عید کے بعد9 سے 10ارب کی بڑی وصولی ہوگی : شہزاد اکبر

08 اگست 2019

Shehzad Akbar bara Scandel le aye

وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے کہا کہ عید کے فوری بعد9سے 10ارب کی ریکوری ہونیوالی ہے ، چودھری شوگر ملز میں پوری شریف فیملی شیئرز ہولڈر ہے ، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ شوگر ملز شریف خاندان کی منی لانڈرنگ Money laundering کا گڑھ تھی،نواز شریف Nawaz Sharif فیملی کا سوائے منی لانڈرنگ Money laundering کے کوئی کاروبار نہیں تھا ۔پریس کانفرنس کرتے ہوئے شہزاد اکبر نے کہاہمارے معاشی حالات کی وجہ سے دشمن آج ہمارے خلاف اوچھی حر کتیں کر رہا ہے ، اس وقت کشمیر کا معاملہ انتہائی اہم ہے لیکن دیگر معاملات پر بھی بات کرنا بہت ضروری ہے ۔ انہوں نے کہا 2016 -17 کی آڈٹ رپورٹ کے مطابق چودھری شوگر ملز کو کروڑوں روپے کی سبسڈی دی گئی جس میں پوری فیملی شیئرز ہولڈر ہے جس کمپنی کو ہاتھ لگائیں اس میں سعودی، ٹی ٹی یا لوطا نکل آتا ہے اور جس ٹی ٹی کو ہاتھ لگائیں اس میں سے سعودی اور قطری نکل آتا ہے ۔ ملز کے 70 لاکھ سے زائد شیئرزمریم نواز Maryam Nawaz اور پھر یوسف عباس کو منتقل ہوئے ۔ انہوں نے کہا 1991 میں شریف خاندان نے چودھری شوگر ملز کے نام سے کمپنی بنائی جس کیلئے غیر ملکی کمپنیوں سے ایک کروڑ 50 لاکھ ڈالر کا قرض لیا گیا، بحرین میں قرض لیا گیا اور آف شور کمپنی کے ذریعے سبسڈی لی گئی، غیر ملکی قرض ملز کی مشینری خریدنے کیلئے لیا گیا، کمپنی کا قرض ابھی موصول نہیں ہوا تو شوگر ملز بن گئی، کہا گیا کہ جلدی تھی اس لئے مشینری پہلے ہی خرید لی۔ سٹیٹ بینک پر دباؤ ڈال کر غیر ملکی قرض چودھری شوگر ملز کے اکاؤنٹ میں ڈلوایا گیا۔ شوگر ملز کومنی لانڈرنگ Money laundering کیلئے استعمال کیا گیا ، 2008 میں سعید سیف بن جبار السوادی اور شیخ ذکا الدین نے مریم نواز Maryam Nawaz کو چودھری شوگر ملز کے شیئرز ٹرانسفر کئے ، 2010 میں یہ شیئرز مریم نواز، یوسف عباس شریف کو منتقل کر دیتی ہیں، پھر یہ شیئرز ناصر لوطا اور پھر حسین نواز کو منتقل کر دیئے جاتے ہیں، حسین نواز نے مئی 2014 میں یہ شیئرز نواز شریف Nawaz Sharif کو منتقل کئے جبکہ نواز شریف Nawaz Sharif نے 2016 میں یوسف عباس شریف اور عبدالعزیز عباس شریف کو منتقل کئے ۔ انہوں نے کہا ناصر لوطا یو اے ای میں رئیل اسٹیٹ کا کاروبار کر تا ہے ۔ ناصر لوطا نے مجسٹریٹ کو بیان دیا کہ 2010 میں شریف فیملی کے لوگ میرے پاس آئے اور سرمایہ کاری کیلئے 5 لاکھ ڈالر دیئے ، کچھ عرصہ بعد شریف خاندان کے لوگوں نے اپنی سرمایہ کاری کی رقم واپس لے لی، ناصر لوطا سے یوسف عباس کے اکاؤنٹ میں رقم ٹرانسفر کرائی گئی۔ ناصر لوطا پاکستان Pakistan آ کر تحقیقات میں شامل ہوکرپراسیکیوشن کا گواہ بھی بن چکا ہے ، ناصر لوطا نے بیان حلفی دیا ہے کہ اس کا چودھری شوگر ملز میں کبھی کوئی شیئرز نہیں رہا۔ چودھری شوگر ملز میں ان لوگوں کے شیئرز رکھے گئے جنہیں علم ہی نہیں۔ قاضی فیملی کے ممبران طلعت مسعود قاضی، کاشف مسعود قاضی اور نزہت گوہر کے نام پر منی لانڈرنگ Money laundering ہوئی لیکن ان کا کھل کر کردار سامنے نہیں لایا گیا، قاضی فیملی کے نام پرہونیوالی ٹرانزیکشن کا ریکارڈ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا ملزموں سے وصولی کا آغاز ہو چکا ہے ، حال ہی میں ایک کیس میں 2 ارب سے زائد کی وصولی ہوئی ہے جبکہ عید کے بعد 9 سے 10 ارب کی وصولی ہو گی۔ انہوں نے کہا کچھ ملزم اتنے سخت جان ہیں کہ ان سے وصولی مشکل ہے ۔معاون خصوصی نے کہا ملتان میٹرو منصوبے کی چین China میں بھی تحقیقات ہو رہی ہیں۔

چودھری شوگرملز کیلئے غیر ملکی کمپنیوں سے ایک کروڑ 50لاکھ ڈالر کا قرض لیا گیا، قرض ابھی موصول نہیں ہواتھا تو ملز بن گئی ملز میں ایسے لوگوں کے شیئرز تھے جنہیں علم ہی نہیں،نواز شریف Nawaz Sharif فیملی کا سوائے منی لانڈرنگ Money laundering کے کوئی کاروبار نہیں تھا:پریس کانفرنس

 99