جنرل باجوہ کی ایکسٹینشن اور تسلسل و استحکام کا روشن خیال ماڈل

فیض عام - سہیل وڑائچ

21 اگست 2019

General Bajwa ki Extension

بالآخر پاکستان Pakistan کی پائیدار ترقی کا راستہ ہموار ہو چکا ہے کیونکہ تاریخ کے طالب علم اور ترقی کے خواہاں جنرل قمر جاوید باجوہ General Qamar Javeed Bajwa کو مزید تین سال کے لیے آرمی چیف بنا دیا گیا ہے۔ اس فیصلے پر وزیر اعظم Prime Minister عمران خان، امریکہ United States ، یورپ اور دنیا بھر کے ممالک سے مبارک باد کے مستحق ہیں کیونکہ اب پاکستان Pakistan امن اور ترقی کی راہ پر ہی چلے گا۔

تاریخ کا شعور رکھنے والے جنرل قمر جاوید باجوہ General Qamar Javeed Bajwa نہ افغانستان Afghanistan میں خانہ جنگی چاہتے ہیں اور نہ بھارت India کے ساتھ جنگ، سو دنیا بھر کے امن پسندوں کے لیے جنرل باجوہ کی تقرری ایک خوشخبری ہے۔

جب جنرل باجوہ کی ایکسٹنشن کی افواہیں گرم تھیں تب آئی ایس آئی کے سربراہ جرنل فیض حمید نے عہدہ نہیں سنبھالا تھا مگر جہاں چار سینئر ترین جرنیلوں کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگا ہے وہیں جرنل فیض حمید جیسا ’آئرن مین‘ جرنل باجوہ کی معاونت جاری رکھے گا اور جنرل قمر جاوید باجوہ General Qamar Javeed Bajwa کی تین سالہ مدت ملازمت میں توسیع کے بعد وہ اگلے آرمی چیف کے لیے سب سے طاقتور امیدواروں کی دوڑ میں شامل ہو چکے ہیں۔

اور اسی تناظر میں اگر جنرل فیض حمید کی بطور آئی ایس آئی کے سربراہ کے تقرری کو دیکھا جائے تو یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ جنرل باجوہ کے جانشین کا فیصلہ بھی شاید کر لیا گیا ہے؟ اور اگر ایسا ہے تو کیا اس پر یہ مفروضہ درست ہے کہ جب جنرل باجوہ تین سالہ توسیع گزار کر جب ریٹائرڈ ہوں گے تو ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو چکا ہو گا اور اس کے بعد جنرل فیض حمید بھی ملک کو پائیدار ترقی کی اسی ڈگر پر اگر مزید چھ سال چلا پائے تو ملک ہانگ کانگ اور ملائشیا کے برابر جا کھڑا ہو گا۔

کون نہیں جانتا کہ پائیدار ترقی کے لیے سیاسی استحکام اور حکومت کو اپنی پالیسیاں بنانے اور پھر عمل درآمد کروانے کے لیے کم از کم دس پندرہ سال درکار ہوتے ہیں۔ اگر پائیدار ترقی کے ثمرات کو دیکھنا ہو تو پھر ایک ہی پالیسی کے تسلسل کے لیے 12 سے 15 سال چاہیے ہوتے ہیں۔

اسی لیے ہانگ کانگ ،چین China اورملائشیا ترقی کر گئے کہ وہاں ایک ہی حکومت کو اپنی معاشی پالیسیاں 10 سے 15 سال چلانے کا موقع ملا۔ لگتا ہے کہ قدرت نے بالآخر پاکستان Pakistan کی بھی سن لی ہے اور اب پائیدار ترقی کا 12 سالہ منصوبہ سامنے آ رہا ہے جس میں ادارہ جاتی طور پر ایک ہی معاشی پالیسی کو ایک جیسی سوچ والی قیادت چلائے گی اور یوں ملک میں پائیدار ترقی و استحکام دونوں ممکن ہو جائیں گے۔

جنرل باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع اور جنرل فیض حمید کی آئی ایس آئی میں تقرری کو پائیدار ترقی کے اس تناظر میں دیکھا جائے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سیاسی عدم استحکام اور معاشی زوال کو روکنے کے لیے تسلسل کی پالیسی کو اپنایا گیا ہے۔

جنرل باجوہ کی ٹرم میں توسیع و تسلسل سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے اور سرمایہ کاری کے فروغ میں مدد ملے گی۔ جنرل باجوہ سنہ 2022 میں جب چھ سال آرمی چیف رہنے کے بعد ریٹائر ہوں گے تو پاکستان Pakistan ایک مستحکم ملک بن چکا ہو گا۔

ان کی پالیسیوں کے تسلسل کو جاری رکھنے کے لیے ان کے قریبی ترین ساتھی جنرل فیض حمید چار سینئر ترین جرنیلوں میں شامل ہوں گے اوراگر انھیں بھی اسی طرح 6 سال یعنی 2028 تک بطور اگلے چیف آف آرمی سٹاف اپنی پالیسی تسلسل سے جاری رکھنے کا موقع ملتا ہے تو پاکستان Pakistan بھی ملائشیا، ہانگ کانگ اور چین China کے ماڈل کی طرح فائدہ اٹھا کر اورترقی کے بارہ سال گزار کر نئی منزلوں کی طرف گامزن ہو چکا ہو گا۔

ماضی میں سب سے پہلے جنرل ایوب خان نے پائیدار ترقی، معاشی تسلسل اور سیاسی استحکام کا دس سالہ ماڈل بنایا اورپھر اسے چلایا، منگلا ڈیم اور تربیلا ڈیم بنائے،صنعتیں لگائیں، معاشی شرح نمو میں اضافہ کیا۔ وہ ملک کو ملائشیا اور جنوبی کوریا کی سطح پر لے ہی جانے والے تھے کہ سیاسی عدم استحکام نے ان کا دھڑن تختہ کر دیا۔

دوسری دفعہ اس ماڈل کو ذرا مختلف طریقے سے مذہبی رنگ دیکر جنرل ضیاء الحق Zia ul Haq نے 11 سال چلانے کی کوشش کی۔ 11 سالہ تسلسل اور امریکہ United States سے ڈالروں کی بارش نے معاشی استحکام میں اضافہ کیا مگر انھیں بھی سیاست لے ڈوبی، نہ بھٹو کی پھانسی ہضم ہو سکی اورنہ افغانستان Afghanistan کی جنگ میں اپنے مقاصد کی تلاش نے انھیں فائدہ دیا۔

تیسری دفعہ جنرل پرویز مشرف بھی تسلسل و استحکام کا روشن خیال ماڈل لے کر آئے۔ امریکا سے دوستی اور افغان طالبان سے لڑائی کے بدلے میں انھیں عالمی امداد تو بہت ملی مگر سیاسی استحکام انھیں بھی نصیب نہ ہوا۔ عدلیہ تحریک اور نواز شریف Nawaz Sharif و بینظیر اتحاد نے بالآخر انھیں اقتدار سے فارغ کر دیا۔

ایوب، ضیاء اور مشرف کے ’تسلسل ماڈل‘ میں ایک خرابی تھی کہ وہ مارشل لا کے نام پر ملک کو پٹری پہ ڈالنا چاہتے تھے مگر آئین اور جمہوریت کو فارغ کر کے سیاسی استحکام اور معاشی تسلسل رکھنا مشکل تھا اور آج بھی ہے۔ اسی لیے و ہ تینوں اس میں ناکام ہوئے۔

اب شاید ماڈل یہ ہے کہ آئین اور جمہوریت چلتے رہیں، عدلیہ، پارلیمان اور کابینہ کام کرتے رہیں مگر اصل تسلسل اور استحکام پیچھے بیٹھنے والے فراہم کریں گے۔ آئین، جمہوریت عدلیہ کی موجودگی میں معاشی تسلسل کو یقینی بنانا اس نئی مشق یا کوشش کا اصل مقصد ہوگا۔

تسلسل و استحکام کے اس مفروضے کے پیچھے فلسفہ یہ لگتا ہے کے چین China کو کمیونسٹ پارٹی کا مضبوط نیٹ ورک چلاتا ہے، بھارت India کو اس کی بیوروکریسی چلاتی ہے۔ برطانیہ میں یہی تسلسل اور استحکام شاہی خاندان فراہم کرتا ہے۔ لیکن پاکستان Pakistan میں عسکری ادارہ ہی تسلسل اور استحکام کی ضمانت دے سکتا ہے۔

بار بار کے تجربوں کے بعد سے بظاہر یہ سبق کشید کیا گیا ہے کہ ایوب خان، ضیاء الحق Zia ul Haq اور پرویز مشرف والا مارشل لا ماڈل وقتی استحکام تو دیتا ہے لیکن اس سے پائیدارتسلسل قائم نہیں ہوتا۔ اب کوشش کی جا رہی ہے کہ پس پشت رہ کرملک کو تسلسل فراہم کیا جائے۔ جنرل کیانی کے دور میں اس ماڈل پر ابتدائی عمل ہوا مگر پھر یہ ماڈل حالات کی نظر ہوگیا۔ فوج میں حالیہ تبدیلیوں یعنی جنرل فیض حمید کی بطور آئی ایس آئی سربراہی سے باجوہ ۔ فیض تسلسل کا نیا نیٹ ورک قائم ہو گیا ہے۔

اس ’مفروضہ ماڈل‘ کا ناقدانہ جائزہ لیتے ہیں تو اس میں بے شمار خامیاں نظر آتی ہیں۔ 12 سالہ پائیدار ترقی کے راستے میں ابھی بہت سی عملی رکاوٹیں کھڑی ہیں،فوج کی نئی قیادت ملکی، سیاسی اور معاشی صورتحال کو کنٹرول کر سکے گی یا نہیں؟ کیا یہ قیادت کامیاب ہو گی کہ کوئی تحریک نہ چلے؟ اور کیا یہ کچھ ایسا منصوبہ بنا لیں گے جو بھارت India کی سازشوں سے بچائے رکھے اور کیا یہ قیادت پی ٹی آئی کی نااہلیوں پر مسلسل پردہ ڈالے رکھے گی؟

یہ سب وہ مسائل ہیں جن سے اتنے طویل عرصے تک انھیں پنجہ آزمائی کرنا ہوگی۔ سچ تو یہ ہے کہ ’انسان تجویز کرتا ہے اور خدا اسے مسترد کرتا ہے‘ اس لیے اس ساری کوشش اور محنت کی بجائے اگر سیاسی اداروں کو مستحکم کرنے اور پارلیمانی اداروں کی تربیت پر توجہ دی جائے تو پھر جمہوری پائیدار ترقی کی راہ ہموار ہو گی۔

سیاسی پارٹیوں کو توڑنے کی بجائے انھیں مالی امداد دے کر ان کی تنظیم نو کی جائے اور ان کے اندر تھنک ٹینک بنائے جائیں، انھیں بیرون ملک اور اندرون ملک تربیت کی سہولت دی جائے۔

برطانیہ کی طرح نوجوان پارلیمانی لیڈرز کی آن جاب ٹریننگ ہو، پہلے انھیں جونئیر انتظامی عہدے دیے جائیں اور پھر آہستہ آہستہ انھیں وزارت جیسی سینیئر ذمہ داریاں دی جائیں، اگر جمہوریت کا صرف نام برقرار رکھنا ہے تو کل کو پھر اس کی قلعی کھل جائے گی۔ اصل اور مکمل جمہوریت ہی مسائل کا واحد حل ہے اور اس کے لیے پارلیمان کی مضبوطی واحد راستہ۔

 310