہ کریں گے؟ جنگیں معیشت کے زور پر نہیں قومی غیرت کے جذبے سے لڑی اور جیتی جاتی ہیں۔ ہلاکو خان نے بغداد پر حملہ کیا تو ترقی و خوشحالی میں سلطنت بغداد اور تاتاریوں کا کوئی موازنہ نہ تھا‘ تاتاری فوج ہرے بھرے باغات دیکھ کردنگ رہ گئی مگر پھل توڑ کر کھانا چاہا تو مایوسی ہوئی کہ یہ سونے چاندی سے تیار کیے گئے مصنوعی پودے اور پھل تھے۔ معتصم بااللہ کو ہلاکو خان کے روبرو پیش کیا گیا تو شہنشاہ معظم بھوک سے نڈھال تھا‘ ہلاکو نے حکم دیا کہ بادشاہ سلامت کو پرتکلف کھانا پیش کیا جائے۔ دستر خوان پر بادشاہ نے خوانچے کا ڈھکن اٹھایا تو اس میں ہیرے جواہرات تھے ‘ ہلاکو خان نے کہا کھائو‘ معتصم بولا خشک و جامد معدنیات کیسے کھائوں ہلاکو خان نے جواب دیا’’اگر تم ان ہیروں سے اپنے سپاہیوں کے لئے تیر اور تلواریں بنا لیتے تو میں دریائے دجلہ عبور نہ کر پاتا‘‘ پاکستان Pakistan معاشی طور پر زبوں حالی کا شکار مگر عسکری میدان میں بھارت India کے ہم پلہ ہے‘ جذبہ جہاد مستزاد اور کشمیریوں کی استقامت لاجواب۔ اگر عمران خاں اور جنرل قمر جاوید باجوہ General Qamar Javeed Bajwa کے دور میں ہم گجرات کے قصائی اور کشمیریوں کے قاتل نریندر مودی narendra modi کے چنگل سے کشمیر آزاد نہیں کرا پائے اور امریکی ثالثی کے منتظر رہتے ہیں یا او آئی سی و سلامتی کونسل سے وفا کی امید رکھتے ہیں تو پھر ہو چکا کشمیر آزاد‘ کشمیریوں کو آزادی سے عشق ہے اور ہم کشمیری عوام کو محبت‘ وفاداری و یکجہتی کا یقین دلا رہے ہیں‘ عشق‘ محبت ‘ وفاداری میں نفع ‘ نقصان کی سوچ؟ مجھ سا جہاں میں کوئی نادان بھی نہ ہو کر کے جو عشق کہتا ہے کہ نقصان بھی نہ ہو (سعداللہ شاہ) کیا چین China نے ہانگ کانگ اور میکائو مضبوط معیشت کے زور پر حاصل کیا یا مضبوط عسکری قوت کے بل بوتے پر؟

 196