اسلامی دنیا ،نیم دروں نیم بروں

زیر بحث - عارف نظامی

17 اگست 2019

Islamic World

بھارتی Indian آئین کے آرٹیکل 370کی تنسیخ کے بعد مقبوضہ کشمیر میں لاک ڈاؤن کو 14روز گزر چکے ہیں ۔ آٹھ لاکھ کے قریب فوج غاصبانہ بھارتی Indian اقدامات کے خلاف کشمیریوں کی آواز دبانے کے لیے فسطائی ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے ۔مسلسل کرفیو کے باعث پورا مقبوضہ کشمیر جیل خانے میں تبدیل ہو چکا ہے ۔آزادی کا پیدائشی حق مانگنے والوں کو شیلنگ، تشدد اور پیلٹ گنوں کے ذریعے معذور کیا جا رہا ہے ۔محاصرے کے باعث لوگ خوراک اور ادویات کی قلت کا شکار ہو رہے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر کا دورہ کرنے والے سول سوسائٹی کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ فوجی گھروں سے لڑکیوں کو اغوا کر کے لے جا رہے ہیں وہاں جان محفوظ ہے نہ عزت ۔حریت کانفرنس کی لیڈر شپ سمیت قریبا ہر کشمیری سیاستدان بھی محبوس ہے حتیٰ کہ بھارت India کے ایک معروف بیوروکریٹ شاہ فیصل Shah Faisal جواب سیاستدان بن چکے ہیںجموں کشمیر پیپلزموومنٹ کے بانی ہیںانھیں نئی دلی ائیر پورٹ پر اس وقت روک لیا گیا جب وہ استنبول جا رہے تھے، انھیں گرفتار کر کے واپس کشمیر لے جا کر محبوس کر دیا گیا ۔شاہ فیصل Shah Faisal پہلے کشمیری نوجوان تھے جنہوں نے 2009 ء میں سول سروس Russia کے مشکل ترین امتحان میں ٹاپ کرنے کا اعزاز حاصل کیا لیکن اسی برس جنوری میں بھارتی Indian مظالم کے خلاف سول سروس Russia سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ نریندر مودی narendra modi کا بھارت India کے یوم آزادی کے موقع پرجو پاکستان Pakistan میں یوم سیاہ کے طور پر منایا گیا، لال قلعے میں اپنے روایتی خطاب میں یہ دعویٰ کرنا کہ ان کا کشمیر کی بچی کھچی خود مختاری ختم کرنے کا فیصلہ تاریخی طور پر ایک نئی جہت ثابت ہو گا۔ ان کے مطابق سات دہائیوں تک کشمیرکے بارے میں ناکام پالیسی کے بعد انھوں نے درست سمت متعین کی ہے۔کشمیریوں پر بے پناہ مظالم ڈھانے کے بعد اب وہ یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ انھوں نے تو بیک جنبش قلم کشمیرکا مسئلہ حل کر دیا ہے ۔اگر ایسا ہوتا تو آرٹیکل 370کی تنسیخ کے بعد کشمیری عوام کو زندہ باد کے ڈونگرے برسانے چاہئیں تھے کہ ہم آزاد ہو گئے ہیں لیکن یہاں تو عملی طور پر الٹی گنگا بہہ رہی ہے ۔ اس ظلم پر پاکستان Pakistan میں ارتعاش پیدا ہونا فطری تھا، ہم نے کشمیر کی آزادی کے لیے بڑی قربانیاں دی ہیں ، تین جنگیں لڑی ہیں ۔لیکن اب تو ساری دنیا میں ہاہا کار کیوں مچی ہوئی ہے ۔ مغربی میڈیا کو ہی لیں وہاں تو شاذ ہی کشمیر کا نام شائع یا نشر ہوتا تھا اور اگر ہوتا بھی تھا تو اس حوالے سے کہ وہاں دہشت گردی ہو رہی ہے لیکن اب نیویارک ٹائمز جیسے موقراخبار بھی قریباً ہر روز کشمیر کی اندرونی صورتحال پر تفصیلی رپورٹس شائع کر رہے ہیں ،یہی حال واشنگٹن پوسٹ اور گارڈین جیسے اخبارات کا ہے ۔ واشنگٹن پوسٹ نے امریکہ United States میں پاکستانی سفیر اسد مجید خان کا مسئلہ کشمیر Kashmir Issue کے حوالے سے مضمون ہمیشہ شائع کیا ہے ۔ نیو یارک ٹائمز میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیر کے صحافی انٹرنیٹ ،وائی فائی اوردوسری سہولتوں پر پابندیوں کی بنا پر پنسل کاغذ کے سہارے اپنی رپورٹس لکھ رہے ہیں اور خود موٹر سائیکلوں پر کاپیاں پریس لے کر جاتے ہیں اور کرفیو کی پابندیوں کے باعث گھروں میں جانے کے بجائے دفاتر میں ہی سونے پر مجبور ہیں۔یہ آزادی صحافت کے مقدس مشن کی آبیاری اور اپنے قارئین کو باخبر رکھنے کی بہترین مثال ہے ۔ اسے بین الاقوامی اور پاکستانی صحافتی تنظیموں کو سراہنا چاہیے اور وہ عناصر جو پاکستان Pakistan میں صحافت کو زیر کرنے کے منصوبے پر عمل پیرا ہیں کو بھی یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا ۔ اقوام متحد ہ میں پاکستان Pakistan کی مستقل مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی بھی میڈیا اوراقوام متحدہ کے ایوانوں میں خاصی فعال ہیں اور انھیں ہونا بھی چاہیے کیونکہ یہ اب معاملہ سکیورٹی کونسل میں پیش ہو چکا ہے ۔یہ انتہائی افسوسناک عمل ہے کہ ان کی نیو یارک میں پریس کانفرنس میں ایک گھس بیٹھئے نے صحافی کا روپ دھار کر بدتمیزی کرنے کی کوشش کی ۔ان کے خلاف سوشل میڈیا پر بھی بے پناہ پراپیگنڈا کیا جا رہا ہے۔ٹائمنگ سے صاف ظاہر ہے کہ یہ کون کروا رہا ہے۔ وزیراعظم عمران خان Imran Khan کا آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی سے خطاب خاصا جرات مندانہ تھا، انھوں نے مودی کوہٹلر سے تشبیہ دی اور درست طور پر کف افسوس ملا کہ دنیا مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کی نسل کشی پر خاموش کیوں ہے؟۔ اس ضمن میں انھوں نے مسلم دنیا کا خاص طور پر ذکر کیا ۔ خان صاحب نے مقبوضہ کشمیر کے حالات کو بوسنیا کے مسلمانوں کی نسل کشی سے تشبیہ دی اور کہا کیا اس وقت دنیا خاموش رہی ؟۔ وزیراعظم نے درست نشان دہی کی کہ بھارتی Indian اقدامات کے مسلم دنیا پر بھی منفی اثرات مرتب ہو نگے اور انتہا پسندی کی نئی لہر جنم لے گی۔ خان صاحب کا خد شہ بے جا نہیں ہے کیونکہ داعش ،القاعدہ اور اس قسم کی دیگر تنظیمیں مقبوضہ کشمیر کو اپنی بیس بنا سکتی ہیں بالکل اسی طر ح جیسے کہ افغانستان Afghanistan میں سابق سوویت یونین کی فوج کشی کے نتائج سے دنیا آج تک نبرد آزما نہیں ہو پائی ۔ عیدکے روز وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی اسلامی دنیا اور سکیورٹی کونسل میں ویٹو کے خدشات کے حوالے سے حقیقت پسندانہ تصویر پیش کی۔ بات تو اصولی طور پر درست ہے لیکن ایسی باتیں کابینہ کے اجلاس اورپارلیمنٹ میں کرنی چاہئیں ۔ وزیر خارجہ کا کام ہے کہ وہ بولے کم اورسفارت کاری پر توجہ زیادہ دے ۔قریشی صاحب ایک دور میں پیپلزپارٹی میں تھے ۔آصف علی زرداری کے دور میں وزارت خارجہ کا قلمدان ان کے پاس تھا۔ انھیں ذوالفقار علی بھٹو کی خارجہ حکمت عملی کو آ گے بڑھانے کی مثال کو سامنے رکھنا چاہیے جس وقت پاکستان Pakistan دولخت ہو گیا اور اس کے 90ہزار فوجی بھارت India کی قید میں تھے اور کچھ علاقہ بھارت India کے قبضے میں تھا تو1972ء میں بھٹو صاحب نے اندرا گاندھی سے مذاکرات کے لیے شملہ کے لیے رخت سفر باندھا ان کی صاحبزادی بے نظیر بھٹو ان کے ہمراہ تھیں، یہ مذاکرات ایک فاتح اور مفتوح کے درمیان تھے ۔ مجھے یاد ہے انھوں نے نہ صرف اپوزیشن کوا عتماد میں لیا بلکہ روانگی سے قبل کسی مایوسی کا اظہا ر نہیں کیا تھا بلکہ عوام سے صرف یہ کہا کہ میں پاکستان Pakistan کے مفادات پر سودے بازی نہیں کروں گا ۔ انھیں خوب معلوم تھا کہ بھارت India 90 ہزار قیدی کب تک رکھے گا۔انھوں نے اندرا گاندھی سے کہا محترمہ آپ مغربی پاکستان Pakistan میں ہماری جگہ خالی کر دیں۔شملہ معاہدے میں کشمیر کو بھی تنازع تسلیم کیا گیا ۔اگرچہ بھارت India نے اس کے بعد یہ بھونڈا استدلال اختیار کیا کہ شملہ معاہدے کے بعد اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل سمیت اب کوئی بین الاقوامی ثالثی نہیں ہو سکتی صرف دو طرفہ بات چیت ہو سکتی ہے لیکن پاکستان Pakistan نے آج تک اس بھارتی Indian موقف کو کبھی تسلیم نہیں کیا ۔سقوط ڈھاکہ کے بعد کشمیر کی حالیہ صورتحال سے ہمیںسب سے بڑے بحران کا سامنا ہے لیکن اس کے باوجود موجودہ حکومت اپوزیشن کو آن بورڈ لینے پرقطعاً تیار نہیں اور معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر احتساب کے نام پر انتقام کے مشن پر بھرپور طریقے سے گامزن ہیں۔ہونا تو یہ چاہیے کہ اس معاملے میں اپوزیشن کو آن بورڈ لیا جائے اور شاہ محمود قریشی تقریروں کے بجائے اپنا کام کریں ۔یقینا اسلامی کانفرنس کی تنظیم کے رکن ممالک تو باہمی منافقت، پیٹروڈالروں کی سرمایہ کاری پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں ۔حال ہی میں بھارت India کے سب سے امیر صنعت کار مکیش امبانی نے اعلان کیا کہ سعودی عرب Saudi Arabia کی کمپنی آرامکو ان کے گروپ کے ساتھ مل کر 75ارب ڈالر billion dollor کی سرمایہ کاری کر رہی ہے ۔ یقینا اسلامی دنیا کے اکثر ممالک اپنی حفاظت کے بھی قابل نہیں اور امریکہ United States کی گود میں بیٹھے ہیں لہٰذا ان سے زبانی جمع خرچ کی بھی توقع عبث ہے ۔ ویسے بھی ہمارے عرب بھائیوں نے اپنے پچھواڑے میں اپنے فلسطینی بھائیوں کیلئے کیا کیا ہے؟جو وہ کشمیر کے غم میں دبلے ہونگے۔ان میں سے بعض کے اسرائیل سے اب قریبی تعلقات ہیں۔

 200