کشمیر ایک بار پھر دوراہے پر

بات یہ ہے - ارشاد محمود

14 اگست 2019

Kashmir ak bar phir

بھارتی Indian آئین کے آرٹیکل 370 اور 35 اے میں ترمیم اور مقبوضہ جموں و کشمیر Kashmir کو دوحصوں میں تقسیم کرکے مرکزی حکومت کے تابع کرنے کے اقدام نے صرف کشمیریوں کو زبردست اشتعال میں ہی مبتلانہیں کیا بلکہ بھارت India اور پاکستان Pakistan کے مابین کشیدگی میں بھی غیر معمولی اضافہ کردیا ہے۔ کشمیر کے عوام گزشتہ چھ دنوں سات دنوں سے مکمل لاک ڈاؤن اور محاصرے میں زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔ بیرونی دنیا تک انہیں ر سائی نہیں حتی کہ مقامی اخبارات تک نہیں چھپ پارہے۔پانچ سو سے زائد سیاسی کارکن حراست میں ہیں۔ کوئی نہیں جانتا کہ کرفیو ختم ہونے کے بعد عوامی ردعمل کیا ہوگا؟ کشمیری عوام اپنی انفرادیت ، ثقافت ، زبان اور ریاست کے مسلم تشخص کے بارے میں ہمیشہ سے بہت حساس رہے ہیں۔ 35 اے کا خاتمہ خاص طور پر کشمیریوں کے لیے ناقابل قبول ہے ۔اس قانون کے خاتمے سے قبل بھارتی Indian شہری کشمیر میں زمین خریدنے ، اسکالرشپ حاصل کرنے یا سرکاری ملازمت کے حقدار نہیں تھے۔ یہاں تک کہ وہ خواتین جنہوں نے بیرونی لوگوں سے شادی کی ، ان کے بچے بھی جموں و کشمیر Kashmir میں جائیداد کی ملکیت کے حقدار نہیں تھے۔ مقامی معاملات میں قانون سازی بھی کشمیر اسمبلی کرتی تھی اور بھارتی Indian حکومت اپنے قوانین کی جموں وکشمیر تک توسیع کے لیے مقامی اسمبلی کی منظوری کی محتاج تھی۔ ترمیم شدہ قانون نے بھارتی Indian شہریوں کے لئے اراضی کی خریداری اور مقبوضہ کشمیر کی شہریت حاصل کرنے کا راستہ کھول دیاہے۔ اس اقدام کو خطے کی آبادیاتی تشکیل کو بگاڑنے کا ایک منصوبہ سمجھا جاتا ہے۔ واشنگٹن پوسٹ نے ایک بھارتی Indian صحافی رانا ایوب کے حوالے سے بڑا بر محل تبصرہ کیا’’کشمیر اب فلسطین کا ویسٹ بینک ہے‘‘ یہ حقیقت اب پوری طرح آشکار ہوچکی ہے کہ حکمران بھارتی Indian ہ جنتا پارٹی کا حتمی مقصد جموں وکشمیر کے مسلم اکثریتی کردار کو تبدیل کرنا اور سری نگر کے اقتدار پر قبضہ کرنا ہے۔ ریاستی قانون ساز اسمبلی کے 2014 ء کے الیکشن میں بی جے پی BJP نے 87 میں سے 25 سیٹیں حاصل کیں۔ یاد رہے کہ اسی پارٹی نے 2008 ء کے انتخابات میں محض 11 سیٹیں حاصل کیں۔ وزیر اعظم Prime Minister مودی نے خود کشمیر کے اہم مقامات کا دورہ کیا اور بڑے پیمانے پر انتخابی مہم چلائی۔ حالیہ تقسیم اور منسوخی کے اقدام کو اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔کشمیر کی موجودہ صورتحال مسئلہ کشمیر Kashmir Issue کو واپس عالمی منظرنامہ پر لاچکی ہے۔ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل اور یو این ایچ آر سی کے کمشنر نے دہلی کے حالیہ اقدام پر نہ صرف تنقید کی بلکہ مسئلہ کشمیر Kashmir Issue کے مستقل حل کے سلسلے میں انتہائی اہم نکات اٹھائے۔سکریٹری جنرل نے کہا کہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی پوزیشن اس کے چارٹر اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق ہے۔ سکریٹری جنرل نے شملہ معاہدہ کی اس شق کو بھی دہرایا جودونوں ممالک کو تنازعہ کشمیر کے پرامن اور حتمی حل کی پابند کرتی ہے۔ یہ بات ذہن میں رہے کہ گزشتہ تیرہ ماہ میں اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق نے دو بار بھارت India اور پاکستان Pakistan کی حکومتوں پر زوردیا کہ وہ ‘‘بین الاقوامی قانون کے تحت کشمیر کے عوام کے حق خودارادیت کا مکمل احترام کریں‘‘۔نہ صرف چین China ، ترکی ، ملائشیا اور او آئی سی نے اس اقدام کی مذمت کی بلکہ بین الاقوامی کمیشن آف جیوریسٹ (آئی سی جے) نے بھی بھارتی Indian اقدامات پر سخت تنقید کی اور دہلی سے مطالبہ کیا کہ وہ اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کی سفارشات پر عمل درآمد کرے۔کشمیر کے بارے میں بھارتی Indian پارلیمنٹ میں ہونے والی بحث میں حکمران بی جے پی BJP کے عہدے داران کا لب ولہجہ ناگوار اور دھمکی آمیز تھا۔ بھارت India کے وزیر داخلہ امیت شاہ نے کہا : بھارت India آزادکشمیر کو واپس لینے کی کوشش کریگا اور وہ خون کا آخری قطرہ تک بہانے کے لیے تیار ہیں بلکہ چین China کے زیرانتظام اکسائی چن کے حصول کے لیے بھی لڑے گی۔ بھارتی Indian پارلیمنٹ میں ہونے والا بحث و مباحثے اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ بنیاد پرستوں نے پورے ملک کو گھیر رکھا ہے۔ سیکولر ، لبرل ، جمہوری اور جامع قوم کے نظریہ کو لگ بھگ دفن کردیا گیا ہے۔ پاکستان Pakistan نے مقبوضہ جموں وکشمیر میں آبادی کا تناسب بگاڑنے کی دانستہ کوششوں اور کشمیریوں کے حقوق کے لیے سیاسی اور سفارتی مہم تیز تر کرنے کا سلسلہ شروع کررکھا ہے۔ عالمی رائے عامہ کی حمایت حاصل کرنے کی مسلسل کو شش کی جارہی ہے۔ وزیر اعظم Prime Minister عمران خان Imran Khan نے برسر اقتدار کے بعد بھارت India کو مذاکرات کی میز پر لانے کی بھرپور کوشش کی۔ یہاں تک کہ پلوامہ Pulwama حملے کے بعد کے آخری وقت میں بھی ، انہوں نے دونوں ممالک کے مابین تعلقات کو پٹڑی پر ڈالنے کی کوشش کی۔ ثالثی کے لیے امریکہ United States کے صدر سے درخواست کی۔ حالانکہ امریکہ United States بھارت India کا قریبی اسٹریٹجک اتحادی ہے اور ثالثی کی پیش کش سے خطے میں پاکستان Pakistan کے مفاد کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ تھا۔ سکھوں یاتریوں کے لیے کرتار پور کا مقدس مقام کھولنے کا اعلان بھی دونوں ممالک کے مابین جمی برف نہیں پگھلا سکا۔ اب سفارتی اور تجارتی تعلقات کی خرابی کا دور شروع ہوچکا ہے۔ جیسے جیسے وقت گزرتا جارہا ہے۔اندیشہ ہے کہ دونوں ریاستوں کے مابین تعلقات مزید خراب ہوسکتے ہیں کیونکہ پاکستان Pakistan مسئلہ کشمیر Kashmir Issue کے حل کے لئے بین الاقوامی حمایت حاصل کرنے کی مہم شروع کرچکا ہے جو بھارت India کو قبول نہیں۔دوسری جانب مقبوضہ کشمیر کے اندر بڑے پیمانے پر مظاہروں اور احتجاج کے امکانات پائے جاتے ہیں اور جواب میں فوجی کارروائی کے باعث صورتحال مزید ابتر ہو سکتی ہے۔کشمیریوں کے جانی اور مالی نقصان کو کم سے کم کرانے کی ہر ممکن کوشش ترجیح ہونی چاہیے۔بھارتی Indian فوج کے سربراہ کے بیانات بہت ہی تشویش ناک ہیں۔وہ فوجی سربراہ کم اور تھانے دار زیادہ لگتے ہیں۔ موجودہ صورت حال سے باہر نکلنے کا ایک ہی راستہ ہے کہ امریکہ United States دونوں ممالک کی مددکو آئے اور کشیدگی کم کرانے کی سنجیدہ کوشش کرے اور ایک بامقصد بات چیت کا آغاز کرانے کے لیے ایک اہم کردار ادا کرے ، جس میں کشمیر یوںکے نمائندے بھی شامل ہوں۔

 48