کشمیر کیا چاہتا ہے؟؟؟

کھٹی میٹھی کرنیں - کرن خان

06 اگست 2019

Kashmir kya Chahta hai?

جب سے ہوش سنبھالا ایک مسئلہ تب سے لے کر اب تک مسلسل تکلیف دیتا رہا اور وہ ہے مسئلہ کشمیر۔۔جب نیا نیا سنتے تھے تب کشمیر کے حالات سن کر پریشان بھی ہوجاتے تھے انڈیا کے لیے بد دعا بھی کر بیٹھتے تھے اور کشمیریوں کے لیے دعا بھی۔۔

اتنی مرتبہ پڑھا اور سنا کہ ہمارے ملک کا بچہ بچہ جانتا ہوگا کہ کشمیر پر کس طرح بد دیانتی اور بے ایمانی سے انڈیا قابض ہوا بیٹھا ہے۔ اور کس طرح ہٹ دھرمی سے مذاکرات سے انکاری ہوتا آرہا ہے۔پھر ہوا یہ کہ جیسے جیسے وقت گزرتا گیا ۔ہم یوزڈٹو ہوتے گئے۔۔یہ بات افسوس سے کرنی پڑ رہی ہے کہ ہم بحیثیت قوم کشمیر ڈے پر اظہار یکجہتی تک محدود رہ گئے۔۔اور ہمارے سیاستدان بھی بس لفاظی تک رہ گئے۔۔

کس حکومت کا کتنا قصور رہا ۔کون کشمیر کے لیے سنجیدہ کون نہیں ۔۔لکیر پیٹنے کا کوئی فایدہ نہیں ۔۔پچھلوں کے زمے لگ لگا کر اب جی صورت حال سے جی نہیں چھڑایا جاسکتا۔۔ایک تو ہمیں حکومتیں جو ملیں ان کے اپنے مسائل ختم نا ہوے۔۔دوسری طرف کشمیری قیادت کی اپروچ بھی ٹھیک نا رہی۔۔

کل ڈاکٹر اسرار احمد مرحوم کا ایک بیان دیکھا ۔انہوں نے کچھ اسباب بتاے جو مجھے کافی معقول لگے ۔۔پیش خدمت ہیں۔۔

1. کشمیری طاقت اور لڑائی میں انڈیا سے نا جیت سکتے تھے۔۔نا جیت سکتے ہیں۔ان کا احتجاج کا یہ طریقہ ان کے نقصان میں زیادہ رہا کہ کہ کسی جیپ پر حملہ کردیا یا ان کے دو چار فوجی مار دیے اور پھر روپوش ہوگئے۔۔بدلے میں وہ آکر دگنی تباہی کردیتے ہیں۔۔ان کے گھروں میں گھس جاتے ہیں۔ان کو چاہیے تھا ملین مارچ کرتے لاکھ دو لاکھ بندے مل کر احتجاجی ریلی شروع کرتے ۔۔اور دھرنا دے کر بیٹھ جاتے ۔۔عالمی میڈیا کی نظر ان پر جم جاتی ۔۔پھر اگر تصادم بھی ہوتا اور جانی نقصان ہو جاتا تو انڈیا پر عالمی دباو پڑتا۔۔کوئی فیصلہ ان کے حق میں ضرور ہوجاتا۔۔گوکہ چھوٹی موٹی ہزاروں ریلییاں کی گئی جانی نقصان بھی کافی اٹھایا ۔لیکن یہ کمزور احتجاج تھا ۔۔یہ اسٹرٹیجی ان کے حق میں نقصان دہ ہی رہی۔۔

۔2 افغان میں امن کرایا تھا تو ہمیں امریکہ United States کی سر پرستی حاصل تھی ۔۔اب ہمارے سورسز اتنے پاور فل نہیں رہے کہ ہم کشمیریوں کو مسلسل سپورٹ کر سکیں۔ ہمیں ہر صورت اس کا حل چاہیئے۔۔

۔اب دو تین دنوں سے جو تماشہ سننے میں آرہا ہے یہ بحیثیت مسلم امہ ہمیں پریشان کرنے کو کافی ہے۔۔

انڈیا نے ہمارے لیے کوئی زیادہ راستے نہیں چھوڑے ہیں۔۔وقت آگیا ہے کہ یہ اونٹ کسی کروٹ بیٹھنا چاہیے۔

۔اقتدار اعلی سے گزارش ہے پہلے تو یہ طے کریں کشمیر چاہیے یا نہیں؟

آپ کے لیے کشمیر وہ نوالہ بن گیا ہے کہ اگر یہ اگلتے ہیں یعنی اس سے دستبردار ہوتے ہیں تو بچاو پھر بھی نہیں ہونا ۔۔کل کو سب سے پہلے دریا بند کیے جائیں گے ۔۔چناب پر بہت بڑا ڈیم مکمل ہوگا ۔۔

۔۔ہماری زمینیں بنجر ہونے لگ جائینگی پیاسا کرکے ماریں گے۔۔

اس کے بعد جو کشمیر آپ کے پاس ہے اس پر نظریں جما لی جائیں گی ۔۔کیونکہ وہ تو اکثر یہ بھی کہتے ہیں کہ گلگت بھی ہمارا ہے ۔۔پھر اگلی باری پر گلگت ہاتھ سے گنوانے کو تیار رہنا۔

تو سیدھی سی بات ہے کشمیر سے دستبرداری میں ہماری بقا تو کسی صورت نہیں ہے۔

۔اقوام متحدہ ہو یا امریکہ United States کوئی اس معاملے میں مخلص کیوں نہیں رہا یہ بات بھی ڈھکی چھپی نہیں رہی۔۔

۔۔گیلانی صاحب نے جو ایمرجنسی میسج دیا یہ صرف پاکستانیوں کے لیے نہیں تمام مسلم ممالک کے لیے تھا ۔۔

۔ تو اے بے حس مسلم امہ کے اتنے سارے ملکوں۔۔۔! اس موقع پر کوئی غیرت مندی پر مبنی موقف اپناو ۔۔۔

آل سعود ۔۔۔! بہت بڑی سرمایہ کاری کی ہے نا انڈیا میں؟؟؟ آپ نے تو بڑے اعزازی تمغے بھی دے رکھے ہیں مودی کو ۔۔خدا کا خوف کھاو ۔۔ عرب ممالک آج بے حسی سے ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہو ۔۔کل پھر خدا کے عذاب کے لیے تیار رہنا ۔تمام اسلامی ملک مل کر انڈیا پر دباو ڈالوائیں۔۔پاکستان Pakistan بے شک ایٹمی طاقت ہے ۔۔آپ سب ملکوں سےزیادہ پاور رکھتا ہے لیکن ہر مسئلے کا حل ایٹم بم نہیں ہوتا ۔

۔پاکستان Pakistan کو آپ تمام ممالک کی سپورٹ چاہیے ۔۔اخلاقی طور پر مسلم ملکوں کا فرض بنتا ہے کشمیر کو نسل کشی سے بچائیں ۔اپنا کردار ادا کریں ۔ورنہ ٹھیک ہے دیکھتے رہو تماشہ۔۔انجام پھر سب کا آہستہ آہستہ ایک جیسا ہونا ہے۔۔

اور آخر میں پاکستان Pakistan کے تعاون کے باوجود اگر انڈیا ہٹ دھرمی سے ڈٹا رہے تو ۔۔سیدھی سی بات ہے ہمارے پاس آخری حل جنگ ہی ہوگا ۔۔اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں۔۔ان کے دو چار بڑے بڑے شہروں کر کرو ٹارگٹ اور مارو بم ۔۔بے پناہ جانی نقصان وہاں بھی ہونا ہے اور یہاں بھی ۔۔۔کوئی ایک آدھ لاکھ بندہ مرنا ہے بس۔۔تب اقوام متحدہ ہو یا امریکہ United States ۔۔دوڑے آئیں گے۔۔لیکن اس کے بعد مسئلہ کشمیر Kashmir Issue ضرور حل ہوجاے گا یہ طے ہے۔۔۔اور کوئی حل رہ نہیں جاتا۔۔۔کیونکہ ایک ایٹمی طاقت اور مسلمان ملک کے ایک کونے میں انہی کے بھائیوں کی نسل کشی ہونے لگے تو ان کو جینے کے لیے پھر بہت زیادہ بے حسی اور بے غیرتی کی ضرورت ہوگی۔۔

 245