ملتان سٹیل مل قزاق لے گئے!

ایک اور ایک - منیر احمد بلوچ

19 اگست 2019

Multan Steel Mil Kazaq le gaye

ہٹلر جیسا شخص‘ جو کسی کی تعریف کرنے میں انتہائی بخیل سمجھا جاتا تھا‘ جرمن قوم سے خطاب کرتے ہوئے ہمیشہ یہ فقرہ بولتا تھا ''ہر جرمن کو شکاری کتے سے بھی زیادہ تیز اور کرپس (Krupp) (جرمن Krupp‘ انگلش کرپس)کے سٹیل کی طرح مضبوط بننا ہو گا‘‘۔

قیام پاکستان Pakistan کے بعد ملتان میں اسی کرپس فیملی کی مدد اور تعاون سے پہلی سٹیل مل لگانے کا فیصلہ ہوا تھا۔ اس فیملی کی بنیاد1587 میں پڑی تھی۔ 400 برس پرانی کرپس فیملی دوسری جنگ عظیم سے پہلے بہت بڑی صنعتی ایمپائر بن چکی تھی۔ اس کے تیار کردہ ہتھیار پہلی اور دوسری عظیم جنگوں میں استعمال میں لائے گئے۔ دوسری جنگ عظیم میں جرمنی کی شکست کے بعد امریکہ United States اور تمام اتحادی ممالک نے کرپس پر پابندیاں عائد کرتے ہوئے اسے جرمنی میں اپنی تباہ شدہ سٹیل مل کی بحالی سمیت سٹیل سے متعلق کسی بھی قسم کا پلانٹ لگانے یا کام کرنے سے روک دیا تھا۔ بعد میں اس کے افراد کو گرفتار بھی کر لیا گیا لیکن کچھ عرصے بعد امریکی مداخلت پر رہا کر دیا گیا۔ دوسری جنگ عظیم میں جرمنی کی شکست سے قطع نظر اتحادی ممالک جانتے تھے کہ میدان جنگ میں کرپس کی سٹیل ملوں میں وہ تمام جنگی بحری جہاز، U Boats، آبدوزیں، ٹینک اور توپیں تیار کی جاتی ہیں جو جنگ کے دوران جرمن فوجوں کے استعمال میں آتی ہیں۔ یہ جنگی جہاز اور دوسرا ساز و سامان سینکڑوں اور ہزاروں کی تعداد میں تیار کیا جاتا تھا جبکہ بہت سے چھوٹے ہلکے اور خطرناک ہتھیار بھی انہی کے تیار کئے گئے ہوتے تھے۔ کرپس فیملی نے دوسری جنگ عظیم کے دوران سپلائی میں کمی نہ آنے دی۔ امریکہ United States کو کرپس فیملی کے سٹیل اور لوہے کے کام کا ذاتی تجربہ بھی تھا کیونکہ1929 میں امریکہ United States میں بچھائی جانے والی ریلوے لائن کیلئے 'کرپس سٹیل‘ کا لوہا ہی استعمال ہوا تھا۔ اس صنعتی ایمپائر کی وسعت کا اندازہ کرنے کیلئے یہی کافی ہے کہ 1887 میں ان کے پاس کام کرنے والے ملازمین کی تعداد 75 ہزار سے بھی زائد تھی۔

پاکستان Pakistan بنتے کے بعد اس کو ملنے والی بیوروکریسی میں‘ چند ایک کو چھوڑ کر‘ اس نئے وطن کو اپنے پائوں پر کھڑا کرنے کا جذبہ موجزن تھا۔ ایسے ہی کچھ افسران نے 1956 میں کرپس کو کراچی آنے کی دعوت دی۔ جب وہ کراچی اترے تو اس کا گرم جوشی سے استقبال کیا گیا اور دوران قیام ان سے پاکستان Pakistan میں سٹیل مل لگانے کی درخواست کی گئی جسے انہوں نے بخوشی منظور کر لیا۔ سٹیل مل لگانے کیلئے مناسب جگہ کے انتخاب کیلئے کرپس مختلف مقامات کے دورے کرتا رہا۔ بالآخر اس نے سٹیل مل کیلئے ملتان کا حتمی طور پر انتخاب کیا‘ جس کیلئے کوئٹہ کا کوئلہ اور میانوالی کا خام مال استعمال ہونا تھا۔ کرپس کے ساتھ طے ہوا کہ سٹیل مل کیلئے مطلوبہ جگہ حکومت پاکستان Pakistan فراہم کرے گی اور اس کے علاوہ اس کے منتخب کردہ ڈیزائن کے مطابق عمارت بھی تعمیر کر کے دے گی۔ اس تعمیر کے دوران ہی ملتان سے کوئٹہ اور ملتان سے میانوالی تک علیحدہ علیحدہ ریلوے لائن بھی بچھائی جائے گی‘ جن سے اس سٹیل مل کیلئے مطلوبہ سامان کی سپلائی ممکن ہو گی۔ معاہدے کے دوسرے حصے کے مطابق سٹیل مل کیلئے درکار تمام مشینری کی فراہمی کرپس کی ذمہ داری ہو گی۔ جیسے ہی اس معاہدے کا اعلان ہوا دشمن اور اس کے کارندے فوری طور پر حرکت میں آنا شروع ہو گئے‘ جنہوں نے کوششیں شروع کر دیں کہ کرپس کو پاکستان Pakistan سے بھگا دیا جائے۔

میرے اس مضمون کا بنیادی مقصد آج کی نئی جنریشن کو یہ بتانا ہے کہ ان کے ملک کے ساتھ کس طرح کے کھلواڑ کئے گئے اور کئے جا رہے ہیں۔ اور یہ کہ ان کے مستقبل کن لوگوں نے تباہ کئے۔ ان کے ملک کا اقوام عالم میں ترقی یافتہ چہرہ کن لوگوں نے بگاڑا۔ 1956 میں جب اس سٹیل مل پر کام شروع ہونے لگا تو خفیہ ہاتھ حرکت میں آ گئے اور کراچی میں بیٹھے ہوئے اسی سرشت کے لوگوں کی جانب سے کرپس کو کہا گیا کہ دیکھئے آپ کام تو شروع کرنے جا رہے ہیں لیکن اگر آپ کا تیار کر دہ لوہا عالمی معیار کا نہ ہوا تو پھر؟ اس پر کرپس نے کہا کہ آپ کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہو گی‘ میں اسے اپنی ذمہ داری پر ایکسپورٹ کر دوں گا۔ لیکن وہ لوگ کب ہار ماننے والے تھے۔ کہنے لگے: یہ تو ٹھیک ہے کہ آپ اس کم معیار کے لوہے کو ایکسپورٹ کر دیں گے لیکن اس پر کوئلے اور خام مال کی صورت میں ہمارے اخراجات کا کیا ہو گا؟ اس پر کرپس نے تحریری طور پر لکھ کر دے دیا کہ اگر میرا تیار کردہ لوہا آپ کے معیار کے مطابق نہ ہوا تو اس پر آنے والی لاگت آپ کو انٹرنیشنل نرخوں پر ادا کرنے کا پابند ہوں گا۔

ان وطن دشمنوں نے جب دیکھا کہ کرپس تو ان کی ہر بات تسلیم کئے جا رہا ہے تو وہ سر پکڑ کر بیٹھ گئے کہ اب کیا کریں؟ ان کے آقائوں نے نیا دائو پیچ سکھاتے ہوئے کرپس کو دوبارہ میٹنگ کیلئے بلا کر کہا ''دیکھیں جی یہ جو ملتان سے کوئٹہ اور میانوالی کیلئے نئی ریلوے لائن بچھانے کا منصوبہ ہمارے ذمہ کیا گیا ہے اس کیلئے فی الحال حکومت پاکستان Pakistan کے پاس مطلوبہ رقم نہیں ہے‘‘۔

Krupp فیصلہ کر چکا تھا کہ یہ لوگ جتنی شرائط بھی بہانوں کی شکل میں سامنے لاتے جائیں گے میں چیلنج سمجھ کر انہیں منظور کرتا جائوں گا اور اپنے مخالفین اور اس چھوٹے سے نئے نئے آزاد ہونے والے ملک کی اقتصادیات کو بہتر بنانے کی ہر ممکن کوشش کروں گا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ پاکستان Pakistan کے حصے میں نہ تو کوئی سٹیل مل آئی ہے اور نہ ہی کوئی اسلحہ ساز فیکٹری جبکہ اس کے مقابل بھارت India کے حصے میں 19 اسلحہ ساز فیکٹریاں اور چار سٹیل ملیں آ چکی ہیں۔ کرپس کے سامنے کوئی ایک سو برس پرانی جرمن فرم کی وہ رپورٹ بھی گھومنے لگی جس کے مطابق بلوچستان Balochistan میں ہر قسم کی معدنیات کے بیش بہا ذخائر کی نشاندہی کی گئی تھی اور وہ جانتا تھا کہ امرتسر اور اس کے ارد گرد کے لوگ‘ جو اب گوجرانوالہ اور لاہور کے اضلاع میں آباد ہو چکے ہیں‘ بہترین کاریگروں میں شمار ہوتے ہیں۔ جیسے ہی کرپس کے سامنے ڈھیر ساری شرائط رکھ دی گئیں تو کرپس نے کھڑے ہو کر کہا: سٹیل ملز کیلئے بلڈنگ کی تعمیر کا بہانہ جو آپ نے مجھ سے بعد میں کرنا ہے اسے بھی اپنے خرچ پر تعمیر کروں گا اور ریلوے لائن کی تعمیر سمیت آپ کی باقی تمام شرائط بھی مجھے منظور ہیں۔

غالباً1980 کی بات ہے‘ مال روڈ پر الفلاح بلڈنگ کے پاس سے گزر رہا تھا تو مجھے بھارت India سے آئے ہوئے کچھ سردار صاحبان نظر آئے۔ میں نے واپڈا ہائوس اور الفلاح بلڈنگ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے پوچھا: 'سردار جی پاکستان Pakistan دی ترقی ویکھی جے؟ (سردار جی پاکستان Pakistan کی ترقی دیکھی ہے؟) اس پر سردار جی کا دیا ہوا جواب مجھے آج بھی یاد ہے۔ وہ بولے ''ترقی تاں ہندوستان نے کیتی اے ساڈے مرسیڈیز بنتی ہے تسیں کی بناندے او؟‘‘ (ترقی تو بھارت India نے کی ہے ہم مرسیڈیز بناتے ہیں‘ آپ کیا بناتے ہو؟) اس جواب نے مجھے اس وقت خاموش تو کر دیا لیکن جب کرپس اور ملتان میں لگنے والی سٹیل مل کی کہانی میرے سامنے آئی تو معلوم ہوا کہ مرسیڈیز بھارت India میں اس لئے تیار ہونے لگیں کہ کرپس بے چارہ پاکستان Pakistan کے ایک وزیر کے اعتراضات اور شرائط کی ایک نئی فائل دیکھ کر بھاگ نکلا اور جیسے ہی وہ پاکستان Pakistan سے بھاگا تو بھارت India نے اسے یہاں سے نکلتے ہی پکڑ لیا اور پھر اس نے اڑیسہ میں سٹیل مل لگائی۔ بھارت India میں کاروں، مشینری سمیت صنعتی ترقی میں اسی کرپس کا سب سے بڑا ہاتھ تھا۔ وہ وزیر تجارت جس نے کرپس کو پاکستان Pakistan سے بھگانے میں اہم کردار ادا کیا اس کو بطور انعام بعد میں یونیسکو کا ڈائریکٹر لگا دیا گیا۔ کرپس نے میکسیکو میں رولنگ ملیں، مصر میں پیپر ملز، ایران Iran میں فائونڈریز، یونان میں ریفائنریز، سوڈان میں ویجی ٹیبل آئل اور پراسیسنگ پلانٹس اور برازیل میں اپنی ذاتی سٹیل مل قائم کی اور پاکستان‘ جہاں اس نے سب سے پہلے قدم رکھا تھا‘ وہاں سے تائب ہو کر ایسا بھاگا کہ دوبارہ ادھر کا رخ ہی نہ کیا۔ کبھی کبھی خیال آتا ہے کہ اگر کرپس کو پاکستان Pakistan کے قیام کے ابتدا میں کام کرنے دیا جاتا تو آج ہم بھارت India اور خطے کے کئی ممالک سے کئی گنا زیا دہ ترقی کر چکے ہوتے۔

کہانی ختم ہوئی اور ایسے ختم ہوئی

کہ لوگ رونے لگے تالیاں بجاتے ہوئے

 180