مظلوم کشمیری بدستور محاصرے میں

برملا - نصرت جاوید

19 اگست 2019

Mazloom Kashmiri

سفارت کاری میں T-20جیسے مقابلے نہیں ہوتے۔یہ ایک طویل المدتی عمل (Process)ہوتا ہے۔اس عمل میں ہر ریاست اپنے اہداف تک

پہنچنے کے لئے بہت صبرواستقامت کے ساتھ اپنے مخالف کو شہ مات دینے کے لئے قدم بڑھاتی ہے۔مذکورہ حقیقت کو ذہن میں رکھتے ہوئے میں اس سوال کو فروعی قرار دینے کو مجبور ہوں کہ گزشتہ جمعہ کے روز ہوئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس کے بعد ًًًمقبوضہ کشمیر کے حالیہ واقعات کے تناظر میں کونسا فریق ’’جیتا‘‘ اور کون ’’ہار‘‘ گیا۔ہمیں پوری صورت حال کو اس انداز سے دیکھنا ہوگا جس کی بدولت کچھ لوگوں کو پانی کا گلاس ’’خالی‘‘ یا ’’بھرا‘‘ نظر آتا ہے۔ پاکستانی زاویہ نگاہ سے دیکھتے ہوئے ہمیں کم از کم آدھا گلاس بھرا ہوا ضرور نظر آنا چاہیے۔بھارت India کو پریشان کرنے کے لئے یہ واقعہ ہی اپنی جگہ حیران کن تھا کہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل آرٹیکل 370کے خاتمے کے بعد نمودار ہونے والی صورت حال پر غور کرنے کو مجبور ہوئی۔ عوامی جمہوریہ چین China نے اس اجلاس کا انعقاد یقینی بنایا۔ بھارت India کے فرانس جیسے اتحادیوں کی بدولت یہ اجلاس اگرچہ بند کمرے میں ہوا۔اسے Formalکے بجائے Informal’’غوروخوض‘‘ کا عنوان دیا گیا۔عوامی جمہوریہ چین China کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ہمیں یہ حقیقت بھی فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ مودی سرکار نے آرٹیکل 370کی تنسیخ کے بعد کشمیر کے قضیے کو فقط پاک-بھارت India کشیدگی تک محدود رکھنے کے بجائے عوامی جمہوریہ چین China کو بھی اس معاملے کا Legitimateفریق بنادیا ہے۔لداخ چین China کے ہمسایے میں واقعہ ہے۔ بدھ مت کے ماننے والے وہاں اکثریت میں ہیں۔وہ خود کو ثقافتی وتاریخی اعتبار سے تبت کا حصہ شمار کرتے ہیں اور تبت چین China کا حصہ شمار ہوتا ہے۔ لداخ ہی میں کارگل کا ضلع بھی ہے۔ اس کی سرحد ہمارے گلگت بلتستان سے ملتی ہے۔ گلگت سے چین China نے گوادر Gawadar تک پہنچنے کے لئے CPECکا منصوبہ بنارکھا ہے۔لداخ کو ماضی کی ریاستِ جموںوکشمیر سے کاٹ کر اسے نئی دہلی کے براہِ راست کنٹرول میں آئیUnion Territoryقرار دیتے ہوئے مودی سرکار نے گویا CPECکے بارے میں اپنے حقیقی عزائم عیاں کردئیے ہیں۔مقبوضہ کشمیر اب پاک-بھارت India تنازعہ ہی نہیں رہا۔لداخ کی نئی حیثیت نے چین China کو بھی اس معاملے کا Legitimateفریق بنادیا ہے۔چین China آبادی کے اعتبار سے دُنیا کا سب سے بڑا ملک ہے۔اس کے بعد بھارت India کا نمبر آتا ہے۔پاکستان Pakistan کی آبادی بھی 22کروڑ ہوچکی۔ تینوں ممالک ایٹمی قوت کے حامل بھی ہیں۔ان تین فریقوں کے مابین ابھرے قضیے کو نام نہاد ’’عالمی برادری‘‘ نظرانداز کر ہی نہیں سکتی۔ چین China کی درخواست پر طلب ہوا جمعہ کا اجلاس روکا ہی نہیں جاسکتا تھا۔اس اجلاس کو بند کمرے تک محدود رکھنے کا فیصلہ اس وجہ سے بھی احمقانہ ثابت ہوا کیونکہ اس کے اختتام کے فوری بعد چینی مندوب کیمرے کے سامنے آگئے اور مذکورہ اجلاس میں بیان ہوئی عالمی برادری کی ’’تشویش‘‘ کو دُنیا کے سامنے آشکار کردیا۔ بھارت India چینی مندوب کے بیان کو شاید نظرانداز کردیتا۔اس کے لئے حیران کن شرمندگی کا باعث روسی مندوب کا بھی کیمروں کے سامنے آکر مذکورہ ’’تشویش‘‘ کا اثبات تھا۔

1948ء کے بعد سے ماسکو ہمیشہ مقبوضہ کشمیر کے تناظر میں بھارت India کی سہولت کے لئے اقوام متحدہ میں ویٹو کا حق استعمال کرتا رہا ہے۔سوویت یونین مگر اب روس Russia ہوگیا ہے۔بھارت India کو جدید ترین اسلحہ فروخت کرنے والوں میں لیکن اب بھی سرفہرست ہے۔ اس کے باوجود آرٹیکل370کے خاتمے کے بعد چین China کی حمایت میں ڈٹ کر کھڑا ہوگیا۔ روس Russia کے علاوہ برطانیہ کی ’’غیر جانبداری‘‘ نے بھی بھارت India کو پریشان کیا ہے۔طویل المدتی تناظر میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل اراکین میں سے اب فقط فرانس ہی دل وجان سے بھارت India کے ساتھ کھڑا ہے۔ٹرمپ کا امریکہ United States متلون مزاج ہے۔ ہر معاملے میں پل میں تولہ پل میں ماشہ والا رویہ اختیار کئے ہوئے ہے۔اسرائیل کے علاوہ اسے کوئی بھی ملک Taken for Grantedنہیں لے سکتا۔یہ رویہ اگرچہ پاکستان Pakistan کے لئے بھی خیر کی خبر نہیں ہے۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس منعقد ہونے سے قبل پاکستان Pakistan کے وزیر اعظم Prime Minister نے امریکی صدر سے ٹیلی فون پر گفتگو کی۔ اس گفتگو کے بارے میں وائٹ ہائوس نے جو Read Outدیا وہ اس حقیقت کے بارے میں رعونت کی حد تک ’’بے خبر‘‘ سنائی دیا کہ 22جولائی2019کے روز ٹرمپ نے عمران خان Imran Khan صاحب کو اپنے دائیں ہاتھ بٹھا کر پاک-بھارت India معاملات بہتر بنانے کے لئے ثالث کا کردار ادا کرنے کی خواہش کا اعلان کیا تھا۔اس اعلان کو بے نیازی سے بھلاکر امریکی صدراب پاکستان Pakistan اور بھارت India کو فقط ’’باہمی مذاکرات‘‘ کی اہمیت یاد دلانا شروع ہوگیا ہے۔تفصیلات میں الجھے بغیر ٹھوس نکات پر توجہ دیں تو پاکستان Pakistan کی نگاہ سے گلاس کم ازکم ادھا اس لئے بھرا ہوا ہے کیونکہ چاہے’’ بند کمرے‘‘ ہی میں ،اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل نے اپنے جمعہ کے روز ہوئے اجلاس کے ذریعے بھارت India کو بتادیا ہے کہ آرٹیکل 370کی تنسیخ اس کا ’’اندرونی معاملہ‘‘ نہیں ہے۔ اقوام متحدہ اس معاملے میں مداخلت کے حق سے محروم نہیں ہوئی۔عوامی جمہوریہ چین China کا ایک بار شکریہ۔ اس نے بہت مہارت سے اقوام متحدہ کو اپنا اختیار یاد دلانے کا موقع فراہم کردیا۔ہمارے لئے فوری تشویش کا باعث فقط مقبوضہ کشمیر کی دو حصوں میںتقسیم ہی نہیں۔مسئلہ کشمیر Kashmir Issue ماضی کی ریاستِ جموںوکشمیر کے زیر کنٹرول جائیداد کے حصے بخرے کرنے والے قضیے تک محدود نہیں۔اصل معاملہ وادیٔ کشمیر میں مقید ومحصور ہوئے انسانوں کے بنیادی حقوق کا ہے۔جمعہ کے اجلاس نے ٹھوس اعتبار سے ایک وسیع تر جیل میں قید ہوئے 70لاکھ سے زائد انسانوں کی اذیت میں ازالے کا بدقسمتی سے کوئی بندوبست نہیں کیا ہے۔آج کے نام نہاد Digital Eraمیں کرفیو کے ذریعے گھروں میں محصور ہوئے انسان موبائل فون اور انٹرنیٹ سے محروم کردئیے گئے ہیں۔حتیٰ کہ لینڈ لائن والے فون بھی خاموش کردئیے گئے۔ اپنے پیاروں کا حال واحوال جاننے کے لئے بھارت India میں روز گاریا تعلیم کے لئے قیام پذیر ہوئے کشمیریوں کے پاس سوائے ہوائی جہاز کے سفر کے اور کوئی راستہ ہی نہ بچا۔ایمان داری کی بات یہ بھی ہے کہ روابط کے تمام ذرائع سے محروم ہوئے انسانوں کی حقیقی اذیت کو نام نہاد عالمی برادری کے سامنے کشمیر کے وحید مرزا جیسے عالمی شہرت یافتہ لکھاریوں نے اپنے ٹویٹس اور عالمی میڈیا کے ٹاک شوز میں حصہ لیتے ہوئے بہت شدت سے بیان کیا۔ ہمارے محمد حنیف نے نیویارک ٹائمز کے لئے دل دہلادینے والا ایک مضمون لکھا۔ ارون دھتی رائے نے مسلط کردہ خاموشی کی اذیت بیان کی۔ان بڑے ناموں کے علاوہ حقیقی سلام ان صحافیوں کو جنہوں نے جان جوکھم میں ڈال کر سری نگر سے کسی نہ کسی صورت حقائق بیان کرنے کی راہ نکالی۔ بی بی سی اس ضمن میں یقینا بازی لے گیا۔ الجزیرہ کا کردار بھی قابل ستائش ہے۔دل کی اتھاہ گہرائیوں سے مگر ان بھارتی Indian صحافیوں کا شکریہ بھی لازمی ہے جو Mainstreamمیڈیا کا حصہ نہیں۔اپنے تئیں مقبوضہ کشمیر پہنچے اور وہاں سے لوٹ کرنستباََ غیر معروف انٹرنیٹ سائٹس کے ذریعے قابض افواج کے ساتھ Embedہوئے صحافیوں کی ’’سب اچھا‘‘ والی رپورٹس کو جھوٹا اور من گھڑت قرار دیتے رہے۔ بھارتی Indian انتہا پسند ایسے افراد کو ’’غدار‘‘ پکاررہے ہیں۔ NDTVبھی تمام تر احتیاط کے باوجود جنونی شوروغوغا سے محفوظ نہیں رہ پایا۔ ’’عالمی ضمیر‘‘ نامی شے اگر اب بھی کہیں موجود ہے تو اسے فقط آزاد منش صحافت ہی کی کسی نہ کسی صورت نے جھنجھوڑا ہے۔ایک وسیع وعریض جیل میں محصور ہوئے کشمیریوں کی روزمرہ زندگی سے جڑی حقیقتوں کو ٹھوس واقعات کے ذریعے بیان کرتے ہوئے آزادمنش صحافت نے امید کی لوجلائے رکھنے میں اہم ترین کردار ادا کیا۔ وحید مرزا اور ارون دھتی رائے نے مزاحمتی ادب کی نئی داستانیں رقم کی ہیں۔ محمد حنیف ’’گھر کی مرغی‘‘ ہے۔ اسے سراہنے کی ہمت نہیں۔ ’’دوست نوازی‘‘ کا الزام لگے گا۔ اکثر وہ ایسے کالم بھی لکھ دیتا ہے جنہیں Shareکرتے ہوئے ’’شریک جرم‘‘ ٹھہرائے جانے کاخوف لاحق رہتا ہے۔آزاد منش صحافیوں کا فرداََ فرداََ ذکر کرنے کے بجائے اس کالم کو یہ کہتے ہوئے ختم کرنا ہوگا کہ مودی سرکار کی جانب سے آرٹیکل 370کی تنسیخ کے بعد مقبوضہ کشمیر پر پنجابی گیت والی ایک اور لمبی اور کالی رات مسلط کردی گئی ہے۔جبر سے مسلط کی ہوئی اس تاریکی میں دئیے جلانے کی روش برقراررکھنا ہوگی۔ سفارت کاری کی ’’بند کمروں‘‘ میں دکھائی مہارتیں محصور ہوئے کشمیریوں کے لئے کافی نہیں۔

 188