بھارتی Indian حکومت کیوں پاگل پن کا مظاہرہ کر رہی ہے!!!

Hamza Meer

07 اگست 2019



بھارتی Indian حکومت کیوں پاگل پن کا مظاہرہ کر رہی ہے!!!

کالم نگار::حمزہ میر

بھارت India کی طرف سے جنگ کی دھمکیاں کوئی نئی بات نہیں جب بھی بھارت India میں انتخابات کا وقت قریب آتا ہے تو سرحد پر کشیدگی بڑھا دی جاتی ہے لوگوں کو دیکھایا جاتا ہے کہ اب پاکستان Pakistan سے جنگ ہونے جا رہی ہے ایسا اس لیے کیا جاتا ہے کیونکہ بھارت India میں پاکستان Pakistan مخالف ایجنڈا پسند کیا جاتا ہے خاص طور پر مسلمانوں کے خلاف اقدامات کو پسند کیا جاتا ہے کیونکہ اگر ہم برصغیر کی تاریخ دیکھیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ہندو شروع سے ہی مسلمانوں کے مخالف رہے ہیں انگریزوں کے ساتھ مل کر مسلمانوں پر ظلم کرتے رہے اوپر سے مسلمانوں کے ساتھ رہتے تھے لیکن اندر سے انگریزوں کے اقدامات کی حمائیت کرتے تھے یعنی دونوں وکٹوں پر کھیلتے تھے یہ ہی وجہ تھی کہ جب بھی مذاکرات ہوتے کسی بھی معاملے کے لیے انگریز حاکم وقت مسلمانوں کی بجائے ہندوں کی بات کو اہمیت دیتے تھے- اسی وجہ سے قائداعظم محمد علی جناح نے کانگرس چھوڑی تھی کیونکہ ان کو سمجھ آ گئی تھی کہ کانگرس صرف ہندوں کے حقوق اور ہندوں کو حکومت میں لانے کے لیے بنائے گئی ہے کیونکہ فرنگی سرکار کے ہر مسلمان مخالف اقدام کے پہچھے ہندو ذہن ضرور ہوتا تھا اسی لیے علامہ اقبال نے اپنے ساتھی دوستوں کے ساتھ مشاورت کر کے دو قومی نظریہ پیش کیا تھا یہی دو قومی نظریہ پاکستان Pakistan کی بنیاد بنا تھا دو قومی نظریہ یہی تھا کہ ہندو اور مسلمان دو الگ تلواریں ہیں جو ایک میان میں نہیں رہ سکتیں اگر رہیں تو نقصان دونوں کا ہو گا اور فائدہ تیسرا شخص لے جائے گا دونوں قوموں کا مذہب الگ ہے، روایت الگ ہیں اس لیے دونوں ممالک کو الگ ہونا چاہیے اور یوں پاکستان Pakistan برصغیر کے مسلمانوں کے لیے بنایا گیا- بھارتی Indian ہندو شروع دن سے ہی مسلمانوں کے مخالف تھے اور مسلمانوں کی مخالفت کے لیے انہوں نے الگ شدت پسند تنظیمیں بھی بنا لیں تھی جو آج بھی شیوسینا اور آر-ایس-ایس کی شکل میں موجود ہیں انہیں شدت پشند اور مسلمان مخلاف گروہ کو موجودہ بھارتی Indian حکومتی جماعت (بے-جی-پی) کی مکلمل طور پر حمائیت حاصل ہے موجودہ بھارتی Indian وزیراعظم نریندر مودی narendra modi تو پہلے ہی مسلم مخالف سمجھے جاتے ہیں اور گجرات فسادات کا کس کو نہیں معلوم یہ موصوف ان فسادات کے وقت اس بدقسمت ریاست کے وزیراعلی تھے ان کے دفتر سے براہ راست مسلمانوں کو بےدردی اور بےرحم طریقے سے قتل کرنے کے احکامات جاری ہوتے رہے- لیکن مودی تم پاکستان Pakistan اور کشمیر کو بھارتی Indian ریاست گجرات مت سمجھو کیونکہ پاکستان Pakistan کو جس نے تباہ کرنے کی کوشش کی اس کو پاکستانی عوام نے اپنی پاک اور نڈروبہادر فوج کے ساتھ مل کر شکست دی چاہیے 1965 کی جنگ ہو جب پاکستانی قوم اور فوج نے بھارتی Indian سورماوں کو چاروں شانے چت کیا اور مذموم آزائم خاق میں ملائے اب بھی اگر بھارت India نے جنگ میں پہل کی تو نتائج مختلف نہیں ہوں گے کیونکہ آرمی چیف اور وزیراعظم پاکستان Pakistan دوٹوک علان کر چکے ہیں کہ پاکستان Pakistan جنگ میں پہل نہیں کرے گا البتہ اپنی سرحد اور شہ رگ کشمیر کو مزید مضبوط ضرور بنائے گا پاکستان Pakistan مذاکرات کے زریعے معملات کو بہتر کرنے کا خواہاں ہے تا کہ کشمیر کا معملہ بغیر خون بہے ہو جائے لیکن اگر بھارت India نے جنگ کی اور حملہ کرنے کی کوشش کی تو پاکستان Pakistan اس حملے کا بھرپور جواب دے گا جنگ سے تباہی ہو گی کیونکہ دونوں ممالک ایٹمی ممالک ہیں جنگ دونوں ممالک کے حق میں نہیں وزیراعظم عمران خان Imran Khan نے بھی بھارت India کو صاف الفاظ میں کہا ہے کہ پاکستان Pakistan اور کشمیر کی سالمیت پر کوئی سمجھوتا نہیں ہو گا جنگ دونوں ممالک کے لیے بہتر نہیں- اگر اب کشمیر کے ساتھ جو کیا ہے تو اب لوگ کاموش نہیں ہوں گے بلکہ الیاس کشمیری،رفیق بٹ، صادق وائیں،برہان وانی جیسے مزید جوان میدان عمل میں آئیں گئے اور آزادی کی جنگ لڑیں گے اور پلوامہ Pulwama جیسے مزید حملے ہوں گے پلوامہ Pulwama کا حملہ تو صرف ایک نوجوان کشمیری عادل ڈار Aadil Dar نے اپنا بدلہ لیا تھا جو اس کے کزن کو اس کےسامنے قتل کر دیا گیا تھا اس میں پاکستان Pakistan کی کوئی مداخلت نہیں بھارت India کوئی ثبوت بھی نہیں پیش کر سکا لیکن جو ہوا وہ قدرتی طور پر ہوا کشمیروں پر بہت ظلم کیا گیا تھا اور اج بھی کیا جا رہا ہے اور اب تو کشمیر کا ریاستی حق بھی زبردستی چھین لیا ہے مودی جیسے انسان نما درندے نے اور اس کا ساتھ خوب دیا ہے آر-ایس-آیس نے جو بھارتی Indian مسلم دشمن اور انتہا پسند جماعت ہے- بھارت India اپنی سمت درست کرے اور الزام تراشی بند کرے ورنہ چینی تونصل خانے پر ہونے والے حملے میں بھارتی Indian ایجنسی راہ کی مداخلت کے مکلمل ثبوت پاکستان Pakistan کے پاس ہیں پاکستان Pakistan کو تنگ مت کیا جائے ورنہ جو ہو گا اس کا ذمہ دار خود مودی ہوگا- ہمیں چائیے کے ہم مل جل کر رہیں اور کشمیر کا مسلہ ان لوگوں کی خواہش کے مطابق حل کریں محبت کا ہاتھ ہمیشہ پاکستان Pakistan نے بڑھایا لیکن دوسری طرف سے لڑائی کی آواز آئی لیکن یہ آواز تب آئی جب بھارت India میں (بے-جی-پی) کی حکومت رہی کانگرس کی حکومت میں بھارت India کے پاکستان Pakistan کے ساتھ معملات بہتر ہوتے ہیں مگر کانگرس کے دور میں بھی پاکستان Pakistan پر الزامات لگائے جاتے رہے لیکن ثبوت کوئی بھی نہیں دے پایا بھارت India اب بھی ایسا ہی ہے بارڈر پر بھی کشیدگی عروج پر ہے میڈیا پر بھی بھارت India حملے کی دھمکیاں دے رہا ہے لیکن بھارت India بھی جانتا ہے کہ پاکستان Pakistan کو بھارت India جنگ میں شکست نہیں دے سکتا اگر ااب کشمیر کا ساتھ نہیں دیا گیا تو کشمیر کے لوگ کبھی پاکستان Pakistan کو معاف نہیں کریں گے اگر کشمیر نا بچا سکے تو بلوچستان Balochistan نہیں بچے گا پنجاب بڑھا بھائی ہے وہ بھی ٹوٹ جائے گا، سندھ جیسی صوفیاں کرام کی دھرتی بھی نہیں بچ سکے گی ہمارا پشاور بھی نہیں رہے گا کیونکہ اگر ایک علاقہ نا بچا سکے تو باقی بھی نہیں بچیں گے -

 161