بھارتی حکومت کیوں پاگل پن کا مظاہرہ کر رہی ہے!!!

بھارتی حکومت کیوں پاگل پن کا مظاہرہ کر رہی ہے!!!

بھارتی حکومت کیوں پاگل پن کا مظاہرہ کر رہی ہے!!!

کالم نگار::حمزہ میر

بھارت کی طرف سے جنگ کی دھمکیاں کوئی نئی بات نہیں جب بھی بھارت میں انتخابات کا وقت قریب آتا ہے تو سرحد پر کشیدگی بڑھا دی جاتی ہے لوگوں کو دیکھایا جاتا ہے کہ اب پاکستان سے جنگ ہونے جا رہی ہے ایسا اس لیے کیا جاتا ہے کیونکہ بھارت میں پاکستان مخالف ایجنڈا پسند کیا جاتا ہے خاص طور پر مسلمانوں کے خلاف اقدامات کو پسند کیا جاتا ہے کیونکہ اگر ہم برصغیر کی تاریخ دیکھیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ہندو شروع سے ہی مسلمانوں کے مخالف رہے ہیں انگریزوں کے ساتھ مل کر مسلمانوں پر ظلم کرتے رہے اوپر سے مسلمانوں کے ساتھ رہتے تھے لیکن اندر سے انگریزوں کے اقدامات کی حمائیت کرتے تھے یعنی دونوں وکٹوں پر کھیلتے تھے یہ ہی وجہ تھی کہ جب بھی مذاکرات ہوتے کسی بھی معاملے کے لیے انگریز حاکم وقت مسلمانوں کی بجائے ہندوں کی بات کو اہمیت دیتے تھے- اسی وجہ سے قائداعظم محمد علی جناح نے کانگرس چھوڑی تھی کیونکہ ان کو سمجھ آ گئی تھی کہ کانگرس صرف ہندوں کے حقوق اور ہندوں کو حکومت میں لانے کے لیے بنائے گئی ہے کیونکہ فرنگی سرکار کے ہر مسلمان مخالف اقدام کے پہچھے ہندو ذہن ضرور ہوتا تھا اسی لیے علامہ اقبال نے اپنے ساتھی دوستوں کے ساتھ مشاورت کر کے دو قومی نظریہ پیش کیا تھا یہی دو قومی نظریہ پاکستان کی بنیاد بنا تھا دو قومی نظریہ یہی تھا کہ ہندو اور مسلمان دو الگ تلواریں ہیں جو ایک میان میں نہیں رہ سکتیں اگر رہیں تو نقصان دونوں کا ہو گا اور فائدہ تیسرا شخص لے جائے گا دونوں قوموں کا مذہب الگ ہے، روایت الگ ہیں اس لیے دونوں ممالک کو الگ ہونا چاہیے اور یوں پاکستان برصغیر کے مسلمانوں کے لیے بنایا گیا- بھارتی ہندو شروع دن سے ہی مسلمانوں کے مخالف تھے اور مسلمانوں کی مخالفت کے لیے انہوں نے الگ شدت پسند تنظیمیں بھی بنا لیں تھی جو آج بھی شیوسینا اور آر-ایس-ایس کی شکل میں موجود ہیں انہیں شدت پشند اور مسلمان مخلاف گروہ کو موجودہ بھارتی حکومتی جماعت (بے-جی-پی) کی مکلمل طور پر حمائیت حاصل ہے موجودہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی تو پہلے ہی مسلم مخالف سمجھے جاتے ہیں اور گجرات فسادات کا کس کو نہیں معلوم یہ موصوف ان فسادات کے وقت اس بدقسمت ریاست کے وزیراعلی تھے ان کے دفتر سے براہ راست مسلمانوں کو بےدردی اور بےرحم طریقے سے قتل کرنے کے احکامات جاری ہوتے رہے- لیکن مودی تم پاکستان اور کشمیر کو بھارتی ریاست گجرات مت سمجھو کیونکہ پاکستان کو جس نے تباہ کرنے کی کوشش کی اس کو پاکستانی عوام نے اپنی پاک اور نڈروبہادر فوج کے ساتھ مل کر شکست دی چاہیے 1965 کی جنگ ہو جب پاکستانی قوم اور فوج نے بھارتی سورماوں کو چاروں شانے چت کیا اور مذموم آزائم خاق میں ملائے اب بھی اگر بھارت نے جنگ میں پہل کی تو نتائج مختلف نہیں ہوں گے کیونکہ آرمی چیف اور وزیراعظم پاکستان دوٹوک علان کر چکے ہیں کہ پاکستان جنگ میں پہل نہیں کرے گا البتہ اپنی سرحد اور شہ رگ کشمیر کو مزید مضبوط ضرور بنائے گا پاکستان مذاکرات کے زریعے معملات کو بہتر کرنے کا خواہاں ہے تا کہ کشمیر کا معملہ بغیر خون بہے ہو جائے لیکن اگر بھارت نے جنگ کی اور حملہ کرنے کی کوشش کی تو پاکستان اس حملے کا بھرپور جواب دے گا جنگ سے تباہی ہو گی کیونکہ دونوں ممالک ایٹمی ممالک ہیں جنگ دونوں ممالک کے حق میں نہیں وزیراعظم عمران خان نے بھی بھارت کو صاف الفاظ میں کہا ہے کہ پاکستان اور کشمیر کی سالمیت پر کوئی سمجھوتا نہیں ہو گا جنگ دونوں ممالک کے لیے بہتر نہیں- اگر اب کشمیر کے ساتھ جو کیا ہے تو اب لوگ کاموش نہیں ہوں گے بلکہ الیاس کشمیری،رفیق بٹ، صادق وائیں،برہان وانی جیسے مزید جوان میدان عمل میں آئیں گئے اور آزادی کی جنگ لڑیں گے اور پلوامہ جیسے مزید حملے ہوں گے پلوامہ کا حملہ تو صرف ایک نوجوان کشمیری عادل ڈار نے اپنا بدلہ لیا تھا جو اس کے کزن کو اس کےسامنے قتل کر دیا گیا تھا اس میں پاکستان کی کوئی مداخلت نہیں بھارت کوئی ثبوت بھی نہیں پیش کر سکا لیکن جو ہوا وہ قدرتی طور پر ہوا کشمیروں پر بہت ظلم کیا گیا تھا اور اج بھی کیا جا رہا ہے اور اب تو کشمیر کا ریاستی حق بھی زبردستی چھین لیا ہے مودی جیسے انسان نما درندے نے اور اس کا ساتھ خوب دیا ہے آر-ایس-آیس نے جو بھارتی مسلم دشمن اور انتہا پسند جماعت ہے- بھارت اپنی سمت درست کرے اور الزام تراشی بند کرے ورنہ چینی تونصل خانے پر ہونے والے حملے میں بھارتی ایجنسی راہ کی مداخلت کے مکلمل ثبوت پاکستان کے پاس ہیں پاکستان کو تنگ مت کیا جائے ورنہ جو ہو گا اس کا ذمہ دار خود مودی ہوگا- ہمیں چائیے کے ہم مل جل کر رہیں اور کشمیر کا مسلہ ان لوگوں کی خواہش کے مطابق حل کریں محبت کا ہاتھ ہمیشہ پاکستان نے بڑھایا لیکن دوسری طرف سے لڑائی کی آواز آئی لیکن یہ آواز تب آئی جب بھارت میں (بے-جی-پی) کی حکومت رہی کانگرس کی حکومت میں بھارت کے پاکستان کے ساتھ معملات بہتر ہوتے ہیں مگر کانگرس کے دور میں بھی پاکستان پر الزامات لگائے جاتے رہے لیکن ثبوت کوئی بھی نہیں دے پایا بھارت اب بھی ایسا ہی ہے بارڈر پر بھی کشیدگی عروج پر ہے میڈیا پر بھی بھارت حملے کی دھمکیاں دے رہا ہے لیکن بھارت بھی جانتا ہے کہ پاکستان کو بھارت جنگ میں شکست نہیں دے سکتا اگر ااب کشمیر کا ساتھ نہیں دیا گیا تو کشمیر کے لوگ کبھی پاکستان کو معاف نہیں کریں گے اگر کشمیر نا بچا سکے تو بلوچستان نہیں بچے گا پنجاب بڑھا بھائی ہے وہ بھی ٹوٹ جائے گا، سندھ جیسی صوفیاں کرام کی دھرتی بھی نہیں بچ سکے گی ہمارا پشاور بھی نہیں رہے گا کیونکہ اگر ایک علاقہ نا بچا سکے تو باقی بھی نہیں بچیں گے -

 193