کشمیر پر اب کیا کریں؟

بات یہ ہے - ارشاد محمود

19 اگست 2019

Kashmir par ab kiya karen

کشمیر کے حالات میں چودہ دن گزرنے کے باوجود ابھی تک کوئی بہتری نہیں آئی۔معاملات زندگی بحال ہونے میں ابھی وقت لگے گا ۔ کرفیو، گھروں میں مسلسل نظربندی اور فوجی محاصرے کی کیفیت نے یقینا لوگوں کے لیے بے پناہ مشکلات پیدا کر دی ہیں۔ کرفیو کا مقصد ان کی قوت مدافعت اور مزاحمت کو توڑنا تھا ۔انسانی مزاحمت اور برداشت کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔ پانچ اگست کو جو کچھ ہوا اس کا کسی نے کبھی تصور بھی نہیں کیاتھا۔ یہ کشمیریوں کے نزدیک نائن الیون کی طرح کا سانحہ ہے۔ اس سانحہ نے کشمیر میں سب کچھ بدل ڈالا اور سیاست، سماج اور سوچ وفکر کے دھارے تبدیل کردیئے۔ کشمیر کے تنازعہ کی حیثیت اور نوعیت اب ہمیشہ کے لیے بدل چکی ہے۔روایتی بیانیہ، سفارت کاری اور سیاسی جدوجہد میں تنوع لانے اور اسے عالمی ماحول سے ہم آہنگ بنانے کی پہلے سے زیادہ ضرورت ہے۔ سلامتی کونسل میں مسئلہ کشمیر Kashmir Issue کے پیش ہونے سے سفارتی کوششوں کا ایک دروازہ کھل گیا ہے ۔ روس Russia اور فرانس جیسے ممالک جن سے بھارت India کو توقع تھی کہ وہ کشمیر پر گفتگو ہی نہیں ہونے دیں گے نہ صرف سلامتی کونسل کے اجلاس میں شریک ہوئے بلکہ روس Russia نے نہایت ہی حوصلہ افزا طرزعمل اختیار کرکے دوستوں اور دشمنوں کو یکساںطورپر ورطہ حیرت میں مبتلاکیا۔ برطانیہ اور امریکہ United States بھی زبردست دباؤ میں تھے کہ ان کے میڈیا نے کشمیریوں پر گزرنے والی قیامت کی خوب منظر کشی کی۔ مغربی ذرائع ابلاغ نے پہلی بار کشمیریوں کے دکھ اور درد کی کہانی لکھنا شروع کی اور اسے محسوس بھی کیا جارہاہے۔ بھارت India نے تنازعہ کی بین الاقوامی اوردوطرفہ حیثیت کو ختم کرنے کی کوشش میں پاکستان Pakistan اور بھارت India ہی کے درمیان نہیں بلکہ کشمیریوں کے ساتھ ایک نہ ختم ہونے والی کشیدگی اور عداوت پیدا کرلی ہے۔ دو جوہر ی ملکوں کے درمیان جنگ کوئی آپشن نہیں بلکہ اس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ۔ اگرچہ بین الاقوامی قانون قابض افواج کے خلاف عسکری مزاحمت کی اجازت دیتاہے لیکن نائن الیون کے مابعد لگ بھگ پرتشدد کارروائیوں کے ذریعے سیاسی مقاصد کے حصول کی کوششوں کے لیے حمایت حاصل کرنا تقریباً محال ہے۔ کشمیری جو مقبوضہ کشمیر میں رہتے ہیں ان کے لیے عالمی فورمز پر آواز بلند کرنا اور دنیا کو متوجہ کرنا دن بدن مشکل بنادیا گیا ہے۔ چنانچہ پاکستان Pakistan اور آزادکشمیر کی حکومت اور بیرون ملک آباد کشمیریوں کو مل جل کرعالمی فورمز پر کشمیریوں کے حق خود ارادیت کے حق میں آواز بلند کرنا ہوگی۔ پاکستان Pakistan کی موجودہ حکومت میں کشمیر کے امور پر لابنگ اور عالمی مہم کی کمان فی الحا ل وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کے ہاتھ میں ہے جو بڑی محنت او رحکمت کے ساتھ اس مہم کو جاری رکھے ہوئے ہیں لیکن ضرورت اس امرکی ہے کہ نائب وزیرخارجہ کی سطح کا کوئی خصوصی نمائند ہ یا ایلچی مقرر کیا جائے جس کی توجہ کا مرکز صرف اور صرف کشمیر ہو اور وہ ہر طرح کے آپشن پر غور اور عمل کرنے کا مجاز ہو۔ حکومت آزادکشمیر کے قیام کا بنیادی مقصد بھی مسئلہ کشمیر Kashmir Issue ہی تھا لیکن وقت کے ساتھ ساتھ یہ حکومت روزمرہ کے کاموں میں کھو گئی اور اصل مقصد آنکھوں سے اوجھل ہوگیا۔ اب اس کے کردار کی بحالی کا بھی وقت آچکاہے۔ غیر روایتی سوالات اور مفروضوں پر بھی غور کرنے میں حرج نہیں۔ مثال کے طور پر قائد اعظم محمد علی جناح کے ساتھ برسوں تک خدمات سرانجام دینے والے مخلص اور ایثار کیش لیڈرکے ایچ خورشید کی تجویز تھی کہ آزادکشمیر حکومت کو تسلیم کیا جائے۔ خاکسار کی رائے ہے کہ بے شک اسے تسلیم نہ کیاجائے لیکن طالبان کی طرح اس حکومت یا حریت کانفرنس کو ’’دوحہ‘‘ میں سیکرٹریٹ قائم کرنے میں سہولت فراہم کی جائے تاکہ دنیا کشمیریوں کی کہانی کشمیری لیڈروں کی زبانی سن سکے۔ کشمیر پر پاکستان Pakistan کا بیانیہ عمومی طور پرجذبات اور مذہبی تصورات کے پس منظر میں تشکیل پاتاہے۔ وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی سے حال ہی میں ہونے والی ایک ملاقات میں عرض کیا کہ آپ نے کشمیر بنے کا پاکستان Pakistan کا نعرہ لگایا۔ یہ کشمیریوں کی بھاری اکثریت کے دل کی آواز ہے لیکن یہ نعرہ کشمیریوں کو خودلگانے دیں۔ پاکستان Pakistan کا آئین کہتاہے کہ جموں وکشمیر کے لوگ جب پاکستان Pakistan کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کریں تو پاکستان Pakistan اور جموں وکشمیر کی ریاست کے درمیان تعلقات کار کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق طے پائیں گے۔ اقوام متحدہ میں بھی پاکستان Pakistan کا یہی موقف رہا۔ امریکہ United States کے حالیہ دورے میں وزیراعظم عمران خان Imran Khan نے ایک سوال کے جواب میں دریا کو کوزے میں بند کرتے ہوئے کہا’’ یہ فیصلہ کشمیریوں نے کرنا ہے کہ وہ کیا چاہتے ہیں پاکستان Pakistan نے نہیں‘‘۔ چونکہ اگلے چند ماہ کے دوران کشمیر پر جاری لابنگ اور بحث ومباحثہ شدت پکڑتا نظر آرہاہے لہٰذا گفتگو میں یہ نکتہ مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ ممبئی یا پلوامہ Pulwama طرز کے حملے کا خطرہ بھی سروں پر منڈلا رہاہے۔اس کے ڈانڈے پاکستان Pakistan سے ملانا مشکل کام نہیں۔ خطرہ یہ ہے کہ اس طرح دنیا ایک بار پھر سرحدپار دہشت گردی اور عالمی جہادی نیٹ ورکس کے نام پر پاکستان Pakistan کو مطعون کرنے پر تل جائے گی اور کشمیر پس منظر میں چلا جائے گا۔ گزشتہ دوہفتوں کے دوران بھارت India کے سنجیدہ اور فہیم شخصیات کو بھارتی Indian ہ جنتاپارٹی کے حالیہ فیصلوں پر کڑی نکتہ چینی کرتے ہوئے پایا۔ انسانی حقوق کے کچھ علمبرداروں نے سری نگر کا دورہ بھی کیااور تہلکہ خیز انکشافات کیے کہ کس طرح لوگ فاقوں سے جاں بلب ہیں ۔بائیں بازور کے علاوہ بھارتی Indian لبرل دانشوروں اور صحافیوں نے بی جے پی BJP سے ایک بالکل مختلف اور کشمیر نواز لائن اختیار کی ہے۔ ان لوگوں کو بھارت India میں دیوار سے ساتھ لگایاجارہاہے ۔یہ وہ عناصر ہیں جو مثبت سیاسی فکر کے حامل ہیں۔ ان کے ساتھ مکالمہ بھی کیاجانا چاہیے اور ان کے جرأت مندانہ کردار کی تحسین بھی۔ آخری نقطہ یہ ہے کہ 35۔اے کی منسوخی سے کشمیریوں کی عددی اکثریت کے خاتمے کا اندیشہ اب حقیقت میں بدلتا نظر آرہاہے۔ یہ عالمی قوانین کی بھی خلاف ورزی ہے۔ بھارت India کے اندر سے بھی ایسی آوازیں اٹھی ہیں جنہوں نے کشمیرکو مستقبل میں فلسطین بننے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔یہ ایسا ایشوہے جس پر دنیا اور بالخصوص نامور مسلمان شخصیات کو متوجہ کرنا بہت ضرور ی ہے تاکہ کشمیر کو سپین یا فلسطین بننے سے محفوظ رکھا جاسکے۔

 155