خیر اور شر

نا تمام - ہارون الرشید

18 اگست 2019

Khair or Sharr

اللہ کی آخری کتاب میں یہ لکھا ہے : تم ایک چیز کو برا سمجھتے ہو؛حالانکہ اس میں تمہارے لیے خیر پوشیدہ ہوتی ہے ۔ تم ایک چیز سے محبت کرتے ہو ؛حالانکہ اس میں تمہارے لیے شر ہوتاہے ۔آنے والا کل کیا لائے گا ، اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتامگر یہ کہ ظلم کے مقابل ڈٹ کر کھڑے ہونے والے ، جہاد کرنے والے ہی سرخرو ہوتے ہیں ۔ سلامتی کونسل کے اجلاس سے پہلے جتنے با خبر لوگوں سے بات ہوئی ، وہ اندیشوں کا شکار تھے ۔ ماسکو سے کوئی امید وابستہ نہیں تھی ۔ فرانس سے ویٹو کا اندیشہ تھا ۔افغانستان Afghanistan میں امریکہ United States کو پاکستان Pakistan کی ضرورت آپڑی ہے مگر وہ بھارت India کا تزویراتی حلیف بھی ہے ۔ اگرنتیجہ توقعات سے بہت بہتر رہا تو اس میں بین الاقوامی میڈیا کا کردار ہے ، سوشل میڈیا کا بھی۔ بعض عرب ممالک عین وقت پہ دھوکہ دے گئے ۔ اقوام جب مایوسی کا شکار ہوتی ہیں توپسپائی اور پستی ہی میں پناہ ڈھونڈتی ہیں ۔چین China چوکنا رہا اور اس نے دوستی کا حق ادا کردیا۔ وہ پاکستان Pakistan کا ویسا ہی حلیف ہے ، جیسا کہ امریکہ United States بھارت India کا ۔ بین الاقوامی امور کا ادراک رکھنے والے سید مشاہد حسین ہمیشہ یہ کہتے ہیں کہ پاکستان Pakistan کے پاس پتے بہت ہیں مگر سلیقہ مندی کے ساتھ ہم استعمال نہیں کرتے ۔ پاکستانی قوم نے حمیت کا راستہ استعمال کیا ۔ اخبار نویسوں نے دہائی دی تو حالات کا رخ متعین ہوگیا۔ حکومتِ پاکستان Pakistan کو داد نہ دینا زیادتی ہوگی ۔ سیاسی قیادت میں کمزوری کے کچھ آثار اوّل اوّل نظر آئے لیکن بالاخر وہ یکسو ہو گئی ۔اسلام آباد Islamabad نے دانائی کا مظاہرہ کیا کہ سلامتی کونسل میں ذمہ داری محترمہ ملیحہ لودھی کے سپرد کی۔ اپنا فرض انہوں نے سلیقہ مندی سے ادا کیا اور بھارت India کو صدمے سے دوچار ہونا پڑا، آسمان کو جس کا تکبر چھو رہا تھا۔ پانچ اگست کا بھارتی Indian اقدام بالاخر پاکستان Pakistan ، کشمیر اور بھارت India کے لیے کیا لائے گا ، اس کا فیصلہ مستقبل کرے گا لیکن اب وقت کا دھارا ہندوستان کے حق میں نہیں ۔ کشمیریوں نے سپرانداز ہونے سے انکار کر دیا ہے اور پاکستانی قوم ان کے ساتھ کھڑی ہے ۔ کشمیری اگر ڈٹے رہے اور انشاء اللہ ڈٹے رہیں گے ۔ پاکستانی قوم اگر ثابت قدم رہی اور انشاء اللہ ثابت قدم رہے گی تو ایک ایک قدم ہم آگے بڑھتے جائیں گے ۔ شیکسپئر نے کہا تھا : ہر آدمی کی زندگی میں ایک لہر اٹھتی ہے ، اگر وہ اس پر سوار ہو جائے تو کامیابی لازم ہوتی ہے ۔اقوام کے حق میں بھی یہ بات اتنی ہی درست ہے ۔ اللہ کی آخری کتاب میں لکھا ہے کہ انسانوں کے لیے وہی کچھ ہے ، جس کی انہوں نے کوشش کی ۔ قدرت کے ابدی اصولوں میں سے ایک یہ ہے کہ ایک ذرّہ ء خلوص بھی وہ ضائع نہیں کرتی ۔ساٹھ سال سے سید علی گیلانی پورے قد سے اگر مقتل میں کھڑے ہیں تو کیا اس میں قدرت کا کوئی گہرا اشارہ پوشیدہ نہیں؟شاید یہ کہ بالاخر دنیا کی واحد بت پرست قوم کو منہ کے بل گرنا ہے ۔افراد یا اقوام ، تکبر ،انسان دشمنی اور خود پسندی برباد کرنے والی خصوصیات ہیں ۔ بھارت India نے نریندر مودی narendra modi کو قیادت سونپ کر تکبر کی راہ چنی ہے ۔ بھارتی Indian میڈیا اب سکتے میں مبتلا ہے ، توجیح اور تاویل میں ۔معدودے چند کے سوا بھارتی Indian اخبار نویس جھوٹ پہ جھوٹ بولتے رہے ۔ ثابت کرتے رہے کہ حالات معمول پہ آتے چلے جائیں گے ۔ اب وہ ایک نیا گیت گا رہے ہیں کہ بے شک سلامتی کونسل میں بھارتی Indian موقف کی پذیرائی نہ ہو سکی مگر عملاً پاکستان Pakistan اور کشمیر کو کیا ملا ؟ جناب ، اخلاقی تائید حاصل ہوئی اور اس وقت یہی درکار ہے ۔ فراموش کردہ کشمیر واشنگٹن پوسٹ، نیو یارک ٹائمز اور گارجین کے پہلے صفحے پر جگمگا رہا ہے ۔ الجزیرہ تو الگ ، بی بی سی اور سی این این کے لیے بھی اب اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ تحریکِ آزادی کو مقامی لکھیں ۔ رابرٹ فسک اور ارون دھتی رائے ہی نہیں ، وہ اخبار نویس بھی اب کشمیر پہ لکھ رہے ہیں ،کل تک کشمیر کی جنگِ آزادی جن کے لیے دہشت گردی کے سوا کچھ نہ تھی ۔ پچاس برس کے بعد اقوامِ متحدہ میں کشمیر اجاگر ہوا ہے ۔ فرانس ویٹو کا ہتھیار استعمال کرنے کی ہمت نہ پا سکاتو اس کی وجہ عالمی ضمیر ہے ۔کبھی کبھی،خال خال جو بروئے کار آتا ہے ۔’’لوگوں کے دل دشت میں پڑے ہوئے پر کی مانند ہیں ، ہوا جنہیں الٹاتی پلٹاتی ہے ‘‘ نئی دہلی کے ساتھ ماسکو کے غیر معمولی تجارتی مفادات وابستہ ہیں ۔ بھارت India جدید ہتھیاروں کا ایک بڑا خریدار ہے ۔ اس کے باوجود روس Russia نے ہندوستان کی حمایت سے انکار کر دیا ۔ بالواسطہ طور پر امریکہ United States نے بھی مدد کی ۔اقوامِ متحدہ میں اجلاس کے ہنگام صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اگرچہ یہ کہا کہ دونوں ملکوں کو باہم بات چیت کرنی چاہئیے مگر وہ جانتے ہیں کہ اب آسانی سے یہ ممکن نہیں ۔ بروقت شاہ محمود قریشی نے کہہ دیاکہ آر ایس ایس RSS سے مذاکرات نہیں ہو سکتے۔ حکومتِ پاکستان Pakistan اگر چاہے بھی تو پاکستانی قوم ہرگز ہرگز اجازت نہیں دے گی ۔ اس باب میں عمران خان Imran Khan عوامی جذبات کو بہرحال زیادہ ملحوظ رکھتے ہیں ۔ یہ نواز شریف Nawaz Sharif کی حکومت نہیں ، جن کے گھر میں آئے دن بھارتی Indian مہمان بلا تکلف آتے اور بعض اوقات ہفتوں قیام کیا کرتے ۔ ان میں لندن سے آنے والا ایک ڈاکٹر شامل تھا، جاتی امرا میں جو سیاسی اجلاسوں میں بھی شریک ہوا کرتا۔ بدقسمتی سے ہماری اجتماعی یادداشت بہت ناقص ہے ۔ آزاد کشمیر میں 2010ء کی انتخابی مہم کے دوران مظفر آباد میں آنجناب نے اعلان کیا تھا :اتنا ظلم بھارت India نے کشمیر میں نہیں کیا، جتنا پاکستانی فوج نے ۔تب بھارتی Indian سفیر نے سید مشاہد حسین سے کہا تھا : We are pleasently surprised that Mian sahib did not mention India or Indian army in the campaign. ۔ ہمیںخوشگوار حیرت ہے کہ میاں صاحب نے آزاد کشمیر کی انتخابی مہم کے دوران بھارت India یا بھارتی Indian فوج کا کوئی ذکر تک نہ کیا۔ جی نہیں ،ذکر تو کیا مگر ہندوستان کے حق میں۔ میاں محمد نواز شریف Nawaz Sharif ان گنتی کے پاکستانیوں میں سے ایک ہیں ، جنہوں نے بھارتی Indian بالادستی کے امریکی تصور کوپوری طرح قبول کر لیا تھا۔ بھارتی Indian ہندوئوں کے ساتھ شریف خاندان کے تعلقات ایک نہیں ، تین نسلوں پر پھیلے ہیں ۔اس کہانی کا آغاز پچھلی صدی کے دوسرے عشرے میں امرتسر سے ہوا۔ دبئی ، جدّہ ، لندن اور جاتی امرا اس کے مختلف پڑائو ہیں لیکن یہ کہانی پھر کبھی ۔زرداری اور نواز شریف Nawaz Sharif مظلوم کشمیریوں کے باب میں کتنے سنجیدہ تھے ، اس کی ایک علامت کشمیر کمیٹی ہے ،دونو ں ادوار میں مولانا فضل الرحمٰن سربراہی کے منصب پر فائز رہے ۔ کشمیر پر اسلام آباد Islamabad کی یکسوئی میں راولپنڈی کا دخل بھی ہے ، جہاں زیادہ گہری سطح پر تجزیہ ہوتاہے ۔ پانچ اگست کے انقلاب سے جو گہرے اثرات مرتب ہوئے ، ان میں سے ایک یہ ہے کہ کشمیر میں بھارت India نواز قیادت بے معنی ہوگئی ۔ اس کا کردار تمام ہوا ۔ اب وہ اپنی قوم کے ساتھ کھڑے ہوں گے یا فنا کے گھاٹ اتر جائیں گے ۔ دوسرا واقعہ یہ ہے کہ پاکستان Pakistan کے بھارت India نواز دانشور اب بے بس ہیں ۔ ان میں سے بعض نے کشمیر پر ٹسوے بہائے ۔ ان میں سے ایک سیاہ بخت نے اہلِ کشمیر کا موازنہ تھر کے مکینوں سے کیا ہے ۔ اللہ کی آخری کتاب میں یہ لکھا ہے : تم ایک چیز کو برا سمجھتے ہو؛حالانکہ اس میں تمہارے لیے خیر پوشیدہ ہوتی ہے ۔ تم ایک چیز سے محبت کرتے ہو ؛حالانکہ اس میں تمہارے لیے شر ہوتاہے ۔آنے والا کل کیا لائے گا ، اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتامگر یہ کہ ظلم کے مقابل ڈٹ کر کھڑے ہونے والے ،جہاد کرنے والے ہی سرخرو ہوتے ہیں ۔

 3032