کچھ کرنا ہوگا!

کٹہرا - خالد مسعود خان

08 اگست 2019

Kuch Karna Hoga

یہ بات بہرحال طے ہے کہ امریکی حکام حالیہ بھارتی Indian اقدامات کے بارے میں ناصرف پوری طرح آگاہ تھے‘ بلکہ کشمیر کو فلسطین بنانے کی بھارتی Indian کاوشوں میں اسی طرح معاون ہیں‘ جس طرح ایک عرصے سے وہ اسرائیل کی ہر طرح سے پشت پناہی کر رہے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل امریکی سفارت خانے کو تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کرنے والے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھارتی Indian حکومت کی جانب سے آئین کے آرٹیکل 370 اور اس سے جڑی ہوئی ذیلی شق 35 اے کے خاتمہ اور وادی کو مسلم اکثریت سے مسلم اقلیت میں تبدیل کرنے کی گھنائونی سازش میں مکمل طور پر شریک نظر آتے ہیں۔ اسرائیل کو مغربی کنارے پر بستیاں بسانے میں عالمی فورمز پر عددی مدد فراہم کرنے والا امریکہ United States اس مسئلے پر پوری طرح بھارت India کی پشت پر کھڑا محسوس ہوتا ہے۔

1949ء میں کشمیر کے بھارت India کے ساتھ الحاق کے معاہدے کا بنیادی جزو بھارتی Indian آئین کا آرٹیکل 370 ہے‘ جو کشمیر کو امتیازی حیثیت دیتا ہے اور وہ بھارتی Indian اکائی میں رہتے ہوئے بھی بھارتی Indian اکائی کا مکمل حصہ نہیں رہتا۔ دفاع‘ مواصلات اور خارجہ امور کے سوا کشمیر دیگر تمام معاملات میں خود مختار ہے۔ اپنا جھنڈا اور آئین بنا سکتا ہے اور یہ دونوں چیزیں بہرحال مقبوضہ جموں و کشمیر Kashmir میں موجود تھیں۔ جموں و کشمیر Kashmir کے لوگ (مع لداخ) اپنے قانون خود وضع کر سکتے تھے۔ درج بالا تین معاملات‘ یعنی دفاع‘ مواصلات اور خارجہ امور کے علاوہ دیگر کسی قسم کے بھارتی Indian قانون کا اطلاق ریاستی حکومت کی توثیق کے بغیر نہیں ہو سکتا تھا۔ مرکزی حکومت‘ کشمیر میں مالی ایمرجنسی بھی نافذ نہیں کر سکتی تھی۔ اس خصوصی شق کے تحت بھارت India ان تمام قوانین کا اطلاق مقبوضہ جموں و کشمیر Kashmir پر نہیں کر سکتا تھا‘ جو وہ اپنے دیگر صوبوں میں کرتا ہے۔ اس لحاظ سے کشمیر بھارت India کے عام صوبوں سے بہت مختلف حیثیت کا حامل تھا‘ جو مودی سرکار نے ختم کر دی ہے۔

1954ء میں اسی آرٹیکل 370 کی ایک ذیلی شق 35 اے نافذ العمل ہوئی‘ جو کشمیر میں رہنے والوں کو ان کا تشخص برقرار رکھنے اور تحفظ دینے کا ایک مضبوط ذریعہ تھی۔ اس شق کے تحت کشمیر کا پیدائشی شخص ہی کشمیر میں زمین اور جائیداد خریدنے کا حق رکھتا تھا اور کوئی غیر کشمیری یا کشمیر سے باہر پیدا ہونے والا شخص کشمیر میں جائیداد‘ زمین یا کاروبار کے لیے کوئی عمارت وغیرہ نہیں خرید سکتا تھا۔ یہ کشمیر میں کشمیریوں کو احساسِ تحفظ بھی دیتا تھا اور آرٹیکل کی یہ شق کشمیر میں اور خصوصاً وادی میں رہنے والے کشمیری مسلمانوں کی عددی اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کی کوشش کے آگے ایک بہت بڑی رکاوٹ بھی تھی اور کشمیری مسلمانوں کو تحفظ اسی شق کے تحت حاصل تھا‘ وگرنہ بھارتی Indian سیٹھ اور بنیا‘ وادی میں زمین اور جائیداد خرید کر وہاں مالک بن کر بیٹھ جاتا اور کشمیر میں مسلمانوں کے ساتھ وہی تاریخ دہرائی جا چکی ہوتی‘ جو پیسے والے یہودیوں نے فلسطین میں رقم کی۔ پیسے والے ہندو ہزار بار چاہنے کے باوجود محض اس آرٹیکل کی وجہ سے کشمیر کے مسلمانوں کے ساتھ وہ کچھ نہیں کر پا رہے تھے‘ جو یہودیوں نے فلسطین میں مسلمانوں کے ساتھ کیا‘ لیکن اب کشمیر کو پہلے مرحلے پر فلسطین اور دوسرے مرحلے پر کشمیریوں کو ''غزا کی پٹی‘‘ میں دھکیلنے کا منصوبہ نا صرف زیر غور ہے‘ بلکہ اس پر عمل درآمد کے لیے پوری منصوبہ بندی بھی ہو چکی ہے۔

بھارتی Indian وزیر خارجہ کئی روز قبل اپنے اس ارادے کے بارے میں امریکہ United States کو آگاہ بھی کر چکے تھے اور Go ahead کا سگنل بھی لے چکے تھے۔ اطلاع ہے کہ انہوں نے امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کو اس منصوبے کے بارے میں پیشگی اطلاع بھی کر دی تھی اور امریکی رضا مندی بھی حاصل کر لی تھی۔ یہ کسی طور ممکن نہیں کہ امریکہ United States ‘ بھارت India کو اس سلسلے میں واضح طور پر منع کرتا اور مودی سرکار اس سے سرتابی کرتی۔ بھارت India اور امریکہ United States میں آج کل جو گاڑھی چھن رہی ہے‘ اس کو سامنے رکھتے ہوئے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ دونوں ممالک اس سازش میں برابر کے شریک ہیں اور مزے کی بات یہ ہے کہ امریکہ United States جس وقت بھارت India کو کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے لیے آئین کے آرٹیکل 370 اور 35اے کے خاتمے کی منظوری دے رہا تھا‘ اسی وقت پاکستانی وزیر اعظم Prime Minister عمران خان Imran Khan کو مسئلہ کشمیر Kashmir Issue کے حوالے سے ثالثی کی پیشکش کی گولی بھی دے رہا تھا۔ دوسرے لفظوں میں وہ بیک وقت بھارت India کو آشیرباد اور پاکستان Pakistan کو غچہ دے رہا تھا۔

ایک دوست سے کشمیر کے مسئلے پر پاکستان Pakistan اور بھارت India کے درمیان امریکی ثالثی کی پیشکش کی بات ہوئی تو وہ کہنے لگا کہ اوّل تو بھارت India کسی صورت میں یہ ثالثی قبول نہیں کرے گا کہ اس ثالثی کو قبول کرنے کا مطلب یہ ہوا کہ کشمیر پاکستان Pakistan اور بھارت India کے درمیان کوئی تنازعہ ہے اور بھارت India اسے متنازعہ علاقہ یا متنازعہ مسئلہ تسلیم کرتا ہے۔ یہ بھارت India کے دیرینہ مؤقف سے انکار ہوگا کہ بھارت India کشمیر کو اپنا اندرونی مسئلہ سمجھتا ہے اور کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ قرار دیتا ہے۔ امریکی پیشکش قبول کرنے سے یہ دونوں مؤقف ختم ہو جاتے۔ کم از کم نریندر مودی narendra modi تو تسلیم نہیں کریں گے کہ کشمیر پاکستان Pakistan اور بھارت India کے درمیان کوئی متنازعہ مسئلہ ہے اور اس پر گفتگو اور خاص طور پر امریکی ثالثی میں کی جائے۔ اور ہاں! اگر یہ کسی طور ممکن ہو جائے اور بھارت India واقعتاً اس امریکی ثالثی پر آمادہ ہو جائے تو پھر آپ یہ یقین رکھیں کہ مودی سرکار آپ سے مقبوضہ جموں و کشمیر Kashmir پر نہیں بلکہ ادھر والے کشمیر پر بات کرے گی کہ اس کے نزدیک وہ درست ہے‘ حالانکہ تاریخی حقائق کچھ اور ہیں۔ بھارت‘ جس دن عالمی ثالثی میں کشمیر کے مسئلے پر گفتگو کے لیے تیار ہوا‘ وہ وادیٔ کشمیر کی بجائے آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے بارے میں سوال اٹھائے گا اور اس پر اپنا دعویٰ اور حقِ ملکیت جتائے گا۔

کل سے ہر ملنے والا صرف ایک ہی سوال کر رہا ہے کہ پاکستان Pakistan کیا کرے گا؟ کیا کرنا چاہیے اور کیا کر سکتے ہیں؟ گزشتہ سے پیوستہ روز کا اسمبلی کا اجلاس دیکھنے کے بعد تو میرا جواب ہے کہ پہلا کام تو یہ کرنا ہو گا کہ قومی یکجہتی کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔ حکومت اور اپوزیشن کو سینیٹ جیسے واقعات کو وقتی طور پر ایک طرف رکھ کر مشترکہ سوچ اختیار کرنا ہو گی۔ ایک بات طے ہے کہ یہ مسئلہ محض قراردادوں سے‘ مذمتوں سے‘ دعائوں سے اور سڑکوں پر جلوسوں سے نہ تو حل ہو گا اور نہ ہی اس کا کوئی نتیجہ نکلے گا؛ حتیٰ کہ یہ مسئلہ او آئی سی کے بس سے بھی باہر ہے کہ دھنیا مارکہ یہ تنظیم کس طاقت اور اہمیت کی حامل ہے؟ یہ اپنوں کو بھی علم ہے اور غیروں کو بھی پتا ہے۔ اس مسئلے پر کوئی عرب ملک کھل کر آپ کا ساتھ نہیں دے گا کہ وہ تو فلسطین کے مسئلے پر بھی خود کچھ کرنے کی بجائے آپ کی طرف دیکھتے ہیں۔ وہ نہ اسرائیل کے بارے میں کوئی سخت بات کہتے ہیں کہ امریکہ United States بہادر ناراض نہ ہو جائے۔ نہ ہی وہ بھارت India کو ناخوش کر سکتے ہیں۔ چین China علاقہ پارٹنر ہے۔ سو‘ اس کو جغرافیائی مسائل کے باعث اس مسئلے سے دلچسپی بھی ہے اور کنسرن بھی۔ لے دے کر ایک ترکی ہے‘ لیکن بھارت India اس کی پروا کیوں کرے گا؟ فوجی حل بھی شاید ممکن نہیں ہے۔ باقی اللہ پوچھے جنرل پرویز مشرف سے‘ جس نے لائن آف کنٹرول پر بھارتی Indian علاقے میں لگائی جانے والی باڑ پر اس دوران آنکھیں بند کئے رکھیں۔ یٰسین ملک کے بارے میں جو افواہ ہے‘ خدا کرے کہ وہ افواہ ہی ہو۔ لے دے کر ایک ضعیف العمر ناقابلِ یقین حد تک بہادر اور پیکرِ استقلال سید علی گیلانی ہیں‘ جو آہ و پکار بھی کر رہے ہیں اور مزاحمت بھی‘ لیکن کب تک؟ ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت India کو سہولت فراہم کرنے کی غرض سے عمران خان Imran Khan کے دورۂ امریکہ United States سے قبل حافظ سعید کو بھی گرفتار کروا دیا تھا‘ تاکہ ''سنجیاں ہو جان گلیاں‘ تے وچ مرزا یار پھرے‘‘۔

لیکن انسانی تدبیروں سے اوپر بھی فیصلہ کرنے والی ایک طاقت ہے‘ جو طاقت اور تکبر کو سرنگوں کرتی ہے اور کمزور و ناتواں کو حوصلہ اور سرفرازی عطا کرتی ہے‘ لیکن صرف اور صرف مذمت کاری‘ احتجاج‘ قرارداد‘ ٹیلی فون‘ اجلاس‘ جلوس اور دعا سے کچھ نہیں بنے گا۔ اس سے آگے جانا ہو گا۔

 210