یہیں پہ روز حساب ہو گا

طلوع - ارشاد احمد عارف

11 اگست 2019

Yahen pe roz hisaab hoga

مریم نواز Maryam Nawaz شریف Nawaz Sharif کی گرفتاری پر پیپلز پارٹی کی چیخ و پکار فطری ہے‘ بلاول بھٹو Bilawal Bhutto سب سے زیادہ پریشان ہیں‘ اپنے والد آصف علی زرداری اور پھوپھی فریال تالپور سے زیادہ‘ بلکہ کہیں زیادہ غصہ انہیں مریم نواز Maryam Nawaz کی گرفتاری پر آیا ہوش اڑا دینے والا غصہ‘ یار لوگ اس کی توجیح اپنے اپنے انداز میں کر رہے ہیں‘ کسی کا خیال ہے کہ پیپلز پارٹی کے نوجوان قائد کو اپنی گرفتاری کا دھڑکا ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کے نزدیک پیپلز پارٹی کی قیادت مریم نواز Maryam Nawaz کی باغیانہ تقریروں کو غنیمت سمجھ رہی تھی کہ حکومت اور فوج کے خلاف محترمہ عوام کو اکساتی اور اپنے حلیفوں کی سودے بازی پوزیشن بہتربناتی رہیں‘ افتاد پڑے تو مسلم لیگ اور شریف خاندان بھگتے‘ حکمران اور ان کے سرپرست دبائو میں آئیں تو ساری اپوزیشن کا فائدہ۔ پیپلز پارٹی کی قیادت اسٹیبلشمنٹ کو یہ چکمہ بھی دے سکتی ہے کہ دیکھیں ہماری قیادت مریم نواز Maryam Nawaz شریف Nawaz Sharif کی طرح حدود سے تجاوز نہیں کر رہی پھر بھی زیر عتاب ہے۔ اپنے عشاق سے ایسے بھی کوئی کرتا ہے۔ مریم نواز Maryam Nawaz کی گرفتاری نے یہ تاثر مگر دور کر دیا ہے کہ جموں و کشمیر Kashmir میں حالات خراب اور بھارتی Indian جارحانہ عزائم آشکار ہونے کے بعد قومی اتحاد و یکجہتی کے لئے احتساب کا عمل سست روی کا شکار ہو گااور نیب کو مطلوب اپوزیشن رہنما وسیع تر قومی مفاد میں گرفتاریوں سے بچ جائیں گے۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران جب سرونسٹن چرچل سے پوچھا گیا کہ جرمنی کی یورش بڑھتی جا رہی ہے‘ برطانیہ کا کیا بنے گا ؟تو برطانوی لیڈر نے جواباً سوال کیا تھا کہ آیا برطانوی عدالتیں انصاف کر رہی ہیں ؟ اثبات میں جواب ملنے پر چرچل نے کہا پھر ہماری آزادی اور خود مختاری کو کوئی خطرہ نہیں۔ پاکستان Pakistan میں غیر معمولی حالات پیدا ہوں تو سب سے پہلے اور زیادہ تر جرائم پیشہ عناصر فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ذخیرہ اندوز‘ ناجائز منافع خور‘ قبضہ گروپ‘ سمگلر‘ قرض خور‘ ٹیکس چور وغیرہ وغیرہ۔ جرم اور سیاست میں ملاپ بڑھا تو کسی کو احساس نہ ہوا کہ نتیجہ کیا نکلے گا۔ قوم کے اربوں ڈالر لوٹ کر بیرون ملک منتقل ہوتے اور غیر قانونی طریقے سے واپس آتے رہے‘ کسی کے کان پر پر جوں نہ رینگی‘ کسی نے سوچنے کی زحمت گوارا نہ کی‘ کنگال ملک پر اگر خدانخواستہ برا وقت آیا‘ ازلی دشمن بھارت India نے حملہ کر دیا تو معاشی طور پر دیوالیہ ریاست اپنا دفاع کیسے کر پائے گی؟۔ سونیا گاندھی نے پاکستان Pakistan پر ثقافتی یلغار کا بھاشن دیا تو سب شانت رہے اور نریندر مودی narendra modi نے سجن جندال کے ذریعے پاکستان Pakistan پر شب خون مارا تو کسی کو ہوش نہ آئی ۔جاتی امرا سے واپسی پر نریندر مودی narendra modi نے ایک بیان میں دعویٰ کیا کہ بہترین سفارت کاری کے ذریعے اس نے پاکستان Pakistan میں سول ملٹری تعلقات کا توازن خراب کر دیا؟ مجال ہے کسی نے جواب دینے کی زحمت گوارا کی ہو‘ یہ بیان شیر مادر کی طرح ہضم ہو گیا ‘اب مگر مریم نواز‘ بلاول بھٹو Bilawal Bhutto اور ان کے ہمنوا مودی کے اقدامات کو عمران خان Imran Khan اور جنرل قمر جاوید باجوہ General Qamar Javeed Bajwa کے دورہ امریکہ United States سے جوڑ کر کشمیریوں سے بے وفائی قرار دے رہے ہیں۔ حد ہے ڈھٹائی اور سینہ زوری کی۔ یہ منطق اگر تسلیم کر لی جائے کہ مریم نواز Maryam Nawaz اور نیب و ایف آئی اے کو مطلوب دیگر لیڈروں کی گرفتاری سے مسئلہ کشمیر Kashmir Issue اور قومی اتحاد و یکجہتی کو زک پہنچی تو پاکستان Pakistan کی جیلوں میں مقید دیگر پاکستانیوں کا قصور کیا ہے کہ انہیں اپنی حب الوطنی ثابت کرنے کا موقع نہ ملے۔انہیں فی الفور رہا کر کے 14اگست کی ریلیوںمیں شرکت کا موقع کیوں نہ دیا جائے جہاں وہ’’ کشمیر بنے گا پاکستان Pakistan ‘‘کا نعرہ لگائیں اور مودی سرکار کو پیغام دیں کہ پاکستان Pakistan کے سیاستدان متحد ہوں نہ ہوں ‘ملک کے عوام ‘شریف اور بدمعاش‘ قانون پسند اور قانون شکن‘ معصوم اور جرائم پیشہ سب متحد ہیں ‘ یک جان دوقالب ‘اس پرچم کے سائے تلے سب ایک ہیں۔ خطرات موجود ہیں اور پاکستانی قوم کا متحد ہونا تاریخی ضرورت مگر دنیا کے کسی ملک میں دوران جنگ قانون کو مطلوب افراد کی گرفتاریاں رکی ہیں نہ تھانے کچہری اور عدالتوں پر تالے لگے اور نہ احتساب کا پہیہ سست ہوا ۔ بلاول بھٹو Bilawal Bhutto نے تو اس بات پر بھی حکومت اورعمران کو برا بھلا کہا کہ اس نے ایک خاتون کو گرفتار کیا۔ پیپلز پارٹی کے نوعمر قائد نے عمران خان Imran Khan کو فوجی آمر ضیاء الحق Zia ul Haq سے ملایا جس کے دور میں خواتین کو نہ بخشا گیا‘ اول تو قانون میں کوئی تخصیص نہیں ‘ اگر عورت جرم کرے تو وہ مردوں کی طرح قابل دست اندازی پولیس ہے۔ لیکن یہ استدلال اگر تسلیم کر لیا جائے تو پاکستان Pakistan کی تاریخ میں خواتین کی بے حرمتی اور گرفتاریوں کا ریکارڈ بلاول بھٹو Bilawal Bhutto کے نانا قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو نے توڑا۔ ضیاء الحق Zia ul Haq اور عمران خان Imran Khan کے دور میں سیاسی اختلاف کے باعث کسی گھریلو خاتون کی گرفتاری عمل میں آئی نہ پولیس یا کسی دوسرے ادارے کے اہلکاروں نے لوگوں کے گھروںمیں گھس کر کسی کی ماں بہن ‘ بہو بیٹی کو بے توقیر کیا۔ اپنے ہی ایم این اے نارووال کے ملک سلیمان کی اہلیہ اور کم سن بیٹیوں کو تھانے میں بند کرانے‘ بیگم نسیم ولی خان ‘ چودھری ظہور الٰہی کی صاحبزادیوں ‘ایئر مارشل (ر) اصغر خان کی اہلیہ‘ بیگم مہناز رفیع‘ عاصمہ جہانگیر اور دیگر درجنوں خواتین کو بھٹو کے عہد ستم میں جیل کی ہوا کھانا پڑی‘ ان میں سے کسی پر دستاویزات میں جعلسازی کا الزام تھا نہ جعلی اکائونٹس میں اربوں روپے کی ٹرانزیکشن اور نہ عرب شہریوں کے نام پر کروڑوں ڈالر کی ٹی ٹی وغیرہ۔ بھٹو دور میں گرفتار ہونے والی تمام خواتین سیاسی کارکن تھیں یا سیاستدانوں کی رشتہ دار گھریلو عورتیں۔ گزشتہ روز سابق گورنر سندھ محمد زبیر ایک چینل پر ٹی ٹی کے ذریعے کروڑوں ڈالر منتقلی کا دفاع کر رہے تھے‘ کہنا ان کا یہ تھا کہ ہر تاجر اور کاروباری یہ کام کرتا ہے اور کوئی اس سے پوچھتا نہیں‘ اینکر نے ازرہ مروت مگر موصوف سے یہ نہ پوچھا کہ ان میں سے کس کا باپ یا چچا‘ تایا وزیر اعظم Prime Minister پاکستان Pakistan اور وزیر اعلیٰ پنجاب ہوتا ہے اور یہ بھی کہ اس کو ٹی ٹی کے ذریعے رقوم صرف اس وقت کیوں آتی ہیں‘ اثاثوں میں ہوشربا اضافہ تب کیسے ہوتا ہے‘ جب خاندان اقتدار میں ہو۔ عام دنوںمیں مندا ہی مندا۔ پاکستان Pakistan میں کاروبار اور سیاست کے علاوہ جرم اور سیاست کے ملاپ نے ستم ڈھایا‘ اہل اقتدار نے قومی وسائل‘ عوام کے خون پسینے کی کمائی کو بھی حلوائی کی دکان سمجھا جس پر فاتحہ خوانی ان کا پیدائشی حق ہے‘ کبھی نہ سوچا کہ ایک نہ ایک دن یہاں نہیں تو وہاں اس کا حساب دینا پڑیگا۔ یہ تو وہم و گمان میں نہ تھا کہ کبھی راج سنگھاسن ڈولے گا اور اسی دنیا میں یوم حساب ہو گا ۔ہمارے حکمران اورسیاستدان تقریر نویسوں کا آموختہ دہراتے رہے۔ حبیب جالب اور شعیب بن عزیز کے من پسند اشعار گنگناتے رہے مگر فیض احمد فیض کو کسی نے پڑھا نہ تقریر نویسوں نے بتانے کی زحمت کی جو برسوں قبل کہہ گئے تھے ؎ ہر اک اولی الامرکو صدا دو کہ اپنی فرد عمل سنبھالے اٹھے گا جب ‘جم سرفروشاں پڑیں گے دارورسن کے لالے کوئی نہ ہو گا کہ جو بچا لے جزا ‘ سزا سب یہیں پہ ہو گی یہیں عذاب و ثواب ہو گا یہیں سے اٹھے گا شور محشر یہیں پہ روز حساب ہو گا نریندر مودی narendra modi نے جموں و کشمیر Kashmir میں قیامت صغریٰ بپا کی ‘ نسل پرستی کو ہوا دی اور سرحدوں پر حالات خراب کئے تو اپوزیشن یہ امید لگا بیٹھی کہ مودی کے ان اقدامات کا بھارت India کو فائدہ پہنچے نہ پہنچے ‘شریف خاندان اور زرداری خاندان کو چھوٹ ضرور ملے گی۔ نیب اور دیگر ریاستی ادارے قومی اتحاد و یکجہتی کے نعروں سے مرعوب ہو کر انہیں رعائت دیں گے اورمریم نواز Maryam Nawaz وبلاول مودی کے اقدامات کا ملبہ ڈال کر حکومت‘ فوج ‘آئی ایس آئی ‘ نیب اور ایف آئی اے کو بیک فٹ پر لے آئیں گے‘ یوں سودے بازی آسان ہو گی۔ ریاستی اداروں کا پرنالہ مگروہیں کا وہیں ہے ‘ کشمیری عوام سے اظہار یکجہتی‘ قومی اتحادو دفاع اور احتساب کا عمل شانہ بشانہ چل رہا ہے‘ سبک‘ رواں اور ہموار۔ الٹی ہو گئیں سب تدبیریں‘ کچھ نہ دوا نے کام کیا۔ یہیں پہ روز حساب ہو گا

 394