آرٹیکل 370 کی تنسیخ کے بھارتی Indian وفاق پر اثرات

ریڈ زون سے - کنور دلشاد

11 اگست 2019

Article 370 kay Bharati Wafaq par asraat

بھارت India نے اقوام متحدہ کی قراردادوں ‘ کشمیری عوام کی خواہشات اور عالمی برادری کے تحفظات کی پروا ‘نہ کرتے ہوئے آئین کے آرٹیکل 370 اور 35 اے کو منسوخ کر کے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کردی ہے اور بھارتی Indian صدر نے اس کی توثیق کردی ہے۔آرٹیکل 370 کے تحت مقبوضہ کشمیر کو نیم خودمختاری کی حیثیت حاصل تھی اور بھارتی Indian پارلیمنٹ کا کوئی قانون یہاں اس وقت تک لاگو نہیں ہو سکتا تھا جب تک ریاست کی اسمبلی اس کی منظوری نہ دے ۔ 35اے کے تحت کوئی غیر کشمیری مقبوضہ کشمیر میں جائیداد خرید سکتا‘ نہ ملازمت کر سکتا تھا۔ ان آرٹیکلز کی منسوخی کے بعد ایک تو ریاست کو باضابطہ بھارت India میں ضم کر دیا گیا ہے ‘دوسرا مسلم اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔ مقبوضہ کشمیر اب‘ الگ ریاست کے بجائے بھارت India کی یونین‘ یعنی وفاق کا علاقہ تصور ہوگا۔ لداخ کو بھی کشمیر سے الگ کرکے یہی حیثیت دے دی گئی ہے۔

حکومت ِپاکستان Pakistan نے پرانی روایات کے مطابق ‘عالمی قیادت اور اداروں سے بھارت India کے غیر ذمہ دارانہ اور جارحانہ رویے کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ پاکستان Pakistan ہر حالت میں کشمیریوں کے حق خودارادیت کے ساتھ کھڑا ہے ۔بھارت India کے یکطرفہ طور پر کشمیر کی آئینی حیثیت بدلنے پر اہل کشمیر اور پاکستان Pakistan ہی تشویش کا شکار نہیں‘بلکہ چین China بھی اس معاملے کو سرحدی امن کے لیے خطرہ قرار دے چکا۔ چین China اہم ترین ملک ہے‘ جس نے اس معاملے پر ردعمل دیا۔ اس نے لداخ کو ضم کرنے کی مذمت کی ہے اور کشمیر کو بھارتی Indian یونین میں مدغم کرنے پر تشویش ظاہر کی ہے۔ لداخ پر چین China کی ناراضی کی وجہ لداخ کے مشرق میں کشمیر کا وسیع علاقہ ہے ‘جسے اقصائے چین China کہا جاتا ہے۔ بین الاقوامی قوانین سے آگاہی عالمی تنازعات کو پرُامن طریقے سے حل کرنے میں مدد دیتی ہے۔ پاکستان Pakistan اگر تنازعہ کشمیر کو ایک قانونی مقدمہ بنا کر عالمی برادری کے سامنے پیش کرے تو قانون پسند ترقی یافتہ دنیا کی حمایت حاصل ہوسکتی ہے ۔سابق حکمرانوں کے طویل ادوار میں کشمیر کمیٹی اور کشمیر پالیسی کو دوست نوازی کا ذریعہ بنایا گیا۔ سابق حکومتوں کی نالائقی اور سستی کے باعث بھارت India عالمی فورمز پر دوطرفہ معاہدوں اور الحاق کی دستاویز استعمال کر رہا ہے۔مودی حکومت نے اب‘ خود ہی اس رکاوٹ کو دُور کردیا ہے۔ پاکستان Pakistan ‘جو پہلے ہی آرٹیکل 370 کو تسلیم نہیں کرتا تھا‘ اب عالمی عدالت میں تنازع کشمیر کو نئے حقائق سے ہم آہنگ کرکے کشمیر میں رائے شماری کے لیے موثر آواز اٹھا سکتا ہے۔

وزیراعظم عمران خان Imran Khan کی خصوصی کشمیر کمیٹی کو ادراک ہونا چاہیے کہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کیلئے نریندر مودی narendra modi حکومت نے اپنے آئین کے آرٹیکل 370 کوختم کرکے کئی دوسری ریاستوں کو خوف میں مبتلا کردیا ہے۔ بھارتی Indian آئین کے آرٹیکل 370کے تحت جہاں کشمیر کو خصوصی حیثیت حاصل تھی ‘وہاں آئین کے آرٹیکل 371 اے کے تحت ناگالینڈ کو بھی اس طرح کی خصوصی حیثیت حاصل ہے ۔آرٹیکل 371 اے کے تحت بھارتی Indian پارلیمنٹ کی طرف سے منظور کیا گیا کوئی قانون بھی ناگا قبائل اور مذہبی آزادی کو متاثر نہیں کرسکتا ۔ناگالینڈ کا اعلیٰ عدالتی نظام اسی کے تحت آزاد ہے‘ وہاں کی سول انتظامیہ میں بھی بھارتی Indian مرکزی حکومت مداخلت نہیں کرسکتی۔ ناگالینڈ میں بھی پراپرٹی خریدنے کی پابندی ہے۔ اس طرح بھارتی Indian آئین کے آرٹیکل 371 ایچ میزورام کی ریاست کو بھی خودمختاری دیتی ہے ۔اروناچل پردیش کو بھی بھارتی Indian آئین کے تحت خصوصی حیثیت حاصل ہے ۔بھارتی Indian آئین کے آرٹیکل 371(جی)کے تحت آسام کو بھی خصوصی حیثیت حاصل ہے۔ آرٹیکل 371(سی)منی پور ریاست کو کشمیر کی طرز پر خصوصی حیثیت دیتی ہے ۔ان تمام ریاستوں کے باشندے بے چینی کا شکارہیں۔

مہاراجہ جموں و کشمیر Kashmir ہری سنگھ نے جموں وکشمیر کی آزادانہ حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے 1927ء میں کشمیری پنڈتوں کی مشاورت سے یہ قانون نافذ کیا تھا کہ کشمیر کی آزادانہ حیثیت ہوگی اور ہندوستان کے ہندوؤں کو جموں و کشمیر Kashmir میں شہریت رکھنے‘ پراپرٹی خریدنے‘ سرمایہ کاری کرنے اور کاروبار کرنے کی ممانعت ہوگی ‘ اس قانون کا دائرہ گلگت بلتستان اور لداخ تک پھیلا ہوا تھا۔اسی قانون کی بنیاد بنا کر بھارتی Indian وزیراعظم پنڈت جواہر لعل نہرو نے 1954ء میں آئین کے آرٹیکل 35 اے اور 370 کے تحت جموںو کشمیر کی ریاست کو علیحدہ حیثیت دی۔دراصل ہمارے آئینی قانونی ماہرین کو اس آئینی ترمیم کی گہرائی میں جانا چاہیے کہ یہ آرٹیکل بھارتی Indian آئین کے ڈھانچے کی حیثیت سے اہم اور نازک معاملہ ہے ۔دونوں آرٹیکل 35 اے اور 370 بھارتی Indian آئین میں بنیادی ڈھانچے کی حیثیت کے حامل ہیں‘ جیسا کہ پاکستان Pakistan کے آئین میں 2-Aآئین کی روح ہے‘ اسی طرح مقبوضہ جموں و کشمیر Kashmir کی آزادانہ حیثیت کی ضمانت بھارتی Indian آئین کا بنیادی ڈھانچہ ہے ۔ بھارتی Indian پارلیمنٹ کو بھارت India کے آئینی ڈھانچے کو کالعدم قرار دینے یا ترمیم کرنے کی اجازت نہیں ہے ۔ وزیر اعظم Prime Minister اندرا گاندھی نے جب بھارت India میں ایمرجنسی نافذ کی تو سپریم کورٹ آف انڈیا نے 1980ء میں ایک اہم فیصلہ جاری کیاکہ جو آرٹیکل بنیادی ڈھانچے کی زد میں آتے ہیں‘ ان کے بارے میں انڈین پارلیمنٹ ترامیم کرنے کی مجاز نہیں ہے‘لہٰذا ہمیں امید ہے کہ سپریم کورٹ آف انڈیا اپنے ماضی کے فیصلے کی روشنی میں نریندر مودی narendra modi کے حالیہ مذموم ارادوں کو اب بھی ناکام بنا دے گی۔

ایک انڈین چیف الیکشن کمشنر مسٹر مورتی سے میں نے سوال کیا تھا کہ بھارت India کی وحدت کا راز کیا ہے؟ تو انہوں نے کہا :سپریم کورٹ آف انڈیا اور الیکشن کمیشن آف انڈیا‘ لیکن اب‘ اگر مقبوضہ جموںو کشمیر کے بارے میں بھارتی Indian آئین کے آرٹیکل کی ترمیم کو بھارتی Indian سپریم کورٹ کالعدم قرار نہیں دیتی تو بھارتی Indian یونین ٹوٹ جائے گی اور اس کی وحدت کا شیرازہ بکھر جائے گا۔یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ مشرقی پاکستان Pakistan کے سانحے کے بعد شملہ معاہدے میں بھارتی Indian وزیراعظم کی بالادستی کو ملحوظ رکھتے ہوئے خط متارکہ کو لائن آف کنٹرول میں تبدیل کر دیا گیا۔ بادی النظر میں اسے بین الاقوامی سرحد ہی تسلیم کیا گیا تھا ؛حالانکہ شملہ معاہدہ میں خط متارکہ کو برقرار رکھنا چاہیے تھا ‘ اس کی موجودگی میں بھارت India کو آج اپنے آئین کے آرٹیکل 35 اے اور 370 کو منسوخ کرنے کی جرأت نہ ہوتی۔شملہ معاہدہ کی آڑ میں کارگل کا ضلع بھارت India کے حوالے کر دیا گیا‘ جو 1947ء سے1971ء تک آزاد جموں و کشمیر Kashmir کا ہی ضلع تھا اور وادی کشمیر اورسری نگر جانے کیلئے فوجی حکمت عملی کے تحت شاہ رگ کی حیثیت رکھتا تھا۔ ضلع کارگل میں مسلم اکثریت بھی تھی۔ ستمبر 1965ء کی جنگ میں بھارت India نے کارگل پر قبضہ کرلیا‘ لیکن تاشقند معاہدہ کے تحت پاکستان Pakistan کو یہ علاقہ واپس کردیا گیا ‘تاہم شملہ معاہدے میں پاکستان Pakistan کی حکومت اس اہم ضلع کو بھارت India کے حوالے کرنے پر رضامند ہوگئی اور وادی لیپا کی اہم چوکیاں بھی بھارتی Indian تحویل میں دے دی گئیں ۔ آج تک کسی کشمیری رہنما نے اس کے خلاف آواز نہیں اٹھائی۔مئی 1999ء میں جنرل پرویز مشرف نے کارگل پر قبضہ کرنے کیلئے نئی مہم کا آغاز کیا‘ جو سیاسی اور عسکری اختلافات کی نذر ہوگئی ۔اگر کارگل میں دونوں قوتیں ایک صفحے پر ہوتیں تو پاکستان Pakistan سری نگر کی شاہراہوں پر قابض ہوتا‘ بھارت India کے ایک لاکھ کے لگ بھگ فوجیوں کو اپنی حصار میں کرلیتا اور سری نگر کی بھارتی Indian چوکیاں پاکستانی توپ خانے کی زد میں ہوتیں۔

مقبوضہ کشمیر کی آزادی کیلئے ہمارے حکمران قرار دادوں کے ذریعے عوام کو حوصلہ دیتے رہے‘ کشمیر کمیٹی کا آغاز جنرل ضیا الحق نے کیا تھا‘ جس کی کارکردگی آج تک صفر ہے اور ملکی خزانے پر بوجھ بھی ہے ۔ اس کی کار کردگی کے بارے میں وائٹ پیپر جاری کرنا چاہیے۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی سر براہی میں جو امورِ خارجہ کی ایڈوائزری کونسل بنائی گئی ہے ۔اس کونسل کے بعض ارکان پر ہمارے تحفظات ہیں ۔ وزارت ِداخلہ‘ وزارت ِخارجہ اور حساس ایجنسیوں کو شیخ عبداللہ کی سر گزشت ''آتش چنار‘‘ اور بھارتی Indian ایجنسی کے سابق سر براہ کی مئی2011ء میں لکھی ہوئی کتاب کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ ان میں کئی چہروں کی نقاب کشائی ہوئی ہے ۔

 93