جنت الاولیاء پھر خطرے میں

قلم کمان - حامد میر

22 اگست 2019

Jannat Ullia phir Khatry main

کشمیر کو ’’جنت الاولیاء ‘‘کہا جاتا ہے۔ سرینگر سے لے کر مظفر آباد تک جموں و کشمیر Kashmir کے شہر شہر اور گائوں گائوں میں اولیاء و مشائخ کے مزارات نظر آتے ہیں۔ اس خطے میں اسلام تلوار کے ذریعہ نہیں بلکہ حضرت بلبل شاہؒ، سید میر علی ہمدانیؒ، شیخ نور الدین ولیؒ، شیخ شمس الدین عراقیؒ اور حضرت بابا جیون شاہؒ جموں والے جیسے صوفیاء کی تعلیمات سے پھیلا۔ یہ وہ خطہ ہے جہاں مقبوضہ علاقے میں لِلہ عارفہؒ اور حبہ خاتونؒ جیسی صوفیوں کے اشعار آج بھی لوگوں کی زبان پر ہیں اور آزاد کشمیر میں حضرت مائی امّیؒ اور حضرت مائی طوطی صاحبہؒ کے مزارات پر عقیدت مندوں کا ہجوم یہ بتانے کے لئے کافی ہے کہ یہاں عورتوں کا بہت احترام کیا جاتا ہے لیکن آج مقبوضہ جموں و کشمیر Kashmir میں بھارتی Indian سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں کشمیری خواتین کی آئے روز بے حرمتی پر لِلہ عارفہؒ کی روح روزانہ تڑپتی ہو گی اور حبہ خاتونؒ کو وہ دھوکا یاد آتا ہوگا جو شہنشاہ اکبر نے اُس کے خاوند یوسف شاہ چک کے ساتھ کیا تھا۔ اکبر نے کشمیر پر جب بھی قبضہ کرنے کی کوشش کی تو کشمیر کا حکمران یوسف شاہ چک اُس کی کوشش ناکام بنا دیتا تھا۔ آخر کار اکبر نے یوسف شاہ چک کو صلح کا پیغام بھیجا اور ملاقات کے لئے دہلی بلایا۔ یوسف شاہ چک کی اہلیہ حبہ خاتونؒ ایک شاعرہ تھیں۔ اُنہوں نے خاوند کو دہلی جانے سے روکا لیکن یوسف شاہ چک مغل بادشاہ کے احترام میں دہلی چلا گیا۔ حبہ خاتونؒ کا شک درست نکلا اور اکبر نے یوسف شاہ چک کو گرفتار کر کے بہار کی ایک جیل میں قید کر دیا۔ خاوند کی جدائی اور قید کے بعد حبہ خاتونؒ نے بہت درد بھری شاعری کی اور وہ اپنے گیت خود بھی گایا کرتی تھیں۔ جو دھوکا یوسف شاہ چک کے ساتھ ہوا وہی دھوکا دہلی والوں نے ایک دفعہ پھر اُن کشمیریوں کے ساتھ کیا ہے جو دہلی والوں پر اعتبار کرتے تھے۔ 5اگست 2019کے بعد سے دہلی والوں نے پوری ریاست جموں و کشمیر Kashmir کو قید کر رکھا ہے۔ جدید ہتھیاروں سے لیس آٹھ لاکھ بھارتی Indian فوج ایک بڑے قتل عام کے ذریعہ کشمیری مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے پر تلی بیٹھی ہے اور اسی لئے حکومت پاکستان Pakistan نے مقبوضہ علاقے میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا معاملہ عالمی عدالت انصاف میں اُٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ مقامِ شکر ہے کہ ہماری حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سیاسی اختلافات کی شدت کے باوجود کم از کم کشمیر کے مسئلے پر ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کیا جا رہا ہے اور اپوزیشن کو اعتماد میں لینے کے بعد کشمیر کے معاملے پر حکومت اہم فیصلے کر رہی ہے۔

یہ پہلو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ اس وقت پاکستان Pakistan اپنی تاریخ کے بدترین معاشی بحران سے گزر رہا ہے۔ ایک طرف ہم آئی ایم ایف کے سامنے ہاتھ باندھ کر کھڑے ہیں تو دوسری طرف ہمارے سر پر ایف اے ٹی ایف کی تلوار لٹک رہی ہے لیکن اس کے باوجود ہم اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کا اجلاس بلانے میں کامیاب رہے جس کے پانچ میں سے تین ارکان نے اجلاس کے دوران پاکستان Pakistan کے موقف کی حمایت کی تاہم اعلامیہ جاری کرنے سے گریز کیا۔ عام خیال یہ ہے کہ اس اجلاس کے انعقاد میں چین China نے اہم کردار ادا کیا۔ یہ درست ہے کہ چین China نے واقعی اس اجلاس کے لئے اہم کردار ادا کیا لیکن چین China کے علاوہ روس Russia اور برطانیہ کا کردار بھی اہم تھا۔ روس Russia نے اپنے روایتی موقف سے ہٹ کر اس اجلاس کے انعقاد کی مخالفت سے گریز کیا اور اجلاس میں اقوام متحدہ کی قراردادوں کا ذکر کر کے فرانس کو حیران کر دیا جو اس اجلاس میں بھارت India کا مقدمہ لڑ رہا تھا۔ برطانیہ نے اس اجلاس میں مطالبہ کیا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر Kashmir میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ کہنا کافی نہیں کہ سلامتی کونسل کے اجلاس میں چین China کے علاوہ روس Russia اور برطانیہ کی طرف سے پاکستانی موقف کی حمایت دراصل ہماری خارجہ پالیسی کی کامیابی ہے۔ یقیناً دفتر خارجہ نے بھی بہت محنت کی لیکن اس معاملے میں انٹرنیشنل میڈیا اور دنیا بھر میں پھیلے ہوئے پاکستانیوں اور کشمیریوں کے مظاہروں نے بھی اہم کردار ادا کیا اور یہی وجہ تھی کہ سلامتی کونسل کے اجلاس میں امریکی مندوب کا جھکائو اگر پاکستان Pakistan کی طرف نہیں تھا تو بھارت India کی طرف بھی نہیں تھا۔

سلامتی کونسل کے بعد پاکستان Pakistan کو جموں و کشمیر Kashmir کا معاملہ اقوام متحدہ کی ہیومن رائٹس کونسل میں بھی اٹھانا ہے جو پہلے ہی اپنی رپورٹوں میں بھارتی Indian ریاست کے ظلم و جبر کا پردہ چاک کر چکی ہے۔ پاکستان Pakistan کی سابق سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ کو جنیوا میں ہیومن رائٹس کونسل میں یہ معاملہ اٹھانے کی ذمہ داری سونپی جا چکی ہے۔ عالمی عدالت انصاف اور ہیومن رائٹس کونسل کے علاوہ اگلے ماہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بھی یہ معاملہ اٹھایا جائے گا تاکہ بھارت India کو مقبوضہ علاقے میں مسلمانوں کے قتل عام سے روکا جائے لیکن اگر بھارت India باز نہ آیا تو حالات بگڑ سکتے ہیں۔ ماضی میں ایسی مثالیں موجود ہیں کہ جب بھی بھارت India نے مقبوضہ علاقے میں ظلم بڑھایا تو آزاد کشمیر کے لوگوں نے سیز فائر لائن عبور کرنے کا اعلان کر دیا۔ ایسا اعلان سب سے پہلے مسلم کانفرنس کے رہنما چوہدری غلام عباس نے 15جون 1958کو کیا تھا۔ انہوں نے 27جون کو سیز فائر لائن توڑنے کا اعلان کر دیا تھا۔ چوہدری غلام عباس کو روکنے کی بہت کوشش ہوئی لیکن وہ باز نہ آئے لہٰذا انہیں گرفتار کر لیا گیا جس پر راولپنڈی سے لے کر مظفر آباد تک کئی دن مظاہرے ہوتے رہے۔ 30جون 1958کو لاہور میں ایک بڑا مظاہرہ ہوا جس کے بعد حکومت چوہدری غلام عباس کو رہا کرنے پر مجبور ہو گئی۔ ایک طرف اس وقت کے وزیراعظم فیروز خان نون کو بھارتی Indian جارحیت کا سامنا تھا دوسری طرف چوہدری غلام عباس سیز فائر لائن توڑنے پر بضد تھے۔ فروری 1992میں جے کے ایل ایف نے سیز فائر لائن توڑنے کا اعلان کر دیا تھا جو اب لائن آف کنٹرول بن چکی تھی۔ ایک دفعہ پھر حکومت پاکستان Pakistan اور کشمیری آمنے سامنے آئے اور ناخوشگوار صورتحال پیدا ہوئی۔ اس 15اگست کو آزاد کشمیر کے وزیراعظم راجہ فاروق حیدر نے وزیراعظم پاکستان Pakistan عمران خان Imran Khan کی مظفر آباد میں موجودگی کے دوران لائن آف کنٹرول کو عبور کرنے کا اشارہ دیا۔ راجہ فاروق حیدر دراصل آزاد کشمیر کی رائے عامہ کی ترجمانی کر رہے تھے کیونکہ کشمیریوں کی ایک بڑی اکثریت یہ سمجھتی ہے کہ اگر پاکستان Pakistan اور بھارت India مذاکرات کے ذریعہ یہ مسئلہ طے نہیں کر پائے اور اقوام متحدہ کی قراردادیں بھی غیر موثر ہو چکی ہیں تو پھر وہ خود ہی اُس سرحد کو روند ڈالیں جس نے کشمیر کو تقسیم کر رکھا ہے۔ اولیاء کی سرزمین کو مزید خونریزی سے بچانا صرف پاکستان Pakistan کی نہیں بلکہ باقی دنیا کی بھی ذمہ داری ہے اس لئے دنیا سُن لے کہ اگر بھارت India مقبوضہ علاقے میں ظلم سے باز نہ آیا تو پھر آزاد کشمیر اور پاکستان Pakistan کے لوگ لائن آف کنٹرول کو اپنے خون سے سرخ کرنے سے گریز نہ کریں گے۔

 199