بے نیازی حد سے گزری

طلوع - ارشاد احمد عارف

23 اگست 2019

Be Niazi had sy guzri

عمران خان Imran Khan کا اللہ بھلا کرے‘ مذہبی بنیادوں پر تشدد کا نشانہ بننے والوں کے پہلے عالمی دن کے موقع پر اس نے مظلوم کشمیریوں کو یاد رکھا‘ عالمی برادری کو باور کرایا کہ وہ محض عقیدے کی بنا پر فوجی جبرو تشدد کا نشانہ بننے والوں سے بھی اظہار یکجہتی کرے جن سے عیدالاضحیٰ اور نماز جمعہ کی ادائیگی کا حق چھین لیا گیا اور امکانی قتل عام کا راستہ روکنے کے لئے متحرک ہو۔ میں سارا دن مختلف نیوز چینلز پر کسی مذہبی و سیاسی جماعت‘ انسانی حقوق کی تنظیم اور شہریوں آزادیوں کی علمبردار این جی اوز کی طرف سے کشمیری عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لئے منعقد ہونے والے سیمینار اور احتجاجی مظاہرے کی فوٹیج اور خبر تلاش کرتا رہا مگر کہیں بھی مایوسی کے سوا کچھ نہ ملا۔عمران خان Imran Khan کا ٹویٹ پڑھ کر تحریک انصاف چاہتی تو سرگرمی دکھا سکتی تھی مگر وہ بھی خاموش رہی۔ گزرے زمانوں میں پاکستان Pakistan فارن فنڈڈ این جی اوز کے لئے جنت تھا سندھ میں ‘کسی غریب‘ سماجی جبر کا شکار ہندو لڑکی کے قبول اسلام‘ سرگودھا میں مسلمانوں کے نقطہ نظر سے دلآزار لٹریچر کی تقسیم میں ملوث بک سیلر کی گرفتاری اور جائیداد کے تنازعہ میں کسی مسیحی اور مسلمان کی باہمی لڑائی کے موقع پر یہ فارن فنڈڈ این جی اوز آسمان سر پر اٹھا لیتی تھیں۔ فائیو سٹار ہوٹلوں میں دھواں دھار تقریریں ہوتیں‘ مہنگی گاڑیوں سے اُتر کر فیشن ایبل خواتین و حضرات چوکوں چوراہوں میں پمفلٹ تقسیم کرتے اور خوب نعرے بازی ہوتی‘ اقلیتی فرقے کی کوئی خاتون ذاتی دشمنی کی بھینٹ چڑھتی تب بھی اسے مذہبی امتیاز کا مسئلہ بنا کر پاکستانی معاشرے اور قوانین کو خوب رگیدا جاتا‘ بات قائد اعظم کی گیارہ اگست کی تقریر سے شروع ہوتی۔ جنرل ضیاء الحق Zia ul Haq کی اسلامائزیشن تک پہنچتی‘ درمیان قرار داد مقاصد کے بخیے بھی ادھیڑے جاتے اور پاکستان Pakistan کے بانیوں پر زبان طعن دراز ہوتی کہ انہوں نے ایک مذہبی ریاست بنا کر ہندو مسلم تفریق پیدا کر دی ورنہ متحدہ ہندوستان میں ہم مزے سے اکٹھے بیٹھے آلوگوشت کھا رہے ہوتے ‘انہیں ہماری شراب نوشی پر اعتراض ہوتا نہ ہم گائے کا موتر پینے والوں سے تعرض کرتے‘ مابخیرشما بسلامت۔ کشمیر میں حشر بپا ہے مسلم حق خود ارادیت مانگنے کی پاداش میں نہتے اور بے قصور کشمیری مردوزن ‘ بزرگوں اور بچوں پر زمین تنگ ہو چکی ہے‘ بی بی سی کے بقول گھروں پر شب خون مارکر بھارتی Indian فوج نوجوانوں کو اٹھاتی‘ وحشیانہ تشدد کا نشانہ بناتی اور پھر غائب کر دیتی ہے‘ اپنے باپ بھائی اور شوہر کے لئے صدائے احتجاج بلند کرنے والی کشمیری خواتین سے بھی یہی سلوک ہوتا ہے مگر پاکستان Pakistan کے طول و عرض میں گزشتہ اٹھارہ روز کے دوران انسانی حقوق بالخصوص حقوق نسواں کے لئے جدوجہد کرنے والی ایک بھی تنظیم نے سڑکوں پر نکلنا اور نریندر مودی narendra modi کے خلاف نعرے لگانا درکنار ہلکا پھلکا پریس ریلیز جاری کرنا ضروری نہ سمجھا۔ آئین و قانون شکنی اور ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر کسی غیر معروف سوشل میڈیا ایکٹو سٹ‘ فاٹا اور بلوچستان Balochistan میں علانیہ علیحدگی پسند اور دہشت گرد کی گرفتاری پاکستانی حکومت‘ عسکری اداروں اور عمران خان‘ جنرل قمر جاوید باجوہ General Qamar Javeed Bajwa اور جنرل فیض حمید کو ملاحیاںسنانے والوں نے کشمیر کے درجنوں اخبارات کی بندش‘ صحافیوں کی آزادانہ آمدورفت پر قدغن ‘ صحافیوں ‘ دانشوروں کی گرفتاری اور فون انٹرنیٹ اور سماجی رابطوں کے انقطاع کو احتجاج کا موضوع نہیں بنایا ‘یوں لگتا ہے منافقت کی حد ہے۔یہ تنظیمیں وفات پا چکی ہیں یا ان کو بھارت‘ ناروے‘ جرمنی‘ امریکہ United States اور برطانیہ سے موصولہ فنڈز سے چلانے والے دانشور و تجزیہ کار سورگباش ہو گئے ؟قبرستان کی سی خاموشی ہے یہ کلمہ گو کشمیریوں سے عناد ہے پاکستان Pakistan سے رشتہ کیا لاالہ الااللہ کے نعرے سے نفرت یا کشمیریوں کے سفیر عمران خان Imran Khan اور کشمیریوں کے حقوق کے لئے آخری حد تک جانے والی فوجی قیادت سے بغض؟ وثوق سے کچھ کہنا مشکل ہے مگر دال میں کالا ضرور ہے ع کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے ایک بات البتہ سو فیصد سچ ہے کہ چونکہ کشمیریوں کے حق میں آواز بلند کرنا دنیوی لحاظ سے منافع بخش سودا نہیں‘ کشمیری عوام اور ان سے ہمدردی رکھنے والے پاکستانی مسلمان ان این جی اوز اور سماجی کارکنوں و لیڈروں کی نقد خدمت کر سکتے ہیں نہ انہیں عالمی سطح پر شاباش ملنے کی اُمید ہے اور نہ حقوق انسانی کا اعلیٰ ایوارڈ ملنے کی توقع لہٰذا خاموشی بہتر ہے چندہ خورموم بتی مافیا سے اس کے سوا توقع بھی کیا تھی؟ قابل رشک کردار مگر اسلام کی نام لیوا اور ؎ ایک ہوں مسلم کی پاسبانی کے لئے نیل کے ساحل سے لے کر تابخاک کاشغر کا نعرہ لگانے والی مذہبی جماعتوں کا بھی نہیں‘ مولانا فضل الرحمن عمران خان Imran Khan کی حکومت کے خاتمے کے لئے ملین مارچ اور لاک ڈائون کی دھمکیاں دے رہے ہیں‘ دو آل پارٹیز کانفرنسیں بھی ہو چکی ہیں مگر دس سال تک کشمیر کمیٹی کا سربراہ رہنے کے باوجود تاحال انہوں نے مظلوم اور ستم رسیدہ کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لئے مارچ کا اعلان نہیں فرمایا۔ جماعت اسلامی کے سوا دیگر مذہبی تنظیموں کا بھی یہی حال ہے‘ حافظ سعید شائد خیرہ کن اجتماعات سے فوری بیداری کی مہم برپا کرتے مگر وہ پابند سلاسل ہیں اور ہماری کوتاہ اندیشی کی زندہ مثال۔ آج جمعتہ المبارک ہے ہمارے علماء کرام ‘ خطیب اور واعظ حضرات وہ کام کر سکتے ہیں جو انہیں وارث منبر رسولﷺکے طور پر کرنا چاہیے پاکستان Pakistan کی لاکھوں مساجد میں کشمیریوں سے یکجہتی‘ مودی سرکار کی مذمت اور جہاد کے احکامات کی تبلیغ وہ کام کر سکتی ہے جو کسی حکومت‘ سیاسی جماعت اور غیر سرکاری تنظیم کے بس کی بات نہیں۔ برسر پیکار کشمیری عوام‘ بالخصوص نوجوان بھارت India اور نریندر مودی narendra modi کے پاکستان Pakistan دشمن عسکری عزائم کے مدمقابل پاکستان Pakistan کی پہلی دفاعی دیوار ہیں جس کی حفاظت ہماری قومی ذمہ داری ہے‘ عمران خان Imran Khan عالمی برادری کو متوجہ کرنے کے لئے روزانہ ٹویٹس کر رہے ہیں‘ وزیر خارجہ بھی متحرک ہیں لیکن پاکستان Pakistan میں انسانی حقوق کی تنظیمیں اور اسلامی رشتوں کا پرچار کرنے والی جماعتیں خواب خرگوش کے مزے لے رہی ہیں۔ سوات میں چند سکولوں کی بندش پر آواز بلند کرنے اور دہشت گردوں کی گولیوں کا نشانہ بن کر نوبل انعام لینے والی ملالہ یوسفزئی پرحیرت ہے جسے کسی نے جموں و کشمیرمیں ہزاروں سکولوں کی بندش کے بارے میں بتایا نہ کمسن بچوں اور بچیوں پر بھارتی Indian ریاستی دہشت گردی کا علم ہے اور نہ جس کو کشمیریوں کی نسل کشی پر صدائے احتجاج بلند کرنے کی توفیق ہوئی۔ ملالہ کے دکھ میں پوری پاکستانی قوم شریک تھی اور لوگوں نے اس بچی کے نوبل انعام کو پاکستان Pakistan کا اعزاز سمجھا مگر اس کے موقع پرست باپ نے ہمدردیاں کیش کیں‘ اسے پاکستان Pakistan سے دور کر دیا۔ وہ ہمارے کسی دکھ میں شریک نہ درد اور تکلیف پر بے چین۔ حد ہے سنگدلی اور خود پرستی کی۔ یہ محترمہ بھی پاکستان Pakistan کی وزیر اعظم Prime Minister بننا چاہتی ہیں‘ ماشاء اللہ!

 229