فری لانسنگ میں پاکستان Pakistan کی بھارت India کو شکست

کل اور آج - عمار چوہدری

28 اگست 2019

Free Lancing main Pakistan ki Bharat ko shikast

پاکستان Pakistan فری لانسنگ کی دنیا میں تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ فری لانسنگ میں آپ جن کلائنٹس کو ان کا کام کرکے دیتے ہیں وہ کسی تھرڈ پارٹی کمپنی کے ذریعے آپ کو کام کی تکمیل کے بعد آن لائن ادائیگی کر دیتے ہیں۔ یہ تھرڈ پارٹی آن لائن پے منٹ کمپنیاں پے پال‘ پے یو نیر‘ لوکل بینک یا دیگر پلیٹ فارمز ہو سکتے ہیں۔ پاکستان Pakistan میں اگر آپ بیرونی ممالک کے لئے کوئی کام کرتے ہیں‘ کوئی ویب سائٹ ڈیزائن کرتے ہیں یا کوئی سکرپٹ لکھ کر دیتے ہیں تو اس کے لئے آپ کو ادائیگی زیادہ تر پے یو نیر کمپنی کرتی ہے۔ اگرچہ دنیا میں سب سے وسیع نیٹ ورک پے پال کا ہے؛ تاہم پے پال پاکستان Pakistan کے لئے اپنی سروسز فراہم نہیں کر رہا‘ جس کی وجہ سے یہاں کے فری لانسرز پے یو نیر کے ساتھ منسلک ہیں۔ پے یو نیر کمپنی انہیں ان کے اکائونٹ میں رقم بھجوا دیتی ہے۔ یہ دو سو ممالک میں ڈیڑھ سو کرنسیوں میں ادائیگی کرتی ہے۔ گزشتہ دنوں پے یو نیر نے ایک رپورٹ جاری کی جس میں گزشتہ برس کے مقابلے میں فری لانسنگ کے ذریعے آمدن کمانے والے ممالک کی فہرست جاری کی گئی۔ اس فہرست میں امریکہ United States پہلے‘ برطانیہ دوسرے‘برازیل تیسرے‘ پاکستان Pakistan چوتھے‘ یوکرائن پانچویں نمبر پر‘ فلپائن چھٹے‘ بھارت India ساتویں‘ بنگلہ دیش آٹھویں‘ روس Russia نویں اور سربیا دسویں نمبر پر ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان Pakistan میں گزشتہ برس کے مقابلے میں فری لانسنگ میں 47 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا‘ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان Pakistan میں سرکاری شعبہ فری لانسنگ کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔ پنجاب کے ای روزگار فری لانسنگ پروگرام سمیت دیگر پروگرام زرمبادلہ میں اضافے اور بیروزگار میں کمی کا باعث بن رہے ہیں جبکہ ای روزگار سے فارغ التحصیل 12 ہزار نوجوان انٹرنیٹ سے کام کرکے 14 کروڑ روپے کما چکے ہیں۔ یہ پاکستان Pakistan جیسے ملک کے لئے بڑی کامیابی ہے کہ اس نے بھارت India کو بھی اس میدان میں پیچھے چھوڑ دیا ہے کیونکہ بھارت India پاکستان Pakistan کی نسبت اپنے ملک کی آئی ٹی انڈسٹری میں کئی گنا زیادہ سرمایہ کاری کر رہا ہے‘ بھارت India کا معاشی حجم بھی ہم سے کئی گنا بڑا ہے اور مائیکروسافٹ‘ فیس بک سمیت درجنوں عالمی آئی ٹی کمپنیوں کے علاقائی مرکزی دفاتر بھی بھارت India میں موجود ہیں لیکن اس کے نوجوان پاکستان Pakistan سے کارکردگی میں بہت پیچھے ہیں۔

فری لانسنگ اس لئے بھی معروف ہو رہا ہے کہ اس میں آپ کام کی حدود و قیود‘ وقت اور زمان و مکان کی قید سے آزاد ہو کر کام کرتے ہیں۔ آپ کا دائرہ کسی ایک کمپنی کسی ایک شہر یا کسی ایک ملک تک محدود نہیں رہتا بلکہ پوری دنیا آپ کے لئے ایک دفتر بن جاتی ہے۔ آپ اپنی مرضی سے جتنا کام چاہیں کر سکتے ہیں۔ اس کے لئے آپ کو کسی دفتر میں جانے کی ضرورت نہیں بلکہ آپ یہ کام اپنے گھر‘ کسی مشترکہ کام کی جگہ یا کسی تفریحی مقام پر جا کر بھی کر سکتے ہیں۔ پاکستان Pakistan میں فری لانسرز کا شعبہ اس لئے بھی تیزی سے فروغ پا رہا ہے کہ دنیا کے دیگر ممالک کی طرح یہاں بھی روزگار کے روایتی مواقع روز بروز محدود ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ اس میں ٹیکنالوجی کا بھی کردار ہے کہ جہاں سو بندے ایک کام کرتے تھے اب وہی کام ایک مشین‘ کمپیوٹر یا روبوٹ کر دیتا ہے؛ تاہم ٹیکنالوجی کو آنے سے نہیں روکا جا سکتا؛ البتہ روزگار کی شکل اب تبدیل ہوتی جائے گی۔ روایتی صبح نو سے شام بجے والی نوکریاں اب بہت کم دیکھنے کو ملیں گی بلکہ اب دنیا کا فوکس پراجیکٹ پر مبنی جابز پر ہے۔ آپ سرکاری شعبے کو بھی دیکھ لیں‘ جہاں زیادہ تر اب کنٹریکٹ ملازمین بھرتی کئے جاتے ہیں اور انہیں کسی خاص پراجیکٹ پر کام کرنے کا معاوضہ ملتا ہے اور جب وہ پراجیکٹ مکمل ہوتا ہے‘ ملازمین کو بھی فارغ کر دیا جاتا ہے۔ اس سے قبل ایسا نہیں ہوتا تھا۔ ایک بندہ سرکاری نوکری حاصل کر لیتا تھا تو اس کے ساتھ ہی درجنوں مراعات حاصل کرنے لگتا تھا۔ اب سرکاری نوکریاں بھی برائے نام ہی سرکاری رہ گئی ہیں۔ جبکہ نجی شعبے کا حال اس سے بھی پتلا ہے۔ سرمایہ کار بہت زیادہ محتاط ہو گئے ہیں۔ ویسے بھی سرمایہ کار لوگوں کے ٹرینڈ اور قوت خرید کو دیکھ کر ہی چلتا ہے۔ وہ ایسی چیز کبھی بھی متعارف نہیں کراتا جس کو خریدنے کی لوگوں میں استطاعت نہ ہو۔ اس لحاظ سے ٹائمنگ بہت معنی رکھتی ہے۔ ڈالر کی اڑان نے بھی صنعتوں اور چھوٹے کاروباروں کو دھچکا پہنچایا ہے۔ فیکٹریاں نقصان میں جانے کی صورت میں سب سے پہلے اپنے ورکرز فارغ کرتی ہیں کیونکہ یہ سب سے آسان ہوتا ہے۔ اس کے بعد پروڈکشن اور پراڈکٹ لائن میں کمی لائی جاتی ہے۔ اس سے بھی کام نہ چلے تو فیکٹری فروخت یا بند کر دی جاتی ہے۔ ورکرز گلہ کرتے ہیں کہ مالکان ان کا خیال نہیں کرتے اور یہ کہ وہ برسوں سے اس ادارے کے لئے اپنا خون پسینہ بہا رہے ہیں‘ حالانکہ اگر دیکھا جائے تو کوئی بھی مالک اپنے ورکرز کو تب تک نہیں نکالتا جب تک اسے انتہائی زیادہ نقصان نہ اٹھانا پڑ رہا ہو۔ ویسے بھی اب وہ دور نہیں رہا کہ ایک ادارے میں لوگ بیس بیس سال نکال لیا کرتے تھے۔ اب تو چھ آٹھ ماہ بعد لوگ نوکریاں بدل لیتے ہیں اور جہاں سے بہتر مالی فائدہ ہو وہاں چلے جاتے ہیں۔ اس لحاظ سے کوئی بھی ورکر مالکان سے اس لئے گلہ نہیں کر سکتا کہ اچھے ورکر کے جانے سے مالکان کو نقصان ہوتا ہے اور یہ رِسک ہر فیکٹری مالک یا کمپنی کے سی ای او کو لاحق رہتا ہے۔ سیدھی بات کی جائے تو دونوں اپنا اپنا فائدہ دیکھتے ہیں اور جب جس کو موقع ملتا ہے وہ اسے حاصل کرنے کی پوری کوشش کرتا ہے۔ ان حالات کو دیکھا جائے تو نوجوانوں کے پاس سوائے فری لانسنگ کے کوئی اور راستہ نہیں بچتا۔ اس میں مگر کچھ قباحتیں ہیں جو دُور کر لی جائیں تو پاکستان Pakistan دنیا میں صف اول پر آ سکتا ہے۔ صرف پے پال ہی پاکستان Pakistan آ جائے تو اس سے بھی یہاں لوگوں کو بہت فائدہ ہو گا کیونکہ پوری دنیا میں پے پال استعمال کرنے والوں کی تعداد تیس کروڑ کے قریب ہے جبکہ پے یو نیر استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد چالیس لاکھ ہے۔ یہاں سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ پے پال اگر ادائیگی کے لئے پاکستان Pakistan کو اپنی فہرست میں شامل کر لیتا ہے تو پاکستانی فری لانسرز کو کتنا زبردست فائدہ ہو گا۔ اگر ہم صرف پے یو نیر کی بات کریں تو اس میں پاکستان Pakistan نے بھارت India کو پیچھے چھوڑ دیا ہے اور شاید بھارت India ہی پے پال کو پاکستان Pakistan آنے سے روکنا چاہتا ہے۔ آپ ٹویٹر پر بھارتی Indian مداخلت بھی دیکھ لیں جو مسلسل پاکستانی سرکاری و نجی ٹویٹر اکائونٹس کو بند کرانے کے لئے ٹویٹر انتظامیہ پر یہ کہہ کر دبائو ڈال رہا ہے کہ ان اکائونٹس سے کشمیر کے بارے میں درست موقف بیان نہیں کیا جا رہا۔ دوسری جانب ٹویٹر نے بھی بھارتی Indian دبائو میں آ کر کچھ اکائونٹس بند کر دئیے ہیں جبکہ بھارت India نے صدر عارف علوی کے ٹویٹر اکائونٹ کو بند کرنے کی بھی درخواست دی ہے۔ ان حالات میں ہماری حکومت کو پے پال کو پاکستان Pakistan لانے کے لئے ہر ممکن زور لگانا چاہیے کیونکہ اس سے پاکستان Pakistan میں موجودہ فری لانسرز کے لئے بھی آمدنی کے نئے ذرائع کھل جائیں گے بلکہ نئے فری لانسرز کو بھی موقع ملے گا۔ بیرون ملک جو ایک کروڑ پاکستانی موجود ہیں ان میں سے زیادہ تر پے پال اکائونٹس رکھتے ہیں اس لئے وہ بھی اپنے وطن کے ساتھ جڑ جائیں گے اور آن لائن سرگرمیوں میں تیزی آنے سے زرمبادلہ بھی بڑھ جائے گا۔ یہ بھی دیکھنا ہو گا کہ پے پال کن وجوہات کی بنا پر پاکستان Pakistan نہیں آ رہی۔ ان وجوہات کو سامنے رکھ کر قومی سطح پر آئی ٹی کی ٹیم بنائی جائے جو امریکہ United States میں مقیم سیلی کون ویلی میں کام کرنے والے پاکستانی آئی ٹی ماہرین اور بااثر امریکی پاکستانیوں کے ساتھ مل کر پے پال انتظامیہ کے ساتھ مذاکرات کرے کیونکہ جب تک آپ پے پال کو تکنیکی معاملات پر راضی نہیں کریں گے‘ اس کے خدشات کو دُور نہیں کریں گے تب تک اسے لانا ممکن نہیں؛ تاہم ایک بات طے ہے کہ اگر پے پال پاکستان Pakistan آ گیا تو پھر پاکستان Pakistan میں نہ صرف بیروزگاری میں کمی آئے گی بلکہ حکومت کو معاشی اہداف میں بھی کامیابی ملے گی۔ دیکھنا یہ ہے اس بارے کس قدر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا جاتا ہے۔

 122