’’پوزیشن‘‘ اور ’’اپوزیشن‘‘

جلسہ عام - مجیب الرحمان شامی

25 اگست 2019

Position and Opposition

یہ ایک ''اوپن سیکرٹ‘‘ تھا کہ جنرل قمر جاوید باجوہ General Qamar Javeed Bajwa آئندہ تین سال بھی پاک فوج Pakistan Army کی سربراہی کا فریضہ ادا کرتے رہیں گے۔ کئی با خبر مبصرین اور تجزیہ نگار کھلم کھلا یہ دعویٰ کر رہے تھے، اور جن کی زبانوں کو تالے لگے تھے وہ بھی اِس حقیقت سے بے خبر نہیں تھے۔ جنرل باجوہ نے اپنا منصب سنبھالنے کے بعد جو کردار ادا کیا، اور جس طرح پاکستان Pakistan ہی نے پورے خطے کو متاثر کیا، اس نے یہ بات تو واضح کر دی تھی کہ وہ کوئی معمولی شخصیت نہیں ہیں۔ ان کا شمار ان لوگوں میں کیا جا سکتا تھا، جن کے بارے میں میر تقی میر نے کہہ رکھا ہے؎

مت سہل ہمیں جانو، پھرتا ہے فلک برسوں

تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں

ان کا اعتراف بین الاقوامی طور پر بھی کیا جا رہا تھا، انہوں نے عرب ممالک اور ایران Iran کے ساتھ بیک وقت اعتماد کا رشتہ قائم کیا، چین China کی اعلیٰ ترین قیادت کی نگاہ میں پسندیدہ ٹھہرے اور افغانستان Afghanistan سے رخصت ہونے کے لیے بے تاب امریکی صدر کی اسٹیبلشمنٹ کی نگاہوں میں کھب گئے۔ پاکستان Pakistan کے داخلی معاملات میں بھی ایک فیصلہ کن کردار ادا کرتے رہے، اور اپنے اہداف حاصل کرنے کے لیے اقدامات کرتے چلے گئے۔ اس سب نے وزیر اعظم Prime Minister عمران خان Imran Khan سے ان کے تعلقات کو بھی گہرائی اور گیرائی بخش دی۔ پاکستان Pakistan کے حالات اور واقعات پر نظر رکھنے والے اس نتیجے پر پہنچتے چلے گئے کہ وزیر اعظم Prime Minister عمران خان Imran Khan اور جنرل باجوہ ایک دوسرے کے لیے ناگزیر ہو چکے ہیں، ایک کے بغیر دوسرا ادھورا دکھائی دیتا ہے۔ جنرل قمر جاوید باجوہ General Qamar Javeed Bajwa کا تقرر تو وزیر اعظم Prime Minister نواز شریف Nawaz Sharif کے دستخطوں سے ممکن ہوا تھا۔ وہ سینئر ترین جرنیل بھی نہیں تھے، غالباً ان کا نمبر چوتھا تھا لیکن جب نگاہِ انتخاب ان پر ٹھہری تو جناب نواز شریف Nawaz Sharif نے دور و نزدیک سے داد وصول کی۔ ان کی شہرت ایک ایسے جنرل کی تھی جو دستور کے تحت قائم حکومت کو مشکلات میں مبتلا کرنے میں لذت محسوس نہیں کرتا۔ بند دروازوں سے چھن چھن کر جو معلومات آ رہی تھیں، وہ یہی تھیں کہ وہ دستور کی پاسداری کو اولین ترجیح دیتے ہیں۔ تاریخ کی عجب ستم ظریفی ہے کہ وزیر اعظم Prime Minister نواز شریف Nawaz Sharif سے ان کے تعلقات پہلے ہی روز گدلا گئے۔ جب وہ رسمی آداب بجا لانے وزیر اعظم Prime Minister ہائوس پہنچے تو نشست و برخاست کا اہتمام معمول سے ہٹ کر تھا۔ سادہ سی میز کے ایک طرف وزیر اعظم Prime Minister بیٹھے تھے تو دوسری طرف جنرل صاحب۔ بظاہر اس میں اعتراض کی کوئی بات نہیں تھی، لیکن اِس سے پہلے وزیر اعظم Prime Minister ، چیف آف آرمی سٹاف کے ساتھ جس اہتمام سے گدّے دار کرسیوں پر بیٹھے پائے جاتے تھے، وہ منظر غائب تھا۔ اس سے وزیر اعظم Prime Minister کی تاک میں بیٹھے ہوئے عناصر کو حملہ آور ہونے کا موقع مل گیا، اور انہوں نے اس تاثر کو ہوا دی کہ جنرل قمر جاوید باجوہ General Qamar Javeed Bajwa کو پروٹوکول نہیں دیا گیا... معاملات آگے بڑھتے اور پیچھے ہٹتے رہے۔ پانامہ کیس نے جو ہنگامہ کھڑا کر رکھا تھا، اس میں سنبھلنا اور سنبھالنا آسان نہیں تھا۔ ''ڈان لیکس‘‘ کے تابکاری اثرات بھی پھیل پھیل جاتے تھے۔ تحقیقات کے لیے قائم خصوصی کمیٹی کی رپورٹ پر رد عمل ایک بار پھر غلط فہمیوں کو بڑھاوا دے گیا۔ ایک عسکری ٹویٹ اور پھر اس کی واپسی کا بوجھ اتنا زیادہ تھا کہ کشتی ہموار نہیں رہ پا رہی تھی۔ مشکلات بڑھتی جا رہی تھیں۔ اس کے بعد جو کچھ ہوا، وہ تاریخ کا حصہ ہے۔ اس کی تفصیل میں جانے کا محل نہیں ہے۔ نئے انتخابات نے عمران خان Imran Khan کو وزیر اعظم Prime Minister بنا دیا۔ اِس وقت نواز شریف، ان کی بیٹی مریم نواز، ان کے عارضی جانشین شاہد خاقان عباسی سب جیل میں ہیں۔ سمدھی وزیر خزانہ اسحاق ڈار خرابیٔ صحت کی آڑ میں لندن میں فروکش ہیں، نیب اُن کی تلاش میں ہے۔ نواز شریف Nawaz Sharif کے ایک زمانے کے حریفِ اوّل آصف علی زرداری، اپنی ہمشیرہ محترمہ کے ساتھ اڈیالہ جیل کو شرفِ قیام بخشے ہوئے ہیں، گویا وزیر اعظم Prime Minister عمران خان Imran Khan کا ہر قابلِ ذکر حریف مشکلات میں گِھر چکا ہے، جیل یاترا کر چکا ہے، یا اس خطرے سے دوچار ہے۔ پاکستانی سیاست کے ساتھ ساتھ معیشت بھی ہچکولے کھا رہی ہے لیکن یہ بات اندرون اور بیرون ملک واضح ہے کہ پاکستانی فوج اور سیاسی قیادت قدم سے قدم ملا کر محوِ سفر ہیں۔ ان کی یک جانی نے ایسا ماحول پیدا کیا ہے، جو خارجی اور داخلی محاذوں پر پیش قدمی کی ضمانت کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ جنرل قمر جاوید باجوہ General Qamar Javeed Bajwa کی مدتِ ملازمت میں توسیع کی خبر آتے ہی نیچے کی طرف لڑھکتی سٹاک ایکسچینج میں تیزی آئی اور بے یقینی کے سائے سمٹے۔ اپوزیشن کی دونوں بڑی جماعتیں (مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی) بھی نا خوشی کا اظہار کر نہیں پائیں۔ وہ اس امید پر قائم ہیں کہ کروٹ لینا انسانی فطرت کا تقاضا ہے۔

پاکستان Pakistan (ایک بار پھر) اپنی تاریخ کے نازک لمحات سے گزر رہا ہے۔ مقبوضہ کشمیر کی ریاستی حیثیت ختم کر کے اس پر براہِ راست نئی دہلی کی حکومت قائم کرنے کے لیے بھارتی Indian وزیر اعظم Prime Minister نریندر مودی narendra modi اقدام کر گزرے ہیں۔ تین ہفتے گزرنے کے باوجود مقبوضہ کشمیر میں کرفیو نافذ ہے۔ اس کا رابطہ پوری دُنیا سے منقطع کر دیا گیا ہے۔ عالمی ادارے اور تنظیمیں اس انسانیت سوزی پر سراپا احتجاج ہیں۔ پاکستان Pakistan اور آزاد کشمیر میں جذبات اُبل رہے ہیں۔ افغانستان Afghanistan سے امریکی فوجوں کے انخلا پر صدر ٹرمپ بضد ہیں۔ طالبان سے مذاکرات کی بساط بچھی ہے۔ پاکستان Pakistan امریکی توقعات کا مرکز ہے۔ گویا، ہمارا خطہ انتہائی دور رس تبدیلیوںکی زد میں ہے۔ ایسے میں مضبوط و مستحکم پاکستان Pakistan ہی اپنا راستہ بنا سکتا ہے۔ جنرل قمر جاوید باجوہ General Qamar Javeed Bajwa کی عسکری سیادت کے اعلان نے حالات کو سنبھالا دیا ہے۔ اس سلسلے کو آگے بڑھانے کی ضرورت یوں ہے کہ ریاست، محض حکومت سے عبارت نہیں ہوتی۔ اپوزیشن بنچوں پر بیٹھنے والے بھی اس کا حصہ ہوتے ہیں۔ چند ہزار ووٹوں کی اکثریت سے بننے والی حکومت (عملی طور پر) سو فیصد رائے دہندگان کا اعتماد نہیں رکھتی۔ ریاست کے معاملات میں حکومت اور اپوزیشن یک جا نہیں ہوں گے تو کہا جائے گا کہ قوم یک جا نہیں ہے۔ قوم یک جا نہیں ہو گی تو فوجی قیادت اپنے جوہر یکسوئی کے ساتھ آزما نہیں سکے گی، بھارت India اور افغانستان Afghanistan سے پہلے پاکستان Pakistan کو اپنا داخلی محاذ سنبھالنا ہے۔ ایک دوسرے سے الجھنے کے بجائے ایک دوسرے کی طاقت بننا ہے۔ وزیر اعظم Prime Minister کو وزیر اعظم Prime Minister کے طور پر اور چیف آف آرمی سٹاف کو چیف آف آرمی سٹاف کے طور پر پوری طاقت اور حکمت کے ساتھ اپنا اپنا فرض ادا کرنا ہے۔ جمہوری ریاستوں میں اپوزیشن کی اہمیت اور اس کے اثر و رسوخ سے انکار ممکن نہیں ہوتا۔ ہماری تاریخ کشادہ دِلی اور کشادہ ظرفی سے بھری پڑی ہے۔ جنگِ صفین کے بعد جب قیصر روم کی طرف سے امیر معاویہ کو امیر المومنین علیؓ مرتضیٰ کے خلاف تعاون کا اشارہ دیا گیا تو انہوں نے انتہائی سختی کے ساتھ اس پیش کش کو ٹھکرا دیا۔ قیصر کے نام فوری خط بھیجا۔ اس میں اسے ''روم کے کتے‘‘ کہہ کر مخاطب کیا، اور لکھا کہ مَیں (حضرت) علی ؓ کا ایک ادنیٰ سپاہی بن کر تمہارے خلاف لڑوں گا۔ حالیہ سیاسی تاریخ بھی اس کشادگی سے بھری ہوئی ہے۔ 1965ء کی جنگ میں فیلڈ مارشل ایوب خان اور ان کی اپوزیشن کی یک جائی تاریخ کا حصہ ہے، معاہدہ شملہ سے پہلے ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ ان کے ''جانی دشمنوں‘‘ کا تعاون بھی دیدنی تھا۔ آج بھی فیلڈ مارشل ایوب خان اور بھٹو مرحوم کی طرح اپنے مخالفین کے لیے بانہیں کھولنے کی ضرورت ہے۔ اپوزیشن اور پوزیشن میں کوئی زیادہ فاصلہ نہیں ہوتا... ''پوزیشن ہولڈرز‘‘ یاد رکھیں کہ ایک ''الف‘‘ اِدھر سے اُدھر ہو جائے تو سب کچھ بدل جاتا ہے ؎

ثبات اک تغیر کو ہے زمانے میں

سکوں محال ہے قدرت کے کارخانے میں

 168