ظلم پھر ظلم ہے

طلوع - ارشاد احمد عارف

18 اگست 2019

Zulam phir Zulam hai

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس ہو گیا۔ پچاس سال سے سلامتی کونسل نے کشمیریوں کی خبر لی نہ ہم نے عالمی ادارے اور بین الاقوامی ضمیر کو جگانے کی سعی کی‘ حکومت نے نامساعد حالات میں جرأت مندانہ فیصلہ کیا‘ نتائج سے بے پروا ہو کر سلامتی کونسل کا دروازہ کھٹکھٹایا‘ مستقل رکن چین China نے مدد کی تو مسئلہ کشمیر Kashmir Issue زیر بحث آ گیا دیر آید درست آید ؎ دیرلگی آنے میں تم کو شکر ہے پھر بھی آئے تو آس نے دل کا ساتھ نہ چھوڑا ‘ویسے ہم گھبرائے تو کھٹکا سب کو لگا تھا کہ بھارت India شائد اپنی جارحانہ سفارت کاری‘ روس Russia ‘ امریکہ United States ‘ فرانس سے دوطرفہ مضبوط تجارتی و اقتصادی روابط کا فائدہ اٹھا کر یہ اجلاس ہونے نہ دے‘ روس Russia بھارت India کا پرانا سیاسی اور فوجی حلیف ہے ‘بھارت India فرانسیسی اسلحے کا خریدار اور امریکہ United States اسرائیل‘ بھارت India گٹھ جوڑ میں حصہ دار۔ پاکستان Pakistan کی دال کون گلنے دے گا ‘مگر سارے اندیشے‘ قیاس آرائیاں اور افواہیں نقش برآب۔ بھارتی Indian مندوب اکبر الدین کی پریس بریفنگ سن کر اطمینان ہوا کہ چینی مندوب‘ پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور اقوام متحدہ میں ہماری مستقل مندوب ملیحہ لودھی نے جو کہا‘ سچ تھا ورنہ اکبر الدین جھٹلانے کی کوشش ضرور کرتا۔ یہ مگر ہماری منزل نہ تھی۔ جب اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں یہ مسئلہ ہر سال اٹھتا‘ بحث ہوتی اور قرار دادیں منظور کی جاتی تھیں‘ تب کشمیری عوام کے درد کا درماں نہ ہوا تو اب یہ امید کوئی احمق ہی کر سکتا ہے کہ ایک مشاورتی اجلاس سے ڈر کر بھارت India نولاکھ فوج واپس بلانے پر مجبور ہو گا۔ کشمیریوں کو حق خود ارادیت دلوانے‘ آزاد کشمیر کو بھارت India کی للچائی نظروں اور اپنے آپ کوریشہ دوانیوں و جارحیت سے بچانے کے لئے جو بھی کرنا ہے ہمیں خود کرنا ہے۔ عمران خان Imran Khan نے مہذب دنیا کے سامنے مودی اور بھارتی Indian ہ جنتا پارٹی کا فسطائی ‘ نسل پرست چہرہ بے نقاب کیا۔ یہ توفیق ماضی میں میاں نواز شریف Nawaz Sharif اور آصف علی زرداری کو کبھی نہ ہوئی۔ گجرات میں فسادات 2002ء میں ہوئے اور بھارتی Indian حکمران کوگجرات کے قصائی کا خطاب اسی دور میں ملا مگر بلاول بھٹو Bilawal Bhutto اور میاں شہباز شریف Shehbaz Sharif کی رگ حمیت 2019ء میں پھڑکی‘ عمران خان Imran Khan بھی 2019ء کے انتخابات تک مودی کے بارے میں حسن ظن کا شکار رہا لیکن مودی مذاکرات کی میز پر آیا نہ مسلم کش پالیسیوں سے دست بردار ہوا تو وزیر اعظم Prime Minister نے اپنی تقریروں اور ٹویٹس میں وہ سب کچھ کہا جو ایک غیرت مند پاکستانی حکمران کوزیبا تھا۔ عمران خان Imran Khan اور شاہ محمود قریشی نے شائد اب تک عالمی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے نمائندے Ross Colvinکا مشہور زمانہ انٹرویو نہیں پڑھا جس میں رائٹرز کے نمائندے نے مودی سے سوال کیا کہ گجرات کے فسادات پر جس میں ہزاروں مسلمان درندگی کا نشانہ بنے‘ قتل ہوئے ‘آپ کو افسوس ہے نریندر مودی narendra modi نے جواب دیا’’جب آپ گاڑی چلا رہے ہوں‘ یا کوئی گاڑی چلا رہا ہو اور آپ اس کے ساتھ محو سفر ہوں‘ کتے کا پلا اچانک گاڑی کے نیچے آ کر مارا جائے تو گجرات کے چیف منسٹر نہیں ایک انسان کے طور پر افسوس تو ہو گا‘‘ ہزاروں مسلمان مرد و خواتین کی ہندو بلوائیوں‘ گجرات پولیس اور آر ایس ایس RSS کے غنڈوں کے ہاتھوں شہادت کو ایک کُتے کے پلے کی موت سے تشبیہ دینے والے بھارتی Indian وزیر اعظم Prime Minister کی تنگ نظری سنگ دلی اور نفرت کو ہم 5اگست سے قبل انسانی حقوق‘ شہری آزادی کے علمبردار ممالک اور انسانیت کو دنیا کا سب سے بڑا مذہب قرار دینے والے امریکہ United States و یورپ کے دانشوروں کو سامنے اجاگر نہیں کر سکے تو قصور ہمارا ہے لیکن ماضی کی سینہ کوبی کی بجائے اب بھی وقت ہے کہ ہم سیاسی اور سفارتی محاذ پر پیش قدمی جاری رکھیں اور جو کامیابی گزشتہ روز ہوئی اسے آخری سمجھ کر بیٹھ رہنے کے بجائے مزید آگے بڑھیں۔ پاکستان Pakistan میں مسئلہ کشمیر Kashmir Issue کی حد تک سیاسی اتفاق رائے موجود ہے‘ اسفند یار ولی ‘ محمود اچکزئی اور اس فکر کے لوگوں کو آج تک کشمیری عوام پر بھارتی Indian مظالم کی مذمت کی توفیق ہوئی نہ ان میں سے کسی نے جھوٹے منہ ہی سہی حکومت اور فوج کو تعاون کا یقین دلایا۔ بلاول بھٹو Bilawal Bhutto اور میاں شہباز شریف Shehbaz Sharif البتہ نریندر مودی narendra modi کے اقدامات کی مخالفت میں پیش پیش ہیں عوامی سطح پر مگر پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ تحریک انصاف کی طرح متحرک ہیں نہ پرجوش۔ تحریک انصاف بھی بطور جماعت اپنا فرض حکمران جماعت کے طور پر ادا نہیں کر رہی‘ عوام کے جذبات کی نچلی سطح پر ترجمانی ہو رہی ہے نہ انہیں ناگہانی خطرات سے آگاہ کرنے کی شعوری کوشش‘ عمران خان‘ شاہ محمود قریشی‘ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان‘ چودھری محمد سرور اور زلفی بخاری کے سوا تحریک انصاف کا کون سا دوسرا لیڈر متحرک ہے؟ میڈیا سے کس کا رابطہ ہے؟ اور ضلع و تحصیل کی سطح پر عوام کو چوکس و بیدار ‘ پرامن اجتماعات کے ذریعے عالمی رائے عامہ کو متاثر کرنے اور کشمیری عوام و پاک فوج Pakistan Army کا حوصلہ بڑھانے کے لئے سرگرم نظر آتی ہے؟ مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کے رہنما ‘ کارکن تو میاں نواز شریف Nawaz Sharif ‘ مریم نواز‘ آصف علی زرداری فریال تالپور کی گرفتاری پر مغموم‘ سوگوار اور پریشان ہیں‘ حکومت اور فوج دونوں پر برہم ہیں‘ کچھ تو مودی کے ہمنوا کہ وہی عمران خان Imran Khan اور جنرل قمر جاوید باجوہ General Qamar Javeed Bajwa کا دبائو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے لیکن تحریک انصاف کے کارکنوں اور مداحوں کو بھی کہیں سے ڈائریکشن نہیں مل رہی۔ اعلیٰ سطحی اجلاس کے بعد وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے پریس کانفرنس میں ایک ایکشن پلان کا مژدہ سنایا جو جموں و کشمیر Kashmir کی آزادی اور بھارت India کی متوقع جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لئے تشکیل دیا گیا‘ ایکشن پلان کے خدوخال فی الوقت واضح نہیں لیکن امید یہی ہے کہ قومی امنگوں اور دفاع و سلامتی کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہوں گے۔ 5اگست سے اب تک حکومت اور فوج دونوں قومی توقعات کے مطابق آگے بڑھ رہے ہیں۔ عسکری اور سفارتی دونوں محاذوں پر حوصلہ افزا پیش رفت جاری ہے منفی اذہان کا یہ پروپیگنڈہ اپنی موت آپ مر گیا کہ عمران خان Imran Khan اور جنرل قمر جاوید باجوہ General Qamar Javeed Bajwa دورہ امریکہ United States میں مسئلہ کشمیر Kashmir Issue کا سودا کر آئے‘ صرف کشمیر ہی نہیں پاکستانی عوام کو بھی طویل عرصے بعد عمران خان Imran Khan کی شکل میں ایک ایسا وکیل دستیاب ہے جو الفاظ چبائے بغیر عالمی برادری کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرتا اور قومی مفاد کو آگے بڑھاتا ہے۔ ریاست مدینہ جس کا رول ماڈل ہے اور پاکستان Pakistan کا وقار جسے عزیز ۔ جو احمق ایک سال سے مسلسل ایک ہی رٹ لگائے جا رہے تھے کہ میاں نواز شریف Nawaz Sharif کو اقتدار سے نکال کر پاکستان Pakistan نے اپنے آپ کو سفارتی تنہائی اور معاشی مشکلات کی دلدل میں دھکیل دیا وہ خفیف ہیں‘ پٹھانکوٹ واقعہ پر میاں نواز شریف Nawaz Sharif اور پلوامہ Pulwama پر عمران خان Imran Khan کے ردعمل میں زمین و آسمان کا فرق اگر عقل کے اندھوں کو نظر نہ آئے تو آدمی کیا کرے ع دیدہ کور کو کیا آئے نظر کیا دیکھے سلامتی کونسل کے پندرہ میں سے بارہ ارکان کھلا اجلاس بلانے کے حق میں ہیں جو پاکستان Pakistan اور چین China کی بڑی کامیابی ہے۔ آزاد کشمیر میں محدود مداخلت اور پلوامہ Pulwama جیسے کسی واقعہ کی آڑ میں پاکستان Pakistan کو بدنام کرنے کی بھارتی Indian حکمت عملی کا توڑ صرف فوج اور حکومت کی ذمہ داری نہیں پوری قوم کا فرض ہے لیکن کوئی قوم کو آواز دے تو؟ عمران خان Imran Khan کے ساتھیوں‘ تحریک انصاف کے عہدیداروں اور مخلص کارکنوں کو یہ کام قومی جذبے سے کرنا چاہیے۔ ماضی کی حکومتوں نے مسئلہ کشمیر Kashmir Issue کو فوج اور جماعت اسلامی کا ایشو سمجھا‘ قومی جرم کی مرتکب ہوئیں تحریک انصاف کی حکومت نے اونر شپ دی اور نتائج کی پروا کئے بغیر عالمی برادری سے رجوع کیا‘ نتیجہ سب کے سامنے ہے۔ سالار والا کے بزرگ حضرت صوفی برکت علی رحمتہ اللہ علیہ نے ایک موقع پر فرمایا تھا ’’وہ دن دور نہیں جب پاکستان Pakistan کی ہاں اور نہ میں اقوام عالم کے فیصلے ہوا کریں گے‘‘ جبکہ روحانی سکالر سید سرفراز اے شاہ برسوں سے ایک ایسی پاک بھارت India جنگ کا خدشہ ظاہر کر رہے ہیں جس میں ’’تباہی تو بہت ہو گی مگر سرخرو انشاء اللہ پاکستان Pakistan ہو گا‘‘ جموں و کشمیر Kashmir میں جس روزکرفیو کا خاتمہ ہوا اورلوگوں کو باہر نکلنے کا موقع ملا‘ آزادی کے خواہش مند کشمیری عوام اقوام عالم کو اپنے جذبات و احساسات سے آگاہ کریں گے۔ مودی کی نولاکھ فوج آج تک جبر اور ظلم سے آزادی کے متوالوں کو نہیں دبا سکی تو آئندہ کب تک؟ ؎ ظلم پھر ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے خون پھر خون ہے ٹپکے گا تو جم جائیگا

 88