افغانستان

مکتب - حبیب اکرم

14 اگست 2019

Afghanistan

یہ اب دنوں کی بات ہو گی جب افغانستان Afghanistan میں امریکا، طالبان اور موجودہ افغان حکومت کے درمیان سمجھوتہ ہو جائے گا۔ اس سمجھوتے کا مطلب ہے کہ افغانستان Afghanistan امن کے راستے پر چل پڑے گا۔ یہ سمجھوتہ کامیاب رہا تو ہمارے پڑوس میں ترقی کے نئے امکانات بھی پیدا ہوں گے۔ اگر ایسا ہو جاتا ہے تو پھر پاکستان Pakistan کے لیے وسطی ایشیا کی اہمیت اور وسطی ایشیا کے لیے پاکستان Pakistan کی اہمیت میں کئی گنا اضافہ ہو جائے گا۔ امکانات کی یہی دنیا ہے جسے دیکھتے ہوئے روس Russia ہمارے ساتھ تعلقات ٹھیک کرنے کی کوشش کر رہا ہے، چین China کو ہماری ضرورت کچھ زیادہ شدید ہو رہی ہے اور امریکا بھی تھوڑی تاخیر سے یہ نئی حقیقت تسلیم کر چکا ہے۔ عالمی سطح پر افغانستان Afghanistan میں پاکستان Pakistan کی اہمیت کو اٹھارہ سال بعد سہی، تسلیم کر لینے کا مطلب ہے کہ دنیا وسطی ایشیا میں ہماری سفارتی و سیاسی پیش قدمی کے راستے میں رکاوٹ نہیں ڈالے گی۔ اگر ہم چین China کی طرح روس Russia کو بھی وسطی ایشیا سے گزر کر بحیرہ عرب تک راستہ دیتے ہیں تو سی پیک CPEC کی طرح کا ہی ایک اور بڑا منصوبہ پاکستان Pakistan کے لیے بن سکتا ہے۔ گویا پاکستان Pakistan وسطی ایشیا کے علاوہ روس Russia کے لیے بھی واحد سمندری راستے کے طور پر ابھرے گا‘ جس کا مطلب ہے دنیا کے نقشے پر ایک نئی علاقائی قوت کا ظہور۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم افغانستان Afghanistan میں امن کے بعد پیدا ہونے والے مواقع کے لیے تیار ہیں؟

اس سوال کا جواب ذوالفقار علی بھٹو اور جنرل ضیاء الحق Zia ul Haq کے دور میں بڑا واضح طور پر ملتا رہا ہے۔ ان دونوں کو اچھی طرح علم تھا کہ افغانستان Afghanistan میں سوویت یونین کی فتح کا مطلب پاکستان Pakistan کی ہمیشہ کیلئے شکست ہے اور افغانستان Afghanistan میں مجاہدین کی فتح کا مطلب پاکستان Pakistan کی روس Russia کی سرحد تک رسائی ہے۔ اس پالیسی کو سٹریٹیجک گہرائی کا نام دیا گیا۔ پہلے بھٹو نے اور بعد میں جنرل ضیاء الحق Zia ul Haq نے سوویت یونین کے خلاف افغانستان Afghanistan میں مجاہدین کی مدد یہی سوچ کر کی تھی۔ ان کے بعد آنے والے عالمی سیاست اور ملکی مفادات کے بارے میں کچھ جانتے ہی نہیں تھے‘ اس لیے انہوں نے وقتی ناکامیوں سے گھبرا کر سٹریٹیجک گہرائی کو ایک احمقانہ خیال قرار دے کر رد کرنا شروع کر دیا۔ خود کو ترقی پسند کہلوانے والے طبقے نے اس نظریے کا اتنا مذاق اڑایا کہ اس خیال پر کبھی سنجیدہ بحث بھی نہیں ہو سکی۔ ضیاء الحق Zia ul Haq کی غلطی یہ تھی کہ وہ اس نظریے کو مذہب کی بنیاد پر آگے بڑھا رہے تھے اور ان کے ذہن پر خطے کے اندر پاکستان Pakistan کا ''قائدانہ کردار‘‘ بھی کافی حاوی رہتا تھا، اس لیے جدید دنیا میں یہ قابل قبول بھی نہیں تھا۔ مگر یہ اعزاز بہرحال ان کو حاصل ہے کہ انہوں نے مکمل منصوبہ بندی کے ساتھ اس نظریے کی ترویج کی اور عملی طور پر اسے آگے بڑھاتے رہے۔ ان کے بعد اس نظریے کی پاکستان Pakistan میں کوئی پذیرائی رہی نہ افغانستان Afghanistan میں اسے قبول کیا گیا۔ نائن الیون کے واقعات کے بعد تو سب کچھ بدل گیا اور خود امریکا ایک جارح ریاست کے طور پر افغانستان Afghanistan میں آن براجا۔ وہ لڑائی جو انیس سو نوے میں ختم ہوئی تھی دو ہزار ایک میں پھر شروع ہو گئی اور ہمیں وہیں کھڑا ہونا پڑا جہاں ہم انیس سو چھہتر ستتر میں کھڑے تھے۔

اب افغانستان Afghanistan میں امن کے بعد پاکستان Pakistan کو دوبارہ موقع ملنے والا ہے کہ وہ اپنے حساب سے مستقبل کی نقشہ گری کر سکے۔ سٹریٹیجک گہرائی کا خیال آج اس شکل میں قابل قبول نہیں رہا‘ جس شکل میں یہ ذوالفقار علی بھٹو یا جنرل ضیاء الحق Zia ul Haq کے ذہنوں میں تھا لیکن اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ یہ آج قابل عمل نہیں رہا۔ آج کی تاریخ میں پاکستان Pakistan کے پاس اپنے مفادات کو آگے بڑھانے کے لیے کوئی مرکزی خیال موجود ہو سکتا ہے تو وہ یہی ہے؛ البتہ اس کے خد و خال میں تبدیلی ضروری ہے۔ چونکہ یہ نظریہ اور اس کی تشریح ماضی میں مختلف اعتبار سے کی جاتی رہی ہے اس لیے کوئی بھی ملک اسے اپنی سالمیت کے لیے خطرہ سمجھتا رہا ہے۔ اگر چین China کی طرح اس کی تشکیل نو خالصتاً مساویانہ معاشی مفادات کی بنیاد پر کی جائے تو جلد یا بدیر وسطی ایشیا میں اسے قبول کر لیا جائے گا۔ جب افغانستان، تاجکستان، ترکمانستان، ازبکستان، کرغیزستان اور قازقستان کو یہ اطمینان ہو کہ ان کی داخلی سیاست میں دخل اندازی یا انہیں کسی نئی آزمائش میں ڈالنے کی بجائے پاکستان Pakistan مشترکہ معاشی مفادات کے لیے کام کر رہا ہے تو وہ بخوشی اس معاملے میں ہمارے شریک کار بن جائیں گے۔

ہمیں یہ ہرگز نہیں بھولنا کہ وسطی ایشیا میں پاکستان Pakistan کے لیے موجود بے پناہ امکانات افغانستان Afghanistan میں امن کے ساتھ جڑے ہیں۔ افغانستان Afghanistan کے معاملے کا تاریک پہلو یہ ہے اس کے ساتھ تعلقات کی نوعیت پر ہمارے اندر کئی اختلافات موجود ہیں۔ آپ کو یاد ہو گا انیس سو اسی کی دہائی میں وزیر اعظم Prime Minister محمد خان جونیجو نے آل پارٹیز کانفرنس کر کے افغانستان Afghanistan کے مسائل سے تنگ آ کر جان چھڑوانے کے لیے اس سے کنارہ کشی کر لی تھی۔ یعنی سوویت یونین اور امریکا افغانستان Afghanistan میں بغیر قابل قبول حکومت کے قیام کے بغیر ہی چلے گئے اور یوں ہمارے پڑوس میں چالیس برس خانہ جنگی کی آگ بھڑکتی رہی جس میں کئی بار ہمیں خود جلنا پڑا۔ کہنے کا مطلب مقصد یہ ہے کہ اس معاملے میں ہماری ہیئت حاکمہ میں مختلف ادوار میں کچھ معاملات موجود رہے جن کے نتائج بھی ہم برسوں سے بھگت رہے ہیں۔ خوش قسمتی سے اب ہمیں افغانستان Afghanistan کے مسائل حل کرنے کا یہ دوسرا موقع مل رہا ہے تو یہ بھی ضروری ہے کہ اس مسئلے پر فوج، سول حکومت ، حزب اختلاف اور معاشرے کے فعال طبقات سے بات کر کے اتفاق رائے پیدا کر لیا جائے۔ افغانستان Afghanistan میں امن محض پاکستان Pakistan کے ہر شخص کی خواہش ہے، لہٰذا اس مسئلے پر نظر آنے والا اختلاف بنیادی نوعیت کا نہیں بلکہ فروعی ہے۔ اس فروعی اختلاف کو ختم کرنے کا بہترین طریقہ مکالمہ ہے۔ جہاں ہم لا یعنی بحثوں میں ہر وقت الجھے رہتے ہیں اگر ایک تعمیری مکالمہ بھی کر لیں تو شاید ہم کسی بہتر نتیجے پر قدرے آسانی سے پہنچ سکیں۔

افغانستان Afghanistan اور وہ خطہ جسے آج پاکستان Pakistan کہتے ہیں، صدیوں سے ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ ان کے اس جڑواں پن کا اندازہ لگائیے کہ دہلی میں مسلمانوں کی حکومتیں درحقیقت افغانستان Afghanistan سے آنے والوں نے ہی قائم کی تھیں۔ کابل ، غزنی اور ہرات ہمیشہ ہندوستان سے ڈھیلے ڈھالے انداز میں جڑے رہے ۔ پاکستان Pakistan بننے کے بعد ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ہم آگے بڑھتے اور افغانستان Afghanistan کے ساتھ ان تاریخی رشتوں کو قانونی شکل میں ڈھالتے اور مشترکہ مفادات کی نشاندہی کر کے ان کے حصول کی کوشش کرتے۔ ایسا کچھ ہونے کی بجائے دونوں ملکوں کے سیاست کاروں نے ہمیں ایک دوسرے سے دور رکھا۔ اب حالات بدل رہے ہیں۔ افغانستان Afghanistan کے ساتھ ہمارا تعلق نیا جنم لے رہا ہے۔ دونوں ملکوں کے لوگ اگر چاہیں تو اس تعلق کو یورپی یونین کی طرز پر ایک ایسے اتحاد میں ڈھال سکتے ہیں جس کا دونوں ملکوں میں کوئی آئینی وجود ہو۔ اسے کوئی دو ملکی تنظیم کہہ لیں یا کوئی اور نام دے لیں‘ بہرحال مقصد ایک دوسرے کے قریب آنا ہی ہے۔ ہمیں ضرور اس طرف سوچنا چاہیے۔ تاریخ یہی بتاتی ہے کہ جب تک اس طرح کے کسی دھاگے سے بندھے رہے ، دونوں ملک سکون میں رہے۔ جب سے یہ دھاگا ٹوٹا ہے، دونوں کو چین China نہیں آیا۔ جس دن افغانستان Afghanistan اور پاکستان Pakistan نے اس تعلق کو دوبارہ دریافت کر لیا، وہ دن دونوں کے مسائل کے حل کا آغاز ہو گا۔

نائن الیون کے واقعات کے بعد تو سب کچھ بدل گیا اور خود امریکا ایک جارح ریاست کے طور پر افغانستان Afghanistan میں آن براجا۔ وہ لڑائی جو انیس سو نوے میں ختم ہوئی تھی دو ہزار ایک میں پھر شروع ہو گئی اور ہمیں وہیں کھڑا ہونا پڑا جہاں ہم انیس سو چھہتر ستتر میں کھڑے تھے۔

 150