امریکہ United States ‘ معاہدہ اوسلو اور کشمیر

ریڈ زون سے - کنور دلشاد

18 اگست 2019

American Agreement

برطانیہ کے 46 ارکانِ پارلیمنٹ نے اقوام متحدہ پر پاک بھارت India کشیدگی کم کرانے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ملک جنگ کی طرف جا رہے ہیں‘ کشیدگی کم کرنے کے لیے اختیارات کا استعمال کیا جائے۔ خط میں ہاؤس آف کامنز کے ارکان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل سکیورٹی کونسل کی توجہ عالمی امن کو لاحق خطرے کی جانب مبذول کرائیں کیونکہ پاکستان Pakistan اور بھارت India کے درمیان کئی ماہ سے جاری اختلافات ایک جنگ کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ دوسری طرف پاکستان Pakistan اور بھارت India کے دانشور سنجیدگی سے سوچ رہے ہیں کہ کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ کشمیریوں کی مرضی سے ہونا چاہیے تاکہ جو ایشو آج پاکستان Pakistan اور بھارت India کے درمیان ایک خندق بنا ہوا ہے‘ وہ ایک پُل بن جائے۔ کشمیر کا مسئلہ حل ہو جائے تو پورا جنوبی ایشیا دنیا کا انتہائی مالدار اور سب سے زیادہ خوشحال خطہ بن سکتا ہے۔ اس کے لیے کامیاب مذاکرات کے ذریعے کشمیر کا مسئلہ حل کرنا ناگزیر ہوگا۔ حقیقت یہ ہے کہ مسئلہ صرف نیت اور قوت فیصلہ کا ہے۔ جب بھارت India کی قیادت میں قوتِ فیصلہ آ جائے گی اور اس کی نیت کا فتور ختم ہو جائے گا تو یہ مسئلہ آن کی آن میں حل ہوجائے گا۔ موجودہ بین الاقوامی تناظر میں کشمیر کا مسئلہ انصاف کے اصولوں کے عین مطابق حل ہو جانے کے قریب ہے‘ اور جب بھی ایسا ہو گیا تو دونوں ممالک کے درمیان نفرت کا خلا ختم ہو جائے گا کیونکہ ابھی تک جو ایک بڑی رکاوٹ ہے‘ وہ کشمیر کا مسئلہ ہے۔ یہ مسئلہ پاکستان Pakistan اور ہندوستان کو ایک دوسرے کے قریب نہیں آنے دیتا۔ یہی مسئلہ برصغیر میں پائیدار امن کے قیام کی راہ میں رکاوٹ ہے۔

جموں و کشمیر Kashmir اور لداخ کو بھارتی Indian یونین میں مدغم کرنے کی مذموم کوشش کشمیر کے نوجوان کو انتہا پسندی کی جانب راغب کرنے کا موجب بن رہی ہے۔ سچائی یہ ہے کہ زیادہ تر حریت لیڈروں کے خلاف فوجی کارروائی ہو رہی ہے جس کے سبب وہ بھارتی Indian حکومت پر اعتبار نہیں کرتے۔ پاکستان Pakistan میں شدت پسند ی پر بڑی حد تک قابو پا لیا گیا ہے۔ پاکستان Pakistan کی موجودہ حکومت دنیا کی جانب سے مختلف نظر سے دیکھتی ہے۔ وزیر اعظم Prime Minister عمران خان Imran Khan ایک ریٹائرڈ کرکٹر ہیں اور کھلاڑی کا نظریہ بنیادی طور پر امن پسندی کا ہوتا ہے۔ ان کے ردعمل سے یہی عیاں ہوا ہے۔ اس لیے پاکستان Pakistan اور ہندوستان کی حکومتیں آج مسئلہ کشمیر Kashmir Issue کا حل نکالنے کی جس بہتر پوزیشن میں ہیں‘ ایسا پہلے شاید کبھی نہ تھا۔ مسئلہ کشمیر Kashmir Issue انسانیت‘ جمہوریت اور کشمیریت کے دائرے میں حل ہونا چاہیے۔ ہندوستان کے ماضی کے رہنماؤں پنڈت جواہر لعل نہرو، پی وی نرسمہا راؤ اور اٹل بہاری واجپائی کے فارمولوں کو بھی منظر عام پر لانے کی ضرورت ہے‘ کیونکہ نرسمہا رائو نے یہ بھی کہا تھا کہ جہاں تک کشمیریوں کی خود مختاری کا سوال ہے تو اس کی حد آسمان تک ہے۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ یہ مسئلہ پاکستان Pakistan ہندوستان اور کشمیری عوام کی گفت و شنید کا متقاضی ہے اور اس گفت و شنید کی حد بہت وسیع ہونی چاہیے۔

مقبوضہ کشمیر کے بارے میں بھارت India کے اقدامات کے بعد پاکستان Pakistan کی سیاسی اور عسکری قیادت کو مکمل اتفاق رائے کے تحت حکمت عملی مرتب کرنے کی ضرورت ہے۔ وزیر اعظم Prime Minister عمران خان Imran Khan کو سنگین اقتصادی اور سیاسی چیلنجز کا سامنا ہے اور کابینہ کے بعض وزرا وزیر اعظم Prime Minister کے لیے مسائل پیدا کر رہے ہیں؛ چنانچہ میرے خیال میں انہیں اپنی مشاورتی ٹیم میں اہم تبدیلیاں لانا ہوںگی ‘ چاہے اس کے لئے کچھ وزرا کی ناراضگی ہی کیوں نہ مول لینا پڑے۔

پاکستان Pakistan کو اقوام متحدہ، برطانیہ‘ چین‘ سعودی عرب Saudi Arabia ‘ ترکی اور امریکہ United States سے سفارتی طور پر حوصلہ افزا جواب ملا ہے۔ یہ محض سفارتی آداب کا حصہ ہے۔ پاکستان Pakistan ایسی ہی خوش فہمیوں میں مشرقی پاکستان Pakistan سے ہاتھ دھو بیٹھا تھا۔ 13 دسمبر 1971 کی رات تک یہی ممالک پاکستان Pakistan کی حمایت میں پیغامات بھجوا رہے تھے اور 16 دسمبر کو سقوط مشرقی پاکستان Pakistan کا عظیم سانحہ پیش آ گیا۔ ان حالات میں پاکستان Pakistan کی وزارت خارجہ حالات کا رخ کس طرح ہمارے حق میں کرانے کی صلاحیت رکھتی ہے یہ ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ نریندر مودی narendra modi کا اقدام وزیر اعظم Prime Minister عمران خان Imran Khan کے دورۂ امریکہ United States کے چند دنوں بعد ہی سامنے آیا جب ٹرمپ نے کشمیر پر امریکی ثالثی کے لئے بھارتی Indian وزیر اعظم Prime Minister مودی کی خفیہ خواہش کی طرف اشارہ کیا۔ صدر ٹرمپ کو اندازہ تھا کہ بھارت India امریکی پیشکش کو تسلیم نہیں کرے گا کیونکہ اس کا بھی یہی موقف رہا ہے کہ مسئلہ کشمیر Kashmir Issue شملہ معاہدہ کے تحت مذاکرات سے حل ہو گا۔

قوم کو یہ باور کرایا جا رہا ہے کہ صدر ٹرمپ نے پاکستان Pakistan کی تاریخ میں پہلی بار ثالثی کردار کی پیشکش کی ہے۔ حقیقت یہ ہے انیس سو ساٹھ سے انیس سو چوہتر تک بھارت India نے جمہوریہ مصر کے صدر کرنل جمال عبدالناصر اور امریکی صدر کینیڈی سمیت دیگر اہم بین الاقوامی شخصیات کی ثالثی کی پیشکش کو مسترد کیا تھا۔ پہلے پاک بھارت India جنگ 1965، 1971‘ پھر کارگل کی جنگ 1999 اور اب چوتھی جنگ تیار ہے۔ مارچ 1965 میں ہندوستان کی پارلیمنٹ نے کشمیر کو بھارت India کا ایک صوبہ قرار دینے کا بل منظور کیا تھا اور جموں و کشمیر Kashmir میں ایک گورنر کا تقرر کرنے کا بل منظور ہوا تھا۔ بھارت India کے اپنے نمائندے پی کے دھر، ایس پی اگروال اور ایس آر بخشی نے سلامتی کونسل میں تحریری طور پر بتایا کہ بھارت India کسی بھی حالت میں کشمیر میں اقوام متحدہ کی تجویز کردہ رائے شماری کے انعقاد پر راضی نہیں ہو گا۔

امریکی صدر ٹرمپ اگر ثالثی کے کردار کے لیے آگے بڑھنا چاہتے ہیں اور خطے میں افغانستان Afghanistan سے برما تک امن و امان کے خواہاں ہیں تو انہیں عراق Iraq کی طرز پر بھارت India کے خلاف آپریشن کرنا ہو گا کیونکہ بھارت India کی جارحیت کی پالیسی کی وجہ سے محض اس خطے کا نہیں بلکہ پوری دنیا کا امن خطرے میں پڑ گیا ہے۔ کیا عالمی طاقتوں کو احساس ہے کہ بھارت India بین الاقوامی برادری کو دھوکا دیتا رہا ہے اور دھوکا دہی سے ہی اس نے کشمیر پر مکمل طور پر قبضہ کرکے اسے حیدر آباد اور جونا گڑھ کی طرح بھارتی Indian یونین میں شامل کر لیا ہے جبکہ اقوام متحدہ کے چارٹر نے حق خود ارادیت کو بین الاقوامی قوانین کے ایجنڈے میں رکھا ہے۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے سفارتی زبان میں کشمیر کو بھارت India کا ذاتی اور داخلی معاملہ قرار دے کر بین الاقوامی مذاکرات کے دروازے بند کر دیے ہیں۔ روس Russia نے بھی پاکستان Pakistan اور بھارت India کے کشمیر پر اختلافات کو شملہ معاہدہ اور اعلانِ لاہور کے مطابق طے کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ روس Russia کا کہنا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کی حیثیت میں تبدیلی کا اقدام بھارتی Indian آئین کے تحت کیا گیا ہے‘ سرحدی اختلافات کا خاتمہ سیاسی اور سفارتی بنیادوں پر کریں۔

عمران خان Imran Khan صاحب کی مضبوط خارجہ پالیسی کی بنا پر پچاس سال بعد کشمیر کے انتہائی اہم ایشوز پر جمعہ کے روز اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس ہوا ہے جس میں کونسل کے رکن ممالک نے مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ بین الاقوامی قوانین کے ماہرین نے کشمیر کا مسئلہ بین الاقوامی عدالت میں پہنچانے کا مشورہ دے کر اپنی نا اہلیت کا ثبوت دیا ہے۔ 1948 میں یہ فیصلہ ہوگیا تھا کہ دولت مشترکہ کا کوئی بھی رکن اپنے سیاسی معاملات کو بین الاقوامی عدالت میں لے جانے کا استحقاق نہیں رکھتا‘ اور پنڈت جواہر لعل نہرو نے مسئلہ کشمیر Kashmir Issue بار ے بین الاقوامی عدالت میں جانے کی راہ مسدود کر دی تھی۔

مجھے یہ نظر آ رہا ہے کہ امریکہ United States بھارت India سے درپردہ سازش کرکے کیمپ ڈیوڈ اور اوسلو معاہدات کی طرز پر کشمیر کا مسئلہ حل کرنے کی کوشش کرے گا۔ کیمپ ڈیوڈ معاہدے کے ذریعے صدر انوار سادات صحرائے سینا کا تیس ہزار مربع میل علاقہ واپس لینے میں کامیاب ہوئے تھے اور اوسلو معاہدہ کے تحت یاسر عرفات نام نہاد فلسطینی اتھارٹی کے قیام پر رضا مند ہوگئے تھے۔ بین الاقوامی تناظر میں کشمیر تین حصوں میں تقسیم نظر آتا ہے: مقبوضہ کشمیر‘ لداخ اور آزاد جموں و کشمیر‘ بلتستان گلگت۔ آئندہ کی پیشرفت یہی ہونی چاہیے کہ پاکستان Pakistan بھی آزاد جموں و کشمیر Kashmir اور گلگت بلتستان کو اپنا صوبہ قرار دے کر آئین کے آرٹیکل 257 کے مطابق کارروائی کرے کیونکہ بین الاقوامی اداروں نے کشمیر کو فلسطین بنا دیا ہے۔

 59