بھارت India نے کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کا نہ پہلے بتایا نہ مشاورت کی، امریکا

08 اگست 2019

America ka Kashmir kay hawaly sy biyan

امریکا نے بھارت India کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت ختم کرنے سے متعلق آگاہ کرنے کی خبروں کو مسترد کردیا۔

امریکی قائم مقام نائب وزیر خارجہ برائے جنوبی و وسطی ایشیا ایلس ویلز نے بھارت India کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے اقدام سے متعلق امریکا کو آگاہ کرنے کی خبروں کی تردید کی۔

ایک بیان میں ایلس ویلز کا کہنا تھا کہ ’میڈیا رپورٹنگ کے برخلاف، بھارتی Indian حکومت نے امریکی حکومت کو جموں و کشمیر Kashmir کی خصوصی آئینی حیثیت کے خاتمے کے بارے میں نہ تو پہلے سے بتایا اور نہ ہی اس حوالے سے کوئی مشاورت کی ہے‘۔

خیال رہے کہ بھارتی Indian میڈیا میں یہ خبریں گردش کررہی ہیں کہ بھارت India نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے سے قبل امریکا کو اعتماد میں لے لیا تھا۔

مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال کا پس منظر

بھارت India نے 5 اگست کو راجیہ سبھا میں کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا بل پیش کرنے سے قبل ہی صدارتی حکم نامے کے ذریعے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی تھی اور ساتھ ساتھ مقبوضہ کشمیر کو وفاق کے زیرِ انتظام دو حصوں یعنی (UNION TERRITORIES) میں تقسیم کردیا تھا جس کے تحت پہلا حصہ لداخ جبکہ دوسرا جموں اور کشمیر پر مشتمل ہوگا۔

راجیہ سبھا میں بل کے حق میں 125 جبکہ مخالفت میں 61 ووٹ آئے تھے۔ بھارت India نے 6 اگست کو لوک سبھا سے بھی دونوں بل بھاری اکثریت کے ساتھ منظور کرالیے ہیں۔

آرٹیکل 370 کیا ہے؟

بھارتی Indian آئین کا آرٹیکل 370 مقبوضہ کشمیر میں خصوصی اختیارات سے متعلق ہے۔

آرٹیکل 370 ریاست مقبوضہ کشمیر کو اپنا آئین بنانے، اسے برقرار رکھنے، اپنا پرچم رکھنے اور دفاع، خارجہ و مواصلات کے علاوہ تمام معاملات میں آزادی دیتا ہے۔

بھارتی Indian آئین کی جو دفعات و قوانین دیگر ریاستوں پر لاگو ہوتے ہیں وہ اس دفعہ کے تحت ریاست مقبوضہ کشمیر پر نافذ نہیں کیے جا سکتے۔

بھارتی Indian آئین کے آرٹیکل 370 کے تحت کسی بھی دوسری ریاست کا شہری مقبوضہ کشمیر کا شہری نہیں بن سکتا اور نہ ہی وادی میں جگہ خرید سکتا ہے۔

بھارتی Indian اقدم پر پاکستان Pakistan کا مؤقف

پاکستان Pakistan نے بھارتی Indian اقدام کو مسترد کرتے ہوئے عالمی فوجداری عدالت میں جانے کا عندیہ دیا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے جاری اعلامیے میں مقبوضہ کشمیر سے متعلق بھارت India کے صدارتی آرڈیننس کی بھرپور مذمت کرتے ہوئے کہا گیا کہ کشمیر ایک متنازع علاقہ ہے جسے بین الاقوامی سطح پر بھی تسلیم کیا جاتا ہے۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ بھارت India کے یکطرفہ اقدامات سے کشمیر کی حثیت تبدیل نہیں کیا جا سکتی، بھارت India کے ایسے اقدامات کشمیریوں کے لیے قابل قبول نہیں ہوں گے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان Pakistan بھارت India کے اس غیر قانونی اقدام کے خلاف تمام آپشنز بروئے کار لائے گا اور پاکستان Pakistan کشمیریوں کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔

وزیر اعظم Prime Minister عمران خان Imran Khan نے بھی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب میں مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت ختم کرنے کے بھارتی Indian اقدام کے خلاف عالمی فوجداری عدالت (انٹرنیشنل کرمنل کورٹ) جانے کا اشارہ دیا ہے۔

چین China کا بھارتی Indian اقدام پر مؤقف

چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ہوا چوینگ نے پاکستان Pakistan اور بھارت India کے درمیان لائن آف کنٹرول پرکشیدگی اور آرٹیکل 370 کو ختم کرنے سے متعلق سوالات پر تحریری جواب میں کہا کہ چین China کو کشمیر کی موجودہ صورتحال پر 'شدید تشویش' ہے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ چین China نے سرحدی علاقے میں بھارتی Indian مداخلت کی ہمیشہ مخالفت کی ہے اور اس بارے میں ہمارا مؤقف واضح اور مستقل ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت India نے اپنا قانون یکطرفہ تبدیل کرکے ہماری خودمختاری کو نقصان پہنچایا، ایسے اقدامات ناقابل قبول اور کبھی قابل عمل نہیں ہوسکتے۔

ترجمان کے مطابق بھارت India سرحدی معاملات پر بیان اور عمل میں ہوشمندی کا مظاہرہ کرے اور بھارت India چین China سے کیے گئے معاہدوں پر قائم رہے، بھارت India ایسے کسی بھی عمل سے باز رہےجو سرحدی امور کو مزید مشکل بنادے۔

 15