وزیراعظم کے خدشات

ایک اور ایک - منیر احمد بلوچ

11 اگست 2019

Prime Minister kay khdshat

بھارت India کے تخت پر براجمان راشٹریہ سیوک سنگھ کے مسلم دشمن انتہاپسندوں نے پانچ اگست کو آئین کے آرٹیکل 370 اور35A کی خون آشام تلوار صرف کشمیرپر ہی نہیں بلکہ تمام مسلمانوں کے سینوں میں اس طرح اتار ی ہے کہ دلِ مسلم تڑپ کر رہ گیا ہے ۔وزیر اعظم Prime Minister عمران خان Imran Khan نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دنیا کو خبردار کیا ہے کہ بھارت India کسی بھی وقت پلوامہ‘ نئی دہلی پارلیمنٹ یا ممبئی حملوں کی طرز کی دہشت گردی جیسا کوئی ڈرامہ رچا سکتا ہے۔وزیر اعظم Prime Minister کے اس خطاب پر بھارت India اور پاکستان Pakistan کے کچھ مبصرین نے ان کا مذاق اڑانے کی کوشش کی لیکن وزیر اعظم Prime Minister عمران خان Imran Khan نے پلوامہ Pulwama کے حوالے سے جن خدشات کا اظہار کیا ہے‘ اپنی کتاب '' 26/11 ممبئی حملے‘‘ میں بڑی تفصیل سے بھارت India کے ان ڈراموں کا پوسٹ مارٹم کر چکا ہوں ‘لیکن اگر کچھ ناقدین کو ملک کے حساس اداروں پر بے بنیاد الزام لگانے کا جنون ہو تو پھر بھارت India کے ڈراموں کے سکرپٹ ان کے لکھاریوں کی زبان سے حاضر خدمت ہیں۔

35 برس قبل بھارتی Indian فوج اور ان کی سکیورٹی فورسز نے خالصتان تحریک کو کس طرح ختم کیا ‘انہیں اپنے ہی سکھ عوام اور دنیا کی نظروں میں بد نام کرنے کے لیے دہشت گردی کے کون کون سے ہتھکنڈے استعمال کئے ‘ان کے متعلق اگر بھارت India کی وزارت داخلہ اور میڈیا کو یاد نہیں رہ گیا تو انہیں یاد کرائے دیتے ہیں کہ اندر گاندھی کی جانب سے مقرر کئے جانے والے سفاک ترین گورنر پنجاب کے پی ایس گل نے خود تسلیم کیا تھا کہ انہوں نے جیلوں سے اور انڈر گرائونڈ مافیا سے بد نام ترین جرائم پیشہ افراد کو اپنے ساتھ ملا کر انہیں خالصتان کی آزادی کے لیے کام کرنے والی مختلف سکھ تنظیموں میں شامل کرا دیا تھا اور کچھ نئی تنظیمیں اپنی طرف سے قائم کر دین جن میں Black Cats نام کی ایک تنظیم پنجاب میں ایس ایس پی اظہار عالم کی سربراہی میں قائم کی گئی۔ ایس ایس پی اظہار عالم کو اس کی جنونیت اور بر بریت کی وجہ سے '' عالم سینا‘‘ کے نام سے پکارا جاتا تھا اس کے علا وہCIB کے فنڈز اور مدد سےPanthic Tiger Force اورRAW کی زیر نگرانی مشہور زمانہ Red Brigadeکے ذریعے سکھوں کی خالصتان کے نام سے آزادی کی تحریک کو اپنے ہی عوام کی نظروں میں بد نام کر نے کے لیے سکھوں اور ان کی گھریلو خواتین کے ساتھ ظلم اور زیا دتی کے بازار گرم کرائے گئے اور شریف شہریوں اور کاروباری لوگوں سے لوٹ مار اور بھتہ خوری کی انتہا کر دی۔یہ حقائق گزشتہ پانچ دس سالوں سے بھارتی Indian خفیہ ایجنسیوں کے ریٹائر ہونے والے لوگ اور پنجاب کے ہلاکو خان کے نام سے مشہور گورنر کے پی ایس گل نجی محفلوں اور اخبارات اور رسائل کو انٹر ویو دیتے ہوئے بڑے فخر سے بیان کرتے رہے ہیں ۔

بھارت India کی فوج اور اس کی ایجنسیاں کشمیریوں اور سکھوں کی جدو جہد آزادی کو جیلوں سے نکالے ہوئے مجرموں اور انڈر ورلڈ تنظیموں کے ذریعے بدنام کرتی رہی ہیں ۔انہیں اپنے ہی عوام اور ہمدردوں کی نظروں سے گرانے کے لیے معصوم شہریوں کا قتل عام اور گھروں میں بیٹھی خواتین ‘ سکولوں کالجوں‘ دفتروں اور یونیورسٹیوں کی طالبات کے اغوا اور جبری آبرو ریزی کی گھنائونی اور شرمناک کارروائیاں کروانا بھارتی Indian ایجنسیوں کا عام معمول تھا ۔اگر کسی کو یاد نہیں تو ان سے درخواست ہے کہ وہ بھارت India کے مشہور انگریزی جریدےINDIA TODAY کا15 ستمبر1988ء کا شمارہ ملاحظہ کریں‘ جس میں سکھوں کی تحریک کچلنے والے پنجاب کے گورنر کے نام سے سولین مارشل لا ایڈمنسٹریٹر کے پی ایس گل نے اپنی کارروائیوں کے لیے '' بلیک کیٹ‘‘ کو استعمال کرنے کا بڑے فخریہ انداز میں یہ کہتے ہوئے اعتراف کیا :

I admit without shame that security forces in Punjab cannot do anything without the help of secret bands like black cats.

27 جولائی 2015 ء کی صبح پانچ بجے دینا نگرپولیس سٹیشن پر حملہ ہوتے ہی بھارت India کا تمام الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پاکستان Pakistan کے خلاف بہتان اگلنا شروع ہو گیا ۔اس وقت بھی میں نے اپنے کالم'' گورداسپور ‘‘ میں لکھا تھا کہ بھارت India کے اٹھائے گئے اس طوفان کی گرد بیٹھنے دیں‘ بہت جلد دینا ناتھ پولیس سٹیشن کا سچ سامنے آ جائے گا ‘کیونکہ یہ کارنامہ خالصتان کی دوبارہ ابھرنے والی تحریک کو کچلنے کے لیے کسی نئی'' عالم سینا‘‘ بلیک کیٹ ‘‘اور ریڈ بریگیڈ کے ذریعے کیا گیا ہو گا۔اجیت ڈیول کا دینا ناتھ ناٹک صرف اس لئے رچایا گیا تھا کیونکہ دو دن بعد پاکستان Pakistan بھارت India کے خلاف اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی Sanctions Committee میں قرار دار پیش کرنے جا رہا تھا کہ وہ مقبوضہ کشمیر اور بھارت India میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کر رہا ہے۔ اس اہم موقع پر بھارتی Indian خفیہ ایجنسیوں نے دینا نگر میں اپنی ہی پولیس اور شہریوں کے خون سے ہولی کھیلی‘اس کی وجہ بھی یہی تھی کہ اس سے پہلے کہ پاکستان Pakistan سلامتی کونسل میں بھارت India کا سفاک چہرہ نمایاں کرے‘ دہشت گردی کی سازش میں پاکستان Pakistan کو لپیٹ دیا جائے۔

وزیر اعظم Prime Minister عمران خان Imran Khan کے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب میں پلوامہ Pulwama جیسے کسی واقعے کے خدشات بے جا نہیں‘ ان کے مخالفین اور ناقدین کو بھارت India کا خونخوار چہرہ دکھانا اپنا فرض سمجھتے ہوئے ان سے درخواست ہے کہ وہ دینا نگر حملے کے دو دن بعد 27 جولائی2015ء کی شام بھارت India کے سٹیٹ منسٹر جتیندر سنگھ اور پنجاب کی تین سکیورٹی فورسز کے آئی جی صاحبان کی میڈیا سے کی گئی گفتگو کا ریکارڈ ملاحظہ کر لیں ۔ جتیندر سنگھ کہہ رہا تھا کہ ہمیں تو اس واقعے سے چند دن پہلے ہی اطلاع مل چکی تھی کہ کچھ'' دہشت گرد‘‘ بھارت India میں داخل ہو نے والے ہیں‘جبکہ سٹیٹ منسٹر جتیندر سنگھ کے اس الزام پربھارتی Indian پنجاب کی بارڈر سکیورٹی فورس کے انسپکٹر جنرل انیل پانیوال نے میڈیا کو بتایاکہ ان کے پاس ''دہشت گردوں‘‘ کی پاکستان Pakistan سے بھارتی Indian پنجاب میں داخل ہونے کی کوئی اطلاع نہیں اور جب یہی سوال انسپکٹر جنرل پنجاب BORDER ZONE ایشور چندر سے کیا گیا تو انہوں نے کہا : انہیں حکومت کی کسی بھی ایجنسی یا وزارت داخلہ کی جانب سے اس سلسلے میں کسی قسم کی کوئی اطلاع نہیں ...اور پھر چند گھنٹوں بعد انسپکٹر جنرل کاونٹر ٹیررازم گردیو یادیو نے پنجاب حکومت کے وزیر جتیندر سنگھ کے بیان کی مکمل نفی کرتے ہوئے کہا کہ ان کے پاس'' دہشت گردوں‘‘ کی آمد یا کسی قسم کے حملے کی سرے سے کوئی اطلاع نہیں ۔ دینا ناتھ پولیس سٹیشن اور بس سٹاپ پر حملے کا ڈراپ سین دیکھئے کہ وقوعے کے بعد ''سکیورٹی فورسز اور بھارتی Indian فوج کے مشترکہ آپریشن‘‘ کے دوران گورداسپور پولیس کے ایس پی بلجیت سنگھ نا معلوم حملہ آوروںکے ہاتھوں ہلاک کر دیئے جاتے ہیں‘ جب تحقیق شروع ہوئی تو ان کی گھریلو خواتین نے بتایا کہ گو رنر پی ایس گل کی خصوصی فورس میں شامل بلجیت سنگھ کے باپ کی خالصتانیوں کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد گورنر ایس پی گل نے اس کے بیٹے بلجیت سنگھ کو انسپکٹر بھرتی کرا دیا اور کئی دنوں سے بھائی بلجیت پریشان پھر رہا تھا ‘وہ گردواروں اور اپنے ہاتھوں قتل کئے گئے سکھ نو جوانوں کے گھروں میں جا کر ان سے معافیاں مانگ رہا تھا۔ ایس پی بلجیت سنگھ دینا ناتھ پولیس سٹیشن حملے میں پولیس اہلکاروں کے قتل پر سخت غصے میں کہنا شروع ہو گیا کہ وہ جلد ہی دینا ناتھ سمیت ان کے سارے بھید کھول دے گا۔

بھارت India کی فوج اور ایجنسیاں کشمیریوں اور سکھوں کی جدوجہد آزادی کو جیلوں سے نکالے ہوئے مجرموں اور انڈر ورلڈ تنظیموں کے ذریعے بدنام کرتی رہیں۔ انہیں اپنے ہی عوام اور ہمدردوں کی نظروں سے گرانے کیلئے معصوم شہریوں کا قتل عام ،اغوا اور آبرو ریزی کی گھنائونی اور شرمناک کارروائیاں بھارتی Indian ایجنسیوں کا عام معمول تھا ۔

 152