خراب الہند من الصین (ہند کی تباہی چین China کے ہاتھوں)

حرف راز - اوریا مقبول جان

19 اگست 2019

Hind ki tabahi China kay hathon

آج سے صرف بیس سال قبل جو افراد، علمائے کرام اور جدیدیت میں جکڑے ہوئے مفکرین، قیامت کے قرب میں ہونے والی بڑی جنگوں کے بارے میں ابوابِ فتن میں موجود احادیث کی اسناد پر بحث کرتے تھے، کسی کو من گھڑت، کسی کو ضعیف اور کسی کو سیاسی مقاصد کے تحت تخلیق کردہ قرار دے کر مسترد کردیتے تھے، آج حیرت میں گم ہیں۔ کیونکہ انکے نظریہ علت و معلول (cause and effect) کے تحت اللہ نے یہ اسباب کی دنیا بنائی ہے، اس لیے جیسے حالات ہوں گے، ویسے ہی نتیجے برآمد ہوں گے۔ ان اصحاب اور ملحدین میں صرف ایک فرق ہے کہ ملحدین سرے سے خدا کے وجود کا انکار کر دیتے ہیں جبکہ انکا تصورِخدا اتنا محدود ہے کہ اس نے یہ دنیا تخلیق کی، اسے ایک قانون کے تابع کیا، پیغمبروں کے ذریعہ ہدایت بھیجی اور قیامت کی آمد کے انتظار تک وہ اب اسکے معاملات سے بے دخل ہو گیا ہے۔ اب جیسا لوگ یہاں کریں گے اسکا نتیجہ بھی ویسا ہی برآمد ہوگا۔ البتہ غلط اور صحیح عمل پر جزا و سزا آخرت میں دی جائے گی۔ لیکن اسلام کا اللہ سمیع و بصیر بھی ہے اور اپنے فیصلوں پر بھی قادر ہے۔ وہ آج بھی لوگوں کو اپنی طرف واپس لانے کے لیے آزمائش اور عذاب میں بھی ڈالتا ہے اور آزمانے کیلئے نعمتوں میں اضافہ بھی کرتا ہے۔ وہ ہر گھڑی لوگوں، قوموں اور گروہوں پر نظر رکھے ہوئے ہے اور انکے بارے میں مسلسل فیصلے بھی صادر فرماتا رہتا ہے۔ اسکے اسی حسنِ انتظام کا ایک بڑا حصہ وقت سے پہلے لوگوں کو ڈرانے (warnings) کا بھی ہے۔ وہ فرماتا ہے "اور اس بڑے عذاب سے پہلے بھی ہم انہیں کم درجے کے عذاب کا مزہ ضرور چکھائیں گے، شاید و باز آجائیں )السجدہ21: (۔ یعنی! قیامت سے پہلے وہ قوموں کے افعال دیکھ کر انہیں مختلف عذابوں سے جھنجوڑتا ہے تاکہ وہ باز آ جائیں۔ یہ اسکی لوگوں کی زندگیوں میں مسلسل براہ راست مداخلت (intervention) ہے۔ وہ پیغمبروں کے ذریعے ہدایت دینے کے بعد بھی ہمیں روز یہ دعا مانگنے کی تلقین کرتا ہے۔ "چلا ہمیں سیدھے راستے پر"( الفاتحہ)۔ یہی وجہ ہے کہ اختتام دنیا سے قبل چونکہ دنیا کے حالات اسقدر دگرگوں ہو جائیں گے کہ آدمی کا ہدایت پر قائم رہنا مشکل ہوگا۔ تو اسی مقصد کے لئے اللہ نے اپنے رسولوں کے ذریعے قیامت سے کچھ عرصہ قبل یعنی آخر الزماں کے بارے میں بہت تفصیل سے پیش گوئیاں عوام تک پہنچائیں۔ یہ پیشگوئیاں صرف سید الانبیاء ؐکی احادیث کی صورت میں نہیں ملتیں بلکہ تینوں ابراہیمی مذاہب کی کتب میں ایک بڑا حصہ قیامت کے قریب ہونے والے واقعات کے بارے میں موجود ہے۔ یہودیوں کے ہاں لیسعیاہ (Isaiah) کی کتاب اور دانیال کے مکاشفات اور عیسائیوں کے ہاں بھی ان دونوں پیغمبروں کی کتب کے عہد نامہ قدیم میں موجودگی کے علاوہ متی، بوایل اور مکاشفہ کے ابواب میں قیامت سے پہلے کے دور کے بارے کی مکمل تفصیل موجود ہے۔ بشارتیں، پیش گوئیاں اور جنگوں کا احوال ہے یہی وجہ ہے کہ یہودی بحیثیت قوم گذشتہ ایک سو سال پہلے یعنی 1920 ء سے ان پر یقین کر کے اس مقدس جگہ یعنی یروشلم میں جاکر آباد ہونا شروع ہوگئے تھے اور اب وہ ایک طاقتور اسرائیل کے طور پر ان پیشگوئیوں کی سچائی کی علامت بن چکے ہیں۔ جبکہ انہی گذشتہ سو سالوں میں مسلمانوں کے سامنے قرآن Quran میں اس علامت کا ذکر موجود تھا، فرمایا "اسکے بعد بنی اسرائیل سے کہا تم زمین میں بسو لیکن جب آخری وعدے کا وقت آئے گا تو ہم تم کو واپس اکٹھا کر دیں گے(بنی اسرائیل106:)۔ لیکن اس آیت کو عقلیت پرست، روز حشر سے منسلک کرتے رہے اور اللہ نے انکے سامنے ہی اسی بنی اسرائیل کو جسے کہا تھا "ہم نے تم کو مختلف علاقوں میں تقسیم کردیا(الاعراف164: )اپنے وعدے کے مطابق واپس یروشلم میں اکٹھا کر دکھایا۔ لیکن عقل و خرد کے پروانوں کو غیب پر یقین کی لذت بڑی مشکل سے ملتی ہے۔ غور کرو !کہ اب مصر سے لے کر برصغیر تک جو کچھ برپا ہے، جن خطوں میں قتل و غارت اور تباہی و بربادی ہے وہ پکار پکار کر بتارہے ہیں کہ دیکھو سب کچھ تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث میں بتائی گئی پیشگوئیوں کے عین مطابق ہو رہا ہے۔ شاید اب کسی کو احادیث کی سند ڈھونڈنے، راوی کے کردار اور نظریات پر بحث کرنے کی ضرورت ہی باقی نہیں رہی۔ آفتاب آمد دلیل آفتاب(سورج کا نکلنا ہی اس کی دلیل ہوتا ہے)۔ اس دلیلِ آفتاب پر پختہ ایمان ان یہودیوں کا ضرور ہے جو دنیا کے شاندار ملکوں کا عیش و آرام چھوڑ کر بے آب و گیاہ اسرائیل میں آکر آباد ہوئے ہیں۔ وہ اپنی مقدس کتب میں موجود ایک ایک پیشگوئی کی روشنی میں اپنے فیصلے کرتے ہیں۔چند دن پہلے، 9 اگست 2019 کو اسرائیل کے تمام اخبارات میں ایک ہیڈلائن تھی۔ جس میں ذکر تھا کہ ہیکل سلیمانی ’’Temple Mount ‘‘پر لومڑیوں کا نظر آنا اس پیشگوئی کی صداقت ہے کہ اب یہاں پھر ہیکل دوبارہ تعمیر ہوگایہ لومڑیاں یروشلم کی مغربی دیوار کے ساتھ گھومتی نظر آرہی ہیں۔ اسکا ذکر ان کی کتاب گریہ ’’Lamentations ‘‘کی آیت (5:18) میں ہے کہ "بابل کے لوگ ہیکل سلیمانی تباہ کر دینگے اور ایک دن اس میں لومڑیاں گھومیں گی"۔ یہ پیشگوئی پیغمبرحضرت اوریا کی ہے۔ جبکہ اس سے براہ راست متعلق دوسری پیشگوئی تالمود میں حضرت زکریا کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ" ایسا اگر ہوا تو ہیکل سلیمانی دوبارہ تعمیر ہوگا" (مکوت (24.B۔یہی وجہ ہے کہ گزشتہ ایک ہفتے سے اسرائیل میں ایک خوشی کی لہر دوڑی ہوئی ہے کہ اب ہیکل سلیمانی کی دوبارہ تعمیر ہونے والی ہے اور وہاں سے تخت دائود پر بیٹھ کر پوری دنیا پر حکومت کرنے کے دن قریب ہیں۔ یہ سب تو انکی کتابوں کے مطابق ویسا ہوتا جا رہا ہے اور رسول اللہ کی احادیث بھی بالکل اسکی نشاندہی کرتی ہیں۔ لیکن ایسا ہونے کے ساتھ ساتھ قرآن Quran یہودیوں کے لیے ایک وارننگ دیتا ہے "لیکن اگر تم وہی کام کرو گے تو تم کو تہس نہس کر کے رکھ دیں گے (بنی اسرائیل :8) اس تہس نہس کا سارا نقشہ رسول اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ترتیب سے بتا دیا جسکا آخری منظر یہ ہوگا کہ مسلمان یہودیوں کو قتل کریں گے یہاں تک پتھر اور درخت پکاریں گے کہ میرے پیچھے یہودی چھپا ہے اسے قتل کرو (مفہوم حدیث:مسلم، مشکوۃ)۔ دلیل آفتاب کی علامت ایک اور حدیث بھی ہے جسکی سند پر گذشتہ کئی سو سالوں سے بحث جاری ہے، لیکن آج وہ حدیث بھی روز روشن کی طرح واضح ہوتی جارہی ہے۔ یہ حدیث دورِ آخر میں ملکوں کی تباہی اور ہلاکت کے بارے میں ہے۔ لیکن اس سے پہلے قرآن Quran پاک کی پیشگوئی دیکھ لیں "اور کوئی قوم ایسی نہیں جسے ہم روز قیامت سے پہلے ہلاک نہ کریں یا اسے سخت عذاب نہ دیں، یہ بات کتاب میں لکھی جاچکی ہے(بنی اسرائیل :59) ، اس خرابی و تباہی اور عذاب کا تفصیلی تذکرہ دو احادیث میں ملتا ہے، ایک کے راوی حذیفہؓ بن یمان ہیں. جسے قرطبی اور نعیم بن حماد نے درج کیا ہے اور دوسری کے راوی وھبؓ بن منبہ ہیں جو السنن الواردفی الفتن میں موجود ہے۔ اس حدیث کے مطابق دنیا میں خرابی و تباہی پھیل جائے گی اور یہ اسوقت تک نہیں ہوگا جب تک مصر خراب نہ ہوگا، مصر تب خراب ہوگا جب بصرہ میں خرابی آئے گی اور بصرہ کی خرابی ،عراق Iraq کی خرابی سے شروع ہوگی۔ اسکے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خرابی کی وجوہات بتائیں جن میں مکہ ومدینہ کی خرابی بھوک سے ہوگی۔ اسی حدیث میں سندھ یعنی موجودہ پاکستان Pakistan اور ہند یعنی موجودہ بھارت، اور الصین یعنی موجودہ چین China کابھی ذکر ہے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سندھ کی خرابی ہند سے، اور ہند کی خرابی چین China سے۔ آج کے تناظر میں صرف اس حدیث کو سامنے رکھ کر حالات حاضرہ کا جائزہ لیں تو پورا منظر کھل کر سامنے آجاتا ہے۔ اس وقت بھارت India کے خلاف سیکورٹی کونسل میں سب سے توانا آواز چین China کی ہے جس نے اسے اپنے مفادات پر حملہ قرار دیا ہے۔ یہ تناؤ کہاں تک جائے گا، یقیناہند(بھارت) کی تباہی تک جائے گا۔ یعنی اس حدیث کے عین مطابق جس میں غزوہ ہند میں ہند کے بادشاہوں کو جکڑنے کا ذکر ہے، بھارت India پہلے ہی کئی حصوں میںتقسیم ہو جائے گا اور پھر غزوہ ہند کا آغاز ہو گا۔ سندھ (پاکستان) اور ہند (بھارت India کے درمیان ہونیوالی لڑائی کو بھی سامنے رکھیں جس میں تباہی ہی تباہی ہے اور پھر اس کے ساتھ ساتھ خراسان کے لشکر کا بیت المقدس میں جانا اور وہاں امام مہدی کی نصرت کرنا پھر وہاں سے جہاد ہند کے لیے لشکر روانہ کرنے کی روایت نظر میں ہو تو آنے والے دنوں کا نقشہ ترتیب دیا جا سکتا ہے۔ پاک بھارت India جنگ جسکے نتیجے میں خطے کا امن تباہ، چین China کی دخل اندازی، بھارت India کا حصوں میں بٹنا، یروشلم میں ہیکل سلیمانی کی تعمیر، خراسان سے فوج کا کمک کیلئے پہنچنا ، سیدنا مہدی کا اقتدار اور پھر ہند سے لڑنے کے لیے پاکستان Pakistan کی جانب فوج کی روانگی، اور دونوں کی مل کر غزوہ ہند میں شمولیت، ھند کی مکمل تباہی، اسکے خزانوں کو بیت المقدس تک لے جانا اور اس دوران سیدنا عیسی ؑ کا نزول۔احادیث سے ترتیب تو یہی لگتی ہے باقی اللہ بہتر جانتا ہے۔

 262