کشمیریوں کی اذیت، مودی کا شوہد اپن اور وزیراعظم کا خطاب

برملا - نصرت جاوید

28 اگست 2019

Kashmir ki aziyat

پیرکی صبح اُٹھ کر حسبِ عادت یہ کالم لکھنے سے قبل اخبارات کی سرخیوں پر نگاہ ڈالی تو اطلاع ملی کہ وزیر اعظم Prime Minister عمران خان Imran Khan صاحب اس روز کی سہ پہر قوم سے خطاب فرمائیں گے۔ اس خطاب کے لئے ساڑھے پانچ بجے کا وقت طے ہوا تھا۔ قوم سے خطاب کے لئے انتہائی ہنگامی حالات کے علاوہ ایسا وقت مختص نہیں کیا جاتا۔ کوشش ہوتی ہے کہ شام کے آٹھ سے نو بجے کے درمیان کے 30منٹ چنے جائیں۔ روزمرہّ زندگی کے معمولات سے فارغ ہوکر زیادہ سے زیادہ لوگ اپنے گھروں میں بیٹھ کر حکومتی سربراہ کے خطاب کو غور سے سن پائیں۔

ٹی وی چینلوں کے فروغ کے بعد شام سات سے آٹھ بجے کے درمیان لمحات کو ترجیح دینے کی روایت متعارف ہوئی۔ اس کی بدولت رات بارہ بجے تک جاری ٹاک شوزکے اینکر خواتین وحضرات ’’قوم سے خطاب‘‘ کے دوران اٹھائے موضوع پر توجہ دینے کو مجبور ہوئے۔ ٹاک شوز کی ’’افادیت‘‘ نے بتدریج ایسے خطاب کے لئے شام کے ساڑھے چھ بجے کو بہتر وقت قرار دیا۔

ساڑھے پانچ کے انتخاب نے مجھے سوچنے کو مجبور کیا ۔ دو کے ساتھ دو کو جمع کرکے چار نکالنے والی منطق استعمال کرتے ہوئے میں نے اپنی سہولت کے لئے یہ فرض کرلیا کہ وزیر اعظم Prime Minister صاحب نے فرانس میں پیر کے روز ہونے والی ٹرمپ-مودی ملاقات کے اختتام کے فوری بعد قوم سے خطاب کرنے کا ارادہ باندھا ہے۔

ہمارے کئی جید صحافی جنہیں ریاستی ایوانوں تک مؤثر رسائی حاصل ہے گزشتہ چند دنوں سے اپنے کالموں، ٹی وی شوز اور ٹویٹس کے ذریعے ہمیں یہ امید دلارہے تھے کہ کشمیر کے بارے میں ’’اچھی خبریں‘‘ آنے والی ہیں۔’’ذرائع‘‘ کی بدولت انہیں غالباََ بتایا گیا تھا کہ بھارتی Indian وزیر اعظم Prime Minister کے ساتھ ملاقات کے دوران امریکی صدر مقبوضہ کشمیر میں 5اگست سے مسلط ہوئے لاک ڈائون کے بارے میں تشویش کا اظہار کرے گا۔ نریندرمودی سے یہ وعدہ کروایا جائے گا کہ وہ ’’انسانی حقوق‘‘ کی خاطر تھوڑی نرمی دکھائے۔

ذاتی طورپر میرا ہمیشہ اصرار رہا ہے کہ موجودہ امریکی صدر ’’انسانی حقوق‘‘ نامی کسی شے سے واقف ہی نہیں۔اپنے ہی ملک کے صحافیوں کو ’’عوام دشمن‘‘ قرار دیتا ہے۔امریکی کانگریس کے لئے باقاعدہ منتخب ہوئی دو مسلم خواتین کو اسرائیل کا ویزا ملنے پر ناراض ہوجاتا ہے۔اپنے جلسوں میں ان کے خلاف Go Backیعنی اپنے (آبائی) ملک واپس جائو کے نعرے لگواتا ہے۔ میں اس سے مقبوضہ کشمیر میں ’’انسانی حقوق‘‘ کی پائمالی کے بارے میں فکرمندی کی ہرگز امید نہیں رکھتا۔

سفارت کاری کے تقاضوں کا ادنیٰ طالب علم ہوتے ہوئے البتہ میں نے اس حقیقت کو ذہن میں رکھا کہ ڈونلڈٹرمپ افغانستان Afghanistan سے اپنی افواج نکالنے کو بے چین China ہے۔اسے گماں ہے کہ اٹھارہ سال سے جاری جنگ کے خاتمے کا بندوبست اسے 2020کا صدارتی انتخاب جیتنے میں بے پناہ آسانی فراہم کرے گا۔ٹرمپ پاکستان Pakistan کی بھرپور معاونت کے بغیر افغانستان Afghanistan میں اپنی پسند کا امن قائم ہوتا دکھا ہی نہیں سکتا۔مودی سرکار نے مگر 5اگست کے روز بھارتی Indian آئین کے آرٹیکل 370کے خاتمے کا اعلان کردیا۔ اس کے خلاف احتجاج کو روکنے کے لئے وادیٔ کشمیر کو ایک وسیع وعریض جیل میں تبدیل کردیا گیا ہے۔ پاکستان Pakistan کشمیریوں پر مسلط ہوئے عذاب کو نظرانداز کرہی نہیں سکتا۔ ہماری ’’شہ رگ‘‘ کو جبر کے دبائو میںرکھتے ہوئے اس توجہ کی امید نہ باندھی جائے جو امریکہ United States کو افغانستان Afghanistan کے ضمن میں ہم سے درکار ہے۔

خالصتاََ افغانستان Afghanistan سے جڑے حقائق کو ذہن میں رکھتے ہوئے میں یہ باور کرنے کو مجبور ہوگیا کہ مودی کے ساتھ اپنی ملاقات کے دوران امریکی صدر مقبوضہ کشمیر کے ضمن میں ’’ہتھ ہولا‘‘ رکھنے کی درخواست کرے گا۔مودی نے اس حوالے سے کوئی ٹھوس وعدہ نہ بھی کیا تو ٹرمپ کی جانب سے کشمیر کا بھرپور انداز میں ذکر ہماری سفارتی کامیابی تصور ہوگا۔ غالباََ اسی کامیابی کی امید میں عمران خان Imran Khan صاحب کے قوم سے خطاب کے لئے ساڑھے پانچ بجے کا وقت متعین ہوا۔

پیر کی سہ پہر بالآخر مودی-ٹرمپ ملاقات ہوگئی۔ 45منٹ تک جاری رہی اس ملاقات کے اختتام پر ہمیں ٹرمپ کے منہ سے وہ الفاظ سننے کو ہرگز نہیں ملے جن کی ہمیں امید تھی۔ اس نے مسئلہ کشمیر Kashmir Issue کو ایک بار پھر پاکستان Pakistan اور بھارت India کا باہمی قضیہ قرار دیا اور اطلاع یہ بھی دی کہ بھارتی Indian وزیر اعظم Prime Minister نے اسے بتایا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے حالات اس کے ’’کنٹرول ‘‘ میں ہیں۔

امریکی صدر کے بائیں ہاتھ بیٹھے نریندرمودی نے ہندی زبان میں سوالات کے جواب دئیے۔ ایسا کرتے ہوئے بھارتی Indian وزیر اعظم Prime Minister نے یہ حقیقت بھی رعونت سے نظرانداز کردی کہ وہ جو بات کررہا ہے اسے ترجمہ کے ذریعے ٹرمپ کے کان تک نہیں پہنچایا جارہا۔اس کی ہندی سے پریشان ہوکر ٹرمپ نے برجستہ فقرہ کسا کہ He Speaks Very Good English۔مودی بجائے شرمسار ہونے کے اس فقرے سے بہت خوش ہوا۔ٹرمپ کے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں لے کر اس پر دوستانہ چپت لگائی۔اس چپت کی بدولت ٹرمپ اور مودی محلے کے کسی تھڑے پر بیٹھے ’’جگری یار‘‘ نظر آئے۔بھارتی Indian وزیر اعظم Prime Minister نے امریکی صدر کے ساتھ اپنی بے تکلفی کو پنجابی زبان والے ’’شوہدوں‘‘ کی طرح آشکار کیا۔ اس کی سینہ پھیلائی اِتراہٹ دیدنی تھی۔ میں اسے دیکھ کر پریشان ہوگیا۔

میرے دل خوش فہم نے اس کے باوجود یہ امید باندھ لی کہ ہمارے وزیر اعظم Prime Minister صاحب اپنی تقریر میں مودی-ٹرمپ ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے 22جولائی کو وائٹ ہائوس میں ہواثالثی کا وعدہ ضرور یاد دلائیں گے۔

گزشتہ 20دنوں سے میں نے ایک لمحے کو بھی ٹی وی نہیں دیکھا تھا۔ مودی-ٹرمپ ملاقات کا احوال اپنے سمارٹ فون کی بدولت دیکھنے کے بعد ریموٹ اٹھانے کو مجبور ہوگیا۔عمران خان Imran Khan صاحب کے خطاب کو اپنے کمرے میں تنہا بیٹھے ہوئے بہت توجہ سے سنا۔مزید مایوسی ہوئی۔جی واقعتا گھبراگیا۔

بنیادی پیغام مجھے یہ ملاہے کہ کشمیریوں پر مسلط ہوئی اذیت کے ازالے کے لئے ہمیں ستمبر کی 27تاریخ تک انتظار کرنا ہوگا۔ اس روز ہمارے وزیر اعظم Prime Minister اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے۔ان سے ایک روز قبل وہاںمودی کی تقریر ہوگی۔ پاکستان Pakistan اور بھارت India کے وزرائے اعظم کی تقاریر کے بعد مگر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں مقبوضہ کشمیر کے تازہ ترین حالات کے بارے میں پیش ہوئی کسی قرارداد کی ووٹنگ کے ذریعے منظوری نہیں ہوناہے۔ محض تقاریر ہوں گی۔

کشمیریوں پر نازل ہوئے عذاب میں فی الحال کمی فقط امریکی دبائو کی بدولت ہی لائی جاسکتی تھی۔ٹرمپ کے پاس ہر صورت یہ قوت موجود ہے کہ وہ افغانستان Afghanistan کے حوالے سے پاکستان Pakistan کی معاونت کو یقینی بنانے کے لئے بھارت India کو مجبور کرے کہ وہ کم از کم ’’لاک ڈائون‘‘ میں تھوڑی نرمی لائے۔ کشمیر میں زندگی ذرا ’’معمول‘‘ کے مطابق ڈھلتی نظر آئے۔ چند ہنگامے بھی ہوجائیں۔ احتجاجی مظاہرے کسی صورت جاری رہیں تو امریکی دبائو کے تحت ستمبر کے مہینے میں مودی-عمران ملاقات کا بندوبست بھی ہوسکتا تھا۔

ٹرمپ نے مگر مودی کے اس دعویٰ پر اعتبار کرلیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے حالات بھارت India کے ’’قابو‘‘ میں ہیں۔ حالات پر اگر نئی دہلی کا کنٹرول ’’برقرار‘‘ ہے ۔ وہ قابو سے باہر جاتے نظر نہیں آرہے تو ٹرمپ اس ممکنہ ملاقات کی ضرورت محسوس نہیں کرے گا۔ 5اگست والے بھارتی Indian اقدام کو بلکہ بآسانی ہضم کرلے گا۔پاکستان Pakistan کو بھی ’’حقیقت پسند‘‘ رویہ اختیار کرنے کو مجبور کیا جائے گا۔

وطنِ عزیز کے بے شمار ’’حقیقت پسند‘‘مفکرین بہت تواتر سے ان دنوں پاکستانی معیشت کی زبوں حالی کا ذکر فرمارہے ہیں۔اس کی روشنی میں جنگ سے گریز کی تلقین ہورہی ہے۔ ’’مومن ہو تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی‘‘ والا مصرعہ بھلادیا گیا ہے۔ FATFکی جانب سے لہرائی تلوار کے تذکرے بھی ہیں۔’’وقت اچھابھی آئے گا‘‘کی امید دلاتے ہوئے ’’غم نہ کرزندگی پڑی ہے ابھی‘‘ والا ماحول بنایا جارہا ہے۔

حالات سے بہت مایوس ہوا میں بدنصیب خود کو فی الوقت عمران خان Imran Khan صاحب کے خطاب پر غیر جانب دارانہ تجزیے کے قابل محسوس نہیں کررہا۔ صرف یہ حقیقت یاد دلاتے ہوئے یہ کالم ختم کرنا ہوگا کہ بوسنیا کی آزادی’’بین الاقوامی رائے عامہ‘‘ کی بدولت نہیں ہوئی تھی۔ ہمارے وزیر اعظم Prime Minister یہ بات فراموش کرگئے کہ امریکہ United States کا ایک کلنٹن نامی صدر ہوا کرتا تھا۔اس نے سربیا کی نسل پرست حکومت کو فضائی بمباری کا نشانہ بناتے ہوئے بندے کا پتر بننے کو مجبور کیا تھا۔

 198