حوالات، جیل یاترا اور مارشل لاء ضابطہ 1371… (1)

کٹہرا - خالد مسعود خان

01 اگست 2019

Hawalat Jail Yatra

کالم تو کسی اور موضوع پر لکھنے کا ارادہ تھا مگر گزشتہ روز کے کالم کے حوالے سے ایک مستقل قاری ثاقب منظور ملک کی فرمائش آ گئی کہ وہ جو میں نے اپنے جیل جانے کا ذکر کیا ہے تو اس کی تفصیل کیا تھی؟ سو سوچا کہ پہلے یہ کام نمٹا لیا جائے کہ اب یادداشت اتنی اچھی نہیں رہی کہ اس پر بھروسہ کرتے ہوئے آج کا کام کل پر ڈالا جائے کیونکہ جب بھی ایسا کیا ہے کام کل کے بجائے پرسوں بلکہ بعض اوقات تو برسوں پر چلا جاتا ہے۔

یہ نو فروری 1984ء کا دن تھا۔ خبر ملی کہ جنرل ضیاء الحق Zia ul Haq نے پاکستان Pakistan بھر میں طلبہ یونینز پر پابندی لگا دی ہے اور احتجاج کرنے والوں کو مارشل لاء کے تحت گرفتار کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔ میرا اس دن ایم بی اے کا پیپر تھا۔ تیسرے سمیسٹر کا یہ پہلا پرچہ تھا۔ میں دوپہر پیپر دے کر فارغ ہوا تھا کہ یہ خبر ملی۔ بہائوالدین زکریا یونیورسٹی کا صدر وقار ندیم وڑائچ میرا کلاس فیلو تھا اور دوست بھی۔ جب یونینز پر پابندی کا حکمنامہ جاری ہوا تھوڑی دیر بعد یونیورسٹی انتظامیہ نے صدر یونین سے ابو بکر ہال میں اس کے کمرے کو خالی کروا کر تالا لگا دیا۔ میں دوپہر کا کھانا کھانے جب میس میں داخل ہوا تو دائیں ہاتھ پہلی میز پر ڈائریکٹر سٹوڈنٹس افیئر ڈاکٹر محمد افضل بیٹھے تھے۔ ان کے ساتھ ایم بی اے کے صدر شعبہ اور ابوبکر ہال کے سپرنٹنڈنٹ بھی تھے۔ یہ تمام اساتذہ کھانا کھا رہے تھے۔ میں نے دیکھا کہ حالات تھوڑے غیر معمولی ہیں۔ میں سیدھا اس میز پر گیا اور ان کو مخاطب کرکے کہا کہ میں آج کل کسی ہنگامے یا سیاسی سرگرمی میں حصہ نہیں لے رہا (اس کی بھی خاص وجوہات تھیں جو علیحدہ سے ایک موضوع ہے اور فی الوقت اس کا ذکر اس کالم کو کسی اور ہی طرف لے جائے گا) اور موجودہ صورتحال سے بالکل لاتعلق ہوں۔ صبح کا پیپر دے چکا ہوں اور باقی پیپر دینے کی تیاری کر رہا ہوں۔ اگر مجھے بلا وجہ تنگ اور پریشان کیا گیا تو پھر کسی کے لیے بھی ٹھیک نہیں ہو گا۔ یہ کہہ کر میں آگے چلا گیا اور کھانا کھا کر رائو اعجاز کے کمرے میں آ گیا۔ امتحانات کے دنوں میں‘ میں مشترکہ پڑھائی کے لیے ہوسٹل آ جاتا تھا اور ابو بکر ہال کے کمرہ نمبر 20 میں رائو اعجاز کے ساتھ رہتا تھا۔ دوپہر کے کھانے کے بعد یونیورسٹی انتظامیہ نے یونیورسٹی بند کر دی‘ امتحانات ملتوی کر دیئے اور ہوسٹل خالی کرنے کا نوٹس دے دیا۔ صدر یونین وقار ندیم کا گھر سرگودھا میں تھا۔ فوری طور پر وہ سرگودھا نہیں جا سکتا تھا کہ ابھی طلبہ تنظیموں اور یونینز پر پابندی کے حکمنامے کے بعد طلبہ تنظیموں کی جانب سے کسی لائحہ عمل کا اعلان نہ ہوا تھا اور اس فیصلے تک وہ ملتان ہی رہنا چاہتا تھا۔ ہوسٹل سے واپسی پر میں وقار ندیم وڑائچ کو اپنے ہمراہ گھر لے آیا کہ جب تک وہ سرگودھا نہیں جاتا تب تک میرے پاس رہ لے۔

شام کو ہمارا ایک یونیورسٹی فیلو سلیم المانی میرے گھر آ گیا۔ ہم تینوں گھر میں بیٹھے دیر تک گپیں مارتے رہے۔ رات قریب دس بجے سلیم المانی نے کہا کہ وہ اب اپنے کسی اور دوست کے پاس جا رہا ہے۔ میں حسب روایت اسے گھر سے باہر چھوڑنے کے لیے جیسے ہی دروازے سے باہر آیا‘ گھر کے گیٹ کے ستون کے پیچھے چھپے ہوئے تین چار سپاہیوں نے مجھے اور سلیم المانی کو دبوچا‘ کونے پر کھڑی ہوئی ایک مسافر بردار سوزوکی وین میں ڈالا اور بوسن روڈ کی طرف چل پڑے۔ پہلے تو میں تھوڑا گھبرایا کہ آخر یہ مجھے شہر سے باہر کی سمت کہاں لے جا رہے ہیں؟ اگر تھانے لے جانا مقصود تھا تو وہ کچہری کی سمت تھا۔ ایسے ہی بے وجہ سا وسوسہ پیدا ہوا کہ کہیں شہر سے باہر لے جا کر جعلی پولیس مقابلہ ہی نہ بنا دیں مگر تھوڑی دیر بعد اس سوزوکی کو واپس موڑ لیا گیا اور گول باغ سے ہوتے ہوئے ویگن تھانہ صدر پہنچ گئی۔ مجھے تسلی ہوئی کہ چلیں اب مزے سے حوالات میں رات گزرے گی‘ مگر کہاں؟

جونہی میں ویگن سے اترا ایک نہایت مدقوق اور مریل سے سپاہی نے میرے منہ پر زوردار تھپڑ رسید کیا (اپنی صحت کے حوالے سے اس سپاہی سے اتنے صحت مند تھپڑ کی قطعاً کوئی امید نہ تھی) اور کہنے لگا: یہ کالجی (کالج کے لڑکے) ہمیں ماما، ماما کہتے ہیں۔ اللہ جانے میرے دل میں کیا آیا کہ میں نے تھپڑ کھا کر اس سپاہی سے کہا: اسی لیے تو اب اپنے ''نانکے‘‘ آ گئے ہیں۔ یہ سنتے ہی اس سپاہی نے ساتھ والے سپاہی سے بید والا ڈنڈا پکڑا اور مجھ پر پل پڑا۔ یہ ''صلائے عام ہے یاران نکتہ داں کے لیے‘‘ والا معاملہ تھا۔ ادھر اُدھر سے دیگر سپاہیوں نے بھی اس نیک کام میں اپنا اپنا حصہ ڈالنا شروع کر دیا۔ سردیوں کی رات تھی اور میں نے گھر میں معمولی سا کاٹن کا شلوار قمیض والا جوڑا پہنا ہوا تھا۔ ٹھکائی ہوئی تو طبیعت صاف ہو گئی لیکن اس اچانک حملے میں ہونے والی ٹھکائی کا ایک بنیادی فائدہ یہ ہوا کہ پٹائی کا جو دل میں خوف تھا وہ ایک دم سے نکل گیا اور میں خوف سے بے خوفی والی منزل تک پہنچ گیا۔

اب اس مالش کے بعد مجھے ایس ایچ او کے سامنے پیش کیا گیا۔ اس نے پوچھا کہ یہ ساتھ کون ہے؟ میں نے کہا: گائوں سے ایک کزن ہے‘ آج ہی آیا تھا۔ اگر بتا دیتا کہ یہ یونیورسٹی فیلو ہے اور طلبہ سیاست کے حوالے سے متحرک سلیم المانی ہے تو وہ اسے بھی دھر لیتے۔ خیر اسے انہوں نے دوسرے کمرے میں بٹھا دیا اور مجھ سے تفتیش شروع کر دی۔ پوچھا: وقار ندیم وڑائچ کہاں ہے؟ میں نے کہا: مجھے کیا پتہ کہاں ہے؟ سرگودھا ہو گا اور کہاں جائے گا۔ پھر پوچھا کہ مرغوب کھتران کہاں ہے؟ (یونین کا جنرل سیکرٹری) میں نے کہا: وہ اپنے گھر ہو گا۔ پوچھا کہ اس کا گھر کہاں ہے؟ میں نے کہا: مجھے علم نہیں۔ دو چار اور لوگوں کا پوچھا‘ میں نے لاعلمی کا اظہار کر دیا۔ تنگ آ کر ایس ایچ او نے کہا کہ تمہیں کسی کا گھر معلوم بھی ہے؟ میں نے کہا: مجھے تو فی الوقت اپنے گھر کا پتا بھی معلوم نہیں۔ اس جملے کے بعد میری ٹھکائی کی دوسری قسط نشر ہوئی۔ ایس ایچ او نے محرر کو مخاطب کرکے کہا: فیض خان! اسے دیکھو اور اس کی صحت دیکھو (تب میں کافی دبلا پتلا تھا۔ یہ موٹاپا بہت بعد کی پیداوار ہے) اور مار دیکھو جو یہ اب تک کھا چکا ہے‘ عادی مجرم ایسے ہی ہوتے ہیں۔ یہ کہہ کر مجھے حوالات میں بند کر دیا گیا۔ سردی اور اوپر سے پڑنے والی مار۔ سارا جسم پھوڑے کی طرح دکھ رہا تھا۔ لیکن یہ عجیب بات تھی کہ اس دوسری مار نے مزید حوصلہ مند کر دیا۔ میں نے حوالات میں جا کر ادھر ادھر دیکھا۔ ایک کونے میں کوئی شخص صاف ستھری رضائی لیے سو رہا تھا۔ میں اتنی مار کھانے کے بعد کسی بھی صورتحال کا سامنا کرنے کے لیے تیار تھا۔ میں نے رضائی کا ایک کونا اٹھایا اور اندر سوئے ہوئے کو ٹھڈا مار کر کہا: چل اوئے اٹھ باہر نکل۔ سویا ہوا حوالاتی بڑبڑا کر اٹھا اور کہنے لگا: بھائی صاحب! آرام سے رضائی مانگ لیں۔ ٹھڈے کیوں مار رہے ہیں؟ پھر اٹھ کر ساتھ والے شخص کے کمبل میں گھستے ہوئے کہنے لگا: صبح پولیس ٹھڈے مارتی ہے اور رات کو بڑے بڑے بدمعاش ٹھڈے مارتے ہیں۔ ایمانداری کی بات ہے کہ مجھے برسوں سے اپنی اس حرکت پر شرمندگی ہے اور دل کرتا ہے کہ وہ حوالاتی اگر کہیں مجھے مل جائے تو اس سے معافی مانگ لوں۔ اپنے اندر سے تو بارہا اس فعل کی معافی مانگ چکا ہوں مگر دل کو تسلی نہیں ہوتی۔

ابھی بمشکل رضائی میں لیٹ کر اپنی کپکپی پر قابو ہی پایا تھا کہ دروازے سے کسی نے میرا نام لے کر مخاطب کیا اور پوچھا کہ چوہدری رزاق کا گھر کہاں ہے؟ چوہدری رزاق یونین کا عہدیدار تھا۔ میں نے کہا: یاد نہیں ہے۔ باہر سے آواز آئی کہ اس کا گھر تمہیں کیسے یاد آئے گا؟ میں نے کہا: مجھے باہر نکال کر پھینٹی لگائو شاید پھر یاد آ جائے۔ باہر والے نے تین چار ناقابل بیان گالیاں نکالیں اور چلا گیا۔ اس مکالمے کا یہ اثر ہوا کہ میرے ساتھ لیٹے ہوئے قیدی نے مزید پرے سرک کر میرے لیے جگہ چھوڑ دی اور میں کھلا ہو کر لیٹ گیا۔ درد شدید تھا مگر 'نیند تو سولی پر بھی آ جاتی ہے‘ والا محاورہ صدیوں کی سچائی لیے ہوئے نہ ہوتا تو اب تک متروک ہو چکا ہوتا۔ سو میں سو گیا اور گھوڑے بیچ کر سویا۔ (جاری)

 115