شہ رگ سے دستبرداری

کٹہرا - خالد مسعود خان

15 اگست 2019

sheh Rag sy Distbardari

چند روز قبل امریکہ United States کی اسسٹنٹ سیکرٹری برائے جنوبی ایشیا ایلس ویلز نے پاکستان Pakistan کا دورہ کیا۔ یہ دورہ عین انہی دنوں تھا ‘جب بھارت India نے کشمیر کو حاصل خصوصی سٹیٹس کو آئینی تحفظ فراہم کرنے والے آرٹیکل 370 اور 35اے کو ختم کیا۔ خبر پھیلی کہ (خبر کا مطلب خبر ہوتا ہے‘ افواہ اس سے مختلف چیز ہے) اس بھارتی Indian اقدام کو امریکی آشیرباد حاصل ہے اور بھارت India نے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا فیصلہ امریکی ملی بھگت سے کیا ہے۔ اس خبر پر اپنے وزیر خارجہ مخدوم زادہ شاہ محمود قریشی نے ایک بڑا زور دار بیان داغ مارا کہ امریکہ United States نے اس بات کی تردید کی ہے کہ حالیہ بھارتی Indian فیصلے سے قبل اسے اعتماد میں لیا گیا اور اس فیصلے میں امریکی رضا مندی شامل تھی۔ یہی بات انہوں نے اپنی پریس کانفرنس میں ہونے والے ایک سوال کے جواب میں بھی کہی۔ ایمانداری کی بات ہے کہ مجھے اپنے وزیر خارجہ کی اس تردید سے رتی برابر اتفاق نہیں ہے اور ان کے بیان پر ٹکے کا یقین نہیں ہے۔

شاہ محمود قریشی تو ایک طرف رہے‘ اگر یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک پنجابی محاورے کے مطابق ''اگرگرم توے پر بیٹھ کر دیں‘‘ تو بھی مجھے اس پر اعتبار نہیں۔ شاہ محمود قریشی صاحب کی بات اور ہے۔ ان کے بزرگ انگریزوں کی با ت پر‘ بلکہ احکامات پر آنکھیں بند کر کے یقین کر لیتے تھے۔ اب زمانہ بدل گیا ہے اور فی زمانہ برطانوی استعمار کی جگہ امریکہ United States بہادر نے لے لی ہے‘ لہٰذا میرے شہر دار وزیر خارجہ موجودہ حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے امریکہ United States کے بیانات پر اندھا یقین کر رہے ہیں۔ وہ اعتبار کر رہے ہیں‘ وہ بھی ٹھیک ہیں اور میں اعتبار نہیں کر رہا‘ میں بھی ٹھیک ہوں۔

وزیراعظم عمران خان Imran Khan نے اسمبلی کے فلور پر یہ فرما کر کہ کیا اب میں جنگ کر دوں؟ جنگ کا دروازہ کم از کم اپنے حساب سے تو بند کر دیا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ فریقین میں سے ایک فریق جنگ شروع کرتا ہے اور دوسرا خود پر مسلط کردہ جنگ سے اسی طرح نپٹتا ہے‘ جیسے ایک محاورے کے مطابق ''گلے پڑا ڈھول بجانا پڑتا ہے‘‘ بیشتر اوقات ایسے کمزوری پر مشتمل بیانات جنگ کے امکانات کم کرنے کی بجائے بڑھا دیتے ہیں۔ اگر دشمن بھارت India جیسا مکار اور عیّار ہو تو وہ امن کی خواہش کو کمزوری پر محمول کرتا ہے اور فریق ثانی کی جنگ نہ چاہنے کی ہزار خواہش کے باوجود جنگ کے لیے مجبور کر دیتا ہے۔ اگر مودی جنگ مسلط کرنے کا فیصلہ کر لے‘ تو عمران خان Imran Khan صاحب کی جنگ نہ کرنے کی خواہش کی بھلا کیا اہمیت رہ جاتی ہے؟

کیا بھارت India نے یہ اقدام سوچے سمجھے بغیر اٹھایا ہے؟ اگر کسی کو یہ غلط فہمی ہے تو وہ باقاعدہ احمقوں کی جنت کا مکین ہے۔ بھارت India نے یہ فیصلہ سوچ سمجھ کر‘ دیکھ بھال کر اور اس کے نتائج کو ذہن میں رکھ کر کیا ہے۔ اس پر دو ہی قسم کے رد عمل ہو سکتے ہیں؛ ڈھیلا ڈھالا اور دوسرا سخت قسم کا۔ اگر پہلی قسم کا رد عمل ہوتا ہے تو پھر بھارت India کے لیے کوئی مسئلہ نہیں۔ بھلا کسی نرم سے رد عمل سے کیا فرق پڑ سکتا ہے؟ اگر عالمی رائے عامہ‘ بلکہ رائے عامہ کی کسے پروا ہے۔ اگر عالمی طاقتیں اس مسئلے پر بھنگ پی کر بیٹھی رہتی ہیں تو بھارت India بھی سردائی پی کرمزے کرے گا۔ رہ گیا ہمارا رد عمل تو بھلا اسے اس کی کیا پروا ہوگی؟ احتجاج‘ بھارت India کی بربادی کی دعا‘ جماعت اسلامی کا چار چھ شہروں میں جلوس‘ قومی اسمبلی کی قرارداد‘ چیئر مین سینیٹ کے ڈیڑھ سو ملکوں کے سربراہوں کو خطوط اور ہمارے نام نہاد دوستوں کی طرف سے باہمی بات چیت کا ہومیو پیتھک مشورہ۔ بھلا ان چیزوں سے بھارت India پر کیا اثر ہوگا؟ کسی عرب ملک نے کم از کم ابھی تک تو کھل کر بھارت India کی مذمت تک نہیں کی اور چین China کے علاوہ (اس کی بھی علاقائی اور جغرافیائی وجوہات ہیں‘ چین China کا رد عمل ہماری محبت کے پیش نظر ہرگز نہیں ہے) اور کسی قابل ِذکر ملک نے اس بھارتی Indian اقدام کی نہ تو مذمت کی ہے اور نہ ہی کشمیریوں سے اظہارِ یکجہتی کا اعلان کیا ہے۔ رہ گیا اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا بیان‘ تو اس کی اہمیت ''گونگلوئوں سے مٹی جھاڑنے سے بڑھ کر ہرگز نہیں ہے‘‘ لیکن ہمیں کسی اور سے کیا توقع ہو سکتی ہے؟ ہمارا تو اپنا رد عمل نہایت کمزور‘ پھوکا‘ بودا اور تیسرے درجے کا ہے‘کسی اور سے کیا گلہ کریں؟

بھارت India ‘اقوام متحدہ کی قراردادوں کا منکر ہے۔ اس کا کسی نے کیا کر لیا ہے؟ تمام عالمی قوانین اور اصولوں کے برخلاف‘ بھارتی Indian نے ہمارے تین دریائوں کا وہ پانی بھی روک لیا ہے‘ جو کسی دریا میں رہنے والی حیاتِ آبی کے لیے کم از کم درکار ہوتا ہے۔ کسی نے اس کا کیا بگاڑ لیا ہے؟ اس نے اپنے آئین کے منہ پر جوتا مار کر جموں و کشمیر Kashmir کی اسمبلی کی جانب سے کسی ریزولیوشن آئے بغیر آرٹیکل 370 اور 35 اے ختم کر دیا۔ اس کی صحت پر کیا اثر پڑا ہے؟ آخر ہم معاہدوں کی‘ اخلاقیات کی اور ضمانتوں کی حرمت کے چکر میں کیوں پڑے ہوئے ہیں؟ اگر ہم بھارت India کو واقعتاً کوئی سخت پیغام دینا چاہتے ہیں‘ اسے حقیقت میں اپنا رد عمل دینا چاہتے ہیں ‘تو فوری طور پر کم از کم یہ تین کام تو کرنے چاہئیں؛ پہلا یہ کہ بھارت India کے لیے ہمیں اپنی فضائی حدود بند کر دینی چاہیے۔ دوسرا یہ کہ زمینی راستے سے بھارت India کی افغانستان Afghanistan اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے لیے سامان تجارت کی فراہمی روک دینی چاہیے اور اس نمک حرام ملک کی کھیوڑہ سے نمک کی سپلائی بند کر دینی چاہیے۔ معاہدے‘ ضمانتیں اور گارنٹیاں گئیں جہنم میں۔

اگر سخت رد عمل ہوتا ہے‘جو اس بھارتی Indian اقدام پر دوسرا جواب ہو سکتا ہے تو بھارت India کیا کرے گا؟ وہ یہ آرٹیکل بحال کر دے گا اور اس کے لیے اس کے پاس بڑا با عزت طریقہ ہے‘ جس سے سانپ بھی مر جائے گا اور لاٹھی بھی نہیں ٹوٹے گی۔ وہ یہ دونوں منسوخ شدہ آئینی آرٹیکلز اپنی سپریم کورٹ کے حکم پر بحال کر دے گا اور پوری دنیا سے اپنی آزاد عدلیہ اور حکومت کی جانب سے عدالتی فیصلے پر فوری عملدرآمد پر حکومتی تابعداری پر داد وصول کر لے گا۔ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے دعوے پر ایک مہر ثبت کروائے گا‘ لیکن یہ بھی مفت نہیں ہوگا۔ وہ اس کے عوض کشمیر کا مسئلہ مستقل طور پر حل کرنے کی کوشش کرے گا اور کشمیر کی خصوصی حیثیت کی دوبارہ بحالی کے عوض دنیا بھر کو یہ باور کروائے گا کہ وہ کشمیر کو رعایت دیتے ہوئے ان کی وہی حیثیت بحال کر دے گا‘ جو بھارتی Indian آئین میں اور کسی صوبے کو حاصل نہیں ‘لیکن اب یہ ٹنٹا ختم ہونا چاہیے۔ کشمیریوں کو ریاست جموں و کشمیر Kashmir میں آئین کے آرٹیکل 370 اور 35 اے کے تحت وہی تحفظ دوبارہ مل رہا ہے‘ جو انہیں پہلے حاصل تھا ‘لیکن روز روز کی کھچ کھچ ختم کی جائے اور لائن آف کنٹرول کو مستقل اور بین الاقوامی سرحد تسلیم کر لیا جائے۔ امریکہ United States ‘ بھارت‘ فرانس اور برطانیہ وغیرہ اس کی ہاں میں ہاں ملائیں گے۔ اس حالیہ فیصلے کی واپسی کے عوض بھارت India کشمیر پر تسلط جما لے گا۔اس کا ''اٹوٹ انگ‘‘ اس کا بین الاقوامی تسلیم شدہ حصہ بن جائے گا۔ مودی بہتر سالہ پرانا مسئلہ کشمیر Kashmir Issue اپنی مرضی کے مطابق‘ حل کروا کر ہیرو بن جائے گا۔ ہمارے حکمران بھارتی Indian آئین کا حالیہ منسوخ شدہ آرٹیکل 370 اور 35 اے بحال کروا کر فاتح بن جائیں گے۔ سید علی گیلانی کی عشروں پر مشتمل جدوجہد اور کشمیریوں کے سر پر چھائی ہوئی سات عشروں پر محیط سیاہ رات ختم نہ ہوگی۔ فریقین اپنی اپنی فتح کے شادیانے بجائیں گے۔ ان شادیانوں کے درمیان کہیں ایک لاکھ سے زائد شہیدوں کے گھروں میں ایک بار پھر کہرام مچے گا اور لٹی ہوئی عصمتوں کے زخم ایک بار پھر تازہ ہوں گے۔ اس کے بعد کشمیر ہمارا مسئلہ نہیں رہے گا۔ بھارت India کا خالص اندرونی مسئلہ بن جائے گا۔

آئیں اس امکانی صورتحال کا غم دُور کریں ۔ ہم تو آزاد ہیں۔ آئیں آزادی کا مزہ اٹھائیں۔ چودہ اگست والے دن محفلِ موسیقی سے لطف لیں اور موٹرسائیکلوں سے سائیلنسر نکال کر ہنگامہ ہائو ہو مچائیں۔ کشمیری جانیں اور سید علی گیلانی جانے۔ اگر ہم بہتر سال اس شہ رگ کے بغیر زندہ رہ سکتے ہیں تو آئندہ بھی زندہ رہ لیں گے۔ اپنی معاشی حالت بہتر کرتے ہیں۔

 144