سانپ کی نئی کینچلی

ایک اور ایک - منیر احمد بلوچ

25 اگست 2019

Sanp ki nayi kenchli

وزیراعظم عمران خان Imran Khan عالمی رہنمائوں اور اداروں کو بار بار انتباہ کر رہے ہیں کہ اجیت ڈوول اور نریندر مودی narendra modi کے ماضی کا ریکارڈ چیخ چیخ کرکہہ رہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کی موجودہ بد ترین صورت حال پر عالمی رائے عامہ کے دل میں اٹھنے والے غصے کا رخ موڑنے کے لیے وہ ممبئی‘ نئی دہلی پارلیمنٹ‘ چائی سنگھ پورہ‘ اری کیمپ اور پلوامہ Pulwama سے بھی بڑھ کر کوئی نیا کھلواڑ کراسکتے ہیں۔وزیر اعظم Prime Minister عمران خان Imran Khan کے یہ خدشات بے جا نہیں‘ کیونکہ بھارت India کے ریکارڈ سے یہ صاف ظاہر ہو جاتا ہے کہ وہ اپنی بر بریت پر پردہ ڈالنے اور ایک کروڑ سے زائد کشمیریوں کی جدو جہد آزادی کو غلط رنگ دینے نیز کشمیر پر ثالثی کی پیشکش کو سبو تاژ کرنے اور خود کو مظلوم ثابت کرنے کے لیے اپنے سینکڑوں لوگوں کی گردنیں کاٹنے سے بھی باز نہیں آئے گا۔

زیا دہ دور نہ جائیں سابق امریکی صدر بارک اوبامہ کے دورہ ٔبھارت India کی مثال سامنے رکھیں جب ان کے دورہ بھارت India سے چند روز قبل 31 دسمبر2014ء کو نئے سال کی پہلی صبح انڈین کوسٹ گارڈ کے آئی جی آپریشن کے آر نوتیال نے اچانک ٹی وی چینلز پر بتانا شروع کر دیا کہ بین الاقوامی ذرائع سے ملنے والی انفارمیشن پر پاکستان Pakistan سے آنے والی ایک کشتی کو بھارتی Indian کوسٹ گارڈز نے پوربندر گجرات کی بندر گاہ سے 356 کلو میٹر دور روکنے کی کوشش کی لیکن کشتی ہماری وارننگ پر رکنے کی بجائے تیز رفتاری سے آگے نکل گئی ‘جس پر بھارت India کے کوسٹ گارڈز نے اس کا پیچھاکیا ‘ہماری بار بار کی وارننگ کے با وجود کشتی نہ رکنے پر کوسٹ گارڈز نے اس پر فائر کئے جس سے کشتی میں آگ لگ گئی اور چند منٹ بعد وہ ایک دھماکے سے پھٹ گئی۔ آئی جی آپریشن نے میڈیا کو ایک سوال پر بتایا کہ ہم ایک اور کشتی کی تلاش میں ہیں جس کے متعلق کوسٹ گارڈز کویقین ہے کہ وہ تباہ ہونے والی کشتی میں سوار لوگوں سے رابطے کا کام دے رہی تھی۔ جب ان سے سوال کیا گیا کہ تباہ شدہ کشتی سے کچھ ملا ؟ تو آئی جی نوتیال کا کہنا تھا کہ انتہائی خراب موسم کی وجہ سے کسی قسم کا ملبہ نہیں مل سکا۔ مشکوک کشتی کی خبر عام ہوتے ہی بھارت India کے اندر سے ہی اس پر انگلیاں اٹھنا شروع ہو گئیں اورانڈین نیشنل کانگریس نے بی جے پی BJP کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ نریندرمودی سرکار کی جانب سے پوربندر کشتی والی کہانی سوائے ایک سنسنی خیز ڈرامے کے اور کچھ بھی نہیں ہے‘ کیونکہ جو کچھ کہا جا رہا ہے اس جھوٹ پر بھارت India کا پوری دنیا میں مذاق اڑایا جائے گا۔ اور پھر وہی ہوا جس کا کانگریس نے خدشہ ظاہر کیا تھا‘اوبامہ کے دورہ کے بعد کشتی کی کہانی پر بھارت India نے یو ٹرن لیتے ہوئے کہنا شروع کر دیا کہ کراچی کی کیٹی بندر گاہ سے آنے والی یہ کشتی دہشت گردوں کی نہیں غالباًسمگلروں کے کسی چھوٹے سے گروپ کی تھی ۔

کیا یہ ممکن ہے کہ 30 ہارس پاور انجن والی کوئی بھی کشتی بھارتی Indian کوسٹ گارڈز کے جدید جہازوں سے تیز بھاگ سکے؟ آئی جی آپریشن انڈین کوسٹ گارڈ کہتے ہیں کہ انتہائی خراب موسم کی وجہ سے کشتی میں موجود لوگوں کی لاشیں اور دوسرا سامان ڈھونڈنا ممکن نہیں جبکہ سمندری موسم کی صورت حال سے متعلق اداروں کا کہنا تھا کہ اس رات متعلقہ سمندری حدود کا موسم مکمل طو ر پر صاف تھا‘ جس کا ریکارڈ دنیا کے ہر ملک کے پاس موجود ہے۔ ایک لمحے کے لیے اگر بھارت India کاورژن مان بھی لیا جائے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ اس قدر خراب موسم میں چھوٹی چھوٹی کشتیاں کوسٹ گارڈز سے تیزی میں آگے نکل جائیں؟

واشنگٹن میںامریکہ United States کی سابق وزیر خارجہ میڈلین البرائٹ کی کتاب The Mighty and the Almightyکی تقریب رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے سابق امریکی صدر بل کلنٹن نے کہا ''اپنی زندگی میں مجھے اس بات کا ہمیشہ افسوس رہے گا کاش وہ مارچ 2000ء میں کشمیر پر ثالثی کے ایجنڈا پر مشتمل اپنا دورہ بھارت India ملتوی کر دیتے‘‘۔ سابق امریکی صدر بل کلنٹن نے کہا کہ ان کے ہندوستان کے دورے سے چند گھنٹے پہلے بھارت India کے زیر قبضہ کشمیر کے گائوں چائی سنگھ پورہ میں 36بے گناہ سکھوں کو نا معلوم افراد کے ہاتھوں بے درد ی سے اس لیے قتل کرا دیا تاکہ ان کے وحشیانہ قتل کی ذمہ داری پاکستان Pakistan پر ڈالتے ہوئے بھارت India میں مظاہرے شروع کرا دیئے جائیں اور اس ما حول میں بھارتی Indian قیادت کشمیر پر ممکنہ اور مجوزہ سمجھوتے پر بات کرنے سے بھاگ سکے۔ بل کلنٹن دورۂ ہند وستان کے لیے ابھی نئی دہلی سے کوئی ایک گھنٹے کی پرواز پر تھے کہ جموں کے چائی سنگھ پو رہ کے 36 سکھوں کے قتل عام کی خبریں دنیا کے ہر میڈیا چینل میں طوفان کی طرح پھیل گئیں‘ جس پر 22 مار چ 2000ء کو بھارتی Indian وزیر اعظم Prime Minister اٹل بہاری واجپائی کے قومی سلامتی کے مشیر برجیش مشرا نے اکانومسٹ لندن سے بات کرتے ہوئے کہنا شروع کر دیا کہ چائی سنگھ پورہ میں دہشت گردی سے 36سکھوں کے قتل عام نے بھارت India اور امریکہ United States کو اور قریب کر دیا ہے‘ لیکن برجیش مشرا کے اس انٹرویو کے چھ سال بعدسابق امریکی صدر بل کلنٹن نے دنیا بھر کو بتا کر چونکا دیا کہ انہیںساری عمر اس بات کا افسوس رہے گا کہ اگر وہ بھارت India کا یہ دورہ نہ کرتے تو 36 بے گناہ سکھ آج اپنے خاندان والوں کے ساتھ زندہ ہوتے ۔

36 سکھوں کے قتلِ عام کے چھ سال بعد سابق امریکی صدر بل کلنٹن نے بھارت India کی عیا ری اور درندگی کا وہ پردہ چاک کیا جس کے متعلق پاکستان Pakistan پچھلی کئی دہائیوں سے ساری دنیا کو چیخ چیخ کر آگاہ کرتا آ رہا تھا۔ بل کلنٹن نے وہ سچ چھ سال بعد بولا جس کا انہیں دوسرے دن 23 مارچ 2000ء کو ہی علم ہو چکا تھا کہ چائی سنگھ پورہ میں 36 کشمیری سکھوں کا قتلِ عام بھارتی Indian فوج کا کیا دھرا ہے‘ کیونکہ جب عالمی میڈیا کی ٹیم اس گائوں پہنچی تو اس حملے میںبچ جانے والے سکھ سکول ٹیچر کنول جیت سنگھ نے سی این این کو بتایا کہ چالیس کے قریب بھارتی Indian فوجی ہمارے گائوں میں آئے‘ انہوں نے گائوں کے مردوں کو باہر نکالا ان کی دو قطاریں بنائیں اور گولیوں کی بارش کرکے سب کو شہید کر دیا ۔سکول ماسٹر کنول جیت سنگھ کہتے ہیں کہ ان بھارتی Indian فوجیوں میں سے دو کو میں پہچانتا تھا‘ کیونکہ ہر ماہ تنخواہ وصول کرنے کے لیے مجھے ان کے کیمپ کے پاس سے گزرنا ہوتا تھا۔ جس گائوں کی آبا دی کا کل دس فیصد مسلمان ہوں اس گائوں میں تین کشمیری مجاہد کس طرح 90 فیصد آبا دی کے لوگوں کو بغیر ہاتھ پائوں باندھے قتل کر سکتے ہیں؟بھارتی Indian فوج کا کیمپ اس گائوں سے دو کلو میٹر سے بھی کم فا صلے پر تھا‘ جس کی کمان بریگیڈئیر آر کے کروال کر رہے تھے اور یہ کیسے ممکن ہے کہ کشمیر میں سات لاکھ بھارتی Indian فوج اور تین لاکھ سے زیا دہ پولیس اور پیرا ملٹری فورسز تعینات ہونے کے با وجود بھارتی Indian فوج اس قتل عام کے آٹھ گھنٹے بعد چائی سنگھ پورہ پہنچتی ہے؟

 188