حمیّت نام ہے جس کا گئی تیمور کے گھر سے

طلوع - ارشاد احمد عارف

22 اگست 2019

Jis ka Gayi Taimoor kay ghar sy

سری نگر اور دیگرشہروں کا فوجی محاصرہ جاری ہے ۔مارشل لاء کے دوران جموں و کشمیر Kashmir کے عوام کی حالت ہٹلر دور میں نازی کیمپوں کے مکینوں سے بدتر ہے ۔فرق صرف اتنا ہے کہ کشمیریوں کو اپنے گھروں میں رہ کر انہی مصائب کا سامنا ہے جن سے نازی کیمپوں کے باسی گزرے ۔عزیز و اقارب سے رابطہ منقطع ‘ خوراک و ادویات کی کمی‘ باہر نکلنے پر گولی لگنے کا اندیشہ اور تاریک مستقبل کا خوف۔ بی بی سی سمیت بین الاقوامی ذرائع ابلاغ اور بھارت India میں کام کرنے والی این جی اوز کے جو نمائندے سرینگر پہنچ پائے ان سب کی متفقہ رائے یہی ہے کہ بھارتی Indian حکومت اور فوج نے جبر و تشدد کی شرمناک مثالیں قائم کی ہیں‘ بڑے تو بڑے گیارہ بارہ سال کے بچے تک اٹھا کر حراستی کیمپوں میں پہنچا دیے جہاں ان پر دن رات بہیمانہ تشدد ہوتا ہے ان زیر حراست افراد پر تشدد کے دوران ان کی آہ و بکا کی آواز لائوڈ سپیکروں کے ذریعے گھروں میں دبکے مردوزن کو سنائی جاتی ہے تاکہ وہ خوفزدہ ہوکر مزاحمتی سوچ سے توبہ کر لیں اور ظالمانہ بھارتی Indian اقدامات کو درست مانیں۔ دوران تشدد جاں بحق ہونے والے نوجوانوں کو رات کے اندھیرے میں گمنام قبروں کا رزق بنانے کی اطلاعات سامنے آ چکی ہیں اور بیمار سید علی گیلانی ‘ یاسین ملک سمیت کشمیری قائدین کے بارے میں کسی کو علم نہیں کہ کس حال میں ہیں؟ انسانی حقوق کی بدترین پامالی پر دنیا بھر کے انسان دوست حلقے مضطرب ہیں۔ اپنے اپنے انداز میں ردعمل بھی ظاہر کر رہے ہیں مگر جتنی بے حسی عالم اسلام بالخصوص عالم عرب میں نظر آتی ہے وہ کہیں بھی نہیں۔ متحدہ عرب امارات united arab emirates کے حکمرانوں نے تو کمال کر دیا۔ نریندر مودی narendra modi کو دورے کی دعوت غالباً پہلے سے دے رکھی تھی‘ اب اعلیٰ ترین سول شیخ زید ایوارڈ دینے کا اعلان بھی کر دیا۔1990ء میں سرینگر میں پرامن حریت پسند عوام کے خلاف بھارتی Indian حکومت نے پر تشدد کارروائی کی‘ شہادتیں ہوئیں تو ایران Iran کے وزیر خارجہ نے نئی دہلی کا دورہ منسوخ کر دیا۔ یہ کشمیری عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی تھا اور اسلامی اخوت کا عظیم مظاہرہ ؎ اخوت اس کو کہتے ہیں چبھے کانٹا جو کابل میں تو ہندوستان کا ہر پیرو جواں بے تاب ہو جائے اسی دور میں او آئی سی کا کشمیر رابطہ گروپ تشکیل پایا جس کے اجلاسوں میں حریت کانفرنس کے رہنما شریک ہوتے اور جموں و کشمیر Kashmir کی تازہ ترین صورت حال سے شرکاء کو آگاہ کرتے۔ اب مگر حالت یہ ہے کہ بھارتی Indian فوج اور آر ایس ایس RSS کے غنڈے جموں و کشمیر Kashmir کے عوام کی نسل کشی میں مصروف ہیں‘ بھارت India میں کشمیریوں اور مسلمانوں کا جینا دوبھر ہو گیا ہے اور امریکہ United States ‘ برطانیہ ‘ روس Russia تک تشویش میں مبتلا ہیں مگر متحدہ عرب امارات united arab emirates کی حکومت گجرات کے قصائی ‘ کشمیریوں کے قاتل اور عہد جدید کے ہٹلر نریندر مودی narendra modi کو اعلیٰ ترین سول ایوارڈ Civil Award سے نوازرہی ہے ۔پانچ سالہ دور اقتدار میں مودی نے مسلمانوں سے نفرت‘ کشمیریوں کی نسل کشی اور پاکستان Pakistan کے خلاف جارحیت کے سوا کون سی انسانی اور سماجی خدمات انجام دیں صرف یو اے ای کے حکمرانوں کو علم ہو گا‘ کوئی بھارتی Indian شہری جانتا ہے نہ عالمی میڈیا۔ عرب دنیا کو اللہ تعالیٰ نے وسیع رقبے‘ معدنیات اور دیگر نعمتوں سے نوازا‘ محض مسلمانیت اور عربی زبان کے طفیل دنیا کے ایک ارب سے زائد مسلمان ان کی عزت کرتے اور انہیں اپنا بھائی سمجھتے ہیں۔ دنیا چاند پر پہنچ چکی‘ علم اور ٹیکنالوجی سے لیس انسان نسل ‘ انفس و آفاق کی وسعتوں میں گم ہے مگر ہمارے عرب بھائی محض تیل و گیس اور دیگر معدنیات کو دنیا و آخرت کی سربلندی کا وسیلہ سمجھ کر بدترین خود پسندی و مفاد پرستی کا شکار ہیں‘ کھجور کی گٹھلی کے برابر صیہونی ریاست اسرائیل نے ان کا ناک میں دم کر رکھا ہے اور وہ وقتاً فوقتاً گریٹر اسرائیل کی صورت میں حجاز مقدس تک پائوں پھیلانے کی دھمکیاں دیتی ہے لیکن عرب بھائیوں کی دانش و بصیرت کا یہ عالم ہے کہ اسرائیل کے مقابلے میں اپنی قوت جمع کرنے کے بجائے اس سے کہیں بڑے زیادہ تنگ نظر‘ اسلام دشمن اور توسیع پسندانہ عزائم کے حامل بھارت India کے عشق میں مبتلا ہیں اور نریندر مودی narendra modi کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے سرگرداں۔ بے حسی بلکہ سنگدلی اس قدر کہ انہیں جموں و کشمیر Kashmir کے طول و عرض میں بھارتی Indian فوجیوں کی گولیوں کا نشانہ بننے والے کشمیری نوجوانوں کی مائوں بہنوں‘ بیٹیوں کے بین سنائی دیتے ہیں نہ عیدالاضحیٰ اور جمعہ کے روز ویران عید گاہیں اور مسجدیں نظر آتی ہیں اور نہ یتیموں ‘ بیوائوں کی آہیں ان کے دل و دماغ پر ہتھوڑے برساتی ہیں ؎ بے دلی ہائے تماشہ کہ نہ عبرت ہے نہ ذوق بے کسی ہائے تمنا کہ نہ دنیا ہے نہ دیں صرف عرب اور غیر عرب مسلمانوں کا رونا کیوں ؟ پاکستان Pakistan میں سترہ اٹھارہ روز سے کون سا ماتم برپا ہے ۔سیاسی اور فوجی قیادت سفارتی اور عسکری محاذ پر سرگرم عمل ہے‘ سلامتی کونسل کا ایک اجلاس ہو چکا ‘کھلے اجلاس کے لئے کوششیں جاری ہیں‘ کنٹرول لائن پر ہمارے سرفروش جانبار شہادتوں کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں اور بھارتی Indian جارحیت کا پامردی سے مقابلہ کرنے میں مصروف۔ باقی قوم مگر حال مست ہے یا مال مست۔ دنیا بھر میں بڑی بڑی ریلیاں نکال کر اپنے حکمرانوں اور اقوام عالم کو متوجہ کرنے کا رواج ہے‘14اگست کو یوم پاکستان Pakistan کے موقع پر نکلنے والی ریلیوں میں بھی اتنے ہی لوگ تھے جتنے ہر سال ہوتے ہیں‘ باقی لوگ عید کے تیسرے دن قربانی کے گوشت سے پیٹ پوجا کرتے رہے۔ عالم عرب اور اُمہ سے ہمیں شکوہ ہے مگر مسلم ممالک کے حکمرانوں کے انداز فکر سے واقفیت کے باوجود ہم مسلم عوام سے رابطہ کیوں نہیں کر رہے ؟ اک معمہ ہے سمجھنے کا نہ سمجھانے کا۔ چھوٹے سے چھوٹے واقعہ پر ملک بھر میں اودھم مچانے‘ موم بتیاں جلانے اور آسمان سر پر اٹھانے والی آنٹیاں اور انکلز کہاں مر گئے ؟ ان میں سے کسی کو بی بی سی‘ اے ایف پی اوررائٹرز کی رپورٹنگ سے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا پتہ چلا نہ شہلا رشید‘ ارون دھتی رائے اور ڈاکٹر امریتا سین کے بیانات سے ان کی غیرت جاگی ۔ترکی‘ ملائشیا اور ایران Iran میں عوام سڑکوں پر نکلے‘ پھرخاموش بیٹھ گئے کہ مدعی سست ہو تو گواہ کو زیادہ چست بننے کی ضرورت نہیں۔ جموں و کشمیر Kashmir کے عوام ’’پاکستان Pakistan سے رشتہ کیا لاالہ الااللہ ‘‘ کا نعرہ لگاتے‘ اپنے شہیدوں کو پاکستان Pakistan کے سبز ہلالی پرچم میں لپیٹ کردفن کرتے اور پاکستان Pakistan سے الحاق کے لئے کٹ مرے ہیں مگر ہم ؎ ارادے باندھتا ہوں ‘ سوچتا ہوں‘ توڑ دیتا ہوں کہیں ایسا نہ ہو جائے‘ کہیں ایسا نہ ہو جائے پوری قوم کا یہ حال نہیں‘ اہل دل کی کمی ہے نہ اہل جنوں کی قلت مگر فیصلہ سازاشرافیہ کا معاملہ دگرگوں ہے اور وہ کبھی ٹرمپ کی طرف دیکھتی ہے کبھی بورس جانسن کی طرف اور کبھی پوٹن کی جانب۔ عمران خاں کی نیت پر کسی کو شک ہے نہ ارادوں کے بارے میں دو رائے‘ وہ مودی کو عہد حاضر کے ہٹلر کے طور پر متعارف کرانے میں کامیاب رہا۔ مگر باقی سیاسی و مذہبی قیادت ؟۔ جنگ ہرگز نہیں ہونا چاہیے۔ جنگ کی خواہش کوئی راسخ العقیدہ مسلمان نہیں کر سکتا مگر جب اپنے ہی مسلمان بھائی محض کلمہ گو ہونے کی سزا بھگت رہے ہوں‘ پاکستان Pakistan سے وفا کے جرم میں جان و مال اور عزت و آبرو کی قربانی دینے پر مجبور ہوں تو ان کی عملی اعانت سے گریز کا رویہ؟ نہتے کشمیری عوام آخر کب تک نو لاکھ بھارتی Indian فوج کے مظالم برداشت کریں گے؟ ؎ حد چاہیے سزا میں عقوبت کے واسطے آخر گناہگار ہوں‘ کافر نہیں ہوں میں گناہگار بھی وہ بھارت India کے ہیں ہمارے یا اُمہ کے نہیں کہ ان کے حال کی کوئی خبرہی نہ لے۔ کشمیری عوام پاکستان Pakistan کی بفر سٹیٹ ہیں اور پاکستان Pakistan عالم عرب و عالم اسلام کی بفر سٹیٹ‘ خدانخواستہ بھارت India اپنے ناپاک ارادوں میں کامیاب رہا تو نیل کے ساحل سے لے کر تابخاک کا شغرترکی کے سوا ایک بھی مسلمان ریاست ہندو توا کے روبرو ٹھہرنے کے قابل نہیں۔ اعلیٰ سول ایوارڈ Civil Award پیش کرنے والوں کو تو شائد اس مندر میں بھی پناہ نہ ملے جو ڈیڑھ دوسال قبل ایک نسل پرست اور اسلام دشمن قصاب کی خوشنودی کے لئے تعمیر ہوا۔ ع حمیّت نام ہے جس کا گئی تیمور کے گھر سے

 187