کابل، کشمیر اور کراچی

قلم کمان - حامد میر

05 اگست 2019

Kabil Kashmir or Karachi

بندوق کی طاقت سے اکثریت پر اقلیت کا ظلم کئی قوموں کے زوال کا باعث بن چکا ہے۔ ماضی قریب میں اس کی سب سے بڑی مثال سوویت یونین جیسی سپر پاور کا بکھر جانا ہے۔ بہت سی طاقتور قوموں نے سوویت یونین کے زوال سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔ سبق نہ سیکھنے والوں میں امریکہ United States ، اسرائیل اور بھارت India سرفہرست ہیں۔ امریکہ United States نے افغانستان Afghanistan میں وہی غلطی کی جو سوویت یونین نے افغانستان Afghanistan میں کی تھی۔ سوویت یونین کے زوال نے آزادی کی کئی تحریکوں کو نئی زندگی بخشی۔ ان میں سے ایک کشمیر کی تحریک آزادی بھی تھی۔ سوویت فوج نے افغانستان Afghanistan میں مزاحمت کو کچلنے کیلئے کلسٹر بموں کا بے دریغ استعمال کیا لیکن 1989ء میں سوویت فوج افغانستان Afghanistan سے بھاگنے پر مجبور ہو گئی۔ یہی وہ سال تھا جب مقبوضہ جموں و کشمیر Kashmir میں بھارتی Indian فوج پر بڑے بڑے حملے ہونے لگے۔ کابل کو ایک سپر پاور کی غلامی سے نجات ملی تو کشمیریوں میں آزادی کی نئی امید پیدا ہوئی۔ اس امید کو ختم کرنے کیلئے بھارت India نے پاکستان Pakistan پر دبائو بڑھانے کا فیصلہ کیا اور اس مقصد کیلئے پاکستان Pakistan کی اقتصادی شہ رگ کراچی کو نشانہ بنانا شروع کیا۔ کابل، کشمیر اور کراچی کا یہ تعلق آج بھی قائم ہے۔

کابل اور کشمیر کا تعلق بہت پرانا ہے۔ 1947ء میں کابل کے ایک عالم دین ملا صاحب شور بازار کو جموں و کشمیر Kashmir میں مسلمانوں پر ظلم و ستم کی اطلاعات ملیں تو انہوں نے اپنے پیروکاروں کو کشمیر میں جہاد کا حکم دیا جس کے بعد افغانستان Afghanistan اور پاکستان Pakistan کے کئی قبائل نے کشمیر کا رخ کیا۔ 1989ء میں افغانستان Afghanistan میں سوویت یونین کی شکست کے بعد کئی افغان مجاہدین نے بھی وادی کشمیر کا رخ کر لیا تھا۔ نوے کی دہائی میں سینکڑوں افغان مجاہدین مقبوضہ جموں و کشمیر Kashmir کے مختلف علاقوں میں شہید ہوئے لیکن نائن الیون کے بعد امریکی فوج نے افغانستان Afghanistan کا رخ کیا تو پھر یہ تمام افغانی ایک نئی مزاحمت میں مصروف ہو گئے۔ امریکہ United States نے بھی افغانستان Afghanistan میں کلسٹر بموں کا بار بار استعمال کیا لیکن سوویت یونین کی طرح امریکہ United States بھی افغانوں کو اپنا غلام بنانے میں کامیاب نہ ہو سکا۔ سوویت یونین دس سال کے بعد افغانستان Afghanistan سے بھاگا تھا۔ امریکہ United States اٹھارہ سال کے بعد بھاگ رہا ہے۔ وہ امریکہ United States جس نے اقوام متحدہ کے ذریعہ افغان طالبان کو دہشت گرد قرار دلوایا تھا آج امریکہ United States اُنہی طالبان کے ساتھ مذاکرات کر رہا ہے۔

1989ء میں بھی پاکستان Pakistan نے افغانستان Afghanistan سے سوویت فوج کی واپسی میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ 2019ء میں بھی پاکستان Pakistan نے افغان طالبان اور امریکہ United States کو مذاکرات کی میز پر لانے کیلئے اہم کردار ادا کیا ہے جس کا اعتراف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بار بار کر چکے ہیں۔ جب سے ٹرمپ نے مسئلہ کشمیر Kashmir Issue کے حل کیلئے پاکستان Pakistan اور بھارت India میں ثالثی کی پیشکش کو بار بار دہرایا ہے نئی دہلی کے حکمران شدید بوکھلاہٹ کا شکار ہیں۔ اُنہیں خدشہ ہے کہ اگر افغان طالبان اور امریکہ United States میں کوئی امن معاہدہ ہو گیا تو اس کے کشمیر پر وہی اثرات ہونگے جو 1989ء میں ہوئے تھے۔ افغان تنازع حل ہو جانے کے بعد مسئلہ کشمیر Kashmir Issue کے حل کیلئے بھارت India پر عالمی دبائو بڑھ سکتا ہے۔ افغان تنازع کا حل بھارت India کے ضدی اور ہٹ دھرم حکمرانوں کے مفاد میں نہیں ہے۔ جیسے جیسے افغان طالبان اور امریکہ United States میں مذاکرات آگے بڑھ رہے ہیں بھارت India کی طرف سے مقبوضہ جموں و کشمیر Kashmir میں طاقت کا استعمال بڑھ رہا ہے۔ بھارت India نے اچانک جموں و کشمیر Kashmir کے مختلف علاقوں میں فوج اور سیکورٹی فورسز کی تعداد میں اضافہ کر دیا ہے جس پر بھارتی Indian میڈیا بھی حیران و پریشان ہے۔ بھارتی Indian فوج نے لائن آف کنٹرول پر جارحیت میں بھی اضافہ کر دیا ہے اور مظلوم کشمیریوں پر کلسٹر بم برسانا شروع کر دیئے ہیں جسکے نتیجے میں عورتوں اور بچوں کی جانیں جا رہی ہیں۔ بھارت India کی طرف سے مقبوضہ جموں و کشمیر Kashmir اور آزاد کشمیر کی سویلین آبادی کیخلاف جارحانہ ہتھکنڈوں کی نئی لہر ہمیں یاد دلا رہی ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی نام نہاد ایٹمی جمہوریت کشمیر میں وہی غلطی دہرا رہی ہے جو افغانستان Afghanistan میں سوویت یونین اور امریکہ United States نے کی تھی۔ کلسٹر بموں کا استعمال طاقت نہیں بلکہ کمزوری کا ثبوت ہے۔ صاف نظر آ رہا ہے کہ بھارت India کے ظالم حکمران مقبوضہ جموں و کشمیر Kashmir میں وہی کرنے جا رہے ہیں جو 1948ء میں فلسطینیوں کے ساتھ کیا گیا تھا۔ بھارتی Indian آئین کے تحت بھارت India کے غیر کشمیری شہری جموں و کشمیر Kashmir میں کوئی جائیداد نہیں خرید سکتے۔ بھارت India کے حکمران جماعت اپنے آئین میں کشمیریوں کو دی جانے والی یہ گارنٹی ختم کرنا چاہتی ہے اور مقبوضہ ریاست کو تقسیم کرنے کے منصوبے بنا رہی ہے۔ قتل عام کے ذریعہ اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کیا جائیگا۔

ایک طرف مقبوضہ جموں و کشمیر Kashmir میں ظلم و ستم بڑھ رہا ہے دوسری طرف گرفتار کشمیری رہنمائوں کو حیلے بہانوں سے بھارتی Indian حکومت کیساتھ مذاکرات پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ اس وقت یاسین ملک، شبیر احمد شاہ، مسرت عالم، آسیہ اندرابی اور الطاف شاہ سمیت 40حریت پسند رہنمائوں کو نئی دہلی کی تہاڑ جیل میں رکھا گیا ہے۔ یاسین ملک کو جیل میں قید تنہائی میں رکھا گیا ہے۔ اُنکے پاس سونے کیلئے کوئی بستر ہے نہ چادر۔ وہ زمین پر سونے کی کوشش کرتے ہیں تو چھت پر لگا ہوا ہائی وولٹیج کا ایک بلب اُنہیں سونے نہیں دیتا۔ نیشنل انٹیلی جنس ایجنسی کے اہلکار مختلف بے بنیاد مقدمات کی تحقیقات کے نام پر اُنہیں نریندر مودی narendra modi کیساتھ مذاکرات پر راضی کرنے کی کوشش کر چکے ہیں جب یاسین ملک نے انکار کر دیا تو اُن پر تشدد کیا گیا۔ یاسین ملک دل اور گردے کے عارضے میں مبتلا ہیں، حالیہ تشدد کے باعث اُن کی آنکھ اور ایک کان بھی متاثر ہوا ہے۔ بھارتی Indian حکومت ہر قیمت پر یاسین ملک کے اعصاب توڑنا چاہتی ہے کیونکہ اُنہوں نے حریت کانفرنس کے دو دھڑوں کو متحد کر کے بھارتی Indian حکمرانوں کی تمام سازشوں کو ناکام بنا دیا ہے۔ سید علی گیلانی اور میر واعظ عمر فاروق کا اتحاد نئی دہلی کیلئے ایک ڈرائونا خواب ہے اور اس خواب سے نجات کیلئے اُنہوں نے یاسین ملک کی زندگی کو عذاب بنا دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بزرگ رہنما سید علی گیلانی نے دنیا بھر کے مسلمانوں کو اپنے ایک ہنگامی پیغام میں کہا ہے کہ اگر ہم سب شہید ہو گئے اور آپ خاموش رہے تو اگلے جہان میں اللہ تعالیٰ کو کیا جواب دو گے؟ گیلانی صاحب نے کہا ہے کہ بھارتی Indian حکومت کشمیر میں انسانی تاریخ کا سب سے بڑا قتل عام شروع کرنیوالی ہے۔ گیلانی صاحب کے پیغام نے مجھے اندر سے ہلا دیا ہے کیونکہ وہ کشمیر کے ہر مظلوم کی آواز ہیں۔ ذرا سوچئے! کشمیریوں کا جرم کیا ہے؟ اُن کا جرم آزادی سے محبت ہے۔ اُن کا جرم پاکستان Pakistan سے محبت ہے۔ بھارت India اُنہیں سب کچھ دینے کیلئے تیار ہے لیکن کشمیریوں کو صرف پاکستان Pakistan چاہئے۔ کیا ہم پاکستانی اپنے وطن سے اتنی محبت کرتے ہیں جتنی محبت کشمیریوں کو پاکستان Pakistan سے ہے؟ وقت آ گیا ہے کہ ہم کشمیریوں کیلئے اسی طرح کھڑے ہو جائیں جیسے وہ پاکستان Pakistan کیلئے کھڑے ہیں۔ وہ پاکستانیوں سے زیادہ پاکستانی ہیں۔ کشمیریوں سے بے وفائی پاکستان Pakistan سے بے وفائی ہے۔ آج ہمیں پوری دنیا کو یہ بتانے کی ضرورت ہے بھارت India کی طرف سے کشمیریوں پر نئی فوج کشی اور لائن آف کنٹرول پر کلسٹر بموں کے استعمال کے پیچھے یہ خوف ہے کہ اگر امریکہ United States کابل سے نکل گیا تو کشمیر دنیا کا فوکس بن جائیگا۔ بھارت India کچھ بھی کر لے کشمیری اپنی آزادی چھین کر رہیں گے۔

 329