راجیہ سبھا کے بعد کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا بل لوک سبھا سے بھی منظور

07 اگست 2019

Indian Article 370

نئی دہلی: بھارتی Indian راجیہ سبھا (ایوان بالا) کے بعد لوک سبھا (ایوان زیریں) سے بھی مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے اور 2 حصوں میں تقسیم کرنے والے بل منظور کرلیے گئے۔

بھارت India نے گزشتہ روز راجیہ سبھا میں کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا بل پیش کرنے سے قبل ہی صدارتی حکم نامے کے ذریعے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی تھی اور ساتھ ساتھ مقبوضہ کشمیر کو وفاق کے زیرِ انتظام دو حصوں یعنی (UNION TERRITORIES) میں تقسیم کردیا تھا جس کے تحت پہلا حصہ لداخ جبکہ دوسرا جموں اور کشمیر پر مشتمل ہوگا۔

بھارتی Indian وزیر داخلہ امیت شاہ نے 5 اگست کو مقبوضہ کشمیر سے متعلق آرٹیکل 370 ختم کرنے کا بل راجیہ سبھا میں پیش کیا تھا جس پر بل کے حق میں 125 جبکہ مخالفت میں 61 ووٹ آئے تھے۔

راجیہ سبھا سے منظوری کے بعد بھارتی Indian وزیر د اخلہ امیت شاہ نے آرٹیکل 370 ختم کرنے اور مقبوضہ کشمیر کو 2 حصوں میں تقسیم کرنے کا ’جموں و کشمیر Kashmir کی تشکیل نو‘ کے نام سے بل لوک سبھا میں پیش کیا۔

خیال رہے کہ ہندو انتہا پسند جماعت بھارتی Indian ہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو لوک سبھا میں بھاری اکثریت حاصل ہے اور اس کے 303 ارکان ہیں جب کہ بی جے پی BJP اور اتحادیوں کی مجموعی تعداد 357 ہے۔

لوک سبھا میں مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت والے آرٹیکل 370 ختم کرنے کے بل کے حق میں 351 اور مخالفت میں 72 ووٹ آئے جبکہ کشمیر کو وفاق کے زیر انتظام کرنے اور دو حصوں میں تقسیم کرنے کے بل کے حق میں 370 اور مخالفت میں 70 ووٹ ڈالے گئے۔

لوک سبھا اور راجیہ سبھا سے منظوری کے بعد یہ دونوں بل بھارتی Indian صدر کو بھیجے جائیں گے جہاں ان کے دستخط کے بعد یہ باقاعدہ قانونی و آئینی صورت اختیار کرجائے گا۔

آرٹیکل 370 کیا ہے؟

بھارتی Indian آئین کا آرٹیکل 370 مقبوضہ کشمیر میں خصوصی اختیارات سے متعلق ہے۔

آرٹیکل 370 ریاست مقبوضہ کشمیر کو اپنا آئین بنانے، اسے برقرار رکھنے، اپنا پرچم رکھنے اور دفاع، خارجہ و مواصلات کے علاوہ تمام معاملات میں آزادی دیتا ہے۔

بھارتی Indian آئین کی جو دفعات و قوانین دیگر ریاستوں پر لاگو ہوتے ہیں وہ اس دفعہ کے تحت ریاست مقبوضہ کشمیر پر نافذ نہیں کیے جا سکتے۔

بھارتی Indian آئین کے آرٹیکل 370 کے تحت کسی بھی دوسری ریاست کا شہری مقبوضہ کشمیر کا شہری نہیں بن سکتا اور نہ ہی وادی میں جگہ خرید سکتا ہے۔

بھارتی Indian اقدم پر پاکستان Pakistan کا مؤقف

پاکستان Pakistan نے بھارتی Indian اقدام کو مسترد کرتے ہوئے عالمی فوجداری عدالت میں جانے کا عندیہ دیا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے جاری اعلامیے میں مقبوضہ کشمیر سے متعلق بھارت India کے صدارتی آرڈیننس کی بھرپور مذمت کرتے ہوئے کہا گیا کہ کشمیر ایک متنازع علاقہ ہے جسے بین الاقوامی سطح پر بھی تسلیم کیا جاتا ہے۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ بھارت India کے یکطرفہ اقدامات سے کشمیر کی حثیت تبدیل نہیں کیا جا سکتی، بھارت India کے ایسے اقدامات کشمیریوں کے لیے قابل قبول نہیں ہوں گے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان Pakistan بھارت India کے اس غیر قانونی اقدام کے خلاف تمام آپشنز بروئے کار لائے گا اور پاکستان Pakistan کشمیریوں کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔

وزیر اعظم Prime Minister عمران خان Imran Khan نے بھی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب میں مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت ختم کرنے کے بھارتی Indian اقدام کے خلاف عالمی فوجداری عدالت (انٹرنیشنل کرمنل کورٹ) جانے کا اشارہ دیا ہے۔

چین China کا بھارتی Indian اقدام پر مؤقف

چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ہوا چوینگ نے پاکستان Pakistan اور بھارت India کے درمیان لائن آف کنٹرول پرکشیدگی اور آرٹیکل 370 کو ختم کرنے سے متعلق سوالات پر تحریری جواب میں کہا کہ چین China کو کشمیر کی موجودہ صورتحال پر 'شدید تشویش' ہے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ چین China نے سرحدی علاقے میں بھارتی Indian مداخلت کی ہمیشہ مخالفت کی ہے اور اس بارے میں ہمارا مؤقف واضح اور مستقل ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت India نے اپنا قانون یکطرفہ تبدیل کرکے ہماری خودمختاری کو نقصان پہنچایا، ایسے اقدامات ناقابل قبول اور کبھی قابل عمل نہیں ہوسکتے۔

ترجمان کے مطابق بھارت India سرحدی معاملات پر بیان اور عمل میں ہوشمندی کا مظاہرہ کرے اور بھارت India چین China سے کیے گئے معاہدوں پر قائم رہے، بھارت India ایسے کسی بھی عمل سے باز رہےجو سرحدی امور کو مزید مشکل بنادے۔

 16