1983ء سے 2019ء تک کچھ بھی نہیں بدلا

کٹہرا - خالد مسعود خان

07 اگست 2019

Kuch bhi nahin badla

سینیٹ میں تحریک عدم اعتماد سے متعلق بے شمار سوالات ہیں‘ مثلاً یہ کہ یہ کیا ہوا ہے؟ کیسے ہوا ہے؟ چودہ ارکان سینیٹ کون کون سے ہیں؟ ان چودہ میں سے نو لوگ جو غائب ہیں‘ کون ہیں؟ وہ پانچ کون سے ہیں جنہیں ایوانِ بالا کا رکن ہونے کے باوجود مہر لگانی نہیں آتی؟اور سب سے گرما گرم سوال یہ کہ یہ سارے گھوڑے کسی ایک ہی پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں یا ''اس حمام میں سارے ہی ننگے ہیں‘‘۔ اور آخری سوال یہ کہ یہ ہر سینیٹر کا انفرادی عمل تھا یا کسی ایک پارٹی کا اجتماعی فیصلہ؟ اگر حساب کتاب کی درستی اور گنتی میں پایا جانے والا ٹھیک ٹھیک حساب دیکھا جائے تو دل کہتا ہے کہ اس قدر Precision صرف اور صرف ایک جگہ بیٹھ کر کیے جانے والے حساب کتاب کے بعد ہی ممکن ہے۔ معاملات آہستہ آہستہ کھلیں گے کہ یہ کیسے ہوا اور اس سے کس نے فائدہ اٹھایا ہے۔

معاملہ سوشل میڈیا میں ان چودہ سینیٹرز کے نام سے چلا اور اب ''کُھرا‘‘ آہستہ آہستہ ایک گھر کی طرف جاتا نظر آ رہا ہے‘ لیکن یہ بھی سوشل میڈیا کی لسٹ کی طرح ابھی شکوک و شبہات کی چادر میں لپٹا ہوا ہے۔ ان چودہ سینیٹرز میں ایک نام ملتان کے صحت مند سینیٹر کا بھی ہے۔ ایمانداری کی بات ہے کہ مجھے اس سینیٹر کے نام پر حیرت بھی ہوئی اور افسوس بھی۔ اگر یہ نام واقعتاً درست ہے تو پھر دنیا احسان سے خالی ہو چکی ہے اور احسان فراموشی کی ''جے‘‘ ہے۔ مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والا یہ سینیٹر دراصل مسلم لیگ (ن) سے مستفید ہونے والی دوسری نسل ہے۔ ان کے والد بھی مسلم لیگ (ن) کے ایم پی اے رہے تھے اور ایم پی اے بننے سے قبل موصوف کونسلر تھے‘ پھر میاں نواز شریف Nawaz Sharif کی نظر میں آئے اور ایم پی اے بن گئے۔ یہ باپ بیٹا دو بار ایم این اے رہے اور پھر بھتہ خوری، قبضہ گیری اور اسی طرح کے دیگر الزامات کی شہرت کے طفیل‘ جو ان سے زیادہ ان کے بھائی پر تھے‘ موصوف 2013ء کے الیکشن میں اپنی ماضی والی سیٹ پر بری طرح ناکام ہوئے تھے۔ ان کو بری طرح فارغ کرنے والا کوئی اور نہیں انہی کی پارٹی کا ایم پی اے تھا‘ جو ان کے نیچے تھا۔ ایم پی اے سے فارغ ہونے کے بعد (سپریم کورٹ سے نااہل ہونے کے باعث) موصوف کو ایک معاہدے کے تحت ایم پی اے کا ٹکٹ ملا اور بمشکل ایم پی اے بن پائے۔ اس جیت میں اگر نااہل ہونے والا ایم پی اے اور صوبائی وزیر ان کی مدد نہ کرتا تو ممکن نہ تھا کہ سابقہ ایم این اے اب کی بار ایم پی ہی بن پاتا۔ اگرچہ شہر بھر کی تنظیم خلاف تھی مگر میاں نواز شریف Nawaz Sharif نے اس کے چھوٹے بھائی کو مسلم لیگ (ن) ملتان شہر کا صدر بنائے رکھا۔ پھر ایم پی اے سے اٹھا کر سینیٹر بنا دیا کہ انہیں لگتا تھا‘ شاید اگلی بار بھی یہ جنرل الیکشن میں نہ جیت سکے۔ جب میں نے یہ نام ان چودہ ناموں میں دیکھا تو مجھے بڑا افسوس ہوا‘ لیکن میرے افسوس کرنے سے کیا ہوتا ہے۔

چیئرمین سینیٹ کے خلاف ناکام ہونے والی عدم اعتماد کی تحریک میں کیا ہوا ہے؟ یہ جمہوریت کے لیے یقینا افسوسناک امر ہو گا‘ لیکن ہماری جمہوریت کو سامنے رکھیں تو یہ حیران کن ہرگز نہیں۔ بے عزت ہونے والی دونوں بڑی پارٹیاں ماضی میں خود یہی کچھ کرتی رہی ہیں۔ چھانگا مانگا اور مری کسے یاد نہیں۔ لیکن ماضی کی خرابیوں کے باعث اس والی صورتحال کو نہ تو جائز کہا جا سکتا ہے اور نہ ہی کسی طور مستحسن قرار دیا جا سکتا ہے کہ غلط بہرحال غلط ہے۔ لیکن یہ غلط ہونا ایک اصولی مؤقف ہے اور اس کا ذکر وہی کرتے اچھے لگتے ہیں جو خود اصولی فیصلے کرتے ہوں اور اخلاقیات کی پابندی کرتے ہوں۔ بھلا ماضی میں لوٹاکریسی کو فروغ دینے والے اور ہارس ٹریڈنگ کرنے والے کس منہ سے اس عمل پر احتجاج کر سکتے ہیں؟ اس فعلِ بد کی ترویج کرنے والے بلکہ اس فن کو موجودہ بلندیوں پر لانے والے فی الوقت یہی لوگ ہیں جو سب سے زیادہ شور مچا رہے ہیں۔

پیپلز پارٹی نے اسی طریقے سے تھوڑا عرصہ پہلے صادق سنجرانی Sadiq Sanjrani کو چیئرمین سینیٹ بنوایا تھا۔ این ایچ اے کی ٹھیکیداری سے شہرت پانے والے صادق سنجرانی Sadiq Sanjrani کا تو کسی نے نام بھی نہیں سنا تھا۔ تب انہی صادق سنجرانی Sadiq Sanjrani صاحب کو چیئرمین سینیٹ بنوانے کے لیے آصف زرداری پیش پیش تھے۔ پھر ان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک میں بھی پیش پیش نہ سہی مگر میاں نواز شریف Nawaz Sharif کے فیصلے کے پیچھے پیچھے تھے اور اندر خانے اپنے پرانے امیدوار کی پشت پر تھے۔ پہلے وہ راضی برضا اس کام میں لگے تھے‘ اس بار شاید یہ طوعاً و کرہاً صادق سنجرانی Sadiq Sanjrani کو بچانے میں مصروف عمل تھے‘ مگر یہ بات طے ہے کہ ہر دو بار صادق سنجرانی Sadiq Sanjrani کو آصف زرداری کی آشیرباد حاصل تھی۔ ضمیر فروشی کہیں اور ہو رہی ہے اور ملبہ کسی اور پر ڈالا جا رہا ہے۔ میں کسی کی صفائی نہیں دے رہا‘ مگر سب حصہ داروں کو برابر کا حصہ ملنا چاہئے‘ خواہ وہ لعنت ملامت ہی کیوں نہ ہو۔

پیپلز پارٹی نے اس معاملے کی جانچ پڑتال کے لیے ایک ''فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی‘‘ بنائی ہے اور اُس کی سربراہی میرے شہردار سید یوسف رضا گیلانی کے سپرد کی ہے۔ ایمانداری کی بات ہے کہ مجھے اس سلیکشن پر ذاتی طور پر بڑی خوشی ہوئی ہے۔ اس سے بہتر انتخاب فی الحال ممکن ہی نہیں تھا۔ جناب سید یوسف رضا گیلانی اس کام کے لیے سب سے مناسب بلکہ عین مناسب شخص ہیں۔ یہ 1983ء کا واقعہ ہے‘ ضلع کونسل ملتان کے انتخابات تھے۔ چیئرمین ضلع کونسل کے لیے سید یوسف رضا گیلانی اور سید فخر امام امیدوار تھے۔ الیکشن والے دن دونوں امیدواران اپنے اپنے وائس چیئرمین کے امیدوار اور حامیوں کے ہمراہ ضلع کونسل ہال پہنچے۔ سید یوسف رضا گیلانی کے ہمراہ اکتیس ارکانِ ضلع کونسل تھے‘ جبکہ سید فخر امام کے ہمراہ چونتیس ارکان تھے۔ بظاہر یہی نظر آتا تھا کہ سید فخر امام کو تین ارکان کی برتری حاصل ہے اور وہ جیت جائیں گے۔ کسی اخبار نویس نے اسی دوران سید یوسف رضا گیلانی سے کہا کہ وہ تو بظاہر ہارتے نظر آ رہے ہیں۔ سید یوسف رضا گیلانی مسکرائے اور اشارہ کر کے کہا: اُدھر دو ووٹ ہمارے ہیں۔ جب گنتی ہوئی تو وہی ثابت ہوا جو یوسف رضا گیلانی نے کہا تھا۔ سید یوسف رضا گیلانی کے تینتیس ووٹ نکلے‘ اور تین ووٹ زیادہ ساتھ لے کر جانے والا ایک ووٹ سے ہار گیا۔ مزے کی بات یہ ہے کہ جب ارکان ووٹ ڈالنے جا رہے تھے تو سید فخر امام کی طرف سے ایک خاتون رکن ضلع کونسل نے قرآن Quran اٹھا رکھا تھا اور گروپ کے سارے ارکان اس کے نیچے سے گزر کر جا رہے تھے‘ یہ ایک طرح سے قرآن Quran کے سائے کے تلے سے گزر کر اپنے گروپ سے وفاداری کا حلف تھا۔ حلف ایک طرف رہ گیا اور دو ارکان ٹوٹ گئے۔ شنید ہے کہ ایک تو وہی خاتون تھیں جنہوں نے قرآن Quran اٹھا رکھا تھا‘ دوسرے ایک پیر صاحب تھے۔ سید یوسف رضا گیلانی کو تو خود ایسے معاملات نبھانے کا پرانا تجربہ ہے‘ لہٰذا ان کو اس کمیٹی کی چیئرمینی نہایت ہی مناسب انتخاب ہے۔ 1983ء سے 2019ء تک کچھ بھی نہیں بدلا۔

میں نے پوچھا: شاہ جی یہ پانچ لوگ کون ہیں جنہوں نے دو دو مہریں لگائی ہیں؟ شاہ جی کہنے لگے: یہ سارے کے سارے شیخ مکی ہیں۔ میں نے کہا: شیخ مکی کون؟ شاہ جی کہنے لگے: یہ اندرون شہر کا ایک کریکٹر ہے۔ بلدیاتی الیکشن تھے‘ شیخ مکی نے ایک امیدوار سے پانچ ہزار روپے لیے اور حلف اٹھا کر ووٹ کا وعدہ کر لیا۔ پھر اس کے مخالف سے بھی پانچ ہزار روپے پکڑ لیے۔ ووٹ کا وعدہ کیا اور حلف دے دیا۔ بات یہیں ختم نہیں ہوئی اس نے ایک تیسرے امیدوار سے بھی ووٹ کا وعدہ، حلف اور پانچ ہزار روپے والا سودا کر لیا۔ الیکشن والے دن کسی نے پوچھا: شیخ مکی ووٹ کسے دیا؟ شیخ جی نے کیا عمدہ جواب دیا‘ کہا: بھائی! سب سے حلف اٹھایا تھا سب کے آگے مہر لگا دی۔ پوچھنے والے نے کہا: شیخ جی! ووٹ تو ضائع چلا گیا۔ شیخ مکی کہنے لگا: ارے ووٹ گیا بھاڑ میں‘ اب میں ایمان خراب کرتا؟ حلف توڑتا؟ سب سے ووٹ کا وعدہ کیا تھا۔ میں نے تو اپنا وعدہ نبھا دیا‘ کینسل ہو گیا تو اس میں میرا کیا قصور ہے؟ ان پانچ سینیٹرز کا ووٹ ضائع چلا گیا تو کیا ہوا‘ انہوں نے دو طرف سے پیسے لے کر حلف دیا تھا وہ تو نہیں ٹوٹا۔ ووٹ کی خیر ہے۔

 135