ایک سوال

کٹہرا - خالد مسعود خان

17 اگست 2019

Ak Sawal

منیر نیازی مرحوم کا شعر ہے:

ہوئی نجات سفر میں فریب صحرا سے

سراب ختم ہوا، اضطراب ختم ہوا

ہم ایک عرصے سے یہ بات جانتے تھے لیکن اب ماشااللہ سے یہ بات سرکاری طور پر تسلیم کر لی گئی ہے کہ کوئی بھی مسلم ملک بطور مسلم ملک یعنی بطور ''امہ‘‘ ہمارے ساتھ نہیں ہے۔ سب اپنے اپنے کاروبار اور مفادات کے دوست ہیں اور بائیس کروڑ افراد کے ملک کا ڈیڑھ ارب آبادی والی معیشت سے کوئی مقابلہ نہیں۔ لہٰذا ہمارے سارے ''دوست‘‘ بشمول مسلم امہ کے روحانی سربراہ کے، بھارت India کے ساتھ کھڑے ہیں۔ امتِ مسلمہ کی حد تک عمران خان Imran Khan صاحب کی ساری ڈرائیوری تقریباً بیکار گئی۔ ہمیں پندرہ ارب ڈالر billion dollor کی سرمایہ کاری کی محض گولی دی گئی اور پاکستان Pakistan سے بھارت India جا کر پہلے پاکستان Pakistan سے زیادہ سرمایہ کاری کا اعلان کیا گیا اور اب اس عید پر تو حد ہی ہو گئی۔

جس وقت کشمیری بھارتی Indian فوج کے محاصرے میں پانچواں دن گزار رہے تھے عین اسی روز سعودی کمپنی ''ارامکو‘‘ (یہ سعودی عرب Saudi Arabia کے قومی تیل و گیس کمپنی ہے) نے بھارت India کے سب سے بڑے تجارتی گروپ ریلائنس کے ساتھ بھارتی Indian تاریخ کی سب سے بڑی سرمایہ کاری کا اعلان کیا۔ جب کشمیری عید کی نماز سے محروم کیے جا رہے تھے تب سعودی عرب Saudi Arabia بھارت India کے ساتھ تجارتی پینگیں بڑھا رہا تھا اور جب کشمیری مسلمان عیدِ قربان پر قربانی کے حق سے بزور طاقت روکے جا رہے تھے‘ ریلائنس گروپ اہلِ بھارت India کو اس عظیم سرمایہ کاری کی خوش خبری سنا رہا تھا۔ ریلائنس گروپ کا چیئرمین مکیش امبانی بتا رہا تھا کہ یہ بھارت India میں آج تک کی سب سے بڑی سرمایہ کاری ہے جو سعودی ارامکو بھارت India میں تیل اور کیمیکل کے شعبہ میں کر رہی ہے۔ یہ سرمایہ کاری ریلائنس کے بیس فیصد حصص تک ہو گی اور اس کا مالی حجم پچھتر ارب ڈالر billion dollor تک ہو گا۔ یعنی سی پیک CPEC سے تقریباً گیارہ ارب ڈالر billion dollor زیادہ۔

اس سے قبل متحدہ عرب امارات united arab emirates بھی بھارت India میں بہت بڑی سرمایہ کاری کر چکا ہے اور ہر دو ممالک موجودہ کشمیر تنازعہ میں بھارت India کی جانب سے آئین کے آرٹیکل 370 اور 35 اے کے خاتمے کے ساتھ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کے اقدام کو بھارت India کا اندرونی معاملہ قرار دے چکے ہیں۔ سارے عالمِ عرب میں فی الوقت یہی دو ممالک ہیں جو کچھ کہنے اور کچھ کرنے کی پوزیشن میں ہیں اور وہی دو ملک ہمارے موقف کو یعنی کشمیریوں کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں حق خود ارادیت دینے کے بجائے اسے خالصتاً بھارت India کا اندرونی معاملہ قرار دے رہے ہیں۔ جزیرہ نمائے عرب کے دیگر ممالک میں عراق، شام اور یمن Yemen کو اپنی پڑی ہوئی ہے۔ کویت، اومان، بحرین اور قطر وغیرہ خاموش ہیں۔ لے دے کر ایک ترکی ہے جس کے دل میں اسلام کے نام پر درد اٹھتا ہے لیکن بھارت India کو ترکی کی کیا پروا ہو سکتی ہے؟ جن ممالک میں لاکھوں بھارتی Indian ملازمتیں کر کے سالانہ اربوں ڈالر کا زر مبادلہ اپنے ملک بھجواتے ہوں وہ تو بھارت India کے لیے کسی اہمیت کے حامل ہو سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ بھارت India کو کس بات کی پروا ہو سکتی ہے؟ متحدہ عرب امارات united arab emirates میں اٹھائیس لاکھ سے زائد بھارتی Indian کام کر رہے ہیں۔ یہ تعداد یو اے ای کی کل آبادی کا قریب 27 فیصد بنتا ہے۔ یہاں سے بھارتی Indian سالانہ بیس ارب ڈالر billion dollor بھارت India بھجواتے ہیں‘ جو بھارت India میں اس کے شہریوں کی جانب سے بھجوائے جانے والے کل زر مبادلہ باسٹھ ارب ڈالر billion dollor کا قریب تیسرا حصہ ہے۔

سعودی عرب Saudi Arabia میں قریب پندرہ لاکھ پاکستانی کام کرتے ہیں جبکہ اس کے مقابلے میں چالیس لاکھ سے زائد بھارتی Indian سعودی عرب Saudi Arabia میں کام کرتے ہیں۔ یہ چالیس لاکھ سے زائد بھارتی Indian سعودی عرب Saudi Arabia سے سالانہ بارہ ارب ڈالر billion dollor سے زائد زر مبادلہ بھارت India بھیجتا ہے۔ یعنی صرف سعودی عرب Saudi Arabia اور متحدہ عرب امارات united arab emirates سے بتیس ارب ڈالر billion dollor کا زر مبادلہ بھارت India جاتا ہے۔ یہ دنیا بھر سے پاکستانیوں کی جانب سے پاکستان Pakistan بھجوائے جانے والے زر مبادلہ سے ڈیڑھ گنا زیادہ رقم ہے۔ بنیے کا سب سے بڑا مسئلہ پیسہ ہوتا ہے اور اگر بنیے کا پیسہ بند ہو جائے تو سمجھیں اس کی ماں مر جاتی ہے۔ ایسے میں اگر یہی دو ممالک اس کا ٹینٹوا دباتے تو مودی کو نانی یاد آ جاتی لیکن بھارت India پر دباؤ ڈالنا تو ایک طرف رہا یہ الٹا بھارت India میں تاریخی سرمایہ کر کے اسے معاشی طور پر مضبوط تر بنا رہے ہیں تاکہ وہ ہماری لُٹیا پوری طرح ڈبو سکے۔

مکیش امبانی نے اس سعودی سرمایہ کاری کی جو تفصیل بتائی‘ وہ یوں ہے کہ سعودی ارامکو ریلائنس گروپ کے پٹرولیم کے شعبہ کے 20 فیصد حصص خریدے گی اور اس کے عوض پندرہ ارب ڈالر billion dollor ادا کرے گی۔ جام نگر میں ریلائنس کی ریفائنری ارامکو کیلئے سات لاکھ بیرل یومیہ صاف کرے گی۔ اس ریفائنری کی کل پیداواری استعداد چودہ لاکھ بیرل یومیہ ہے۔ ریفائنری کے علاوہ ریلائنس بی پی کے پٹرول پمپوں پر تیل فروخت کر رہی ہے۔ اس خوردہ کاروبار میں بھی سعودی ارامکو ریلائنس کی 51 فیصد کی شراکت دار ہوگی۔ ریلائنس کے 1400 پٹرول پمپوں اور ہوائی جہازوں کیلئے استعمال ہونے والے ایوی ایشن فیول میں بھی حصہ دار ہو گی۔ اگلے پانچ سالوں میں ان 1400 پٹرول پمپوں کی تعداد بڑھا کر 5500 کر دی جائے گی۔ اس طرح سعودی ارامکو بھارت India میں کل 75 ارب ڈالر billion dollor کی سرمایہ کاری کریگی جو بھارتی Indian تاریخ کی سب سے بڑی سرمایہ کاری ہو گی۔

ادھر یہ عالم ہے کہ پاکستان Pakistan ایک عرصے سے دو مختلف نظریاتی پراکسی جنگوں کا میدان بنا ہوا ہے۔ سب کو معلوم ہے کہ کون پاکستان Pakistan میں کیا کر رہا ہے اور کن کے ذریعے کر رہا ہے لیکن تمام تر علم ہونے کے باوجود اس معاملے سے آنکھیں بھی بند کر رکھی ہیں اور خاموشی بھی اختیار کر رکھی ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ قومی مفادات کو مقدم رکھتے ہوئے اس سارے ڈرامے کو جو عشروں سے چل رہا ہے ختم کیا جائے۔ اس پراکسی جنگ کے کل پرزوں کی گوشمالی کی جائے۔ سب کو علم ہے کہ اس میں کون کون استعمال ہو رہا ہے۔ دودھ بھارت India میں اور مینگنیاں پاکستان Pakistan میں؟۔

لگتا ہے کہ ساری امہ صرف اور صرف پاکستان Pakistan پر مشتمل ہے کہ ہر جگہ کا درد صرف ہمیں ہی محسوس ہوتا ہے۔ افغانستان Afghanistan میں جہاد ہو تو ادھر سے نوجوان جائیں اور شہادتیں پائیں۔ بوسنیا میں مسلم کشی ہو تو درد کی لہر خیبر تا کراچی محسوس ہو۔ غزہ میں خون کی ہولی کھیلی جائے تو جلوس یہاں نکلیں۔ برما میں روہنگیا مسلمانوں کا قتل عام ہو تو دعائیں ہماری مسجدوں میں مانگی جائیں اور احتجاجی مظاہرے یہاں ہوں۔ ادھر یہ عالم ہے کہ اس بار حج کے خطبے میں کشمیری مسلمانوں پر ہونے والے ظلم کے خاتمے کے لیے دعا بھی نہیں کی گئی۔ دعا مظلوم کے لیے دنیا میں سب سے کمزور اظہار یکجہتی ہے۔ خدانخواستہ اس سے مراد دعا کی کمزوری نہیں بلکہ مظلوم کے لیے ہماری جانب سے کیا جانے والا سب سے ادنیٰ اظہار ہے کہ ہم ظلم کو ہاتھ سے روکنے یا زبان سے روکنے سے بھی نچلے درجے پر صرف اسے دل سے برا خیال کرتے ہیں اور مظلوم کو اپنی دعا سے مطمئن کرنے اور ٹالنے کی سعی کرتے ہیں لیکن اس بار تو اس کمزور ترین حمایت کی بھی جرأت نہیں ہوئی اور ''مسلم امہ‘‘ کو دعاؤں سے بہلانے کا بھی حوصلہ نہیں کیا گیا کہ کہیں کاروباری شراکت دار ناراض نہ ہو جائیں۔

اس دوران ایک افواہ پھیلی کہ پینتالیس ممالک کی مشترکہ فوج کے کمانڈر راحیل شریف نے کشمیری مسلمانوں کے ساتھ ہونے والے بھارتی Indian ظلم و تشدد اور کرفیو کے باعث عید کی نماز اور قربانی سے محروم کرنے کے خلاف اس نام نہاد اسلامی فوج کی لاتعلقی اور بے حسی کے خلاف استعفیٰ دے دیا ہے؛ تاہم ابھی دل امیدو بیم کے درمیان معلق ہی تھا کہ ایک ''باوثوق ذریعے‘‘ نے اس خوش کن خبر کی تردید کر دی۔ بھلا پانچ ملین ڈالر سالانہ کی تنخواہ یعنی اسی کروڑ روپے سالانہ اور چھ کروڑ چھیاسٹھ لاکھ چھیاسٹھ ہزار چھ سو چھیاسٹھ روپے ماہانہ چھوڑنا آسان کام ہے؟ ویسے بھی جہاں امہ کے وہ ممالک جن کو لوگ مسیحا سمجھتے ہوں اگر وہی کاروبار کی آنکھ سے سب کچھ دیکھتے ہوں تو اکیلے جناب راحیل شریف حب سے کیا گلہ؟ لیکن ایک سوال تو کیا جا سکتا ہے۔ آخر یہ پینتالیس مسلم ممالک کی مشترکہ فوج دھنیا گھوٹنے کے لیے ہے؟ یہ ایک سوال تو آخر بنتا ہے۔

 849