آزاد کشمیر نہیں ، آزاد ہندوستان

حرف راز - اوریا مقبول جان

06 اگست 2019

Azad Kashmir nahin Azad Hindustan

مجھے معلوم ہے بے شمار ایسے لوگ ہونگے جو اس عنوان کو دیکھ کر ہنسے ہوں گے،مجھے جاہل کہا ہوگا، کتنے غصے میں آئے ہوں گے۔ اسی قبیل کے لوگ اس دن بھی میرے جیسے لوگوں کی سوچ پر کھلکھلا کر ہنسے تھے جب 7 اکتوبر 2001ء کو کسی عفریت کی طرح دندناتا ہوا امریکہ United States اپنے ساتھ اڑتالیس ترقی یافتہ ممالک کی ٹیکنالوجی اور افرادی قوت کے ساتھ افغانستان Afghanistan جیسے پسماندہ ملک پر حملہ آور ہوا تھا۔ اس وقت میرے جیسے دقیانوس، ماضی پرست، معروضی حالات سے بے خبر یہ کہتے تھے کہ اس کائنات کا ایک حقیقی فرمانروا ہے جو فتح سے ہمکنار کرتا ہے، لیکن اسکے لیے صرف ایک ہی شرط ہے کہ اسکی ذات پر مکمل بھروسہ کیا جائے ۔ کوئی قوم جو صرف اپنے دست و بازو، اسلحہ و بارود، شاندار ٹریننگ، عسکری نظم و ضبط اور جدید ٹیکنالوجی پر کامل بھروسہ کرکے میدان میں اترتی ہے اورصرف تسلی کیلئے اللہ کو بھی شریک کرنے کے لئے دعا کرتی ہے تو وہ اسے اسکے مال و اسباب کے سپرد کردیتا ہے۔ اسکا تو واضح حکم ہے "نکلو اللہ کی راہ میں، ہلکے ہو یا بوجھل" (التوبہ:41)۔ آج اٹھارہ سال کے بعد وہ تمام تبصرہ نگار اور دفاعی تجزیہ نگار منہ چھپاتے پھر رہے ہیں۔ لیکن گواہ رہے ، آج کا یہ دن، اس خطے کا کشمیر ، موجودہ متحدہ بھارت India اور ملت اسلامیہ کی واحد ایٹمی قوت پاکستان Pakistan کہ کشمیری اب جس توکل سے بھارت India کا مقابلہ کرنے کے لیے نکل کھڑے ہوئے ہیں وہ یہ ہے کہ انکا ہر مجاہد اپنے لئے جذبے کی تحریک صرف افغان طالبان کی فتح سے لے رہا ہے۔ یہ آغاز برہان وانی اور ذاکر موسیٰ کی شہادت اور انکے ساتھیوں کے جہاد سے ہو چکا ہے۔ اب یہ جنگ صرف کشمیر کی آزادی تک نہیں رکے گی، یہ بھارت India میں بسنے والے تیس کروڑ مظلوم مسلمانوں کی آزادی اور اس خطے پر اللہ کی مکمل حاکمیت کے پرچم کے لہرانے تک چلے گی۔ یہ کوئی خواب نہیں۔ اللہ کا وعدہ ہے ان سے جو صرف اس پر بھروسہ کر کے نکلتے ہیں اور سید الانبیائﷺکی بشارت ہے جو اس خطے سے فتح کی علامت کی طرح وابستہ ہے۔میرے ان دوستوں کی تسلی کیلئے جو میری گفتگو کو اسوقت نسیم حجازی کا ناول سمجھ رہے ہونگے، تھوڑی دیر معروضی حالات میں کشمیر کی موجودہ صورتحال کو پرکھتے ہیں اوراللہ کی حاکمیت کو میرے ان دوستوں کی طرح ایک طرف رکھ دیتے ہیں۔ عمران خان Imran Khan کے دورہ امریکہ United States میں ڈونلڈ ٹرمپ کے اس رازکو افشا کرنے کے بعد کہ مودی نے اسے ثالثی کی درخواست کی تھی، یہ اچانک کشمیر کا محاذ اتنا گرم کیسے ہو گیا۔سب سے پہلے لائن آف کنٹرول پر فائرنگ شروع ہوئی، پھر وادی میں ایک بہت بڑے آپریشن کی تیاری شروع ہوگئی۔ تمام لاؤ لشکر اور اسلحہ و بارود پہنچادیا گیا، خوف زدہ کرنے کے لیے کلسٹر بم پھینکے گئے، چاروں جانب دستے مارچ کرنے لگے، سیاحوں کو علاقہ چھوڑنے کا حکم دیا گیا، ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی، امرناتھ یاترا والوں کو بھی وادی چھوڑنے کا سندیس دے دیا گیا۔ صدارتی حکم نامے سے آرٹیکل 370 ختم کردیا گیا اور اب لوگ سبھا میں امیت شاہ نے وہ بل بھی پیش کردیا ہے جسکے تحت آرٹیکل(A) 35 بھی ختم ہو جائے گا اور کشمیر ایک ایسا خطہ بن جائے گا جس میں ہر کوئی جاکر آباد ہو سکے گا۔ مقصد وہی ہے کہ جس طرح اسرائیل نے یہودیوں کو یروشلم میں آباد کرکے فلسطینیوں کو بے دخل کیاتھا ، ویسا ہی اب کشمیر میں بزور طاقت کیا جائے گا۔ لیکن یہ اتنا سادہ معاملہ نہیں ہے۔عالمی سطح پراسوقت 1920ء کی عرب دنیا، خلافت عثمانیہ کی ذلت آمیز شکست کے بعد قومی اور قبائلی ریاستوں میں منقسم ہونے کے ساتھ ساتھ برطانیہ اور فرانس کے تسلط میں بھی تھی۔آج 2019 ء کی عالمی سطح بالکل مختلف ہے اور وہ یہ کہ طالبان کی افغانستان Afghanistan میں فتح نے اس خطے کا نقشہ بدل کر رکھ دیا ہے۔ امریکہ United States کی 18سالہ جنگ میں سرمایہ اور ٹیکنالوجی ، دونوں کو شکست ہوئی ہے اور بھارت India کی بھی اٹھارہ سالہ افغان حکمت عملی بری طرح ناکام ہوچکی ہے۔ تین ارب ڈالر billion dollor کی سرمایہ کاری ڈوبنے کے ساتھ ساتھ اسے ذلیل و رسوا کرکے کان سے پکڑ کر افغانستان Afghanistan اور اسکے معاملات سے بے دخل کر دیا گیا ہے۔ کہاں 2001ء میں اس نے پورے خطے پر مکمل کنٹرول کا خواب دیکھا تھا اور کہاں اب یہ خطرہ کہ امریکہ United States کے افغانستان Afghanistan سے نکلنے اور طالبان کے اقتدار میں آنے کے فورابعد دنیا بھر کے جہادیوں کا اگلا ٹھکانہ کشمیر ہوگا اور جب یہ لوگ کشمیر میں داخل ہوں گے تو اس شوق اور ولولے کے ساتھ ہونگے کہ وہ ابھی ابھی ایک عالمی طاقت اور اسکے اڑتالیس حواریوں کو افغانستان Afghanistan میں شکست دے کر آئے ہیں۔ دنیا بھر کے جہادی جن احادیث سے اپنے لئے رہنمائی لیتے ہیں وہ کشمیر کی فتح کا ذکر نہیں کرتیں بلکہ جہاد ہند کی بشارتوں والی فتح کے تذکرے سے معمور ہیں۔ کشمیر میں جہادیوں کا داخل ہونا جو بھارت India کی سات ہزار پانچ سو سالہ (7,516) کلومیٹر لمبے سمندری ساحل کی موجودگی میں اس قدر آسان ہے کہ طاقتور ترین فوج بھی اسے نہیں روک سکتی۔ اگر یہ وہاں داخل ہوگئے ، تو پھر انکی منزل کشمیر کی آزادی نہیں بلکہ جہاد ہند ہوگی۔ ایسی صورت میں یہ جنگ بھارت India کے ہر شہر کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔ اسرائیل کے اردگرد آباد مصر، سعودی عرب Saudi Arabia ، اردن، شام، لبنان، عراق Iraq اور خلیجی ریاستوں میں مسلمانوں کی کل آبادی بیس کروڑ کے قریب ہے جبکہ اکیلے بھارت India میں 25 کروڑ مسلمان آباد ہیں اور یہ ایسے مسلمان ہیں جو گذشتہ دہائیوں سے ذلت اور رسوائی کی زندگی گزار رہے ہیں اور ہر جگہ خوف میں زندہ ہیں۔مشرق وسطیٰ کے بیس کروڑ مسلمانوں پر کم از کم دس حکومتیں ہیں جو جہادیوں کے کنٹرول کرنے کیلئے امریکی مفادات پر عمل پیرا ہیں، جبکہ بھارت India تو اسوقت اٹھارہ ریاستوں میں خانہ جنگی سے نبرد آزما ہے۔ ان 25 کروڑمسلمانوں میں سے چند ہزار بھی کشمیر کے جہاد میں شامل ہوگئے تو بھارت India ایک ایسا ملک بن جائے گا جہاں آسام سے لے کر پلوامہ Pulwama تک ہر محلہ آگ و خون میں نہلا رہا ہوگا اور اس منظرنامے پر اسی دن سے بھارت India میں غور شروع ہو گیا تھا جب تین سال پہلے کشمیریوں کے ساتھ شہید ہونے والوں میں کیرالہ کے نوجوان بھی شامل تھے۔پوری انتظامیہ خوف میں ڈوب گئی تھی۔ یہ جو اچانک اس محاذ پر گرم جوشی آئی ہے یہ ایک عالمی طے شدہ پلان کا حصہ ہے۔ جس طرح 2018 ء کے اگست میں یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ طالبان پر مکمل قوت سے آخری بار حملہ کرکے انہیں تباہ وبرباد کر دیا جائے۔اور پھر دنیا کے سب سے بڑے غیر ایٹمی بم سمیت سب کچھ استعمال کیا گیا تھالیکن نتیجہ الٹ نکلا۔ ویسے ہی بھارت India کو کہا گیا ہے کہ طالبان امریکہ United States معاہدہ ہونے سے پہلے پہلے جس طرح ممکن ہو سکے کشمیریوں کی تحریک کو دبا دے۔ عالمی تبصرے یہ ہیں کہ ایسا مشکل ہی نہیں، نا ممکن بھی ہے۔ کیونکہ اس ایکشن کے بعد کشمیریوں کی آپس میں تھوڑی بہت تقسیم بھی ختم ہو جائے گی اوراس جہاد کی آگ، بھارت India میں پھیلنے کا بھی خطرہ ہے۔ ایسے میں وہی الزام جو امریکہ United States لگاتا تھا کہ یہ سب پاکستان Pakistan کی مدد سے ہو رہا ہے، ویسا ہی الزام لگا کر پاکستان Pakistan سے کنٹرول لائن پر جنگ کا آغاز ہوگا۔ اس ایٹمی فلیش پوائنٹ کا بہانہ بنا کر اقوام متحدہ اور عالمی برادری اس میں کودے گی، جس کا آخری منظر وہ ہوگا جسکا اشارہ ڈونلڈ ٹرمپ نے دیا ہے کہ وہ ثالثی کرنے کو تیار ہے۔ اس ثالثی کا بنیادی مقصد صرف ایک ہوگا کہ کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو ایک عام قومی آزادی کی جنگ سے آگے نہ بڑھنے دیا جائے۔ اسے ویتنام اور انگولا کی طرح قوم پرستی اور خطے کی آزادی تک تسلیم کرکے مسئلہ حل کیا جائے۔ اس معاملے میں دونوں جانب سے پس پردہ بہت کام ہو چکا ہے، کافی حد تک حل بھی تجویز ہو چکے ہیں۔ پاکستان Pakistan اور چین China کے لیے گلگت بلتستان اہم ہے کیونکہ سی پیک CPEC وہاں سے گزرتی ہے یہ پاکستان Pakistan کو دے دیا جائے۔ لداخ میں بدھ آباد ہیں اور یہ چین China اور بھارت India کے درمیان بہترین بفر زون بن سکتا ہے، اسے نیم خودمختاری دے دی جائے۔ سوال وادی اور جموں پر آئے گا۔ اس علاقے کو کچھ سالوں کے لئے اقوام متحدہ کی نگرانی اور دونوں ملکوں کی مشترکہ کمان کے تحت ایک سیاحتی خطے کا درجہ دیا جائے گا اور پھر دس سال بعد اگر رائے شماری کرائی جائے گی تو اس وقت تک کشمیری ایک عالمی سیاحتی مرکز کی تمام خرابیوں کے عادی ہو چکے ہوں گے۔ ایسے میں نتیجہ یقینا مختلف ہی نکلے گا۔ یہ ہے وہ عالمی طاقتوں کا خواب جو اب کشمیریوں کے خون سے تحریر کیا جارہا ہے۔ لیکن ایسا ہی خواب افغانستان Afghanistan میں بھی دیکھا گیا تھا۔ امریکی ڈالروں کی بھرمار، نائٹ لائف اور کلبوں کی زندگی، تعیش اور معیار زندگی کی بلندی بھی افغان طالبان کے خلاف نفرت پیدا کر سکی اور نہ ہی انہیں شکست دے سکی۔اس لئے کوئی کچھ تعبیر کرے میرے لئے میرے آقا سید الانبیائﷺ کی یہ بشارت اہم ہے کہ یہ خراسان (افغانستان) ہے، یہاں سے کالے جھنڈے نکلیں گے اور ایلیا (بیت المقدس) میں گاڑ دیے جائیں گے۔ آج وہ کالے جھنڈے افغانستان Afghanistan میں سر بلند ہو چکے ہیں۔ اب وہی حکمت عملی کشمیر میں اپنائی جائے گئی اور یہاں بھی میرے آقا کی بشارت موجود ہے "جب تم ہند کے بادشاہوں کو زنجیروں میں جکڑ کر لاو گے تو عیسیٰ ابن مریم کو اپنے درمیان پاؤ گے (کتاب الفتن)۔ہم اس معرکے میں داخل ہوچکے۔ اب یہ افغانستان Afghanistan کی طرح اٹھارہ سال چلتا ہے یا زیادہ یا پھر کم، لیکن فتح کی بشارت موجود ہے، صرف کشمیرکی فتح نہیں آزاد ہندوستان کی بشارت۔

 230