صبر، تحمل، حکمت!

اعمال نامہ - ارشاد احمو بھٹی

19 اگست 2019

Sabar Tahamul

مودی ظلم، 14دن ہو گئے، ان دو ہفتوں میں، پاکستان Pakistan کی ہر سطح پر مذمت، کور کمانڈر کانفرنس مضبوط اعلامیہ، قومی سلامتی کونسل کے دو اجلاس، سفارتی تعلقات نیچے لانا، تجارت ختم کرنا، پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس، متفقہ قرارداد، دوست ممالک سے رابطے، عالمی رہنماؤں کو ٹیلی فون، ٹرمپ، عمران گفتگو، وزیراعظم کے مسلسل بیانات، ٹویٹس، مظفر آباد جا کر کہنا ’’مودی تمہاری اینٹ کا جواب پتھر سے دیں گے‘‘،50سال بعد سلامتی کونسل میں مسئلہ کشمیر Kashmir Issue آنا، اسلامی سربراہی کانفرنس کیلئے رابطے، ویسے تو 14دنوں سے سخت کرفیو میں گھروں میں نظر بند، خوراک، دوائیوں سے محروم، دنیا بھر سے کٹ چکے مظلوم کشمیریوں کیلئے یہ بھی کم، زیادہ ہونا چاہئے تھا مگر 57اسلامی ممالک نے تو یہ بھی نہ کیا، انسانی حقوق کے علمبردار امریکہ United States ، برطانیہ، یورپ نے تو اس سے آدھا بھی نہ کیا، مسلم امہ کارویہ، دنیا کا ردِعمل افسوسناک۔

مگر سوچوں مسلم امہ سے توقع ہی کیوں، 1967میں اسرائیل نے گولان کی پہاڑیوں پر قبضہ کیا، او آئی سی نے کیا کر لیا، فلسطین، شام، عراق، لیبیا تباہ ہو گئے، یمن، لبنان برباد ہو رہے، 70سالوں سے کشمیریوں پر کیا کیا ظلم نہ ہوئے، 57ممالک، ایک ارب 80کروڑ آبادی کی نمائندہ، اقوام متحدہ کے بعد دوسری بڑی تنظیم‘ او آئی سی نے کیا کر لیا، ہمیں اس وقت سمجھ جانا چاہئے تھا جب او آئی سی کے یو اے ای اجلاس میں بھارت India آ بیٹھا، ہمیں تب سمجھ جانا چاہئے تھا جب او آئی سی مکہ ڈیکلیریشن سے کشمیر نکلا، سب مفادات کا چکر، بھارت، ترکی تجارت 7ارب ڈالر billion dollor ، بھارت، ملائیشیا Malaysia تجارت 17ارب ڈالر billion dollor ، ایران Iran بھارت India کو خام تیل دینے والا دوسرا بڑا ملک، بھارت، ایران Iran تجارت سوا 13ارب ڈالر billion dollor ، چا بہار بندرگاہ، فوجی معاہدے الگ، ایک عرب ملک اپنا سب سے بڑا ایوارڈ مودی کو دے چکا، بھارت، یو اے ای تجارتی ہدف 550ارب ڈالر billion dollor ، بھارتی Indian وں کے 55ارب ڈالر billion dollor تو ایک خلیجی ریاست کے رئیل اسٹیٹ برنس میں، امارات میں اتنے بھارتی Indian کہ 3اماراتی چوتھا بھارتی Indian ، برادر عرب ملک بھی اپنا سب سے بڑا ایوارڈ مودی کو دے چکا، یہ بھارت India کا چوتھا بڑا پارٹنر، بھارت India اپنے تیل کی 20فیصد ضرورت اسی ملک سے پوری کر رہا، 35لاکھ بھارتی Indian برادر عرب ملک میں کام کررہے، 2015میں بھارتی Indian وں نے اس مسلم ملک سے 10ارب 50کروڑ کا زرمبادلہ بھیجا، ابھی عرب تیل کمپنی آرامکو کی بھارت India میں 75ارب ڈالر billion dollor کی سرمایہ کاری، ایک اندازے کے مطابق 70لاکھ بھارتی Indian خلیجی ممالک میں کام کر رہے، اگر مسلم امّہ بھارت India سے تجارتی بائیکاٹ کی دھمکی ہی دے دے، بھارتی Indian وں کو اپنے ملکوں سے نکلنے کا الٹی میٹم ہی دیدے تو دیکھئے مودی اور بھارت India کا حال، مگر یہ اتحاد ،ہم اتنے خوش نصیب کہاں۔یہ مسلم امہ، باقی دنیا کا حال ملاحظہ ہو، امریکہ United States بھارت India کا جوہری پارٹنر، سب سے زیادہ فوجی مشقیں کرنے والا، ڈیڑھ ارب ڈالر billion dollor تک تجارت پہنچی ہوئی، ایک لاکھ 86ہزار تو صرف بھارتی Indian طلبہ امریکہ United States میں۔ روس‘ بھارت India اپنے اسلحے کا 60فیصد اس سے خریدے، ایٹمی بجلی گھروں، جدید اسلحے کی تیاری میں دونوں پارٹنر، سینکڑوں تجارتی معاہدے، بھارت، چین China تجارت 100بلین ڈالر billion dollor تک پہنچ چکی، چینی سرمایہ کار 85بلین ڈالر billion dollor سرمایہ کاری کرنے کی تیاری میں، اب ایک طرف ہماری 72سالہ پالیسیوں کی فصل ہمیں عالمی تنہائی کی صورت میں کاٹنا پڑ رہی، دوسری طرف بھارت India دنیا کی پُرکشش منڈی جہاں دنیا کی اتنی بڑی سرمایہ کاری، مظلوم کشمیریوں کی بھلا کون سنے گا لیکن کچھ اچھا بھی ہوا، جیسے گزرے دو ہفتوں میں مقبوضہ کشمیر پر اتنی بات ہو چکی جتنی 70برسوں میں نہ ہوئی، جیسے واشنگٹن پوسٹ کہہ رہا ’’بھارت India اب سیکولر نہیں رہا‘‘، نیویارک ٹائمز کہہ چکا ’’بھارتی Indian حکومت بدمعاش بن گئی‘‘، آبزرور کا خیال ’’مودی تباہی کے راستے پر‘‘، گارجین کا کہنا ’’کشمیریوں کو ہندو توا کا سامنا‘‘، دی گلوب کا اداریہ ’’مودی فاشسٹ‘‘ بی بی سی کئی بار کہہ چکا ’’مقبوضہ وادی میں ظلم کی اخیر ہو چکی‘‘، جیسے 70برسوں میں پہلی بار حریت کانفرنس، کشمیری عوام، فاروق عبداللہ، محبوبہ مفتی سب ایک پیج پر، جیسے بھارت India میں لوگ بول رہے، احتجاج کر رہے، جلسے، جلوس نکال رہے، جیسے بھار ت کی چھوٹی، بڑی 50علیحدگی پسند تحریکوں میں جان پڑ چکی، خالصتان کا نقشہ جاری ہونا، ناگا لینڈ میں علیحدہ جھنڈا، اپنا ترانا سامنے آگیا مگر کیا یہ کافی، جواب نہیں، جب تک عملی طور پر مسلم دنیا، امریکہ United States ، برطانیہ، یورپ مظلوم کشمیریوں کے ساتھ کھڑے نہیں ہوں گے، بات نہیں بنے گی۔

ایک سوال یہ بھی، کیا اقوام متحدہ بھارت India کو مجبور کر سکتا ہے کہ وہ اپنا فیصلہ واپس لے، ایسا ہوتا دکھائی نہیں دیتا، بھارت India خود اقوام متحدہ گیا، خود ہی ہر شے سے مکر گیا، تاریخ بتائے، 17جنوری 1948، سلامتی کونسل قرارداد38، دونوں ممالک اشتعال انگیز بیانات سے گریز کریں، 20جنوری 1948، اقوام متحدہ نے مسئلہ کشمیر Kashmir Issue پر 3رکنی کمیشن بنادیا، 3جون 1948، قرارداد 51، کمیشن کو کام تیز کرنے، پاک بھارت India سے رابطے کی ہدایت، 13اگست 1948، قرارداد پاک بھارت India سیز فائر کریں، 5جنوری 1949، سیز فائر، فوجیوں کی واپسی، رائے شماری، قراردادمنظور ہوئی، 14مارچ 1950، قرارداد80، دونوں ملک امن و امان کیلئے ضروری اقدامات کریں، 12اپریل 1950، اقوام متحدہ نے مسئلہ کشمیر Kashmir Issue پر سراون ڈکسن کو نمائندہ مقرر کر دیا، پھر مشہور و معروف ڈکسن رپورٹ آئی اور پھر 65، 71کی جنگوں میں اقوام متحدہ میں کشمیر زیرِ بحث آیا، مگر کچھ حاصل وصول نہ ہوا۔یہاں سوال یہ بھی، کیا ہم لڑ کر کشمیر لے سکتے ہیں، بلاشبہ جنگ، شہادت مسلمان کا زیور، اپنے مظلوم کشمیری بھائیوں کیلئے لڑنا پڑا تو لڑیں گے مگر ایک تو جنگ آخری آپشن، دوسرا سوچنے کی بات یہ بھی، جنگوں سے کسی کو کیا ملا، ایران، عراق Iraq لڑے، جنگ سے کیا حاصل ہوا، کیا عربوں نے لڑ کر فلسطین لے لیا، شام، لیبیا، یمن، لبنان کو لڑائیوں سے کیا ملا، 30چالیس سالہ بھانت بھانت کی لڑائیوں کے بعد افغانستان Afghanistan کو کیا ملا، اللہ نہ کرے، جنگ ہو، پونے دو ارب انسانوں والے دونوں ملک، اس خطے اور دنیا کیلئے یہ تباہ کن، ہوش، صبر، تحمل، حکمت، ذرا سا جذباتی پن، چنگاری نے آگ پکڑ لی تو اگلے سوسال دنیا اس تباہی کی داستانیں سناتی ملے گی۔

 453