نئی بساط بچھ چکی ہے

حرف راز - اوریا مقبول جان

26 اگست 2019

Nayi Bisaat Bicch chuki ha

ہر کوئی اپنا آخری دا کھیلنا چاہتا ہے۔ منظرنامہ یہ ہے کہ بساط الٹ چکی ہے، اور امریکہ United States کو شہہ مات ہو چکی ہے لیکن پھر بھی افغانستان Afghanistan کے میدان پر بچھائی گئی شطرنجی کے کھلاڑی تھوڑی دیر کے لئے ہی سہی، اپنے مہروں کو دوبارہ سجا کر شکست کو باعزت اور جیت کو بد مزہ کرنا چاہتے ہیں۔ امریکہ United States اور اس کے حواری نیٹو ممالک، روس، بھارت India اور پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے امریکہ United States نواز سیکولر نما طالبان دشمن عناصر اپنی اپنی چالوں میں مصروف ہیں۔ لیکن ان میں سے کسی کو اندازہ تک نہیں کہ وقت ان کے ہاتھوں سے نکل چکا ہے اور تاریخ ان سب کے منہ پر شکست کے آثار تحریر کر چکی ہے۔ آج سے اٹھارہ سال قبل یہ سب کے سب امریکی رتھ پر سوار تھے۔ امریکی دفاعی تجزیہ کار اور معیشت دان گہرائی سے تجزیہ کرتے ہیں کہ اگر وہ یہ جنگ پاکستان Pakistan کی مدد کے بغیر لڑنے نکلتے تو ان کا کیا حشر ہوتا، تو اسکا تصور کرتے ہوئے بھی وہ کانپ اٹھتے ہیں۔ پاکستان Pakistan کے بغیر امریکہ United States اگر یہ جنگ لڑتا تووہ آج ایک دیوالیہ ملک ہوتا۔ پاکستان Pakistan نے اپنی بہتر سالہ تاریخ میں سب سے بڑی سبسڈی (Subsidy)امریکہ United States کو افغان جنگ میں مدد کی صورت میں دی ہے۔ امریکہ United States کے محکمہ دفاع کی آڈٹ رپورٹ کے مطابق افغانستان Afghanistan میں ایک امریکی سپاہی پر سالانہ 1.5 ملین یعنی 15 لاکھ ڈالر خرچہ آتا ہے۔ اس جنگ کے دوران امریکہ United States کو افغانستان Afghanistan میں پرسکون آپریشن کے لئے پاکستان Pakistan نے مغربی سرحدوں پر ایک لاکھ فوجی تعینات کیئے۔ اگر یہ فوجی نہ ہوتے تو امریکہ United States کو افغانستان Afghanistan کی مشرقی سرحدیں محفوظ بنانے کے لیے اتنے ہی فوجی تعینات کرنے پڑتے، جن پر سالانہ ایک ہزار پانچ سو ارب یعنی ڈیڑھ ٹریلین ڈالر خرچہ آتا۔ اب اس سالانہ خرچے کو سترہ سالوں سے ضرب دیں تو یہ 25 ہزار ارب یعنی 25 ٹریلین ڈالر بنتا ہے۔ لیکن پاکستان Pakistan نے امریکہ United States کو جنگ میں سبسڈی دیتے ہوئے اپنے سپاہی کا خرچہ دس ہزار ڈالر سالانہ بتایا اور اس مد میں امریکہ United States سے صرف 14.6 ارب ڈالر billion dollor کولیشن سپورٹ فنڈ کے طور پر لیے جبکہ اسکے ساتھ ساتھ امریکہ United States نے احسان جتاتے ہوئے 18.8 ڈالر امداد کے طور پر فراہم کیے۔ یہ کل 34.4 ارب ڈالر billion dollor بنتے ہیں۔ ان ڈالروں کے عوض امریکہ United States نے جو ہم سے حاصل کیا وہ تباہ کن ہے۔ اس میں دہشت گردی کی جنگ میں ستر ہزار جانوں اور مستقل نفرت کے خاردار جنگل اگانے کے علاوہ امریکی امداد کا سب سے اہم ترین مقصد Re-engineering the society as it is saw fit to American needs یعنی "پاکستانی معاشرے کو امریکی معیارات و ضروریات کے مطابق ڈھالنا"۔ یہ وہ مقصد تھا جس کے نتیجے میں نظام تعلیم کے تحت تعلیمی اداروں کو الحاد اور سیکولرزم کی نرسریاں بنایا گیا، مذہبی سوچ، مذہبی لباس یہاں تک مذہبی اقدار کو میڈیا کی دھونس سے تمسخر کا نشانہ بناکر مطعون کیا گیا۔ لفظ "جہاد" ملک میں گالی بنا دیا گیا اور منبر ومحراب پر بیٹھ کر قرآن سنانے والے بھی اس لفظ کی ادائیگی سے کانپنے لگے۔ لیکن گزشتہ ڈیڑھ سال سے یہ طبقہ مایوس ہے مگر ایک زخمی سانپ کی طرح پیچ و تاب کھا رہا ہے۔ انہیں یہ بات ہضم ہی نہیں ہورہی کہ دنیا بھر کی ٹیکنالوجی کی قوت کو چند ہزار نہتے شکست دے دیں گے۔ وہ یہ دکھ بھی ہضم کر جاتے، لیکن انہیں یہ خوف کھائے جا رہا ہے کہ جس دن ان چند ہزار اللہ پر توکل کرنے والوں کا اقتدار افغانستان Afghanistan میں قائم ہوجائے گا تو یہ پوری مسلم امت کو ایسا اعتماد، حوصلہ اور توکل کی ایسی طاقت عطا کرے گا جسے شکست دینا نا ممکن ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان Pakistan کا یہ سیکولر طبقہ، ان مذاکرات کی کامیابی سے پہلے کوئی وار کرنا چاہتا ہے۔ کوشش ایک ہی ہے کہ کسی طرح طالبان کو گھیر گھار کرتمام افغان گروہوں کے ساتھ ایک مشترکہ اقتدار کے لئے قائل کیا جاسکے۔ دوسری جانب بھارت India ہے جسکی ساری کمائی لٹ گئی ۔ امریکہ United States کے ساتھ اہم ترین پارٹنر کی حیثیت سے بھارت India نے افغانستان Afghanistan میں تین ارب ڈالر billion dollor کی سرمایہ کاری کی، انکی فوج، خفیہ ایجنسی اور پولیس کو ٹریننگ دی، جسکے بدلے میں اسے وہاں قدم جما کر دو مقاصد حاصل کرنے کی کھلی چھوٹ دی گئی ۔ ایک پاکستان Pakistan کو خطے میں تنہا کرنا اور دوسرا پاکستان Pakistan میں انتہا پسند گروہوں کی مدد کرکے اسے غیر مستحکم کرنا۔ امریکہ United States نے شکست دیکھی تو گذشتہ سال پینٹاگون نے بھارت India سے کہا کہ وہ افغانستان Afghanistan میں امریکی افواج کی جگہ لے کر جنگ لڑے لیکن بھارت India کی ٹانگیں کانپ گئیں۔ جواب دیا گیا کہ ہمارے پاس آپ جیسی ٹیکنالوجی ہے اور نہ آپ جتنی دولت۔ امریکہ United States کو اس دن احساس ہوا کہ اس نے ایک غلط گھوڑے بھارت India پر دا لگایا تھا۔یوں امریکہ United States نے ایک سال پہلے بنائی گئی چین China مخالف پینٹاگون پالیسی دفن کر دی ، کہ اب خطے میں چین China کو کس کے بل بوتے پر روک سکیں گے۔ چین China سے معاملات درست کے لئے گئے تو فورا بھارت India کی پالتو "بلوچ لبریشن آرمی" کو امریکہ United States نے دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کر دیا۔ گیارہ اور بارہ جولائی 2019 کو بیجنگ میں چار ممالک، امریکہ United States ، روس، چین China اور پاکستان Pakistan ،افغان امن کے روڈ میپ طے کرنے کے لئے اکٹھے ہوئے تو انہوں نے بھارت India کے افغانستان Afghanistan سے بوریا بستر گول کرنے پر مہر تصدیق ثبت کردی۔ پیچ و تاب کھاتا ہوا بھارت India آخری دا چلنا چاہتا ہے ۔ اسکا سب سے اہم مہرہ زلمے خلیل زاد انہیں مسلسل رہنمائی فراہم کرتا رہا۔ آخری دا تھا کہ اگر طالبان افغانستان Afghanistan میں برسراقتدار آ گئے تو خطے میں طاقت کا توازن بگڑجائے گا اور یوں تمام جہادی بھارت India میں کشمیر کا رخ کرلیں گے۔ یوں خطے میں جہاد مزید بڑھے گا اور سب کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔ اس لئے ضروری ہے کہ آخری مرتبہ افغان الیکشن ستمبر میں کروا کر طالبان کی قوت کو آزمایا جائے۔ظاہر ہے ایسا کرنے سے وہاں بھارت India نواز حکومت آجائے گی ۔لیکن ایسا کرنے کے لئے ضروری تھا کہ بھارت India میں بھی لوہا گرم کیا جائے تاکہ دنیا بھر کو عالمی جہادی قوتوں کے یہاں پنپنے کے خوف سے ڈرایا جا سکے۔ اسی لئے کشمیر کی آئینی حیثیت ختم کرکے کرفیو لگایا گیا اور نیشنل رجسٹریشن کے نام پر 25 کروڑ مسلمانوں کو اس خوف میں مبتلا کیا گیا کہ ایک دن تم دنیا میں کسی بھی ملک کے شہری نہیں رہوگے۔ کشمیر میں بیس دن سے کرفیو ہے اور ظلم کی داستان لکھی جا رہی ہے اور آسام میں تیس لاکھ مسلمانوں کو شہریت کی فہرست سے خارج کردیا گیا ہے۔ لیکن یہ سب کچھ کرنے کے باوجود بھی امریکی اس تصور سے ہی خوفزدہ ہیں کہ وہ طالبان سے ہونے والے معاہدے کی صورت میں افغانستان Afghanistan سے نکلنے میں چند لمحوں کی بھی تاخیر کریں۔ وہ تو صرف دو ہفتوں کا سیز فائر مانگ رہے ہیں تاکہ بحفاظت افغانستان Afghanistan سے نکل سکیں۔ ایسے میں بھارت India اور پاکستانی سیکولر لبرل اور ملحد طبقے کا دکھ بھی مشترک ہے اور خوف بھی سانجھا۔ یوں دونوں کا ماتم بھی ایک جیسا ہے۔انکے برعکس ، روس Russia کی خواہش معصوم سی ہے کہ طالبان مزید کچھ دیر سمجھو تہ نہ کریں اور امریکہ United States کا خون کچھ دیر اور اس سرزمین پر رستا رہے۔ یہ ماتم گسارانِ الحاد اب کچھ نہیں کر سکتے۔ انکا وقت بیت چکا۔ میرے اللہ نے توکل کی دولت سے مالامال طالبان کے حق میں فیصلہ سنا دیا۔ اپنی نشانیاں واضح کر دیں۔ اب دوسری بساط بچھ چکی ہے۔ شطرنج کی اگلی بازی کا آغاز ہے۔ اس دفعہ اس بازی کو بھی وہی کردار کھیل رہے ہیں جو پہلے سے موجود تھے۔ بس شطرنجی اٹھا کر بھارت India میں بچھا دی گئی ہے۔ جارج بش کے وہ الفاظ یاد آرہے ہیں جو اس نے دوسری مرتبہ الیکشن جتنے کے بعد کانگریس میں کہے تھے "ہم اتنے بھولے نہیں کہ ہمیں چین China اور بھارت India کی معاشی ترقی کے خطرے کا احساس نہ ہو۔ بھارت India ہمارے لئے زیادہ خطرہ ہے کیونکہ اسکا تعلیمی نظام ہمارے جیسا ہے"۔ کتنی معصوم سی خواہش ہے امریکہ United States کی ،جس میں آسام سے لے کر کشمیر تک لاتعداد خطوں کی آزادی چھپی ہوئی ہے۔ بساط پر چین China اور روس Russia کے مہروں کی دبی خواہشیں بھی ایسی ہی ہیں۔ پاکستان Pakistan پہلے کی طرح اردگرد دیکھ کر چال چل رہا ہے۔ مقصد صرف ایک ہے، دنیا کے نقشے پر چند مزید سیکولر ریاستیں۔ لیکن وہ جنہیں میرے اللہ نے خراسان (افغانستان) میں 39 سال جنگ کی بھٹی میں ڈال کر تیار کیا وہی اب بھی بساط اپنی مرضی سے الٹ دیں گے۔

 607