جنرل ہرنام سنگھ

Tipu Mansoor

04 اگست 2019



ساتویں دفعہ کا ذکر ہے ہرنام سنگھ ٹرین میں اپنے اہل و عیال کے ساتھ محو سفر تھا ۔ ہر نام سنگھ تھوڑا سا سرشار بھی تھا ۔ اہل و عیال میں اس کی بیوی بیٹی بیٹا چھوٹا بھائی اور دو ملازم شامل ۔ ہرنام سنگھ سے کچھ دور اک دوشیزہ پرنام کور بھی اپنی ماں کے ساتھ اپنی منزل کی جانب رواں تھی ۔ اکیلی لڑکی ٹرین کا لمبا سفر ہرنام سنگھ نے موقع غنیمت جانا اور اپنے اہل و عیال کو لے کر پرنام کور کے قریب ہو کے بیٹھ گیا ۔ پرنام کور کی الہڑ جوانی مستانی آنکھیں لانبے گیسو دراز مژگاں دل پھینک ہرنام سنگھ کو بے چین China کر گئی ۔ سرشار ہرنام سنگھ کن اکھیوں میں پرنام کور کو دیکھتا اور مونچھوں کو ایسے تاؤ دیتا جیسے ہرنام سنگھ مہاراجہ جنرل ہرنام سنگھ ہے ۔ دل میں ارمان مچل مچل جاتے ۔ ٹرین میں جو بھی کچھ بیچنے آتا ہرنام سنگھ فورًا خرید کے اہل وعیال سمیت پرنام کور اور اس کی ماں کی نظر کرتا ۔ کھائیں جی کھائیں واہ گُرو کی کرپا سے بہت کچھ ہے اپنے پاس ۔ گھر ، نوکر ، چاکر زمیں جائیداد ، موٹر کاریں ۔ کسی چیز کی کمی نہیں ۔ ( پرنام کور دل ہی دل میں کہتی بس جوتیوں کی کمی ہے ) ۔ واہے گُرو کی دین ہے واہ گُرو کا خالصہ واہ گُرو کی فتح ۔ سرشاری میں نعرے کلکاریاں کبھی گانے گاتا کبھی اٹھ کے ایسے چلتا جیسے دھمال ڈالنے لگا ہے ۔ ہرنام سنگھ پرنام کور متاثر کرنے کے لیے ہزار جتن کررہا تھا ۔ ہرنام سنگھ کی بیوی سب کچھ دیکھ کر دل ہی دل میں کڑھ رہی تھی ۔

ٹرین اک جگہ رکی اور اک پہلوان شمسیر سنگھ اپنے چیلوں چانٹوں کے ساتھ ڈبے میں داخل ہوا ۔ پہلوان نے ہرنام سنگھ کو ٹکٹیں دکھائیں اور کہا یہ سیٹیں میری ہیں اس لیے آپ اپنی جگہ پہ تشریف لے جائیں ۔ سرشار ہرنام سنگھ اوپر سے پرنام کور کے سامنے ایسی بے عزت ہرنام سنگھ کو کیسے ہضم ہوتی ۔ لگا اکڑنے پہلوان نے ہرنام سنگھ کی صحت اور سرشاری کی حالت دیکھتے ہوئے پیار سے سمجھانے کی کوشش کی مگر بے سود ۔ ہرنام نے پہلوان کو سنگین نتائج اور ہڈی پسلی توڑنے کی دھمکیاں دی ۔ پہلوان نے نے ہرنام سنگھ کو پکڑا اور ٹھیک ٹھاک طبیعت صاف کردی ۔ درد سے بلبلاتا ہوا ہرنام اٹھا او کہنے لگا اتنے تم پہلوان میرے بھائی کو ہاتھ لگا کر دکھاؤ ۔ پیشتر اس کے ہرنام سنگھ کا بھائی بیچارا جو چپ کرکے بیٹھا تھا کچھ بولتا پہلوان نے اس کی ہڈی پسلی دوہری کردی ۔ ہرنام سنگھ سنبھلتے ہوئے پہلوان کو کہنے لگا رہتے نہیں تم اتنے بڑے پہلوان میرے بیٹے کو ہاتھ لگا کر دکھاؤ تمہاری طبیعت درست نہ کردی تو کہنا ۔ پہلوان نے ہرنام سنگھ کے بیٹے کو بھی پکڑ کے دوہرا کردیا ۔ ہرنام سنگھ نے پہلوان کو کہا ہوگئی تیری بس ۔ اب ہمت ہے تو میرے ملازم کو مار کے دکھا ۔ پہلوان نے اسی آن میں ملازم کو دھونا شروع کردیا ۔ ملازم بے چارا پٹ کے بیٹھا ہی تھا کے ہرنام سنگھ پھر غرایا مرد کا بچہ ہے تو میرے دوسرے ملازم کو ہاتھ لگاؤ ۔ پہلوان نے دوسرے ملازم کی بھی ٹھوک ٹھکائی کردی ۔ پہلوان دوسرے ملازم سے فارغ ہوا تو ہرنام سنگھ نے پھر آواز دی غیرت ہے تو میری بیٹی کو ہاتھ لگا کے دکھا ۔ بیٹی پہ ہاتھ اٹھانا معیوب سا تھا لیکن اب بات پہلوان کی اپنی غیرت کی تھی سو اس نے بادل نخواستہ اس کو بھی دو لگا کے ڈھیر کردیا ۔ ہرنام سنگھ پھر گرجا اگر باپ کی اولاد ہے تو میری بیوی پہ ہاتھ اٹھا کے دکھا ۔ پہلوان نے نہ چاہتے ہوئے اس کو بھی دو جڑ دیں ۔ ہرنام سنگھ نے پہلوان کو پھر للکارا اب کی بار ہرنام کی ماں کو درد سہنا پڑا ۔

پرنام کور چپ چاپ یہ سب تماشا اور ہرنام سنگھ کی دانش مندی دیکھ رہی تھی ۔ پرنام کور اٹھی اور بولی ہرنام سیوں تمہارا اس پہلوان سے کیا جوڑ ۔ بالفرض تمہے جوش آبھی گیا تھا تو خود لڑ جھگڑ کے ہارتے اور نکل جاتے ۔ سارے خاندان کو جوتیاں مروانے کیا تُک تھی ۔ ہرنام سنگھ نے عرض کیا پرنام کورے میں مار کھا کے چپ چاپ زخم سہلاتا چلا تو جاتا لیکن میرے اہل و عیال نے گھر جا کے میرا جینا حرام کردینا تھا ۔ اب جب سب کو جوتیاں پڑی ہے تو سبھی اپنی بے عزتی اور مار کی وجہ سے چپ رہیں گے ۔

مولانا فضل الرحمٰن کی عظمت اور سیاسی بصیرت کو دور سے سلام ہے ۔ مولانا خود تو الیکشن ہار کے اسمبلیوں سے باہر تھے ۔ خود تو وقت اور حالات کی مار کھا رہے تھے باہر بیٹھ کر کڑھ رہے تھے ۔ مگر مولانا نے ساری اپوزیشن کو اکھٹا کرکے جس مہارت سے مار کھلائی ہے اور اک لاحاصل مشق میں بے عزت کروایا ہے یہ کام مولانا ہی کرسکے تھے ۔ اسے کہتے ہیں سیاسی بصیرت ۔

ازقلم محمد واحد ( ابوظہبی )

Follow me on twitter

Wahid 95@

 20