بھارت India کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟

قلم کمان - حامد میر

19 اگست 2019

Bharat ka muqabla kasy kiya jaye

بھارتی Indian وزیراعظم نریندر مودی narendra modi کو پچھلے چھ ماہ کے دوران غلط انٹیلی جنس رپورٹوں کے باعث دوسری مرتبہ ایک بڑی ہزیمت سے دوچار ہونا پڑا ہے۔ پہلی مرتبہ فروری 2019میں مودی نے آزاد کشمیر سے ملحقہ خیبر پختونخوا کے علاقے بالا کوٹ میں بمباری کی اور ایک ٹریننگ کیمپ تباہ کرنے کا دعویٰ کیا لیکن یہ دعویٰ جھوٹ نکلا۔ اس جھوٹ کے باعث پاکستان Pakistan اور بھارت India میں جو کشیدگی پیدا ہوئی اُس کے نتیجے میں دو بھارتی Indian طیارے تباہ ہوئے اور ایک بھارتی Indian پائلٹ اپنے تباہ شدہ طیارے سے چھلانگ لگا کر آزاد کشمیر میں گرفتار ہو گیا۔ دوسری مرتبہ بھارتی Indian انٹیلی جنس نے اگست کے پہلے ہفتے میں وزیراعظم مودی کو یہ رپورٹ دی کہ قطر میں امریکہ United States اور افغان طالبان کے درمیان امن معاہدہ طے پا چکا ہے اور اس معاہدے کا اعلان ہوتے ہی دنیا کی توجہ مسئلہ کشمیر Kashmir Issue کی طرف مبذول ہو جائے گی۔ مودی کو یہ بھی کہا گیا کہ 1989میں افغانستان Afghanistan سے روسی فوجوں کے انخلا کے بعد کشمیر میں آزادی کی تحریک تیز ہو گئی تھی اور خطرہ ہے کہ 2019میں افغانستان Afghanistan سے امریکی فوج کی واپسی کے بعد ایک دفعہ پھر کشمیر کا معاملہ دنیا کی توجہ حاصل کرے گا۔ اس انٹیلی جنس رپورٹ میں کہا گیا کہ بھارت India کو کشمیر پر اپنا قبضہ مستحکم کرنے کیلئے فوری اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ امریکہ United States اور افغان طالبان میں امن معاہدے کے متوقع اثرات کا مقابلہ کیا جا سکے، لہٰذا مودی نے فوری طور پر مقبوضہ ریاست جموں و کشمیر Kashmir میں مارشل لاء نافذ کر دیا اور آئین کی دفعہ 370اور 35اے کے تحت ریاست کی خصوصی حیثیت بھی ختم کر دی۔ فروری میں بالاکوٹ حملے سے بھی دنیا میں مسئلہ کشمیر Kashmir Issue اُجاگر ہوا اور اگست میں مقبوضہ علاقے میں مارشل لاء لگانے کا نتیجہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس کی صورت میں نکلا۔ پچاس سال بعد سلامتی کونسل کے اجلاس میں کشمیر پر دوبارہ بات ہوئی۔ کمرہ بند اجلاس کے بعد کوئی اعلامیہ جاری نہ ہوا جسے بھارت India نے اپنی کامیابی قرار دیا لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس اجلاس نے ایک دفعہ پھر دنیا کو مسئلہ کشمیر Kashmir Issue کی سنگینی سے آگاہ کیا اور بھارت India مسئلہ کشمیر Kashmir Issue کو اپنا اندرونی معاملہ ثابت کرنے میں ناکام رہا۔ اب بھارتی Indian میڈیا میں بھی یہ اطلاعات شائع ہو رہی ہیں کہ مودی حکومت نے 5؍اگست کو بہت جلد بازی میں ریاست جموں و کشمیر Kashmir پر جو مارشل لاء مسلط کیا اُس کے پیچھے انٹیلی جنس رپورٹ تھی جس میں کہا گیا تھا کہ کچھ دنوں میں امریکہ United States اور افغان طالبان میں امن معاہدہ خطے میں بھارت India کے مفادات کو بُری طرح متاثر کرے گا لہٰذا بھارت India کو کچھ فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔

14؍اگست 2019کو بھارتی Indian اخبار ’’دی ہند‘‘ میں سوہاسنی حیدر نے لکھا ہے کہ 5؍اگست کو مودی کے کشمیر ایڈونچر کے پیچھے بھارتی Indian انٹیلی جنس کی یہ رپورٹ تھی کہ امریکہ United States اور افغان طالبان کے درمیان متوقع معاہدہ بھارت India کے لئے بہت نقصان دہ ثابت ہو گا کیونکہ ایسی صورت میں 28ستمبر 2019کو افغانستان Afghanistan میں صدارتی الیکشن ملتوی ہو جائے گا۔ بھارتی Indian حکومت اس الیکشن میں بیک وقت اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ سمیت کم از کم 17ایسے امیدواروں کی مدد کر رہی ہے جو بھارت India کے ساتھ براہ راست رابطے میں ہیں۔ صدارتی الیکشن ملتوی ہونے سے کابل میں افغان طالبان کا اثر و رسوخ قائم ہو جائے گا جو پاکستان Pakistan کے زیادہ قریب ہیں۔ جس وقت مودی حکومت نے مقبوضہ جموں و کشمیر Kashmir میں مارشل لاء نافذ کرنے کا فیصلہ کیا تو قطر میں امریکہ United States اور طالبان کے مابین مذاکرات کا آٹھواں رائونڈ جاری تھا۔ مذاکرات کا یہ رائونڈ 12؍اگست کی شام بغیر کسی نتیجے کے ختم ہو گیا کیونکہ عیدالاضحی آ گئی تھی۔ ان مذاکرات میں شریک امریکی نمائندے زلمے خلیل زاد نے بہت کوشش کی کہ عیدالاضحی کے دن مذاکرات کو نتیجہ خیز بنا کر کوئی خوشخبری دی جائے لیکن افغان طالبان نے کچھ اہم معاملات پر اپنی قیادت سے مشورے کے بغیر آمادگی سے معذوری ظاہر کی اور یوں بھارتی Indian انٹیلی جنس کی یہ رپورٹ غلط نکلی کہ 3اگست کو قطر میں شروع ہونے والے مذاکرات کا آٹھواں رائونڈ نتیجہ خیز ثابت ہوگا۔ بھارتی Indian انٹیلی جنس کی رپورٹ دراصل زلمے خلیل زاد کے اندازے پر مبنی تھی جو بھارتی Indian حکومت کے سکیورٹی ایڈوائزر اجیت دوول کے ساتھ رابطے میں رہتا ہے۔ امریکہ United States اور افغان طالبان میں مذاکرات ناکام نہیں ہوئے بلکہ کچھ تعطل کا شکار ہیں۔ افغان طالبان نے ایک بیان میں یہ واضح کیا کہ افغان مفاہمتی عمل کو کشمیر کی صورتحال سے نہ جوڑا جائے لیکن کیا کریں کہ بھارتی Indian انٹیلی جنس نے افغان امن مذاکرات میں اپنی ناکامیاں تلاش کرکے مودی حکومت کو ایسے فیصلوں پر مجبور کر دیا جن پر دنیا بھر میں تنقید ہو رہی ہے۔ اب بادل نخواستہ مودی حکومت کو مقبوضہ علاقے میں کرفیو نرم کرنا پڑے گا۔ سرکاری دفاتر اور تعلیمی ادارے کھولنا پڑیں گے اور جب وہاں جلسے جلوسوں کا سلسلہ شروع ہوگا تو مودی حکومت دبائو میں آئے گی۔ اس دبائو سے نکلنے کے لئے وہ لائن آف کنٹرول پر جارحیت میں اضافہ کرے گی۔ بھارتی Indian جارحیت کے نتیجے میں ایک طرف مقبوضہ علاقے میں کشمیریوں کا خون بہایا جا رہا ہے دوسری طرف لائن آف کنٹرول پر پاکستانی فوج کے جوان اور سویلین آبادی بھی شہید ہو رہی ہے۔ یہ صورتحال تقاضا کر رہی تھی کہ پاکستان Pakistan کی تمام سیاسی جماعتیں اور سول سوسائٹی متحد ہو کر کشمیریوں کے لئے آواز اُٹھاتی کیونکہ کشمیریوں کا واحد جرم پاکستان Pakistan سے محبت ہے لیکن افسوس کہ پاکستان Pakistan میں حکومت اور اپوزیشن نے کشمیریوں کے ساتھ محض نمائشی اظہارِ یکجہتی کیا اور مقبوضہ جموں و کشمیر Kashmir کی صورتحال پر بلائے جانے والے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں بھی ایک دوسرے کے خلاف سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کی گئی۔ کوئی مانے یا نہ مانے اس وقت ہم معاشی عدم استحکام کا شکار ہیں اور اس کی ایک وجہ سیاسی عدم استحکام بھی ہے۔

پاکستان Pakistan کے ارباب اختیار چاہتے ہیں کہ موجودہ صورتحال میں پاکستان Pakistan کا میڈیا کشمیر کی جنگ لڑے۔ جب پاکستان Pakistan کا میڈیا مقبوضہ کشمیر کے سیاستدانوں کی گرفتاری پر سوال اٹھاتا ہے تو بھارتی Indian میڈیا کہتا ہے تم اپنی خیر منائو، تمہارے دو سابق وزرائے اعظم، ایک سابق صدر اور کئی سابق وزراء بھی جیل میں ہیں۔ یہ وہ کمزوریاں ہیں جن کا بھارت India کی طرف سے فائدہ اُٹھانے کی کوشش کی جائے گی۔ بھارتی Indian حکومت نے بڑے غیر محسوس انداز میں حریت کانفرنس کی قیادت کو میڈیا سے غائب کر دیا ہے۔ مغربی میڈیا یہاں تک کہ پاکستانی میڈیا پر بھی ایک نو آموز کشمیری سیاستدان شاہ فیصل Shah Faisal کا ذکر ہو رہا ہے۔ بھارتی Indian حکومت آنے والے دنوں میں مقبوضہ جموں و کشمیر Kashmir کی ریاستی اسمبلی کے انتخابات کرائے گی جس میں نئی قیادت سامنے لاکر اسی قیادت کے ذریعہ کشمیریوں کو کچھ نام نہاد ریلیف دیا جائے گا لیکن اگر مقبوضہ علاقے میں پُرتشدد واقعات شروع ہو گئے تو پھر بھارت India ان واقعات سے توجہ ہٹانے کے لئے محدود جنگ کے ذریعہ آزاد کشمیر کے کچھ علاقوں پر قبضہ کرنے کی کوشش کرے گا۔ بھارتی Indian انٹیلی جنس پر اس وقت انتہاء پسند ہندوئوں کا کنٹرول ہے جو ہوش کے بجائے جوش میں فیصلے کرتے ہیں اس لئے پاکستان Pakistan جنگ سے گریز ضرور کرے لیکن جنگ کے لئے ہر وقت تیار رہے اور یہ تیاری ملک میں سیاسی استحکام لائے بغیر نہیں کی جا سکتی۔ سیاسی عدم استحکام ختم نہ کرنے کا مطلب دشمن کے ہاتھوں میں کھیلنے کے مترادف ہو گا۔

 121