اور میں لاجواب ہو گیا

قلم کمان - حامد میر

26 اگست 2019

or main Lajawab hogaya

دریائے پونچھ کے کنارے واقع اس خوبصورت گائوں کا نام مدارپور تھا۔ ہجیرہ سے تیتری نوٹ کراسنگ پوائنٹ کی طرف جاتے ہوئے لائن آف کنٹرول کے قریب اس گائوں کے مکین کئی دنوں سے اپنے گھروں میں محصور ہیں کیونکہ بھارتی Indian فوج اس گائوں کی آبادی کو مسلسل نشانہ بنا رہی ہے۔ اس علاقے میں زیادہ اونچے پہاڑ نہیں ہیں۔ چھوٹے چھوٹے پہاڑوں کی چوٹیوں پر بھارتی Indian فوج کے مورچے ہیں جبکہ مدارپور نیچے وادی میں ہے۔ بھارتی Indian فوجی اکثر اوقات گائوں والوں کی مرغیوں اور بکریوں پر بھی نشانے لگاتے ہیں لیکن پانچ اگست کے بعد سے وہ انسانوں پر نشانے لگا رہے ہیں۔ اس گائوں کے قریب درختوں کی اوٹ میں علاقے کے ایک بزرگ نے مجھے بتایا کہ ہم نے 1947میں اپنے زورِ بازو سے پونچھ کے اس علاقے کو آزادی دلوائی تھی، ہم سرینگر کے قریب پہنچ گئے تھے لیکن بھارت India کا مکار وزیراعظم پنڈت نہرو اقوام متحدہ میں پہنچ گیا اور اس نے سیز فائر کرادیا۔

یہ سیز فائر لائن بعد میں کنٹرول لائن بن گئی اور بھارت India اس کنٹرول لائن کو مستقل سرحد بنانا چاہتا ہے لیکن ہم کشمیر کی تقسیم نہیں مانیں گے، ہم بہت جلد اس کنٹرول لائن کو روند دیں گے۔ قریب کھڑے نوجوانوں نے اپنے اس بزرگ کی فوری تائید کی اور کہا کہ ہم پر روزانہ فائرنگ کا مقصد یہ ہے کہ ہم خوفزدہ ہو کر اپنا علاقہ چھوڑ دیں لیکن ہم اپنے گھر اور کھیت چھوڑ کر فرار ہونے کے بجائے کنٹرول لائن کو پار کرنے کی کوشش کریں گے۔ بزرگ نے کہا کہ تتہ پانی کے قریب ایک گائوں درہ شیر خان میں بھارتی Indian فوج نے شادی کی ایک تقریب میں فائرنگ کی اور میرا ایک پرانا دوست لال محمد شہید ہو گیا جس کی عمر اسی برس سے بھی زیادہ تھی، کیا دنیا کو نظر نہیں آتا کہ بھارتی Indian فوج شادیوں پر حملے کر رہی ہے؟ یہ سن کر میں نے پوچھا کہ درہ شیر خان کتنی دور ہے؟ بزرگ نے بتایا کہ کم از کم ایک گھنٹے کی ڈرائیو ہے لیکن وہاں پہنچنا مشکل ہے کیونکہ اس گائوں کے لوگ بھی مدارپور والوں کی طرح گھروں میں محصور ہیں اور بھارتی Indian فوج گھر سے باہر نکلنے والوں پر گولیاں چلاتی ہے۔ بزرگ نے کہا درہ شیر خان کے قریب سہڑہ میں بھارتی Indian فوج نے ایک گرلز کالج اور چھوٹے ہاسپٹل پر گولے برسائے ہیں، آپ وہاں چلے جائیں۔ میں نے سہڑہ کا راستہ سمجھا اور اجازت لی تو بزرگ نے پوچھا کہ کیا یہ درست ہے کہ نریندر مودی narendra modi کو متحدہ عرب امارات united arab emirates کا سب سے بڑا ایوارڈ دیا جائے گا؟ میں نے اثبات میں سر ہلایا تو بزرگ نے کہا کہ ہم اس ایوارڈ کو کبھی نہیں بھولیں گے، جب ہم لاشیں اٹھا رہے ہیں تو ہمارے قاتل کو ایوارڈ دیا جارہا ہے۔

تھوڑی دیر کے بعد میں دریائے پونچھ کے کنارے پر سفر کرتا ہوا ایک تنگ پل عبور کر کے سہڑہ پہنچا تو درہ شیر خان کے اسی سالہ بزرگ لال محمد کے خاندان سے ملاقات ہوئی جو کچھ زخمی بچوں کو لے کر سہڑہ آئے تھے تاکہ ان کی مرہم پٹی کی جا سکے۔ یہ چھوٹے چھوٹے بچے ایک گھر کے قریب گولہ پھٹنے سے زخمی ہوئے تھے اور جس بنیادی صحت مرکز میں انہیں مرہم پٹی کے لئے لایا گیا اس پر بھی ایک دن پہلے گولہ مارا جا چکا تھا۔ ان بچوں کے باپ نے مجھے بتایا کہ مقبوضہ کشمیر کے لوگ بھی اپنے گھروں میں قیدی ہیں اور ہم بھی اپنے گھروں میں قیدی ہیں۔ وہ بھی لاشیں اٹھا رہے ہیں، ہم بھی لاشیں اٹھا رہے ہیں، ان کے بچے بھی اسکولوں میں نہیں جا رہے ہیں، ہمارے بچوں کے اسکول بھی بند ہیں۔ لائن آف کنٹرول کے آس پاس صرف اسکول کالج نہیں اکثر کاروباری مراکز بھی بند رہتے ہیں لیکن ہم یہاں سے نہیں بھاگیں گے ہم لڑیں گے۔

ادھر ایک ہجوم اکٹھا ہو چکا تھا۔ ایک خوبصورت نوجوان نے مجھے مخاطب کیا اور کہا: ایک بات پوچھنا تھی۔ مجھے گورنمنٹ گرلز کالج سہڑہ پہنچنے کی جلدی تھی جہاں بھارتی Indian فوج نے گولہ مارا تھا۔ میں نے مسکرا کر نوجوان سے کہا کہ میں ذرا جلدی میں ہوں، وہ میرے ساتھ ساتھ چلنے لگا اور کہا کہ آپ نے ایران Iran کے رہبر آیت اللہ علی خامنائی کا بیان دیکھا ہے جنہوں نے اس مشکل وقت میں ہم کشمیریوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا ہے؟ میں نے کہا کہ ہاں ان کے ٹویٹ پر تو بھارتی Indian میڈیا میں بڑا ماتم ہو رہا ہے۔ نوجوان نے کہا کہ ہمارے قاتل مودی کو متحدہ عرب امارات united arab emirates میں ایوارڈ دیا جا رہا ہے، کیا پاکستان Pakistan کی حکومت ہمارے محسن آیت اللہ علی خامنائی کو پاکستان Pakistan کا سب سے بڑا سول ایوارڈ Civil Award دے گی؟ یہ سن کر میں اچانک رک گیا۔ غور سے اس نوجوان کی طرف دیکھا۔ اس کی آنکھوں سے شعلے نکل رہے تھے۔ میں نے اپنے آپ سے پوچھا کہ اس سوال کا کیا جواب ہے؟ مجھے کوئی جواب نہ سوجھا۔ میں اس نوجوان کے ساتھ کوئی غلط بیانی نہیں کرنا چاہتا تھا۔ میں خاموشی سے آگے بڑھ گیا۔

سہڑہ کے گرلز کالج پر ہونے والی بمباری دیکھ کر میں مقامی لوگوں کا شکریہ ادا کرتا ہوا اپنی گاڑی میں بیٹھ رہا تھا۔ مجھے اسلام آباد Islamabad پہنچنے کی جلدی تھی تاکہ لائن آف کنٹرول کی صورتحال ’’جیو نیوز‘‘ کے ذریعہ پوری دنیا تک پہنچ سکے۔ گاڑی میں بیٹھا تو علی خامنائی کے بارے میں سوال پوچھنے والا کشمیری نوجوان پھر سامنے آکھڑا ہوا اور کہنے لگا چلو علی خامنائی کو نہیں ہماری بہن ناز شاہ کو ایوارڈ دے دو جس نے مودی کو ایوارڈ دینے والوں کو ایک احتجاجی خط تو لکھ دیا۔ میں نے اس نوجوان سے کہا کہ میرے اختیار میں ہو تو آیت اللہ علی خامنائی اور ناز شاہ دونوں کو ایوارڈ دے دوں۔

یقین کیجئے کہ اس نوجوان نے مجھے بہت مغموم کردیا۔ میں کوٹلی کے راستے اسلام آباد Islamabad واپس آتے ہوئے طفیل ہوشیار پوری کے بارے میں سوچ رہا تھا۔ ان کا ایک سدا بہار ترانہ آج بھی کشمیریوں کی زبان پر ہے ’’اے مرد مجاہد جاگ ذرا، اب وقت شہاد ت ہے آیا‘‘۔ طفیل ہوشیاری پوری نے ایک دفعہ کہا تھا؎

اے بگڑی ہوئی قسمت کے خدائو

مجھ سے سرِ محفل ذرا نظریں تو ملائو

سچ کہنا کہ عقدہ کوئی آساں بھی کیا ہے؟

ملت کے کسی درد کا درماں بھی کیا ہے؟

رخ پھر نہ سکا گردشِ تقدیر کا اب تک

حل ہو نہ سکا مسئلہ کشمیر Kashmir Issue کا اب تک

دنیا بھر کے کشمیری اپنے کچھ بھائیوں کے ہاتھوں اپنے قاتل کی پذیرائی پر بہت دکھی ہیں۔ کشمیری پہلے بھی جانیں دیتے رہے، آئندہ بھی جانیں دیں گے لیکن وہ پوچھ رہے ہیں کہ جب وہ لاشیں اٹھا رہے ہیں تو ان کے حق میں آواز اٹھانے والے آیت اللہ علی خامنائی کو پاکستان Pakistan کی طرف سے ویسا ایوارڈ مل سکتا ہے جیسا ایوارڈ بھائیوں نے مودی کو دیا؟

 259