کشمیر کہانی… (13)

آخر کیوں - رؤف کلاسرا

23 اگست 2019

Story of Kashmir

سوال یہ ہے کہ برٹش آرمی کے ایک ریٹائرڈ میجر خورشید انور کی ضرورت کیوں پیش آئی تھی؟دراصل پندرہ اگست سے پہلے پاکستان Pakistan اور بھارت India دونوں یہ توقع کئے بیٹھے تھے کہ مہاراجہ کشمیر کا دماغ کچھ دنوں میں ٹھیک ہوجائے گا اور وہ فیصلہ کر لے گا‘ لیکن انہیں علم نہ تھا کہ مہاراجہ کچھ اور سوچ کر بیٹھا ہے۔ مہاراجہ ہری سنگھ نے پلان تیار کیا ہوا تھا کہ وہ پاکستان Pakistan اور آزاد کشمیر ریاست کے درمیان ایک بفر زون پیدا کرے اور اس کام کے لیے اس نے ڈوگرا فورس اپنی مسلمان آبادی پر استعمال کرنے کا فیصلہ کیا‘ تاکہ مسلمانوں کی آبادی کم ظاہر کی جائے اور اس کے پاس اپنی ریاست کے قائم کرنے کا جواز بن جائے۔ یوں پونچھ ‘جو پاکستانی سرحد کے قریب علاقہ ہے ‘اور جنوبی جموں کے علاقوں میں باقاعدہ فوج کے ذریعے مسلمان کی نسل کشی شروع کر دی گئی۔جموں سے مسلمانوں کی تمام آبادی جو پانچ لاکھ کے قریب تھی‘ کو وہاں سے نکال دیا گیا‘ جبکہ دو لاکھ تو مکمل طور پر غائب ہوگئے ۔ایک پلان کے تحت مہاراجہ کی فوج نے کشمیری مسلمانوں کو پاکستان Pakistan میں دھکیلنا شروع کر دیا ؛ اگرچہ ہندوستان اس سے انکاری رہا کہ اس طرح کی تباہی کشمیری مسلمان پر لائی گئی ‘ لیکن یہ دعویٰ کیا گیا کہ دراصل بھارت India ہی خفیہ طور پر ڈوگرا فوج کو اسلحہ فراہم کررہا تھا ۔

جب یہ سب رپورٹس آنا شروع ہوئیں کہ کیسے ڈوگرا فورس کشمیری مسلمانوں کو مار رہی ہیں تو اس وقت برطانوی ڈپٹی ہائی کمشنر سی بی ڈیوک‘ جو لاہور میں تعینات تھے ‘نے صورتحال کا پورا جائزہ لینے کے لیے کشمیر جانے کا فیصلہ کیا۔ اس نے وہاں بیس ایسے گائوں دیکھے‘ جو کشمیر کے اندر دریائے چناب کے کناروں پر جلائے گئے تھے اور مسجد بھی راکھ ہو چکی تھی ۔ وہ اس نتیجے پر پہنچا کہ یہاں کشمیری مسلمانوں کے ساتھ زیادتی ہورہی ہے۔ مہاراجہ ہری سنگھ نے مسلمانون کی نسل کشی شروع کی ہوئی تھی‘ ہزاروں کی تعداد میں کشمیری مہاجرین‘ جن میں سے اکثریت کا تعلق جموں سے تھا ‘ سیالکوٹ کے علاقے میں جان بچانے کے لیے آنا شروع ہوگئے اور انہوں نے یہاں مقامی لوگوں کو اپنے اوپر ہونے والے مظالم کی دردناک کہانیاں سنائیں۔ مہاراجہ کو احساس نہ تھا کہ وہ ان کشمیریوں کو مار بھگا کر دراصل تاریخ کے سخت ترین جنگجو پٹھانوں کو اپنی طرف بلا رہا ہے۔ برطانوی سفارت کار ڈیوک کا خیال تھا کہ مہاراجہ بہت خطرناک کھیل کھیل رہا ہے ‘ اس کی وجہ سے پاکستان Pakistan کے علاقوں سے کشمیر کے اندر بڑی تعداد میں جنگجو اس کے لیے مسائل پیدا کر دیں گے۔ ڈیوک کا اندازہ بالکل درست تھا‘ کیونکہ سکھوں اور ہندوئوں کے ہاتھوں مسلمانوں کے قتلِ عام کی خبروں پر قبائلی علاقوںمیں پہلے ہی بہت غصہ پایا جاتا تھا۔ ان سب کو لیڈ خورشید انور کر رہا تھا‘ جو اس برطانوی ڈپلومیٹ کے بقول ‘بہت بڑا ایڈونچرر اور لڑائی کا شوقین تھا۔ خورشید انور نے ان قبائلی پٹھانوں کو بتانا شروع کیا کہ اگر انہوں نے اپنے لاکھوں کشمیری مسلمان بھائیوں کی فوری مدد نہ کی تو ایک مسلمان ریاست بہت جلد ہندو مہاراجہ کے قبضے میں چلی جائے گی اور مہاراجہ ہری سنگھ بھارت India کے ساتھ الحاق کا پلان بنا کر مسلمانوں کو مستقل غلام بنا لے گا۔ انہیں جہاد کرنا ہوگا ۔ یوں بڑی تعداد میں پٹھانوں نے اس لشکر کو جوائن کرنا شروع کردیا جو خورشید انور کی سربراہی میں کشمیر کی طرف روانہ ہورہا تھا ۔ قبائلی پٹھان جو زیادہ تر محسود اور آفریدی تھے ‘ نے اپنی رائفلوں کے ساتھ سفید کپڑے باندھ لیے کہ وہ اس وقت تک واپس نہیں لوٹیں گے جب تک وہ پنجاب میں اپنے مسلمان بھائیوں پر ہونے والے مظالم کا بدلہ نہیں لے لیتے۔برطانوی عہدیداروں کا خیال تھا کہ سرحد حکومت ان قبائلیوں کو روکنے کے لیے کوششیں کررہی تھی ‘لیکن اسے زیادہ کامیابی نہیں مل رہی تھی۔ ڈیوک نے اپنی رپورٹ میں خبردار کیا کہ قبائلی علاقوں کے پٹھانوں کے لیے کشمیر ہمیشہ سے ایک مالدار علاقہ سمجھا جاتا رہا ہے؛چنانچہ اگر مسلمانوں کے قتلِ عام کا بدلہ لینے کے ساتھ ان میں کشمیر کی لڑائی سے مال غنیمت جمع کرنے کا جوش بھی مل گیا تو صورتحال قابو سے باہر ہو جائے گی ۔

اس لشکر کے ارکان نے خفیہ طور پر بازاروں سے سامان خریدنا شروع کر دیا‘ تاکہ وہ جنگ میں اپنے ساتھ لے جاسکیں‘تاہم پلان بنایا گیا کہ سامان بازار سے اس طرح خریدنا ہے کہ کسی کو پتہ نہ چلے۔ یوں بڑی تعداد میں گڑ اور چنے خریدے گئے ۔ یوں دھیرے دھیرے ان کے پاس اسلحہ اور کھانے پینے کی اشیا اکٹھی ہوگئیں۔ اتنی دیر میں پاکستانی افسران نے پٹرول‘ چینی اور دیگر اشیا کی سپلائی کشمیر کو روک دی ۔ ہائی کمشنر نے اس کی ذمہ داری پنڈی کے ڈپٹی کمشنر عبدالحق پر ڈالی‘ جو وزارت دفاع میں سروس Russia کرنے والے ایک اور بھائی کے ساتھ مل کر کشمیر میں اپنی طرح کی جنگ شروع کر چکا تھا ۔

جب یہ قبائلی اکٹھے ہورہے تھے تو ٹیلی فون لائن پر ایک طرف سر جارج کنگھمن‘ جو صوبہ سرحد کے گورنر تھے تو دوسری طرف پاکستان Pakistan آرمی کے کمانڈ اِن چیف لیفٹیننٹ جنرل سر فرینک میسروی تھے۔ گورنر سرحد نے کمانڈر اِن چیف کو بتایا کہ یہاں صوبہ بھر میں عجیب و غریب اور پرسرار چیزیں ہورہی ہیں‘کئی دنوں سے قبائلی علاقوں سے ٹرکوں کے ٹرک پٹھانوں سے لدے اللہ اکبر کے نعرے لگاتے پشاور سے گزر رہے ہیں‘ لگتا ہے کہ وزیراعلیٰ پٹھانوں کو بڑھکا رہا ہے اورپشاور شہر میں سب کو علم ہے کہ یہ قبائلی جنگجو کہاں جارہے ہیں۔ گورنر نے آرمی کمانڈر سے پوچھا کہ آپ کو ابھی بھی یقین ہے کہ حکومت پاکستان Pakistan کشمیر میں ان قبائلیوں کو نہیں بھیج رہی اور اس کے خلاف ہے؟ گورنر سرحد کو علم نہ تھا کہ جب وہ آرمی کمانڈر کو فون کررہا تھا تو وہ اس وقت لندن جانے کے لیے اپنا سامان پیک کررہا تھا۔ آرمی کمانڈر لندن اس لیے جارہا تھا کہ وہ پاکستان Pakistan کی نئی فوج کے لیے وہاں گولہ بارود اور دیگر ہتھیاروں کا آرڈر دے‘ تاکہ جو ہتھیار بھارت India نے روک لیے تھے ان کی جگہ وہ لے سکیں۔ جنرل نے گورنر کو بتایا کہ وہ کشمیر کے اندر قبائلیوں کے ایسے کسی بھی حملے کے خلاف ہیں اور وزیراعظم لیاقت علی خان نے انہیں پورا یقین دلایا ہے کہ حکومت پاکستان Pakistan بھی ایسے کسی منصوبے کے خلاف ہے۔ اس پر گورنر سرحد نے کہا کہ اگر ایسی بات ہے تو پھر وہ فوری طور پر وزیراعظم لیاقت علی خان کو بتائے کہ قبائلی کشمیر کی طرف جنگ لڑنے جارہے ہیں۔ لندن جانے سے پہلے آرمی کمانڈر نے وزیراعظم لیاقت علی خان سے ملاقات کی اور وزیراعظم نے اسے یقین دلایا کہ حکومت پاکستان Pakistan کا کوئی ارادہ نہیں کہ قبائلی کشمیر میں جنگ لڑیں۔ دوسری طرف برٹش افسران اس بات پر قائل تھے کہ سرحد حکومت پوری کوشش کررہی ہے کہ وہ پٹھانوں کو روک لے‘ لیکن وہ ناکام ہورہی ہے۔ یوں جنرل لندن روانہ ہوگیا‘ تاکہ وہ پاکستانی فوج کے لیے گولہ بارود خرید سکے۔

بیس اکتوبر کو اس وقت جنگ ناگزیر ہوگئی جب مہاراجہ کی فوج نے پاکستانی سرحد کے اندرچار گائوں پر حملہ کیا اور مارٹر‘ گرینیڈ اور آٹومیٹک اسلحے سے فائرنگ کی۔ تقریبا ً1750 لوگ اس حملے میں مارے گئے اور سینکڑوں زخمی ہوئے۔ ڈوگرا فورس کے پاکستانی سرحد کے اندر اس حملے کے دو دن بعد بائیس اکتوبر کی رات کی تاریکی میں ایک پرانی فورڈ جیپ دریائے جہلم کے پل سے سو گز دُور رک گئی۔ جیپ کے پیچھے ٹرکوں کی قطار لگی ہوئی تھی ‘جن میں مسلح لوگ سوار تھے۔ رات کی تاریکی میں اگر کوئی آواز سنی جاسکتی تھی تو وہ نیچے دریائے جہلم کے پانی کی آواز تھی۔ جیپ میں سوار سیراب خان ‘جو کمانڈ کررہا تھا ‘کی عمر تئیس برس تھی ۔ اس نے پل کے پار دیکھا‘ جہاں سے کشمیر شروع ہورہا تھا ۔ وہ دراصل یہاں رک کر ایک اشارے کا انتظار کررہا تھا۔نوجوان سیراب خان اپنی بے قراری پر قابو پانے کے لیے اپنی مونچھوں کو بار بار تائو دے رہا تھا ۔ اس کے اندر بے چینی بڑھ رہی تھی۔ رات گزرتی جارہی تھی ‘ لیکن ابھی تک اسے پل کی دوسری سائیڈ سے اشارہ نہیں ملا تھا ۔ اس نے آج رات ہی کشمیر میں داخل ہوکر جنگ شروع کرنی تھی۔ اس کے خدشات سانپ کی طرح پھن پھیلائے اس پر حملہ آور ہورہے تھے۔ کہیں آخری مرحلے پر گڑ بڑ تو نہیں ہوگئی ۔ یہ نہ ہو کہ وہ پل عبور کریں اور آگے ڈوگرا فورس کے جوان لشکر کا توپوں‘ بندوقوں‘ اور اسلحہ باردو سے لیس استقبال کریں ۔ کہیں ان کے ساتھ دھوکہ تو نہیں ہوگیا ؟ (جاری)

 312