اس کی بیوی سے سارا محلہ خوش تھا

Tipu Mansoor

28 اگست 2019



سردار دلدار سنگھ سوڈھی کی عدالت کا اک واقعہ ۔ دوسرے سال کا ذکر ہے ۔ یہ اپنی نوعیت کا انوکھا اور پہلا مقدمہ تو نہیں تھا مگر عدالت کی کاروائی وکلاء کی جرح اور فریقین کی جگت بازی برسوں زبان زد عام رہی ۔ نظر بظاہر تو یہ سیدھا سادھا طلاق اور علیحدگی کا کیس تھا ۔ یہ شادی لڑکے کی مرضی کے خلاف اس کی ماں باپ کی مرضی سے ہوئی تھی اس لیے بڑوں کی کوشش تھی کسی طرح سے یہ گاڑی چلتی رہے ۔ ہر چند ناچاقی بوقت رخصتی ہی شروع ہوگئی جب لڑکی کا چال چلن مشکوک نظر آیا ۔ شادی کے بعد بھی لڑکی کے وہی حالات رہے اور چند دنوں میں سارا محلہ زیر دام آگیا ۔ شوہر اپنی بیوی سے نالاں تھا ہر روز بارڈر پہ کشیدگی رہتی سرحدی جھڑپیں بھی روز کا معمول تھا جس میں چھوٹے ہتھیاروں کا بے دریغ استعمال کیا جاتا ۔ مگر کسی طرح اس کمبل سے جان چھوٹتی نظر نہ آئی تو شوہر نامدار نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا ۔ جج صاحب بھی اپنی نوعیت کے شوقین مزاج تھے ۔ جج صاحب نے عورت کا چہرہ دیکھا پھر اس کو سر سے پاؤں تک دیکھا ۔ فریقین کے بیانات قلم بند ہوئے وکلاء کے دلائل اور قانونی نکات بھی زیر بحث آئے ۔ جج صاحب نے مرد سے کہا تمہارا مسئلہ کیا ہے تمہاری بیوی میں کیا خرابی ہے ۔ شوہر نے بغیر کسی لگی لپٹی کے عرض کیا میں اپنی بیوی سے خوش نہیں ہوں ۔ جج صاحب عورت کی طرف متوجہ ہوئے اور وہی سوال دہرایا ۔ عورت نے کیا جواب دیا اس کو آخر پہ اٹھا رکھتے ہیں ۔

عمران خان Imran Khan کی حکومت کو اک سال مکمل ہوا ۔ اس دوران مہنگائی کا سونامی آیا جس کے آگے غربا خش وخاشاک کی طرح بہہ گئے ۔ ڈالر جو ایک سو پانچ کے قریب تھا اب ایک ساٹھ کے اوپر اڑان بھر رہا ہے ۔ ڈالر کے مہنگا ہونے سے بیٹھے بٹھائے پاکستان Pakistan اربوں کا مقروض ہوگیا ۔ کھایا پیا کچھ نہیں گلاس توڑا بارہ آنے ۔ دوسرا درآمدات کے بھاری بوجھ کی وجہ سے ڈالر سے ہر آدمی متاثر ہے ۔ پٹرول جو ایک سال پہلے تک سو سے زیریں سطح پہ مرتکز تھا اب ساری حدیں پھلانگ کر سرپٹ دوڑ رہا ہے ۔ بجلی اور سوئی گیس کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ عوام کا ہوش اڑا رہا ہے ۔ سفید پوشی کا بھرم ٹوٹ ٹوٹ جاتا ہے ۔ روٹی نان کی قیمتیں بھی عوام کو فیضیاب کررہی ہیں ۔ عمران خان Imran Khan صاحب کو ایک ہی تقریر آتی جس کو انہوں نے کم ظرف جٹ کے کٹورے کی طرح خوب برتا ہے ۔ ہر فورم پہ کرپشن کرنے والوں کو للکارا معیشت کی تباہی کا ذمہ دار ٹھہرایا لیکن میدان عمل میں ان کا دامن یکسرخالی ہے ۔ دامن تو میرا خالی ہے جگنو نہ چراغاں ۔ کوئی لائحہ عمل کیا ہوتا اسی عطار کے لونڈے سے دوا لیتے ہیں ۔ معیشت کی بحالی کے نام پہ دیار مصر سے نورتن اٹھا لائے ہیں ۔

اک سال میں خان صاحب کی اندرون ملک کارکردگی پہ تو سوالیہ نشان ہے مگر خارجہ محاذ کچھ بہتر رہا ۔ اوّل اوّل تو عرب ممالک کی طرف سے کمک آئی ۔ محمد بن سلمان Muhammad Bin Suleman اور محمد بن زاید کے دوروں نے حکومت کو استحکام بخشا ۔ ملائشیا کے مہا تیر محمد نے بھی پذیرائی بخشی ۔ ترکی کے طیب اردوان اور چائنہ کی طرف سے بھی گرمجوشی رونق افروز ہوئی ۔ امریکہ United States کا دورہ جو بہت ہی نازک اور بہت اہمیت کا حامل تھا اس میں پاکستان Pakistan کی اہمیت کا احساس کیا گیا ۔ بڑے عرصے بعد پاکستانی سربراہ حکومت کی اس طرح پذیرائی کی گئی ۔

ہم نے مانا خان صاحب کو جب حکومت ملی تو گزشتہ حاکموں کی بدولت معشیت تباہ حال تھی ۔ کرپشن کا بازار گرم تھا ہر طرف زبوں حالی تھی ۔ نئے قرض لینے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا ۔ خان صاحب کا یہ بیانیہ مان لیا مگر اس ایک سال میں صحت عامہ علاج معالجہ اور ہسپتالوں کا معیار کیا بہتر ہوا ۔ ایک سال پہلے ادویات کی قیمتوں کا تقابل اگر آج کے دن سے کیا جائے تو جواب مل جائے گا ۔ وزارت تعلیم میں کونسے جھنڈے گاڑے ہیں کیا بہتر آئی ہے اس جواب بھی چنداں مشکل نہیں ۔ پولیس بھی اسی طرح اعلیٰ رویہ اپنائے ہوئے ہے ۔ کرکٹ جو خان صاحب کی خاصیت ہے اس میں نکھار روبہ زوال ہے ۔ پنجاب میں وسیم اکرم پلس ساکنان شہر کو باؤنسر پہ باؤنسر مار رہے ہیں ۔ سو دن میں صوبہ جنوبی پنجاب والے خسرو بختیار اور اس قماش اور دوسرے ہیرے خان صاحب کی مالا میں جھلملا رہے ہیں ۔

جج صاحب نے عورت کی طرف دیکھا اور اپنا سوال دوبارہ دہرایا ۔ تمہارا شوہر تم سے خوش نہیں ہے تمہارا اس کے ساتھ کیا مسئلہ ہے ۔ عورت نے کہا جج صاحب میری اک عرض ہے میں جواب تب دوں گی جب یہ گانا چلایا جائے ۔ عمران خان Imran Khan دے جلسے چے آج میرا نچنے نوں جی کردا ۔ کپتان خان دے جلسے چے آج میرا نچنے نوں جی کردا ۔ جج صاحب نے گانا چلوا دیا اور عورت کی طرف دیکھا ۔ عورت بولی جج صاحب سارا محلہ مجھ سے خوش ہے بس اس نگوڑے کو موت پڑی ہے ۔

ایک سال میں خارجہ محاذ پہ پہ سارا محلہ خوش ہے بس ۔۔۔۔۔!

ازقلم محمد واحد ( ابوظہبی )

 55