پاکستان Pakistan اور ڈونلڈ ٹرمپ

جر گہ - سلیم صافی

31 جولائی 2019

Pakistan or Donald Trump

میں نے چھٹیاں منانے اور پاکستانی سیاست اور صحافت کی وجہ سے لاحق ہونے والی ڈیپریشن کو کم کرنے امریکہ United States جانے کا پروگرام بنایا لیکن یہاں آکر بھی ان دونوں نے جان نہیں چھوڑی بلکہ شاید یہاں ان دونوں سے متعلق مصروفیات پاکستان Pakistan سے بھی بڑھ گئیں۔ میں وزیراعظم عمران خان Imran Khan کے ایک روز بعد واشنگٹن ڈی سی پہنچا۔ یو ایس آئی پی کے معید یوسف چونکہ بھائیوں جیسے دوست ہیں، عمران خان Imran Khan کے لیکچر کا بندوبست انہوں نے کیا تھا، اس لئے اس میں شرکت کرنا پڑی۔ وہاں کئی پاکستانی دوستوں کو میری آمد کا پتا چل گیا چنانچہ پھر واشنگٹن میں قیام سیاحتی نہیں بلکہ مکمل صحافتی بن گیا۔ وائس آف امریکہ United States کے اردو اور پشتو سروسز کے دوستوں کے اصرار پر وہاں جانا پڑا۔ تین انٹرویوز دینے کے علاوہ دونوں سروسز کے دوستوں سے تفصیلی گپ شپ ہوئی۔ پاکستانی صحافیوں کی تنظیم پاپا (پاکستان Pakistan امریکہ United States پریس ایسوسی ایشن)کے دوستوں کے عشائیہ میں شرکت کی جہاں انہوں نے اعزازی ممبرشپ سے بھی نوازا۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے واحد پاکستانی سپورٹر ساجد تارڑ صاحب نے بھی اپنے عشائیے میں پاکستانی اور افغانی صحافیوں کو جمع کر رکھا تھا۔ امریکن یونیورسٹی میں اکبر ایس احمد سے لنچ پر گپ شپ ہوئی۔ یو ایس آئی پی میں ایشیا پروگرام کے انڈریو ویلڈر سے افغان امن پراسیس پر دو گھنٹے ملاقات ہوئی۔ سب نشستوں میں میزبان مجھ سے پاکستان Pakistan کے بارے میں جاننا چاہتے تھے جبکہ میں ان سے امریکہ United States کے اندرونی حالات اور وزیراعظم عمران خان Imran Khan کے دورئہ امریکہ United States کے پسِ منظر اور پیش منظر کے بارے میں جاننے کا طالب رہا۔

ان سب تبادلہ خیالات کا خلاصہ یوں بیاں کیا جاسکتا ہے کہ جہاں تک امریکی اداروں یعنی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ، سی آئی اے، کانگریس اور میڈیا کا تعلق ہے تو پہلے کی طرح اب بھی بحیثیت مجموعی پاکستان Pakistan مخالف ہیں تاہم ڈونلڈ ٹرمپ کی مہربانی نے اب ان کے ساتھ بھی پاکستانی اداروں کے ربط ضبط کا راستہ کھول دیا ہے اور اب دیکھنا یہ ہے کہ پاکستانی دفتر خارجہ اور ادارے وہائٹ ہائوس کا راستہ استعمال کر کے دیگر اداروں کا اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے صدر بننے کے بعد اپنی جو پہلی افغان پالیسی دی تھی اس میں انہوں نے پاکستان Pakistan کو افغانستان Afghanistan کے حوالے سے مسئلے کا عامل(Part of the problem)قرار دیا تھا لیکن اب وہ پاکستان Pakistan کو حل کی چابی قرار دے رہے ہیں۔ یوں یہ پاکستان Pakistan کے حساب سے بڑی کامیابی ہے۔ اسی طرح پالیسی تقریر میں انہوں نے افغانستان Afghanistan کے تناظر میں انڈیا کے کردار کی تعریف کے ساتھ ساتھ اس کو مزید بڑھانے کی بات کی تھی لیکن اب کی بار انہوں نے انڈیا کو افغان قضیے سے باہر کرنے کے ساتھ ساتھ تمام تر تکیہ پاکستان Pakistan پر کرنے کا تاثر دیا جبکہ کشمیر پر ثالثی کی پیشکش کر کے انڈیا کے زخموں پر نمک بھی چھڑک دیا۔ یقیناً یہ پاکستان Pakistan کے لئے بڑی کامیابی ہے۔ اسی طرح افغانستان Afghanistan کے حوالے سے پاکستان Pakistan کے کردار کو باقاعدہ طور پر تسلیم کر کے، ڈونلڈ ٹرمپ نے افغان حکومت کو پاکستان Pakistan کی طرف آنے پر مجبور کردیا۔ صدر بننے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ پاکستان Pakistan کو طعنے دیا کرتا تھا کہ وہ امریکی امداد لے کر اس کے مفادات کے خلاف کام کرتا رہا لیکن اب خود پاکستان Pakistan کی امداد بحال کر کے یہ پیغام دیا ہے کہ یا تو ان کا ماضی کا دعویٰ غلط تھا اور یا پھر اب پاکستان Pakistan ڈیلیور کررہا ہے۔

سوال یہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان Pakistan کے حوالے سے یہ یوٹرن کیوں لیا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ سلسلہ گزشتہ سال مارچ اپریل میں شروع ہوا۔ تب ایلس ویلز اور امریکی فوجی عہدیداروں نے پاکستانی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ General Qamar Javeed Bajwa کو یہ پیغام دینا شروع کیا کہ امریکہ United States اپنی افواج کو افغانستان Afghanistan سے نکالنا چاہتا ہے اور اگر پاکستان Pakistan طالبان پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے تو جواب میں امریکہ United States بھی پاکستان Pakistan کے مفادات کا خیال رکھے گا۔ چنانچہ زلمے خلیل زاد کے ذریعے جو عمل شروع کیا گیا، اس میں پاکستان Pakistan نے امریکہ United States کے حسب منشا کردار ادا کیا۔ پاکستان Pakistan کی آرمی قیادت اور آئی ایس ایس نے طالبان کو سمجھانے بجھانے کی ہر ممکن کوشش کی اور جہاں ضروری ہوا ان پر دبائو بھی ڈالا۔ اسی وجہ سے قطر مذاکرات ممکن ہوئے۔ اب قطر مذاکرات میں امریکہ United States اور طالبان معاہدے کے قریب ہیں تاہم اصل قضیہ اب افغان حکومت اور طالبان کی مفاہمت کا باقی ہے۔ بین الافغان مفاہمت نہیں ہوتی تو امریکہ United States اور طالبان کی مفاہمت کا سلسلہ بھی بے نتیجہ ثابت ہوگا اور صدر ٹرمپ کو اندرونی محاذ پر بڑی خفت اٹھانا ہوگی اور اگر وہ مفاہمت کروا کر اپنی افواج واپس بلانے میں کامیاب ہوئے تو یہ ان کی بڑی کامیابی تصور ہوگی۔ چنانچہ اب اگلا ہدف جنگ بندی اور بین الافغان مفاہمت کا ہے۔ اب ٹرمپ کا مطالبہ پاکستان Pakistan سے یہی ہے کہ وہ ان دونوں کاموں کے لئے بھی وہ کردار ادا کرے جو اس نے امریکہ United States اور طالبان کے سلسلے میں کیا ہے۔ پاکستان Pakistan کی عسکری قیادت نے ان دونوں پر آمادگی کا اشارہ دیا تھا لیکن ساتھ یہ خواہش بھی ظاہر کی تھی کہ پاکستان Pakistan کے اس کردار کو عالمی اور اعلیٰ سطح پر تسلیم کیا جائے۔ چنانچہ اسی تناظر میں وزیراعظم کا دورئہ واشنگٹن طے پایا حالانکہ اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ اور دیگر ادارے حق میں نہیں تھے۔ چونکہ ڈونلڈ ٹرمپ نے زلمے خلیل زاد اور دیگر فریقوں کو ڈیڈ لائن دے رکھی ہے کہ وہ اگست کے آخر تک افغان قضیے کو آر یا پار کر لیں، اس لئے انہوں نے پاکستانی حکام کے وہائٹ ہاوس میں اس آو بھگت پر بھی آمادگی ظاہر کی۔ گویا ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ امریکہ United States کی طرف سے اس پورے معاملے کے مدعی صرف ڈونلڈ ٹرمپ ہیں لیکن باقی ادارے بادل نخواستہ اپنے صدر کی ہاں میں ہاں ملارہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی صدر کی ابھی عمران خان Imran Khan سے بات چیت نہیں ہوئی تھی کہ انہوں نے ان کے ساتھ بیٹھ کر میڈیا کے سامنے پاکستان Pakistan کے بارے میں نیک خیالات کا اظہار کیا۔ پاکستان Pakistan میں لوگ اس پہلو کو ذہن میں نہیں رکھتےکہ صدر ٹرمپ اور عمران خان Imran Khan کی میڈیا سے گفتگو ملاقات کے آغاز میں ہوئی تھی نہ کہ اختتام پر۔ یوں انہوں نے جو ذہن بنا رکھا تھا وہ ملاقات سے پہلے کے رابطوں اور وعدوں کے نتیجے میں بنا رکھا تھا جس کا باقاعدہ اظہار خان صاحب کی موجودگی میں بات چیت سے پہلے کیا گیا۔

اختصار کے ساتھ ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ پاکستانی حکام کے حالیہ دورے نے امریکہ United States کے ساتھ تعلقات کا ایک نیا دروا کردیا ہے لیکن یہ بہت بڑی آزمائش بھی ہے اور اگر افغان مذاکرات کا مثبت نتیجہ نہ نکلا تو جس طرح اس وقت امریکہ United States پاکستان Pakistan کو کریڈٹ دے رہا ہے اسی طرح پھر سارا ملبہ بھی پاکستان Pakistan پر گرائے گا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ پاکستانی حکام امریکہ United States کے ساتھ کئے گئے وعدے کس طرح پورا کرتے ہیں کیونکہ سردست تو طالبان نہ جنگ بندی پر آمادہ نظر آتے ہیں اور نہ افغان حکومت کے ساتھ مفاہمت کے لئے ان کے روئیے میں مطلوبہ لچک نظر آتی ہے۔ بلکہ میری تو یہ بھی رائے ہے کہ طالبان پر شاید اب پاکستان Pakistan کا اتنا اثر نہیں جتنا کہ تاثر دیا جارہا ہے۔

 139