دو قومی نظریہ :سیکولرزم /اسلام

حرف راز - اوریا مقبول جان

20 اگست 2019

Do Qoumi Nazriya

جموں کشمیر کی پہلی آئین ساز اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے 31 اکتوبر 1951 ء کو شیخ عبداللہ نے آئین سازی کے مقاصد بتائے اور کہا "Normally under the principles governing the partition of India, our Riyasat of Jammu and Kashmir should have gone to Pakistan, but we choose India for its secularism." (اگر ہندوستان کی تقسیم کے اصولوں کو مدنظر رکھا جائے تو ہماری ریاست جموں و کشمیر Kashmir کا الحاق پاکستان Pakistan کے ساتھ ہونا چاہیے تھا لیکن ہم نے بھارت India کا انتخاب اس کے سیکولرزم کی وجہ سے کیا)۔ اسکے بعد شیخ عبداللہ نے بھارت India کے جمہوری نظام اور اسکی کشمیریوں سے محبت کا بھی تذکرہ کیا۔ برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں کے درمیان اس انتخاب پر بحث کئی دہائیوں سے جاری تھی کہ وہ ایک سیکولر ہندوستان میں رہنا چاہتے ہیں یا ایک اسلامی طرز حکومت و سیاست سے مزین علیحدہ ریاست، پاکستان Pakistan انکی منزل ہوگی ۔اصل میں ، یہی دو قومی نظریہ تھا۔ جو لوگ اسکو ہندو اور مسلمان کے درمیان تفریق تک محدود کرتے ہیں وہ اسکی اصل روح سے واقف نہیں ہیں ۔چودہ اگست 1947 ء کو سیکولرازم اور اسلام کے درمیان ہی فیصلہ ہوا تھا ۔ دراصل کانگریس کی تحریک ایک سیکولر بھارت India کے قیام کی تحریک تھی اور مسلم لیگ کی تحریک ایک مسلم پاکستان Pakistan کی تحریک تھی۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت India میں اس وقت موجود تین کروڑچالیس لاکھ مسلمانوں نے پاکستان Pakistan کی مسلم ریاست کی بجائے سیکولر بھارت India میں رہنے کا انتخاب کیا تھا۔ اگر 1947ء میں راشٹریا سیوک سنگھ کے نظریے کے مطابق یہ اعلان کر دیا جاتا کہ برطانوی ہندوستان دو قوموں میں تقسیم کیا جارہا ہے ایک ہندو اور دوسری مسلمان تو شاید ہی کوئی مسلمان ایسے ہندو بھارت India کا انتخاب کرتا۔ کانگریس کی ساری سیاست سیکولر، لبرل بلکہ اپنے زمانے کے اعتبار سے کسی حد تک بالشویک کیمونسٹ سیاست تھی۔ لیکن قائداعظم اس ملمع سازی اور مکاری کو جانتے تھے۔ اسی لئے جب کانگریس نے 35سالہ ابوالکلام آزاد کو اپنا صدر بنایا تو قائداعظم نے انہیں Congress show boy یعنی مسلمانوں کو دھوکا دینے کے لیے ’’کانگریس کا بہروپیا‘‘ کہا۔ تحریک پاکستان Pakistan کی جنگ دراصل انہی دو نظریوں سیکولرزم اور اسلام کی جنگ تھی۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان Pakistan جن خطوں پر مشتمل ہوا، ان میں مسلمانوں کی آبادی سات کروڑ پچاس لاکھ تھی جبکہ اس سے نصف یعنی 3 کروڑ 40 لاکھ مسلمانوں نے سیکولر طرز زندگی کا انتخاب کر کے بھارت India میں ہی رہنا پسند کیا۔ جبکہ آج کے پاکستان Pakistan یعنی 1947ء کے مغربی پاکستان Pakistan کی آبادی کا اگر بھارت India میں رہ جانے والی آبادی سے موازنہ کریں تو پاکستان Pakistan میں مسلمانوں کی آبادی تین کروڑ سینتیس لاکھ تھی جبکہ بھارت India میں موجود مسلمان ان سے تین لاکھ زیادہ تھے۔ گویا کانگریس کے سیکولر بھارت India کا انتخاب کرنے والے اور پاکستان Pakistan کی موجودہ سرزمین میں بسنے والوں کی تعدادتقریبا برابر تھی۔ آج بھی پاکستان Pakistan اور بھارت India میں مسلمانوں کی آبادی میں کوئی زیادہ فرق نہیں ہے۔ پاکستان Pakistan میں مسلمانوں کی آبادی بائیس کروڑ ہے جبکہ سیکولر لبرل بھارت India میں سرکاری طور پر مسلمان آبادی بھی بائیس کروڑ ہے۔ اس میں وہ نوے لاکھ کشمیری بھی شامل ہیں جنکے شیخ عبداللہ نے بغیر لگی لپٹی رکھے دو قومی نظریے یا دو نظریات کے تصادم کا ذکر ہندو مسلمان تفریق کے طور پر نہیں بلکہ سیکولر بمقابلہ اسلام قرار دیاتھا ۔ جموں و کشمیر Kashmir کی آئین ساز اسمبلی کا بھارت India کے سیکولر آئین سے الحاق، وہ آخری تقسیم ہے جو اس سرزمین پر ہوئی جسکے بعد مسلمان دو حصوں میں تقسیم ہوگئے۔ ایک وہ جو سیکولر طرز زندگی کے تحت بھارت India میں رہنا چاہتے ہیں اور دوسرے وہ جو اسلامی طرز زندگی و طرز حکومت اور طرز سیاست کے تحت پاکستان Pakistan میں زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔ آج تاریخ سے نا بلد، نظریات کی بحث سے نا آشنا، ایسے کسی بھی شخص سے سوال کریں کہ کیا بھارت India کے وہ مسلمان زیادہ آسودہ، پرسکون، آزاد اور باعزت ہیں جنہوں نے 1947 ء میں سیکولر طرز زندگی کا انتخاب کیا تھا یا وہ مسلمان جنہوں نے ایک نام نہاد سہی مگر مسلم طرز زندگی والے ملک کا انتخاب کیا تھا تو پوری دنیا میں کوئی ایک بھی حقیقت پسند آپکو ایسا نہیں ملے گا جو سیکولر لبرل بھارت India میں مسلمانوں کی حالت زار کا ماتم نہ کرے اور پاکستان Pakistan میں موجود مسلمانوں کو ان سے ہزار درجہ بہتر نہ بتائے ۔ یہ تاریخ کی سب سے بڑی سچائی ہے کہ جس چڑیا کا نام سیکولرزم یا لبرل ازم ہے وہ دنیا میں کہیں بھی اپنا وجود نہیں رکھتی۔ یہ ایک سراب ہے جو چند بہروپیوں نے دنیا کو دھوکا دینے کے لیے پیدا کیا ہوا ہے ۔دراصل اسکے ذریعے لوگوں کو دھوکہ دے کر اکثریت کی بدترین آمریت قائم کرنا مقصود ہوتا ہے ۔ اگر سیکولرازم ایک کامیاب طرز زندگی ہوتا یا وہ انسان کے مزاج کے عین مطابق ہوتا تو آج امریکہ United States ، کینیڈا، آسٹریلیا اور یورپ کے تیس سے زیادہ ممالک میں اسلام فوبیا کی نفرت انگیز صورتحال پیدا نہ ہوتی۔ یہ ان سیکولر لبرل معاشروں میں قوت برداشت کی کمی، نسلی برتری اور مذہبی منافرت ہے، جسے گذشتہ ایک سو سال کی جمہوری، لبرل سیکولر طرز سیاست و طرز زندگی بھی ختم نہیں کرسکی۔ جن سیکولر معاشروں میں مذہبی منافرت موجود نہ ہو یعنی صرف ایک ہی مذہب کے لوگ رہتے ہوں، ایسے سیکولر معاشروں میں نسل، رنگ اور زبان کا تعصب اقلیتوں کا جینا دوبھر کر دیتا ہے۔ ہندوستان میں اسی سیکولر بمقابلہ اسلام پر مبنی دو قومی نظریے پر دو ملک وجود میں آئے۔13 دسمبر 1946 ء کو بھارت India کی قانون ساز اسمبلی کے اجلاس میں جواہر لال نہرو نے ایک قراردادِ مقاصد منظور کروائی جو ایک سیکولر جمہوری بھارت India کے تصور پر مبنی تھی۔ لیکن اسکے بالکل برعکس دو سال تین ماہ بعد 12 مارچ 1949 ء کو پاکستان Pakistan کی قانون ساز اسمبلی نے ایک قرارداد مقاصد منظور کی جو مکمل طور پر اسلامی ریاست کا پیش لفظ تھی۔ ان دونوں نظریاتی ممالک میں رہنے والے مسلمان تعداد کے لحاظ سے آج آپس میں برابرتقسیم ہیں۔ بائیس کروڑ سرحد کے ایک جانب اور بائیس کروڑ سرحد کی دوسری جانب۔ لیکن اس سیکولرزم کے بہروپ سے ہندو بالادستی کا خونخوار جن نقاب پھاڑ کر باہر آ چکا ہے اور اس نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ دنیا کے دیگر تمام ممالک کی طرح بھارت India کا سیکولرزم بھی ایک غیر فطری نظریہ ہے۔ آدمی قیامت تک اپنے مذہب کے خول سے باہر نہیں آسکتا۔ یہ ہے وہ حقیقت جس نے نہ صرف کشمیر میں سیکولر بھارت India پرست سیاست الٹ کر رکھ دی ہے بلکہ پورے بھارت India میں بائیس کروڑمسلمان آبادی کو بھی بے یقینی کی سولی پر لٹکا دیا ہے اور یہ بے یقینی اب یقین میں بدل چکی ہے کہ سیکولر بھارت India میں اب مسلمان کا کوئی مستقبل نہیں۔بلکہ خوف اسقدر ہے کہ کل وہ اس سیکولر بھارت India کے شہری بھی رہیں گے یا نہیں۔ آج کے نیویارک ٹائمز کے ٹائٹل پر ایک تصویر ہے جس میں آسام کے شہر خاروپوتیہ میں ایک اہلکار ڈوپٹہ اوڑھے ایک مسلمان خاتون کا فارم چیک کر رہا ہے۔ اس نیم تاریک کمرے کی کھڑکی میں چند مسلمان کھڑے اپنی باری کا انتظار کر رہے ہیں۔ یہ فارم آسام میں بانٹے گئے ہیں جنکا مقصد اصل بھارتی Indian اور باہر سے آئے ہوے کے درمیان فرق کرنا ہے ۔ وہاں کے رہنے والوں کو خصوصا مسلمانوں کویہ کہا گیا ہے کہ وہ ثابت کریں کہ وہ واقعی بھارتی Indian ہیں۔ ان معلومات کی بنیاد پر ایک نیشنل شہری رجسٹر(National Citizen Register) مرتب ہو رہا ہے۔آسام کے بعد یہ ایکٹ پورے بھارت India میں نافذ ہوگا۔ جھونپڑیوں میں رہنے والے، صدیوں سے آبا اجداد کی زمین پرآباد مسلمان جنکے پاس ہو سکتا ہے نہ کوئی کاغذی ثبوت ہو اور نہ ہی بستی کے ہندو انکی گواہی دیں تو وہ مسلمان چشم زدن میں سیکولر بھارت India کی شہریت سے خارج ہو جائیں گے۔ بھارتی Indian ہ جنتا پارٹی کا نعرہ "کانگریس مکت (سے آزاد)بھارت" تھا، لیکن یہ دراصل "مسلمان مکت (سے آزاد ) بھارت" ہے۔ یہ تجربہ برما کے روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ کیا جا چکا ہے اور آج بیس لاکھ روہنگیا مسلمانوں کا کوئی وطن، پاسپورٹ یا شہریت نہیں ہے۔ کل بائیس کروڑ بھارتی Indian مسلمانوں کا بھی کوئی وطن پاسپورٹ یا شہریت نہیں ہوسکتی۔ وہ جنکے آبا و اجداد نے سیکولر ہندوستان کا انتخاب کیا تھا، سوچتے تو ہوں گے کہ کس قدر سچے تھے وہ لوگ جو پکار پکار کر کہتے تھے، "مسلم ہے تو مسلم لیگ میں آ"۔ مسلمان ملک میں کم ازکم شناخت کا مسئلہ تو نہیں ہوتا۔ سیکولر ملک تو اسی کو پہچانتا ہے جسکی اکثریت ہو۔ اس لیے کہ سیکولرازم کی سیڑھی جمہوریت ہے اور جمہوریت میں اسی کا مذہب، اسی کی زبان، اسی کی نسل اور اسی کی قوم بالادست ہوتی ہے جس کی اکثریت ہو ۔

 159