ہم تو ڈوبے ہیں صنم‘تم کو بھی لے ڈوبیں گے

طلوع - ارشاد احمد عارف

27 اگست 2019

Hum to doby hen sanam tum ko bhi le doben ga

بقا کی فکر کرو خود ہی زندگی کے لئے زمانہ کچھ نہیں کرتا‘ کبھی‘ کسی کے لئے الفاظ چبائے بغیر عمران خان Imran Khan نے وہ سب کچھ کہہ دیا جو نیو کلیئر پاکستان Pakistan کے وزیر اعظم Prime Minister اور ایک کروڑ بیس لاکھ کشمیریوں کے ’’سفیر‘‘ کو کہنا چاہیے۔ قوم سے عمران خان Imran Khan کے خطاب میں ٹیپ کا بند یہ تھا ’’کوئی ہمارے ساتھ کھڑا ہو نہ ہو ہم کشمیریوں کے ساتھ کھڑے ہیں‘ ہم آخری سانس تک کشمیریوں کا ساتھ دیں گے‘‘ وزیر اعظم Prime Minister نے عالمی ضمیر کو جھنجھوڑا‘ بین الاقوامی برادری اور طاقتور ممالک کے علاوہ اقوام متحدہ کو اس کے فرائض یاد دلائے اور ایٹمی جنگ کے خطرات سے آگاہ کیا۔ یہ اتمام حجت ہے صرف اقوام متحدہ‘ عالمی برادری اور عالم اسلام پر نہیں بلکہ اپنی قوم پربھی‘ جو روزانہ حکومت کو کمزوری‘ سہل پسندی اور بے عملی کے طعنے دیتی اور کچھ کر دکھانے کا تقاضہ کرتی ہے۔ اگلے جمعہ کو بارہ بجے طورخم سے کراچی اور واہگہ سے چمن تک کروڑوں جیتے جاگتے انسان گھروں‘ دفتروں‘ کاروباری و تجارتی مراکز اورکارخانوں سے باہر نکل کر مظلوم کشمیریوں کے ساتھ کھڑے ہو کر بھارت India اور دنیا بھر کو یہ پیغام دے سکتے ہیں کہ اور کوئی ہونہ ہو پاکستان Pakistan ‘ستم رسیدہ عوام کے ساتھ ہے۔ متحدہ عرب امارات united arab emirates اور بحرین نے کشمیریوں کے قاتل‘گجرات کے قصائی نریندر مودی narendra modi کی پذیرائی کر کے کشمیری اور پاکستانی عوام کے سینے چھلنی کئے‘ عربوں کی روائتی مردانگی‘ اسلامی اخوت اوردور اندیشی کا تصور پاش پاش کیا اور یہ تاثر ابھارا کہ دور جدید کے عرب پرلے درجے کے موقع پرست ‘ ناعاقبت اندیش اور کودن ہیں‘ حقیقی دوست دشمن کی تمیز سے محروم اور ظاہری چمک دمک کے دلدادہ ۔ واجپائی یا من موہن سنگھ جیسے کسی بھارتی Indian حکمران کو عرب ممالک میں خوش آمدید کہا جاتا تو آدمی حسن ظن کا شکار ہو سکتا تھا کہ دونوں روایتی برہمن ذہنیت کے مالک تھے ۔مکار‘ بغل میں چھری منہ میں رام رام اور سیکولرازم کے نقاب پوش‘ نریندر مودی narendra modi پر یہ الزام نہیں لگایا جا سکتا ‘اس نے اپنی نسل پرستی کسی سے چھپائی ہے نہ اسلام اور مسلمانوں سے نفرت اور نہ اسرائیل سے گہرا ربط و ضبط۔ کشمیری عوام کی نسل کشی کے ارادوں پر امریکہ United States و یورپ تک کو تشویش ہے‘ مغربی ذرائع ابلاغ اور تھنک ٹینک روزانہ وسیع پیمانے پر نسل کشی کا خدشہ ظاہر کر رہے ہیں۔ بھارت India میں انصاف پسند حلقے پریشان ہیں مگر عربوں نے آنکھوں پر مفادات کی پٹی باندھ رکھی ہے‘ انہیں بھارت India کی منڈی سے اربوں ڈالر کمانے کی امید ہے۔ ممبئی کی فلمی دنیا اور حسن کی ملکائوں نے ان کی آنکھیں چندھیا دی ہیں اور چرب زبان بنیوں کی ساہوکارانہ مہارت‘ سستی بھارتی Indian افرادی قوت کو وہ صنعت و تجارت کی ترقی کا رستہ سمجھ بیٹھے ہیں۔ انہیں مظلوم کشمیری خواتین کی آہ و بکا سنائی دے رہی ہے نہ نوجوانوں کے لاشے نظر آتے ہیں اور نہ گلیوں میں بہتا خون ان کی اسلامی و انسانی غیرت و حمیت کو جگاتا ہے۔ سارا قصور مگرعربوں کا بھی نہیں جب تک ہم کشمیری عوام کا مقدمہ دلیری اور استقامت سے عالمی فورموں پر لڑتے رہے عالم عرب ہی نہیں پورا عالم اسلام ہمارے ساتھ کھڑا رہا 1965ء اور 1971ء کی جنگ میں ایک آدھ کے سوا سارے مسلم ممالک کی صرف اخلاقی و سفارتی نہیں عملی تائید و حمائت ہمیں حاصل تھی۔ جب ہم نے اُمہ اورعالم عرب سے مُنہ موڑ کر سارک کو نسخہ کیمیا جانا‘ کشمیر کو سردخانے میں ڈال کر بھارت India سے تجارت کو ترجیح دی اورامریکہ United States بہادر کے ایما پر ہمارے سیاستدانوں‘ حکمرانوں‘ دانشوروں‘ تجزیہ کاروں ‘سول و خاکی بیوروکریٹس نے باہمی مسائل مل بیٹھ کر حل کرنے کاراگ الاپنا شروع کیا۔ بھارت India کو بڑا بھائی گردانا تومسلم ‘ عرب ممالک نے بھی بڑے بھائی‘ بڑی معیشت اور بڑی عسکری قوت کی طرف دیکھنا شروع کر دیا،زرداری اورنواز شریف Nawaz Sharif دور میں سعودی عرب Saudi Arabia ‘ متحدہ عرب امارات united arab emirates کے شہزادوں کی شکار گاہیں منسوخ ہوئیں‘ یمن Yemen جنگ کے موقع پر عربوں کی استدعا کو ہم نے پائے حقارت سے ٹھکرایا اور پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں خواجہ آصف کے علاوہ تحریک انصاف کے بعض لیڈروں نے عرب بادشاہوں کا تمسخر اڑایا وہ ہم بھول چکے مگر عربوں کو یاد ہے ہمیں ضرورت پڑے تو عرب بھائی ہیں انہیں احتیاج ہو تو ہم غیر جانبدار بلکہ زیادہ درست الفاظ میں تو کون‘ میں کون؟ سبحان اللہ۔ مسئلہ کشمیر Kashmir Issue پر جنرل پرویز مشرف نے جو یوٹرن لیا‘ آزاد کشمیر کی سرزمین کو بھی کشمیری مجاہدین کے لئے علاقہ غیر بنایا اور بھارت India کو باڑ لگانے کا موقع فراہم کیا اس کے بعد ہم کس منہ سے عرب اور اسلامی ممالک سے گلہ کر سکتے ہیں ع شکوہ بے جا بھی کرے کوئی تو لازم ہے شعور ہماری دور اندیشی اورعقلمندی کا عالم یہ ہے کہ 9/11کے بعد پاکستان Pakistan پردبائو بڑھاتو پہلے قوم کو ایٹمی پروگرام اورمسئلہ کشمیر Kashmir Issue کے بچائو کا جھانسہ دے کر امریکہ United States سے غلامانہ تعاون کا وعدہ کیا پھر اُسے خوش کرنے کے لئے اسرائیل کو تسلیم کرنے کی مہم شروع کر دی‘ آج بھی بعض تجزیہ کار عین اس وقت اسرائیل کو تسلیم کرنے کی وکالت کر رہے ہیں جب بھارت India کشمیریوں سے وہی سلوک کر رہا ہے جو فلسطینیوں کے ساتھ اسرائیل کا وطیرہ ہے اسرائیل اور پاکستان Pakistan میں دشمنی‘ عربوںکی وجہ سے ہے نہ فلسطینیوں کی محبت اسرائیل کو تسلیم کرنے کی راہ میں رکاوٹ۔ فلسطین اور کشمیر عالمی سامراج کے پیدا کردہ تنازعات ہیں‘ کشمیر پر بھارت India اور فلسطین پر اسرائیل نے ناجائز قبضہ کر رکھا ہے۔ دونوں غاصب اور قابض ریاستیں کشمیری و فلسطینی عوام کا حق خود ارادیت ماننے سے منکر ہیں‘ بھارت India اور اسرائیل دونوں نسل پرست‘ اسلام دشمن اور متکبر ریاستیں ہیں۔ ایک مہا بھارت India اور دوسری گریٹر اسرائیل کی علمبردار۔ بھارت India کا قیام جائز اور قانونی طریقے سے عمل میں آیا مگراسرائیل اعلان بالفور کاناجائز شیطانی بچہ ہے ۔اسرائیل کو تسلیم کرنے سے قبل پاکستان Pakistan جموں و کشمیر Kashmir پر بھارت India کے قبضہ کو جائز اور قانونی تسلیم کرے اور اقوام متحدہ کی قرار دادوں ‘ شملہ معاہدے سے دستبردارہو اور یہ اعلان بھی کرے کہ اگر خدانخواستہ کل کلاں کو بھارت India آزاد کشمیر و گلگت و بلتستان پر فوجی جارحیت مسلط کرے تو ہم مزاحمت نہیں کریں گے۔ ظاہر ہے یہ ناممکن ہے تو پھر اسرائیل کو تسلیم کرنے کا شوشہ چھوڑنے کا مقصد کیا ہے؟ کشمیر کے تنازع پر پاکستان Pakistan کے موقف کو کمزور ‘ موجودہ حکومت کی ساکھ کو مشکوک اور عمران خان Imran Khan کو اسرائیل و بھارت India کا ہمدرد‘ کشمیریوں اور فلسطینیوں کا غدار ثابت کرنے کے مترادف ۔ کوئی احمق ہی یہ تصور کر سکتا ہے کہ اسرائیل محض پاکستان Pakistan کی خاطر بھارت India سے تعلق توڑ سکتا ہے یا بھارت India سے جڑے مفادات سے دستبردار ہو گا۔ جموں و کشمیرمیں آج نریندر مودی narendra modi جو کر رہا ہے وہ اسرائیلی مشوروں کا نتیجہ ہے جبکہ پاکستان Pakistan کے اسلامی تشخص ‘ایٹمی پروگرام اورجذبہ جہاد سے سرشارفوج سے اسرائیل خائف ہی نہیں گریٹر اسرائیل کی راہ میں سب سے بڑی اور آخری رکاوٹ سمجھتا ہے۔ عمران خان Imran Khan نے اپنی نشری تقریر سے کشمیری عوام اور قوم کے حوصلے بلند کئے ہیں‘ کشمیری اور پاکستانی عوام کو ایک ساتھ لاکھڑا کیاہے‘ سید علی گیلانی کے خط کا اس سے زیادہ موثر ‘ہمدردانہ اور پُرجوش جواب دینا ممکن نہ تھا۔ یہ عالمی برادری اور اداروں کے علاوہ عرب ممالک کے لئے بھی چشم کشا تھا‘ جنہیں اب احساس ہو گا کہ اگر ان کی بے جا پذیرائی اور حوصلہ افزائی نے نریندر مودی narendra modi کو مہم جوئی پر آمادہ کیا‘ وہ کوئی حماقت کر بیٹھا تو پاکستان Pakistan کا جواب صرف ہندوستان کی تباہی کا پیش خیمہ نہیں عرب شہزادوںکی اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کو بھی لے ڈوبے گا۔ عرب بھائی اسلامی اخوت کے جذبے کے تحت نہیں اپنی سرمایہ کاری بچانے کے لئے پاگل مودی کا ہاتھ روکیں‘ کشمیریوں سے اظہار ہمدردی اور پاکستان Pakistan سے تعلق کے باعث نہ سہی اپنی عیش و عشرت اور شکاری فطرت کی تسکین کے لئے بھارت India کو کشمیر سے دستبردار ہونے پر مجبور کریں ورنہ پاکستان Pakistan تو فیصلہ کر چکاہے‘ عمران خان Imran Khan کا پیغام واضح ہے ہم آخری حد تک جائیں گے اور آخری سانس تک کشمیریوں کے ساتھ کھڑے ہوں گے‘ ہرچہ باداباد ع ہم تو ڈوبے ہیں صنم تم کو بھی لے ڈوبیں گے

 262