ویر چکرا نے تو چکرا کر رکھ دیا ہے

کٹہرا - خالد مسعود خان

20 اگست 2019

Veer Chakra ne to Chakra kar rakh diya hai

ایک دوست پوچھنے لگا کہ چلیں یہ بات تو سمجھ آتی ہے کہ پاکستان Pakistan نے چودہ اگست کو حسب روایت فوجی اعزازات حاصل کرنے والوں میں اس سال ان دو پائلٹوں کا نام بھی شامل کر دیا ہے جنہوں نے اسی سال ستائیس فروری کو پاکستانی حدود کی خلاف ورزی کرنے والے بھارتی Indian طیارے مار گرائے تھے۔ اس سلسلے میں سکواڈرن لیڈر حسن صدیقی اور ونگ کمانڈر نعمان Oman علی خان کو بہادری کے تمغوں سے نوازا گیا ہے۔ ونگ کمانڈر نعمان Oman علی خان کو ستارہ جرأت اور سکواڈرن لیڈر حسن صدیقی کو تمغہ جرأت دینے کا اعلان ہوا ہے۔ ان دونوں سپوتوں کو جو اعزازات دئیے گئے ہیں اس کی منطق سمجھ میں آتی ہے کہ انہوں نے بھارتی Indian گھس بیٹھیا جہاز مک21 گرایا تھا لیکن یہ ونگ کمانڈر ابھی نندن کو بہادری کا ایوارڈ ''ویر چکرا‘‘ کس خوشی میں دیا گیا ہے؟

میں نے کہا: اس کی کئی وجوہات ہیں۔ پہلی یہ کہ موصوف کو عوام نے پکڑ کر ٹھکائی کی تھی تو اس کے بعد جب پاک فوج Pakistan Army نے اسے عوام کے غیظ و غضب سے بچا کر آرمی بیس میں پہنچایا تھا تو موصوف نے نہایت بے شرمی اور ڈھٹائی سے چائے کی فرمائش کرکے یہ ثابت کر دیا تھا کہ اسے اپنی گرفتاری پر رتی برابر پریشانی نہیں۔ بھارتی Indian سرکار نے اس کی اس ڈھٹائی کو بہادری قرار دیا ہے۔ دوسری یہ کہ جب موصوف ''خونم خون‘‘ کیمرے کے سامنے سے گزرا تو چہرے پر گائوں والوں سے ہونے والی ''جوت پیزار‘‘ پر ٹکے کا ملال نہیں تھا۔ تیسری یہ کہ موصوف نے لاکھوں ڈالر مالیت کے جہاز کے عوض ایک چائے کی پیالی نوش فرما کر دنیا میں سب سے مہنگی چائے کی پیالی کا جو نہ ٹوٹنے والا ریکارڈ بنایا تھا اس عالمی مہنگے ترین سودے پر موصوف کو گھاٹے کا سودا کرنیکا کوئی افسوس نہیں تھا اور سودے پر انکے چہرے پر پھوٹنے والی مسرت کو‘ جو دراصل بے شرمی تھی‘ بھارتی Indian حکومت نے بہادری سمجھ لیا تھا اور چوتھی بات یہ کہ بھارتی Indian وں کو اس قسم کے لوگوں کو ہیرو مان لینے کی عادت سی ہے اور آخری بات یہ کہ موصوف نے بہرحال نریندر مودی narendra modi کو بھارت India کا وزیر اعظم Prime Minister بنوانے میں جو مدد فراہم کی ہے بھارتی Indian وزیر اعظم Prime Minister نے اس کے اس عظیم احسان کا بدلہ چکایا ہے اور اس کے علاوہ اور کوئی بات نہیں۔

میرا دوست کہنے لگا: یہ چوتھی بات کیا تھی؟ تم نے کہا ہے کہ بھارتی Indian وں کو اس قسم کے لوگوں کو ہیرو مان لینے کی عادت ہے؟ یہ کس قسم کے لوگوں کی بات کر رہے ہو؟ میں نے کہا: یہ میں نہیں کہہ رہا‘ تھوڑی دیر پہلے کسی دوست نے ایک بھارتی Indian ٹویٹ فارورڈ کیا ہے۔ یہ کسی میجر ابھیجیت شامی نے کیا ہے۔ اس نے اپنے اس ٹویٹ میں لکھا ہے کہ ''مجھے یہ منطق قطعاً سمجھ نہیں آئی کہ پاکستان Pakistan نے بھارت India کے دو جہاز مار گرائے‘ تین پائلٹ مر گئے‘ چھ دیگر لوگ مارے گئے‘ چار لوکیشنز پر بمباری ہوئی اورایک پائلٹ زندہ گرفتار ہو گیا‘ جس کو ہجوم نے زدوکوب کیا۔ فوجیوں نے آ کر بچایا۔ ذلیل و رسوا ہو کر واپس آیا اور اب وہ ہیرو ہے۔ یہ سب خوشیاں کس بات کی ہیں؟ مجھے غداروں کی فہرست میں شامل کر دیا جائے‘‘۔ یہی میجر ابھیجیت شامی اپنی دوسری ٹویٹ میں لکھتا ہے ''ہم بھارتی Indian دنیا کے سب سے وسیع القلب لوگ ہیں جو سنی لیون کو ہیروئن اور ابھی نندن کو اس امر کے باوجود ہیرو مان لیتے ہیں کہ دونوں کی بھارت India سے باہر عزت لوٹی جا چکی تھی‘‘۔ ابھی نندن کے ساتھ جو ہوا وہ آپ سب لوگ جانتے ہیں۔ رہ گئی سنی لیون تو اس کے بارے میں بھی آپ لوگ سب جانتے ہیں لیکن بوجوہ اس بات کا اقرار نہیں کرتے کہ آپ کو سب کچھ معلوم ہے۔ ایک جگہ کسی دوست نے سنی لیون کا ذکر کیا تو ایک اور دوست جو اپنی شرافت اور پارسائی میں کافی مشہور تھا‘ کہنے لگا: اس سکھوں کی چوکھری کرنجیت کور ووہرا نے اپنا نام کیوں تبدیل کر لیا تھا؟ دوسرے دوست نے پوچھا کہ یہ کرنجیت کور ووہرا کون ہے؟ تو پہلے والا دوست اچانک گھبرا گیا اور کہنے لگا: مجھے کیا پتہ یہ کون ہے؟ یہی تو میں آپ سے پوچھ رہا ہوں کہ یہ کون ہے؟ اس کا پتا سب کو ہے مگر مانتا کوئی نہیں کہ سنی لیون کی وجہ شہرت کیا ہے لیکن خیر ہمیں اس سے کیا لینا دینا؟ فی الحال تو معاملہ ابھی نندن پر آن کر رک گیا ہے۔

میرا دوست پوچھنے لگا: اور یہ ابھی نندن کی وجہ سے نریندر مودی narendra modi کے الیکشن جیتنے کا کیا قصہ ہے؟ میں نے کہا: یہ ایک لمبا موضوع ہے اور اس بارے میں پھر کبھی بات کر لیں گے‘ فی الحال تو ابھی نندن کے ''ویر چکرا‘‘ نے چکر ڈال رکھا ہے اور سر چکرا گیا ہے کہ آخر بہادری کے اعزازات کی اور تمغوں کی کوئی قدرومنزلت ہوتی ہے‘ کوئی عزت وآبرو ہوتی ہے اور کوئی نیک نامی ہوتی ہے۔ اگر یہ اعزازات اس طرح ''ٹکے ٹوکری‘‘ ہو جائیں تو بھلا اس کی کیا عزت رہ جاتی ہے؟ میرا دوست ہنس کر کہنے لگا: بھائی صاحب! زیادہ جذباتی نہ ہوں اور وہ جو مصرعہ ہے ''اتنی نہ بڑھا پاکیٔ داماں کی حکایت‘‘ ایسے موقعوں پر ہی یاد آتا ہے۔ ابھی گزشتہ سال ہم نے بھی قومی سول ایوارڈز دیتے ہوئے ایک بھارتی Indian فلم میں آئٹم سانگ کرنیوالی اداکارہ کو بہت سی بلکہ بے شمار نہایت ٹیلنٹڈ اداکارائوں پر ترجیح دیتے ہوئے تمغہ امتیاز عطا فرما دیا تھا تو کون سی قیامت آ گئی تھی جو اب پریشانی ہو رہی ہے؟ میں نے کہا میرے عزیز! میں بہادری کے تمغوں اور اعزازات کی بات کر رہا ہوں سول اعزازات کی بات نہیں کر رہا اور نہ ہی اس بارے میں کوئی مزید بات کرنا چاہوں گا۔ لیکن دنیا بھر میں ابھی بہادری کے اعزازات کی کوئی اہمیت بھی ہے اور میرٹ بھی۔ یہ نہیں کہ جس کو چاہا منہ اٹھا کر عطا کر دیا۔ اللہ کے بندے! جہاز گروانے میں بھلا کیا بہادری ہے؟ مجبوری ہے۔ بس دشمن نے گرا لیا۔ اب سے نالائقی تو کہا جا سکتا ہے تربیت کی کمی کہا جا سکتا ہے پیشہ ورانہ مہارت میں کمی بیشی قرار دیا جا سکتا ہے لیکن بھلا جہاز گروانے میں بہادری کہاں سے آ گئی؟

چلیں جہاز گر گیا تھا تو مجبوری تھی۔ اس کے بعد اگر آپ بہادری سے لوگوں کے نرغے سے بھاگ نکلیں۔ ساٹھ ستر کلومیٹر دشمن سے بچ بچا کر واپس اپنے ملک پہنچ جائیں تو چلیں یہ بھی کوئی بہادری ہوئی لیکن یہ کیا بہادری ہوئی کہ پستول پہلو میں لٹکا ہوا ہے اور اردگرد کے گائوں والے پکڑ کر چھترول کر رہے ہیں اور پاکستانی فوجی آ کر بچ بچائو کروا رہا ہے اور گردن سے چوہے کی طرح پکڑ کر قریبی معسکر میں لا رہا ہے۔ اس ساری عمل کے دوران کوئی ایک کام بہادری کا بتائیں؟ اب آگے چلیں۔ بھلا میس میں چائے پینے میں کیا بہادری ہے؟ دشمن کی چھائونی میں کھڑے ہو کر دشمن کی بڑھ چڑھ کر تعریف کرنے میں کیا دلیری ہے؟ اگر پاکستانی فوجی میس میں چائے پی کر پاکستانی فوج کی پیشہ ورانہ مہارت کی تعریف کرنا واقعی بہادری ہے تو بھارتی Indian وں نے اس ''بہادری بھرے بیان‘‘ کو یوٹیوب سے ہٹوانے کی مقدور بھر کوشش کس لیے کی تھی؟ بھارتی Indian میڈیا نے بعدازاں جاتے سمے ابھی نندن کے بہادری سے بھرپور بیان کا اپنے میڈیا پر بلیک آئوٹ کیوں کیا تھا؟

اگر ابھی نندن شرم والا ہوتا تو بھارت India جا کر فوری طور پر پہلا کام تو یہ کرتا کہ اپنی مونچھیں اگر بالکل صاف نہ بھی کرواتا تو کم از کم چھوٹی ضرور کروا لیتا اور فضائیہ سے ریٹائرمنٹ لیکر گھر چلا جاتا اور کم از کم چار پانچ سال تک بازار خریداری کرنے کیلئے اپنی بیگم کو اکیلا بھجواتا لیکن اب اس میں ابھی نندن کا کیا قصور ہے؟ جب بھارتی Indian حکومت اسے دلیر‘ بہادری اور سورما قرار دے تو ایک بے چارے سکواڈرن لیڈر کی کیا مجال ہے کہ وہ اس سرکاری فیصلے سے اختلاف کرے؟ اگر بھارتی Indian حکومت میں بھی تھوڑی شرم یا حیا باقی ہوتی تو وہ ابھی نندن کی پاکستانی فوجی میس میں ایک مگ 21 کی قیمت پر چائے کی پیالی پینے پر ہونے والی فضول خرچی کی مد میں اسے زیادہ ادائیگی والی رقم کی واپسی کا بل بھجوا دیتی اور اس باہمی فرق والی کروڑوں روپے کی رقم کا کچھ معمولی سا حصہ اس کے پراویڈنٹ فنڈ اور جی پی فنڈ سے منہا کر لیتی مگر ادھر بھارت India میں تو گنگا ہی الٹی بہہ رہی ہے۔ خالی والا ویر چکرا بھارت India کا بہادری کا پانچواں بڑا اعزاز ہے۔ لیکن اس اعزاز کا ابھی نندن کو ملنا یہ ثابت کرتا ہے کہ بھارت India میں بہادری کے اعزازات جوتیوں میں دال کی مانند بٹ رہے ہیں؛ تاہم ایک بات طے ہے کہ اس بہادری کے میڈل پر بھارتی Indian میڈیا کی پذیرائی نے یہ بات سمجھانے کی بھرپور کوشش کی ہے کہ بھارتی Indian میڈیا جھوٹ‘ افترا اور من گھڑت پراپیگنڈے کا بادشاہ ہے لیکن جب کبھی کوئی باہمی معاملہ آن پھنسے‘ جیسے عالمی عدالت میں کلبھوشن یادیو kulbhushan yadav والے کیس کا فیصلہ اور ابھی دو دن پیشتر ہونیوالے سلامتی کونسل کے اجلاس کی روداد تو ہمارے ترقی پسند اور لبرل اسی جھوٹے اور دروغ گو میڈیا کو نہ صرف حرف آخر سمجھتے ہیں بلکہ اس جھوٹ کو آگے پھیلانے کا نیک کام بھی زوروشور سے کرتے ہیں۔ اللہ ہی ہدایت بخشے تو بات بنے گی۔

 157