کشمیر دنیا کے سینٹر سٹیج پر

زیر بحث - عارف نظامی

19 اگست 2019

Kashmir dunya ka stage par

نصف صدی بعد مسئلہ کشمیر Kashmir Issue کا سلامتی کونسل میں زیر بحث آنا خود ایک مثبت پیش رفت ہے ۔اگرچہ سلامتی کونسل کے بند کمرے میں غیر رسمی اجلاس کے نتیجے میں یہ توقع رکھنا تو عبث تھا کہ وہاں کوئی باقاعد ہ اجلاس بلایا جائے گا ، جس کے ویٹو ہونے کا خطرہ بھی ہو سکتا تھا تاہم چین China کی آشیرباد اورعملی کا وشوں سے اجلاس کے انعقاد کے نتیجے میں مسئلہ کشمیر Kashmir Issue کی خصوصی اہمیت کے حوالے سے سلامتی کونسل کے پانچ مستقل اور 10غیر مستقل ارکان کو سیر حاصل بریفنگ دی گئی اور اس پر اتفاق رائے پایاگیا کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق پامال کیے جا رہے ہیں۔اس حوالے سے بھارت India پوری دھٹائی کے ساتھ مرغ کی ایک ٹانگ پر کھڑا رہا۔ اقوام متحدہ میں اس کے مستقل مندوب سید اکبرالد ین کو بعداز اجلاس ایک پریس بریفنگ میں صحافیوں کے کڑے سوالات کا سامنا کرنا پڑا ۔ موصوف کا اصرار تھا کہ آرٹیکل 370کی تنسیخ اورکشمیر بھا رت کا اندرونی معاملہ ہے ساتھ ہی شملہ معاہدہ کا حوالہ بھی دیا اس پر ایک صحافی نے سوال کیا کہ آپ تو مذاکرات کے لیے تیار ہی نہیں تو موصوف نے وہی گھسا پٹا جواب دیا کہ پہلے دہشت گردی بند کرو پھر بات چیت کریں گے ۔مسلمانوں سے نفرت کرنے والی بھارت India کی برسر اقتدار ہند وماتا پارٹی نے حالیہ انتخابات میں ایک بھی مسلمان کو ٹکٹ نہیں دیا تھا لیکن اس مسلم کش حکومت نے اقوام متحدہ میں ایک ’’ٹوکن‘‘ مسلم کو دانستہ طور پر مستقل مندوب لگایا ہوا ہے ۔ بھارت India کی باتیں اپنی جگہ لیکن اقوام متحدہ کی جانب سے اس مسئلے کا نوٹس لینے کا واضح مطلب ہے کہ کشمیر کئی دہائیوں کے بعد دنیا کے سینٹر سٹیج پر آ گیا ہے بین الاقوامی میڈیا میں ادارئیے اور بھارتی Indian مظالم کی داستانیں لکھی جا رہی ہیں ۔ بی بی سی اورسی این این جیسے ادارے بھی پیچھے نہیں۔ ماضی میں اگر بین الاقوامی سطح پر کشمیر کا ذکر ہوتا تھا تو وہاں پر ہونے والی نام نہاد دہشت گردی کے حوالے سے پاکستان Pakistan کے نام نہاد گھس بیٹھیوں کو مورد الزام ٹھہرانے کا کبھی کبھار ذکر آ جاتا تھا ۔ دنیا اور خود پاکستانی حکمران اس مسئلے کو دفن کر چکے تھے یہی وجہ تھی کہ وہ کمانڈو جرنیل جس نے ایک جمہوری حکومت پر شب خون مارکر دس سال تک حکومت کی جو بھارتی Indian وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کی لاہور آمد پر اس کے ساتھ ہاتھ ملانے کو تیار نہیں تھا اور بعدازاں’ کارگل کا ہیرو‘ بھی تھا بھارت India کے ساتھ کشمیر کی حتمی حیثیت طے کرنے کے لیے خفیہ بیک ڈور چینل مذاکرات کر رہا تھا اور وزیر خارجہ اور دفتر خارجہ کو اس پراسیس سے باہر رکھا گیا تھا ۔ اس وقت کے وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری اس فارمولے کا تفصیلی ذکر کر چکے ہیں جو پرویزمشرف کے پر نسپل سیکرٹری طارق عزیز اور بھارتی Indian نمائندے ایس کے لامبا(جو اسلام آباد Islamabad میں بھارتی Indian ہائی کمشنر بھی رہ چکے ہیں)کے درمیان بنکاک ،دبئی اور لندن میں خفیہ بات چیت چلتی رہی جو واجپائی کے بعد آنے والے وزیراعظم من موہن سنگھ کے دور میں بھی جاری رہی۔ فروری 2008ء میں موقر امریکی جریدے نیو یارکر میں اس بیک چینل ڈپلومیسی کی پوری داستان شائع ہوئی تھی ۔یہ بیل محض اس لیے منڈھے نہ چڑھ سکی کہ 2007ء میں پرویز مشرف کے ہاتھوں برطرف ہو نے والے چیف جسٹس آف پاکستان Pakistan افتخار محمد چودھری کی بحالی کے لیے وکلا کی تحریک سے ان کے اقتدار کا سنگھاسن ڈولنا شروع ہو گیا تھا۔ شاید اسی بنا پر اس وقت کے آمر مطلق کو اپنے بنائے ہوئے اس فارمولے جس کے تحت ’ادھر ہم اُدھرتم ‘ کے تحت آزاد کشمیر پاکستان Pakistan کے پاس اور مقبوضہ کشمیر بھارت India کے پاس رہنا تھا اور لائن آف کنٹرول کو سافٹ بارڈر قرار دے کر چند امور مرکز کے پاس رکھ کر ان علاقوں کو مکمل خود مختاری دے دینا تھا ۔ اگر اس وقت کشمیر کی بندر بانٹ ہو جاتی تو آزادی کے لیے بے بہا قربانیاں دینے والے کشمیری عوام کبھی ہمیں معاف نہ کرتے۔آج کے ماحول میں نام نہاد لبرل لابیوں سمیت کوئی شخص تصور بھی نہیں کر سکتا کہ اس قسم کی سودے بازی کو روا رکھا جائے جو کشمیریوں کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کے مترادف تھی ۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے سکیورٹی کو نسل کے غیر رسمی اجلاس کے بعد لمبی چوڑی پریس کانفرنس کی جس میں انھوں نے بین الاقوامی میڈیا سمیت سب کا شکریہ ادا کیا ۔کیا ہی اچھا ہوتا کہ اسلام آباد Islamabad میں بیٹھ کر کریڈٹ لینے کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ میں پاکستان Pakistan کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی کی کاوشوں کا بھی ذکر کر دیتے ۔ ویسے بھی قریشی صاحب یقینا منجھے ہوئے سیاستدان ہیں لیکن انہیں اس حوالے سے محض سیاست نہیں کرنی چاہیے ۔وزیراعظم عمران خان Imran Khan کی طرف سے عسکری اور سویلین قیادت کے ہفتے کے روز ہونے والے اجلاس میں اپوزیشن کے سینیٹر مشاہد حسین سید اور سید نوید قمر کو شریک کرنا مثبت قدم ہے ۔ خصوصی کمیٹی برائے کشمیر کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے حقیقت پسندانہ بات کی کہ سلامتی کونسل کا معرکہ سر کر لیا ہے ،یہ ایک لمبی لڑائی ہے جسے کئی محاذوں پر لڑنا ہے ۔ ان کے ساتھ پریس کانفرنس میں بیٹھے ہوئے ڈی جی، آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہاکہ موجودہ ماحول میں بھارت India کسی دہشت گردی کا سوانگ رچا کر کوئی کمینی کارروائی کر سکتا ہے ۔انھوں نے واضح کیا سرحدی خلاف ورزی ہوئی تو بھارت India کو زبردست سرپرائز دیں گے،ہماری تیاریاں مکمل ہیں،نئی دہلی آزاد کشمیر پر قبضے کا خواب نہ دیکھے اب مقبوضہ کشمیر پر بھارتی Indian قبضہ چھڑانے کا وقت آ گیا ہے ۔ کشمیر کے لیے آخری گولی اور آخری فوجی تک لڑیں گے ۔ چند روز پہلے بھارتی Indian وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے ایٹمی ہتھیار استعمال کر نے کی ملفوف دھمکی دی تھی ۔ اس ضمن میں وزیراعظم کو اپنے وزراء کو ہدایت کرنی چاہیے کہ وہ غیر ذمہ دارانہ بیان بازی سے گریز کریں ۔وزیر سائنس وٹیکنالوجی کا حالیہ ٹویٹ کہ جنگ ہوئی تو سب کچھ تباہ ہو جائے گا اور اس کی تپش دنیا کا ہر دارلحکومت محسوس کرے گا ،اسی زمرے میں آتی ہے ۔اس سارے بحران میں ہمارے وزیر دفاع پرویز خٹک کہاں ہے ؟۔ ان کی تلاش کے لیے اشتہار دینا پڑے گا ۔ اقوام متحدہ کے اجلاس سے یہ احساس ہوا ہے کہ ڈپلومیسی ہی اس کا واحد حل ہے لہٰذا اپوزیشن کو بھی آن بورڈ لیا جائے ۔ یہ تو نہیں کہا جاسکتا کہ احتساب کا عمل روک دیا جائے لیکن اس حوالے سے انتقامی کارروائیاں بند کر دینی چاہئیں ۔ اپوزیشن رہنماؤں کی گرفتاری سے جیل بھرنے کے بجائے نیب ان کو باہر رکھ کر بھی انکوائر ی کر سکتی ہے ۔ لیکن اگر گرفتاریوں کا اصل مقصد کچھ اپوزیشن رہنماؤں کو پابند سلاسل کر کے سیا سی منظر سے ہٹانا ہے تو پھر اور بات ہے حالانکہ سیاستدانوں اور میڈیا کی تنقیدکو خندہ پیشانی سے برداشت کر کے تحمل سے سیاسی طور پر نبٹنا چاہیے نہ کہ انتظامی ہتھکنڈے استعمال کر کے۔ کشمیریوں کی تحریک مزاحمت عروج پر ہے ،گزشتہ روز’’ الجزیرہ‘‘ ٹی وی میں پاکستان Pakistan میں میڈیا پر پابندیوں کے بارے میں تفصیلی رپورٹ آئی ہے جس کے مندرجا ت سے اختلاف نہیںکیا جا سکتا۔ شاہ محمود قریشی مقبوضہ کشمیر میں میڈیا پر پابندیوں کا رونا رو رہے تھے اور مغربی میڈیا کی کشمیریوں کی حمایت پر تعریف کر رہے تھے ۔لیکن کیا وقت نہیں آ گیا کہ پاکستانی میڈیا پر ایسی پابندیاں جن کی کوئی بھی فریق اونر شپ لینے کو تیار نہیں ہے کو ختم کر دیا جائے ۔وزیراعظم عمران خان Imran Khan نے امریکی صدر ٹرمپ کو فون کر کے کشمیر میں ہونے والے مظالم سے آگاہ کیا لیکن ٹرمپ کا جواب یہی تھا کہ بات چیت کریں لیکن بات چیت کس سے ؟۔اب تو بھارت India کے نزدیک کشمیر متنازعہ مسئلہ رہا ہی نہیں بلکہ ان کا اندرونی معاملہ ہے۔ دوسری طرف اقوام متحدہ جس میں روس Russia کی نا ئب مستقل نمائندہ دمتری پلیانسکی کا کہنا ہے کہ کشمیر کا مسئلہ سیاسی اور سفارتی طریقے سے شملہ معاہدے ،اعلان لاہور اور اس ضمن میں اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کی روشنی میں حل کرنا چاہیے ۔ یہ بھی ایک مثبت پیش رفت ہے ہمیں چین China اور امریکہ United States کے علاوہ روس Russia کو بھی انگیج کرنا چاہیے نیز وزیراعظم اور وزیر خارجہ نے بجا طور پر عرب ممالک کی بے حسی کا گلہ کیا ہے ۔ایک رپورٹ کے مطابق خلیجی ممالک کی بھارت India کے ساتھ ایک سو ارب ڈالر billion dollor کی سالانہ تجارت ہے ۔ اس بنا پر ہمیں ترکی کے علاوہ اپنے ہمسائے ایران Iran کے ساتھ بھی سلسلہ جنبانی بڑھانا چاہیے ۔ اگر امریکہ United States اپنے سٹرٹیجک مفادات کی خاطر بھارت India کو گود میں بٹھا سکتا ہے تو ہمیں بھی واشنگٹن کے ڈر سے ایران Iran کو نہیں دھتکارنا چاہیے ۔

 133