جنرل محمد ضیاء الحق

نا تمام - ہارون الرشید

17 اگست 2019

General Muhammad Zia Ul Haq

جنرل ضیاء الحق Zia ul Haq کے عہدِ اقتدار کا اگر کوئی سبق ہے تو شاید یہ کہ فوجی حکمران کتنا ہی دانا اور دیانت دار ہو ،قومی فروغ کی ضمانت مہیا نہیں کر سکتا۔ جتنا جھوٹ جنرل محمد ضیاء الحق Zia ul Haq کے بارے میں لکھا اور بولا گیا ، شاید ہی اس کی کوئی دوسری نظیر ہو ۔ جنرل کے طرزِ حکومت کی تحسین کی جا سکتی ہے اور نا مارشل لا کی ۔ تاریخ کا سبق یہ ہے کہ ہمیشہ سول ادارے ملکوں اور قوموں کو قوت اور بالیدگی عطا کرتے ہیں ۔ اچھی پولیس ، اچھی عدالت ، خدمت گزار سول سروس Russia اور بلدیاتی حکومتیں ۔ اختیار اگر ایک ہاتھ میں مرتکز ہو جائے تو معاشرہ علیل ہو جاتاہے ۔ خرابیاں پھوٹتی ہیں اور بڑھتی چلی جاتی ہیں ۔ سوال مگر ایک طرزِ حکومت کانہیں ، شخصیت کا ہے ۔ جنرل پر وہ جملہ صادق آتاہے ، جو سید ابو الاعلیٰ مودودی نے سر سید احمد خان کے بارے میں کہا تھا : وہ اتنے اچھے نہیں تھے، جتنا کہ ان کے مداح دعویٰ کرتے ہیں مگر اتنے برے بھی نہیں ، جتنا کہ ناقدین کہتے ہیں ۔ ذاتی زندگی میں جنرل ضیاء الحق Zia ul Haq ایک شائستہ اور اجلے آدمی تھے ۔17اگست 1988ء کے المناک حادثے کے بعد اس موضوع پر لکھا جاتا رہا۔ رفتہ رفتہ وراثت تحلیل ہوتی گئی ‘تا آنکہ 12اکتوبر1999ء کا مارشل لا نافذ ہوا ۔ ہر سال ان کے مزار پہ کھڑے ہو کر جنرل کے مشن کی تکمیل کا اعلان کرنے والے میاں محمد نواز شریف Nawaz Sharif نے جمہوریت کی قبا اوڑھ لی تو بتدریج ان کا دفاع کرنے والے دھیمے پڑتے گئے ۔اب انہیں شریف خاندان کے قصیدے لکھنا تھے۔ جنرل محمد ضیاء الحق Zia ul Haq پہ تنقید، تحقیر اور توہین کرنے والوں کی چیخ و پکار جاری رہی۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ وہ ظالمانہ اقتدار کی علامت بنتے چلے گئے ۔ نام نہاد بائیں بازو والوں کی تحریروں کو ملحوظ رکھا جائے تو کبھی یہ محسو س ہونے لگتا ہے کہ ملک اور معاشرے کی ساری خرابیاں انہی کے دور میں پیدا ہوئیں اور پروان چڑھتی گئیں ۔ ان سے پہلے کا پاکستان Pakistan آسودگی اور قرار کا نمونہ تھا ۔ یہ پانچ جولائی 1977ء کی سویر تھی ، جب لڑکا بھاگتا ہوا آیااور بشاشت کے ساتھ بتایا کہ مارشل لا نافذ ہو چکا ۔ پیپلزپارٹی کا ہمدردہونے کے باوجود وہ مطمئن کیوںتھا؟ اس لیے کہ تین ماہ سے جاری خانہ جنگی رک گئی ۔ اس عہد کی سب سے مقبول سیاسی جماعت پیپلزپارٹی کے حامی اور نام نہاد بائیں بازو کے دانشور دعویٰ کرتے ہیں کہ ا نکل سام کے ایما پر جنرل نے ذوالفقار علی بھٹو کے اقتدار کا خاتمہ کیا تھا۔ انکل سام کا اس معاملے سے کیا تعلق؟ دلیل ان کی یہ ہے کہ ایٹمی پروگرام کی وجہ سے امریکہ United States پاکستان Pakistan سے نالاں تھا ۔ اگر اس دعوے کو درست مان لیا جائے تو سوال یہ ہے کہ جنرل نے ایٹمی پروگرام کو جاری کیوں رکھا ۔ ڈاکٹر عبد القدیر خان سمیت سائنسدانوں کی پوری کھیپ گواہی دیتی ہے کہ جنرل اس پروگرام کو بے حد عزیز رکھتا تھا ۔ فراوانی سے اس منصوبے کے لیے وہ سرمایہ فراہم کرتا رہا ‘حالانکہ بعض عرب ملکوں نے امداد روک دی تھی ۔ امریکہ United States نے پاکستان Pakistan پہ اقتصادی پابندیاں عائد کر رکھی تھیں اور عائد کیے رکھیں ‘حتیٰ کہ افغانستان Afghanistan میں روسی فوج داخل ہوگئی ۔ ہرگز وہ امریکی ایجنٹ نہیں تھا۔ افغانستان Afghanistan میں امریکی امداد اس نے تامّل اور شرائط کے ساتھ قبول کی ۔ اس وقت جب ولی خان سمیت چھوٹے صوبوں کے قوم پرست اور بائیں بازو کے نام نہاد دانشور افغانستان Afghanistan میں سوویت آمد کا خیر مقدم کر رہے تھے ، افغان شہریوں کے قتلِ عام کا جواز پیش کرنے میں لگے رہتے تھے ، امریکیوں کو جنرل نے جتلا دیا کہ براہِ راست افغان مزاحمتی گروپوں کو وہ اسلحہ اور روپیہ نہیں دے سکتے ۔ یہ ذمہ داری انہوں نے آئی ایس آئی کو سونپی ، جو بتدریج دنیا کی بہترین خفیہ ایجنسی بن گئی۔ بھارت India کے جارحانہ عزائم کے مقابل جو آج بھی ملک کے دفاع کی سب سے بڑی ضامن ہے ۔ پاکستان Pakistan ہی نہیں ، بھارت India اور پاس پڑوس کے ممالک میں بھی شاندار نیٹ ورک اس نے قائم کیے ۔ آئی ایس آئی اس قدر طاقتور تھی کہ ضیاء الحق Zia ul Haq کی موت کے بعد بھی صدر بش سینئر پریشان تھے ۔ امریکی خفیہ ایجنسیوں کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے آئی ایس آئی کے پر کاٹنے کا حکم صادر کیا ۔ بعد میں وزیرِ اعظم بے نظیر بھٹو نے جنرل حمید گل سے ایجنسی کی قیادت واپس لے کر ، اپنے حامی شمس الرحمٰن کلّو کو سونپی تو غالباً یہ اسی کا شاخسانہ تھا ۔ بہت بعد میں ، جب ایک شب وزیرِ داخلہ رحمٰن ملک نے آئی ایس آئی کو اپنی ماتحتی میں داخل کرنے کا حکم صادر کیا تو امریکی اشارہ ء ابرو کے سوا اس کا سبب کیا تھا ؟ کوئی بھی فوجی حکومت حقیقی استحکام پیدا نہیں کر سکتی ۔ ہمیشہ یہ ایک عارضی انتظام ہوتاہے ۔ اس کے باوجود جنرل کا پاکستان Pakistan ایک طاقتور ملک تھا ۔ 1987ء میں راجیو گاندھی نے پاکستان Pakistan پر حملہ کرنے کا فیصلہ کیا تو کرکٹ میچ دیکھنے کے بہانے جنرل بھارت India پہنچااور اندرا گاندھی کے فرزند سے وہ بات کہی ، جس کی گونج آج تک سنائی دیتی ہے ۔ خلاصہ یہ تھا : پاکستانی سرحدوں پر اپنی افواج کو آپ نے گولہ بارود جاری کر دیا ہے ۔ میں ایک سپاہی ہوں اور جانتا ہوں کہ اس کا مطلب جنگ کا آغاز ہے ۔ اگر آپ نے ایسا کیا تو اپنا آخری ہتھیار ہم استعمال کریں گے ۔ تاریخ میں بھارت India کے بڑے بڑے شہروں کے صرف نام رہ جائیں گے ۔ جیسا کہ جنرل نے بعد میں بتایا اور عینی گواہوں نے تصدیق کی ، راجیو گاندھی کی ٹانگیں عملاً کانپ رہی تھیں ۔ جی ہاں ، جنرل نے بہت سی غلطیاں کیں ۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ ایک سول جمہوری نظام تشکیل دینے اور پیچھے ہٹ جانے کی بجائے جبر کے ساتھ حکومت کی لیکن یہ دعویٰ غلط ہے کہ وہ نامقبول تھا ۔ پیپلزپارٹی اور بالاخر امریکہ United States کی گود میں جا کر بیٹھ جانے والا بایاں بازوتو ان کا مخالف تھا ہی لیکن عام لوگوں کی اکثریت شاد تھی ۔ 1983ء سے 1987ء تک ہونے والے گیلپ کے سروے انکشاف کرتے ہیں کہ گاہے اس کی مقبولیت 52فیصد تک پہنچ جاتی ۔ یہ لیاقت علی خان کے بعد سب سے مقبول حکمران ، بھٹو سے زیادہ تھی ۔ بھٹو کے لیے اس کی پارٹی ہی پورا پاکستان Pakistan تھی ۔ ضیاء الحق Zia ul Haq کے بہت سے غلط فیصلوںمیں سے ایک یہ ہے کہ مذہبی طبقات کی حد سے زیادہ سرپرستی کی ‘حتیٰ کہ وہ بے قابوہو گئے ۔ ان کے بارے میں آخری فیصلہ تاریخ ہی صادر کرے گی لیکن اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ذاتی زندگی میں وہ ایک بے حد دیانت دار ،دولت و حشمت سے بے نیاز ، منکسر مزاج آدمی تھے۔ و ہ ایک عظیم محب وطن تھے ۔ پاکستان Pakistan کے ازلی دشمن بھارت India کو انہوں نے پسپا کیے رکھا ۔ ایوانِ اقتدار میں وہ ایک عام آدمی تھے ۔ تکبر اور خودپسندی سے پاک ،جوخوئے غلامی اور احساسِ کمتری کی ماری اشرافیہ کا وطیرہ ہے ۔ تاریخ کا سبق یہ ہے کہ ایک منظم، شائستہ، تعلیم یافتہ اور عصرِ حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ قوم کی تشکیل ہی ادبار سے نجات کا واحد راستہ ہے ۔ قومی ادارے اور قانون کی بالاتری۔ ایک سوال مگر یہ ہے کہ قائدِاعظم کے سوا، ہمارے سول حکمرانوںمیں سے کیا کوئی ایک بھی ایسا تھا ، اس حقیقت کا جو ادراک رکھتا ہو؟کیا فوجی آمروں کی طرح وہ سب کے سب من مانی اور بے اصولی کے عادی نہ تھے ؟جنرل ضیاء الحق Zia ul Haq کے عہدِ اقتدار کا اگر کوئی سبق ہے تو شاید یہ کہ فوجی حکمران کتنا ہی دانا اور دیانت دار ہو ،قومی فروغ کی ضمانت مہیا نہیں کر سکتا۔

 6311