ٹرمپ سے بھی زیادہ گریٹ لیڈر؟

قلم کمان - حامد میر

25 جولائی 2019

Trump sy bhi Ziyada Great Leader

سپر پاور امریکہ United States کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور پاکستان Pakistan کے وزیراعظم عمران خان Imran Khan نے ایک دوسرے کی تعریفوں میں زمین و آسمان ایک کر دیا۔ وائٹ ہائوس میں عمران خان Imran Khan کو خوش آمدید کہنے کے بعد ٹرمپ نے پاکستان Pakistan کے وزیراعظم کو ایک مقبول رہنما اور عظیم لیڈر قرار دیا۔ عمران خان Imran Khan بھی تعریف میں پیچھے نہ رہے اور انہوں نے فاکس نیوز کو انٹرویو میں کہا کہ ٹرمپ کے انداز گفتگو سے صرف وہ نہیں بلکہ اُن کا پورا وفد متاثر ہوا ہے۔ بعد ازاں ایک ٹویٹ میں عمران خان Imran Khan نے ٹرمپ کی میزبانی کو بہت شائستہ اور دلفریب بھی قرار دیا۔ دونوں رہنمائوں نے ایک دوسرے کے بارے میں تو بہت اچھی اچھی باتیں کیں لیکن ان دونوں کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے فوری اچھے نتائج سامنے آتے دکھائی نہیں دے رہے۔ یہ کوئی راز نہیں ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ ہر کسی کے ساتھ دلفریب انداز میں پیش نہیں آتے، عمران خان Imran Khan کے ساتھ ان کے دلفریب انداز کے پیچھے یہ خواہش تھی کہ پاکستان Pakistan اُن کے ملک کو افغانستان Afghanistan کی جنگ سے ایسے نکالے کہ امریکہ United States کی شکست دنیا کو فتح نظر آئے۔ یہ مشکل کام صرف ایک صورت میں ممکن ہے اور وہ یہ کہ افغان طالبان کی قیادت مذاکرات کی میز پر وہ تمام شرائط تسلیم کر لے جو امریکہ United States اور اُس کے اتحادی پچھلے اٹھارہ سال سے میدان جنگ میں نہیں منوا سکے۔ کیا عمران خان Imran Khan افغان طالبان کو امریکی مفادات کی پلیٹ میں رکھ کر ٹرمپ کو پیش کر سکیں گے؟ یہ ایک بہت اہم سوال ہے اور اس سوال کا جواب تلاش کرنے کے لئے ہمیں وزیراعظم عمران خان Imran Khan کے دورۂ امریکہ United States کا ہر پہلو سے بے لاگ تجزیہ کرنا ہو گا۔

پاکستان Pakistan کے نقطہ نظر سے وزیراعظم عمران خان Imran Khan کے دورہ امریکہ United States سے مسئلہ کشمیر Kashmir Issue ایک دفعہ پھر پوری دنیا کے سامنے بھرپور انداز میں اجاگر ہوا ہے۔ مسئلہ کشمیر Kashmir Issue کو اجاگر کرنے کا کریڈٹ اس صحافی کو جاتا ہے جس نے ٹرمپ سے کشمیر پر سوال کیا اور ٹرمپ نے جواب میں یہ دعویٰ کر دیا کہ بھارتی Indian وزیراعظم نریندر مودی narendra modi نے انہیں مسئلہ کشمیر Kashmir Issue پر ثالث کا کردار ادا کرنے کی درخواست کی تھی اور انہوں نے یہ درخواست قبول کر لی تھی۔ ٹرمپ کے ان ریمارکس کے بعد بھارت India میں صف ماتم بچھ گئی اور بھارتی Indian حکومت نے ٹرمپ کے اس دعوے کی تردید کر دی۔ باخبر سفارتی ذرائع یہ بتاتے ہیں کہ جون 2019میں ٹرمپ اور مودی کی دو ملاقاتیں ہوئی تھیں۔ ایک ملاقات جی ٹونٹی ممالک کے اوساکا اجلاس میں ہوئی اور دوسری ملاقات میں جاپان کے وزیراعظم بھی شامل تھے۔ ان ملاقاتوں میں مودی نے بھارتی Indian پائلٹ ابھی نندن کی رہائی کے لئے ٹرمپ کے کردار کا شکریہ ادا کیا اور ٹرمپ سے کہا کہ وہ مسئلہ کشمیر Kashmir Issue کے حل کے لئے بھی کردار ادا کریں۔ ٹرمپ نے فوری طور پر آمادگی ظاہر کر دی لیکن عمران خان Imran Khan کی موجودگی میں مودی کی خواہش کو دنیا کے سامنے لا کر ٹرمپ نے مودی کے لئے ایک بڑا مسئلہ کھڑا کر دیا اور بھارتی Indian حکومت نے جھوٹ بولتے ہوئے ٹرمپ کے دعوے کی تردید کر دی۔ اچھا ہوا ٹرمپ کو مودی کی اصلیت کا پتا چل گیا۔ غالب امکان ہے کہ اس تردید کے باوجود مودی کی طرف سے ٹرمپ کے ذریعہ مسئلہ کشمیر Kashmir Issue کا حل نکالنے کی کوشش جاری رہے گی۔

مودی مسئلہ کشمیر Kashmir Issue کا کیا حل نکالنا چاہتے ہیں؟ اس سوال کا جواب بڑا سیدھا اور آسان ہے۔ مودی مسئلہ کشمیر Kashmir Issue کا ویسا ہی حل چاہتے ہیں جیسا ٹرمپ کو افغانستان Afghanistan میں درکار ہے۔ مودی چاہتے ہیں کہ پاکستان Pakistan اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں مسئلہ کشمیر Kashmir Issue کے حل پر زور دینا چھوڑ دے اور ایک ’’ڈپلومیٹک سرنڈر‘‘ کو اپنی کامیابی قرار دے کر خوشی کے گیت گانا شروع کر دے۔ یہ وہی فارمولا ہے جس پر جنرل پرویز مشرف اور من موہن سنگھ نے اتفاق کیا تھا اور اس فارمولے کو حریت کانفرنس کے بزرگ رہنما سید علی گیلانی نے کشمیریوں کے ساتھ غداری قرار دیا تھا۔ یاد رکھئے گا بھارت India جب بھی پاکستان Pakistan کے ساتھ مذاکرات کا آغاز کرے گا تو ایک بہت سخت موقف اختیار کرنے کے بعد یہ لچک دکھائے گا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر Kashmir اسی کے پاس رہے گا اور پاکستان Pakistan آزاد کشمیر پر اکتفا کرے۔ ٹرمپ کے دعوے پر بھارتی Indian حکومت کی تردید بہت بڑا جھوٹ ہے کیونکہ امریکی و بھارتی Indian حکام میں ان معاملات پر کافی بات چیت بھی ہو چکی ہے۔

وزیراعظم کے دورۂ امریکہ United States میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا المیہ بھی ایک دفعہ پھر دنیا کے سامنے آیا ہے۔ ابتداء میں وزیراعظم عمران خان Imran Khan اس معاملے پر گفتگو سے احتراز کرتے رہے لیکن بعد میں جب ایک امریکی صحافی نے شکیل آفریدی کے متعلق سوال کیا تو عمران خان Imran Khan نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا ذکر کر دیا اور کہا کہ دونوں کے تبادلے پر بات ہو سکتی ہے۔ عمران خان Imran Khan نے یہ بھی کہا ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے خلاف آپریشن آئی ایس آئی کی فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر ہوا تھا۔ اگر یہ درست ہے تو پھر ڈاکٹر شکیل آفریدی کا کیا قصور ہے؟ حالیہ دورۂ امریکہ United States میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے متعلق کوئی باقاعدہ بات چیت نہیں ہوئی لیکن اگر عمران خان Imran Khan قوم کی اس بیٹی کو پاکستان Pakistan واپس لے آئیں تو ان کی بہت سی خامیوں اور کوتاہیوں کو نظر انداز کرنا آسان ہو جائے گا۔ اس وقت ان کے لئے سب سے بڑا چیلنج افغان طالبان کو ستمبر 2019سے پہلے سیز فائر پر آمادہ کرنا ہے۔ سیز فائر کا اعلان افغان طالبان کی اس مذاکراتی ٹیم کو کرنا ہے جس کے سربراہ ملا عبدالغنی برادر ہیں۔ ملا برادر کو فروری 2010میں امریکہ United States کے دبائو پر پاکستان Pakistan میں گرفتار کیا گیا اور اُن سے یہ پوچھا جاتا رہا کہ آپ اس وقت افغان صدر حامد کرزئی سے خفیہ مذاکرات کیوں کر رہے تھے؟ آٹھ سال کے بعد انہیں امریکہ United States کے کہنے پر پاکستان Pakistan نے اکتوبر 2018میں رہا کیا تو طالبان نے انہیں اپنے مذاکراتی وفد کا سربراہ بنا دیا۔ جس شخص کو پاکستان Pakistan نے آٹھ سال تک اپنا قیدی بنائے رکھا اب پاکستان Pakistan کے تمام ارباب اختیار اس سابقہ قیدی سے یہ منت سماجت کر رہے ہیں کہ آپ افغانستان Afghanistan میں سیز فائر کر دیں۔ یہ سیز فائر طالبان کی نہیں امریکہ United States کی ضرورت ہے۔ 2001سے 2019کے دوران افغانستان Afghanistan میں امریکہ United States کے ڈھائی ہزار فوجی مارے جا چکے ہیں جبکہ پرائیویٹ کمپنیوں کے توسط سے افغانستان Afghanistan میں آ کر مارے جانے والے امریکیوں کی تعداد چار ہزار کے قریب ہے۔ پچھلے 18سال میں افغان سیکورٹی فورسز کا جانی نقصان 60ہزار سے زائد ہے جبکہ طالبان کا نقصان 50ہزار کے قریب ہے۔ امریکہ United States کو افغانستان Afghanistan کی جنگ میں سالانہ 45ارب ڈالر billion dollor خرچ کرنا پڑتے ہیں۔ طالبان کو اس جنگ سے نکلنے کی کوئی جلدی نہیں کیونکہ انہیں اپنی فتح قریب نظر آ رہی ہے لیکن ٹرمپ نے عمران خان Imran Khan کو سامنے بٹھا کر پوری افغان قوم کو دھمکی دے ڈالی اور کہا کہ میں دس دن میں افغانستان Afghanistan کو صفحہ ہستی سے مٹا سکتا ہوں لیکن ایسا کرنا نہیں چاہتا۔ ٹرمپ کی اس دھمکی پر افغان حکومت اور طالبان دونوں نے مذمتی بیانات جاری کر دیئے ہیں۔ ٹرمپ نے اپنی اس دھمکی پر معذرت نہ کی تو پاکستان Pakistan کے لئے افغان طالبان کو سیز فائر پر راضی کرنا بہت مشکل ہو جائے گا۔ ٹرمپ کی معذرت کے بغیر افغان طالبان کا سیز فائر ٹرمپ کی دھمکی کا نتیجہ قرار دیا جائے گا اور داعش اس کا فائدہ اٹھا کر افغان طالبان میں اختلافات پیدا کرنے کی کوشش کرے گی لہٰذا عمران خان Imran Khan کے دورہ امریکہ United States کے دوران ٹرمپ کی دھمکی نے افغان مفاہمتی عمل کو نئی مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔ عمران خان Imran Khan کے دورہ امریکہ United States میں بار بار اُنہیں پاکستان Pakistan میڈیا پر سنسر شپ کے متعلق سوالات کئے گئے۔ خان صاحب بار بار پاکستانی میڈیا کو آزاد قرار دیتے رہے حالانکہ اصل حقائق سب جانتے ہیں۔ میڈیا کے متعلق سوالات کا جواب دیتے ہوئے عمران خان Imran Khan کے لہجے میں وہ اعتماد نہیں تھا جو ہونا چاہئے تھا اور ایک موقع پر انہوں نے خود تسلیم کیا کہ میں میڈیا کے متعلق ٹرمپ جیسی باتیں کر رہا ہوں۔ ٹرمپ میڈیا پر تنقید کر سکتے ہیں لیکن کسی ٹی وی چینل کو بند نہیں کرا سکتے۔ عمران خان Imran Khan ٹی وی چینل کو بند بھی کراتے ہیں اور مانتے بھی نہیں اس لحاظ سے دیکھا جائے تو وہ ٹرمپ سے زیادہ گریٹ لیڈر ہیں۔

 267